سیف علی خان اور کرینہ کپور کے ہاں 2 ماہ قبل بیٹے کی ولادت ہوئی تھی جس کا نام انہوں نے تیمور علی خان رکھا تھا
ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور نے اپنے بیٹے کا نک نیم رکھ دیا ہے اور وہ اب اسے پیار سے ’’ لٹل خان ‘‘ پکارنے لگی ہیں۔
سیف علی خان اور کرینہ کپور کے ہاں 2 ماہ قبل بیٹے کی ولادت ہوئی تھی جس کا نام انہوں نے تیمور علی خان رکھا تھا جبکہ خاندان بھر میں بھی اب بچے کو تیمور کے بجائے ’’ لٹل خان‘‘سے ہی پکارا جاتا ہے جس کی تصدیق کرینہ کپور کی بہن کرشمہ کپور نے بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران کی ہے ۔
لیوتائی کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی طلاق پر شدید صدمہ ہوا جس سے نکلنے میں مجھے بہت وقت لگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس صدمے سے دوچار دیگر خواتین کی مدد کرتی ہوں. طلاق کا صدمہ یقیناًکسی بھی عورت کیلئے زندگی کا سب سے سخت صدمہ ہو سکتا ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان نہیں ہوتا مگر چین میں مطلقہ خواتین نے اس صدمے سے جان چھڑانے کا ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے کہ جان کر آپ کیلئے ہنسی روکنا مشکل ہو جائیگا۔ رپورٹ کے مطابق اس طریقے کے تحت خواتین کیلئے قبریں کھودی جاتی ہیں جن میں لیٹ کر وہ غوروفکر کرتی ہیں اور خود کو دنیا کی بے ثباتی کا یقین دلا کر طلاق کے دکھ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ چین کے جنوب مغربی شہر چونگ کنگ کی رہائشی 30سالہ خاتون لیو تائی جئے نے دریافت کیا تھا جب اسے طلاق ہوئی تھی۔ اسکے بعد اس نے دیگر مطلقہ خواتین کو اس طریقے کی طرف راغب کیا اور اب شہر میں یہ طریقہ باقاعدہ ایک رسم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ہر سال نئی طلاق یافتہ خواتین ایک جگہ جمع ہوتی ہیں جہاں ان کیلئے تعداد کے تناسب سے قبرنما گڑھے کھودے جاتے ہیں۔ گڑھے میں پلاسٹک کی شیٹ بچھائی جاتی ہے جس کے اوپر خواتین لیٹ جاتی ہیں۔ ان کی آنکھیں بند اور ہاتھ عبادت کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ لیٹی ہوئی غوروفکر کرتی رہتی ہیں۔
لیوتائی کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی طلاق پر شدید صدمہ ہوا جس سے نکلنے میں مجھے بہت وقت لگا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس صدمے سے دوچار دیگر خواتین کی مدد کرتی ہوں جس طریقے سے میں نے اپنا غم بھلایا اس میں اب میں ان کی مدد کرتی ہوں۔
رب کعبہ کے ہاں حاضری اور عمرہ کے فریضہ کی ادائیگی کے بعد اب مکہ المکرمہ سے مدینۃالمنورہ کے سفر پر رواں دواں تھے تاکہ شاہ کونین کی خدمت میں سلام عرض کیا جا سکے جب ہماری گاڑی اس شہر مقدس میں داخل ہورہی تھی تو رات ڈھل چکی تھی۔ اس کی جگمگاتی روشنیوں پر نظر پڑتے ہی دل کی دھڑکنوں اور زبان سے درود وسلام میں تیزی آگئی۔ مسجد نبوی کے روشن اور جگمگاتے میناروں سے نماز فجر کے لئے اذان ہورہی تھی۔ ہوٹل میں سامان رکھا اور عجزوانکساری، شوق واشتیاق اور بے تابی کے ساتھ مسجد کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ نماز کی ادائیگی کے تھوڑی دیر بعد روضہ اقدس کی جالیوں کے سامنے شاہ کونین کی خدمت اقدس میں کھڑا تھا۔ یقینی اور بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت تھی۔ مجھے یہ یقین کرنے میں مشکل پیش آرہی تھی کہ میں واقعی ان سے اتنے قریب ہوں۔ اور سعادت عظیم سے نوازا جارہا ہوں۔ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کہاں سے ہوں؟ یہ خیال ایکبار پھر ذہن میں گردش کرنے لگے۔ لیکن جلدہی یہ سب کچھ تشکر کے بہتے ہوئے آنسوئوں میں دھندلاگیا اور شاہ کونین کا ایک گنہگار امتی ان کی خدمت اقدس میں درودوسلام کا نذرانہ پیش کررہا تھا۔نمازیوں سے مسجد بھری ہونے کے باوجود یہ ان کا کرم ہی تو ہے کہ نماز عصر کے لئے ریاض الجنہ یعنی مسجد کے اس حصہ میںجگہ مل جاتی ہے جسکے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ میرے گھر اور میرےمنبر کے درمیان جنت کے باغوں میں ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر میرے حوض پر ہے اور جو شخص جنت کے باغات میں سے کسی باغ میں نماز پڑھنے کا خواہش مند ہو تو اسے میری قبر اور میرے منبر کے درمیان نماز پڑھ لینی چاہئے۔
من حیث القوم یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ نعشوں کے انبار اٹھانے کے باجود قوم دہشت گردی کی مذمت اور مقابلے کے لیے توانا اور تیار ہے، مال روڈ کا واقعہ ہو یا سہون شریف کے دالان میں خودکش حملہ، پشاور اور کوئٹہ میں سرکاری ملازمین پر حملہ ہو یا چارسدہ کا واقعہ، دہشت پھیلانے والوں کی گیدڑ بھبکیاں، ہر واقعہ کے بعد ایک نئی جہت، ایک نئی سوچ اور ایک نئے عزم کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار پاکستانی قوم، پاکستانی سپاہ اور ہزاروں کمزوریوں کے باوجود پاکستانی حکومت شاباش کی مستحق ہے، مال روڈ کے واقعہ کے بعد جس طرح خادم اعلیٰ پنجاب شہیدوں کے گھروں میں ان کے دکھ بانٹنے گئے اور پولیس افسران کی ڈھارس بندھائی اور ان کے اہل خانہ سے دکھ درد بانٹا اور حق کی راہ میں جان دینے والوں کی قربانیوں کا عظیم اعتراف کیا، ایک دوست پولیس کمانڈر مبین احمد اور راوین بھائی ایس ایس پی زاہد گوندل کا غم بھولے نہیں تھے کہ لعل قلندر کے مزار پر آتش فشانی نے دل توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لوگ لاشے اٹھا رہے ہیں اور اہل قلم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں عظیم کامیابیاں سمیٹنے کے بعد بھی ہم کہاں کھڑے ہیں، اس لیے یہ جائزہ غصے اور غم کے ادراک کے باوجود ضروری ہے، کیونکہ جنگ میں بھی بہرطور ملکی سلامتی کے لیے ادارے کام کرتے رہتے ہیں، کیا یہ جنگ ہم نے جیتی ہے یا ابھی تاحال جاری ہے کے جواب میں، میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہم نے اس جنگ میں بھاری کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن جانیں بھی بہت گنوائی ہیں، ہمارے شہیدوں کی تعداد تمام افغان جنگ کے شہیدوں سے کہیں زیادہ ہے، وسائل کی کمی اور نیشنل ایکشن پلان کی نوازئیدگی اور سول و ملٹری کے تعاون و اشتراک کی لمبی تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے رعایتی پاس تو کیا جاسکتا ہے، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود دہشت گردی کی عدالتیں نہ بنانے اور نیکٹا کو اس کی اصل روح کے مطابق طاقتور ادارے کی شکل نہ دینے کی پاداش میں امتیازی نمبر نہیں دیے جاسکتے۔ راقم نے پشاور حملے اور نیشنل ایکشن پلان بننے کے بعد وزیراعظم صاحب کی خدمت میں دسمبر2014ء ایک تفصیلی مراسلہ ملاقات میں دیا تھا، جس کی وزیراعظم صاحب نے دہشت گردی کی جنگ میں تجاویز کے طور پر استعمال کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ دو سال گزرنے کے بعد بھی ہم تین سال مزید فوجی عدالتوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سزائے موت پر وقتی عملدرآمد اور فوجی عدالتوں سے دشمنوں کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پاکستان کے کمزور قانونی اور لیگل سسٹم سے انہیں جیلوں سے چھڑوایا نہیں جاسکے گا اور مجرم اپنے منطقی انجام تک ضرور پہنچیں گے، لیکن ساتھ ساتھ وہ عدالتیں بھی بنانا تھیں یا ان کا اعتماد بحال کرنا تھا، تاکہ فوجی عدالتیں صرف جاسوسوں اور ملٹری ٹرائل کے لیے علامتی طور پر رہ جاتیں، جن لوگوں کا ہم ٹرائل اپنے مجوزہ آئین طریقہ کار کے تحت کرنے سے قاصر ہیں، انتہائی حالات انتہائی اقدامات کے متقاضی ہوتے ہیں، لیکن قوم کو ہمیشہ ہی ہم انتہائی حالات کے چنگل میں نہیں رکھ سکتے، کبھی نہ کبھی عام اور آئینی ڈھانچے کی طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رکھوالوں کو لوٹنا پڑتا ہے۔ انتہائی حالات کے پردے کے پیچھے نیکٹا میں ابتدائی بھرتیوں کو اختیار اور فوجی عدالتوں کا اختیار تو عارضی طور پر فوج کو دیا جاسکتا ہے اور جو دیا بھی گیا، اب اس اختیار سے نیکٹا میں سول ادارے کی شکل میں ایک ادارہ ابھرنا چاہیے تھا جو جرم ہونے سے پہلے ملزمان کو پکڑے۔ بعداز واقعہ نصیحتوں کے کاغذوں سے ہمیں نکلنا ہوگا اور اب نہیں تو کب پر عمل کرتے ہوئے اگر200ملین لوگوں کو قربانی کے لیے تیار کرنا ہے تو ان اداروں کو چلانے کے لیے بھی ان کی تربیت کرنا ہوگی، تاکہ ہم حتمی کامیابی کی طرف پیش قدمی کرسکیں۔ فوری انصاف کی فوجی عدالتیں عبوری وقت کے لیے تو کارگر ہیں لیکن مخصوص مدت میں اصلاحات اور بین الاقوامی طرز کی فیڈرل عدالت جہاں چیزیں قومی قانون کو مدنظر رکھ کے چلائی جائیں وقت کی اہم ضرورت ہے، برطانیہ اور امریکہ نے9 دسمبر اور7جولائی کے حملوں کے بعد ملک سے انتہا پسندی کی طرف مائل جماعتوں کا مکمل صفایا کردیا، کسی ایسی عسکری جماعت چاہے وہ کتنی ہی خیراتی کام نہ کرتی ہو، اسے ملک میں پابند کردیا اور ہم اچھے اور برے دہشت گردوں کے چکر میں ایسے پھنسے ہیں کہ راہ دکھائی نہیں دیتی، ایسی ہی جہت کرنے میں ہم نے سالوں لگا دیے ہیں، لیکن عسکری تنظیموں اور اسلحہ بردار جتھوں کا قلع قمع کرنے کا جتنا یہ وقت اہم ہے پہلے کبھی نہ تھا، چاہے وہ لسانی اور فرقہ واریت پر مبنی ہوں یا کسی مغرب اور گلف کے ملک کے دلدادہ ہوں، سب کو ایک لائن میں کھڑا کرکے قانون کی کسوٹی پر پرکھنے کا وقت آن پہنچا ہے، کسی بھی قسم کی تنظیم کو خوف اور تقسیم کی کارروائی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ نیکٹا کو جدید تقاضوں کے تحت مضبوط اور انتہا پسندی کے خلاف منظم ادارے کے طور پر تشکیل دیئے بنا کوئی بھی کامیابی حتمی اور مکمل نہیں ہوگی، بلکہ عارضی علاج ہوگا، غداری کے معنی تبدیل کرکے ملک اور قوم سے حب الوطنی کے تقاضے طے کرنا ہوں گے، تاکہ آرٹیکل5پر عمل ہوسکے اور سب پر لاگو بھی ہو کہ ریاست کی خدمت سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ نفرتیں ابھارنے اور گلے کاٹنے والی سوچ کی بیخ کنی کرنا ہوگی، دہشت گردی کے پیچھے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور سہولت کاروں کو کٹہروں میں لانا ہوگا، مادر پدر آزاد ادارے چاہے وہ خیراتی ہوں یا مذہبی ان سے پوچھے جانے کا وقت آگیا ہے کہ وہ بتائیں پیسہ کہاں سے آیا، کہاں استعمال ہوا اور کس نے بھیجا، اس کی چھان بین اور آڈٹ ہو تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ ہم اگر خود نہیں کریں تو الزام در الزام کے تحت بھائی بھائی سے لڑتا پھرے گا اور دشمن کو ایک عظیم مسکراہٹ کا موقع دیں گے، ہم خود ہی تو کہتے رہے ہیں کہ سلطنت برطانیہ، عظیم روس اور بہادر امریکہ ان پہاڑوں سے عظیم فتح نہیں بٹور سکے، ہمارے پاس تجربہ ہے، طاقت ہے، صلاحیت ہے تو اسے مشترکہ دشمن کے خلاف کیوں نہ استعمال کریں، میرے خیال میں پاکستانی قوم اپنی افواج سے بے پناہ لگائو رکھتی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان کی جہت تبدیل کررہے ہیں، اسے غربت اور ورلڈ بینک کے چنگل سے نکال کر پاک چائنا کوریڈور اور گوادر کے ذریعے ایک خودانحصار ملک کی طرف لے جارہے ہیں۔ چائنا نے پاکستان پر اعتبار کرکے46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے، یہ وقت ہے کہ مل کر مشترکہ دشمن کی بساط لپیٹ دی جائے۔ غصے، غم اور خوف میں کئی دفعہ دشمن دھندلا جاتا ہے، ہمارا دشمن کوئی اور نہیں وہی پرانا ہے، ہمیں زعم چھوڑ کر مشترکہ دشمن کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور ایک عظیم پاکستان کی طرف پیش قدمی کرنا چاہیے جو خودمختار ہو، ترقی پسند ہو اور خیرات دے نہ کہ خیرات لے اور جس کا دنیا میں سکہ چلتا ہو، انشاء اللہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ایک پرامن ملک میں لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے، یہی ترقی ہے اور یہی تنگ نظر تعصبی دشمن کو جواب بھی۔
ہم جموں وکشمیر والوں کیلئے اچھی خبریں کم ہی ابھرتی ہیں، ہمارا ریاستی حق خود ارادیت مختلف ادوار میں مختلف انداز میں اگر کبھی چند قدم آگے بڑھتا رہاہے تو کبھی اس کا چند قدم پیچھے ہٹ جانا بھی ایک معمول سا بنا ہوا ہے۔ آزاد خطہ کے کچھ حصے معاشی طورپہ مستحکم کیے جاسکتے ہیں مگر اکثریت آبادی کے درمیان غربت ، ناخواندگی اور صحت عامہ کی زبوں حالی ایک حقیقت ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں حکومت کو نہ تو پاکستان نے خود تسلیم کیا اور جب وہ خود ایسا نہ کرسکے تو اس حوالہ سے دوسرے ملکوں کو ایسا کرنے کا کیسے کہا جاسکتا تھا۔ چند اضلاع پہ مشتمل یہ ریاست نما ڈھانچہ ( جہاں علیحدہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدارتی آفس) موجود ہیں یہ ایک غیر حقیقی صورتحال ہے جس کو ریاست پاکستان زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یقیناً ایک بے اختیار سیٹ اپ کو جس سے آج تک آزادی کشمیر کے لئے کام بھی نہیں لیا جاسکا حالانکہ اس کا وجود صرف اسی لئے قائم کیا گیا تھا کہ اس مرکز سے حصول حق خود ارادیت کے لئے کام کیا جائےگا۔ اس طرح یہ بین الاقوامی مسئلہ کسی طرف لگ جائے گا اور اس ریاست کے رہنے والے کسی نہ کسی مرحلہ پہ سکھ کا سانس لیکرپر امن ماحول میں اپنی زندگیاں گزار سکیں گے۔ 70 برس میں مختلف قسم کی حکومتوں کو بنایا اور توڑا گیا آج 43 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ غیر حقیقی ریاست ایک عبوری آئین کے تحت چل رہی ہے۔ یہاں حکومتیں انہی جماعتوں کی بنتی ہیں جو پاکستان میں برسر اقتدار ہوں پچھلے سال مئی میں ہونے والے انتخابات میں 42نشستوں میں سے 39مسلم لیگ (ن ) نے جیتیں یہاں اس سے پچھلی حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اور اس وقت مرکز میں پیپلزپارٹی حکمران تھی۔ زبانی طورپہ سبھی تسلیم کرتے ہیںگلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کاحصہ ہے۔ مگر وہاں بھی مرکز کے ایماپہ ایک ایسا جمہوری نظام نافذ کردیا گیا ہے جس میں ایک گورنر بھی تعینات کردیاگیا۔ گورنر صرف کسی ریاست کے صوبوں میں ہی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ آئین پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیریوں کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست پاکستان اپنے ہی اقدامات سے غیر آئینی اقدامات کو کیوں جنم دیتی ہےاور کیوں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی کہ ایسے اقدامات اس حل طلب مسئلہ کو سلجھانے میں اس کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اور کررہے ہیں۔ یا ریاستی سوچ کا یہ ڈھانچہ کشمیریوں کی پاکستان سے جڑی وابستگیوں کومضبوط نہیں سمجھتا؟ پچھلے چند سالوں کی پاکستانی سیاست میں ہر طرف ’’سی پیک‘‘ اور عمران خان چھائے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں سونامی، آج تک مکمل طورپہ لوگوں کوسمجھ نہیں آسکے ہیں۔اگر چہ دونوں اپنی جگہ مضبوط قوتیں ہیں۔ چین کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران ایک عالمگیر مضبوط معاشی قوت کا ابھرنااور براؑعظم افریقہ، مڈل ایسٹ، ایشیا اور بڑی حد تک امریکہ کی معیشت پہ چھاجانا دنیا بھر کے لئے حیران اور پریشان کن ہے۔ مغربی دنیا علمی ادبی تکنیکی میدان میں چین سے بہت پہلے موجود ہے۔ اور ان ممالک بالخصوص امریکہ ، برطانیہ، فرانس ، جرمنی وغیرہ نے دیگر ممالک میں اپنی سفارتکاری محدود وانوسٹمنٹ اور امداد کے طریقہ سے اپنے اثر ورسوخ ایک مہذب سطح پہ قائم کیے اور قائم رکھے۔ دوسرا بڑا سوال یہ ابھرتا ہے کہ چین اتنی کم مدت میں اتنا سوپر امیر ملک کس سطح بن گیا؟ ایک پارٹی نظام حکومت ہے، جس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں۔ معیشت اور ہر طرح کے ریاستی سٹر کچر ایک مخصوص سوچ رکھنے والے افراد جن کے گرد نظام گھومتا ہے کا قبضہ ہے یہ کئی ٹرلین ڈالر سالانہ دینے والا معاشرہ خود اپنے آپ میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے دنیا بھر میں جس طرح دیکھو چینی انوسٹمنٹ ہی نظر آتی ہے یہاں یا تو دنیا کے معاشی نظام اور علم شماریات سے دھوکہ بازی ہورہی ہے یا پھر چین بھی بورس یلسن اور گربوچوف روس کی طرف بڑھ رہا ہے جو عنقریب معاشی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کئی ملکوں میں بٹ سکتا ہے؟ پچھلی ایک دہائی میںآصف علی زارداری اور وزیر اعظم نوازشریف نے بھی چین کے ساتھ درجنوں’’ ایم او یوز‘‘ معاہدوں پہ دستخط کیے ہیںاور اگر یہ سب کچھ پاکستان کی بہتری کے لئے کیا گیا ہے تو دونوں عزت وتکریم کے مستحق ہیں مگر ذاتی زندگیوں میں بھی یہ جائے کہ قومی زندگیوں میں کئی دھائیوں پہ محیط ریاستی تعلقات کو درہم برہم کرنے میں بڑے وقت لگتے ہیں ،پاکستان نے اپنے دیرینہ اتحادیوں سے منہ موڑ لینے میں نہایت عجلت سے کام لیا ہے چینی دولت کے پیچھے وہاں کے عام فرد کا کم اجرت پہ نامساعد حالات میں کام کرنے کی مجبوریاں بھی شامل ہیں، مغربی دنیا ایسی غیر معیاری پالیسیوں سے غیر مطمئن ہے جس ملک میں لوگوں کے معیار زندگی وسائل کے باوجود اچھے نہ ہوں چین ایسا ہی ایک ملک ہے اور اسے افسوسناک سمجھا جانا چاہئے۔ پاکستان سی پیک کے ذریعہ بھاری مقدار میں چینی انوسٹمنٹ ملک کے لئے اچھی خبر ہے۔ بڑے انوسٹمنٹ زون پنجاب اور بلوچستان میں بن رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ بھی شاکی ہے کہ اس سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جارہے اور چند ماہ سے ہم آزاد کشمیر والے بھی خوشیوں سے نڈھال ہورہے ہیں کہ بھمبر سی پیک کا حصہ بننے جارہا ہے۔ ہر کسی کی نظریں اس ضلع پہ جم چکی ہیں حکومتی وزرا اس صنعتی زون کے لئے زمین خریدنے میں لگے ہیں۔ صنعتی زون میں مقامی لوگوں کو اولیت حاصل ہونا چاہئے۔ دوسری طرف عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ انہیں نہ سننے جاننے کا شاکی ہے۔وزیراعظم راجہ فاروق حیدر چار دن بھمبر رہے وہ ایک عوامی آدمی ہیں۔ ان کے لئے بہت بہتر تھا کہ وہ وفود کی شکل میں لوگوں سے مل لیتے، مسئلہ یہ ہے کہ بیورو کریسی سیاست دانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہےاور جلد ہی خراب کرکے اقتدار سے باہر نکلوا دیتی ہے۔ یہاں اگر اپوزیشن احتجاج کررہی ہے تو اس کو سننا وزیراعظم کا آئینی فرض ہے اور احتجاج بھی جمہوری حق ہے۔ شنید میں ہے کہ کشمیر سی پیک دھان لگی سے براستہ کہوٹہ دینیہ بھمبر پہنچے گا۔ اگر صحیح معنوں میں فائدہ آزاد کشمیر والوں کو پہنچانا ہے تو زیادہ بہتر روٹ براستہ ڈڈیال ، اسلام گڑھ، بھمبر ہوگا۔ اسی روٹ کے ساتھ تحصیل کوٹلی کے بڑے حصے بھی جڑے ہوئے ہیں جہاں بیروز گاری اور غربت عوام کے ایک بڑے حصے کو اپنی گرفت سے باہر نہیں آنے دے رہی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ اگر یہ کہوٹہ روٹ کے لئے اہم سیاسی شخصیات کو شاں ہیں۔ مگر آزاد کشمیر کے ان علاقوں کے باسی وزیراعظم سے توقع رکھتے ہیں کہ کیونکہ وہ کشمیر کی تعمیر وترقی میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں وہ براستہ ڈڈیال روٹ کی منظوری دے کر ریاستی عوام اور ان علاقوں کے رہنے والوں کے لئے روزگار کے وسائل پیدا کرنے میں معاون بنیں گے۔ معاشی اور اخلاقی لحاظ سے اس روٹ کا کیس زیادہ مضبوط ہے۔ آزاد کشمیر والوں کی بھاری اکثریت پاکستان سے محبت کرنے والوں کی ہے اور میر پور والوں نے تو پاکستان کے لئے بجلی پیدا کرنے کے لئے بڑی تعداد میںنقل مکانی کی اور اپنے آباد واجداد کی قبریں پانی میں ڈبو دیں۔ اللہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کا حامی وناصر ہو۔
پیرس (خصوصی نمائندہ) فرانس میں پولیس نے انتہائی دائیں بازو کی سیاست دان مارین لی پین کے خصوصی محافظ کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تھیری لیگیا پر یورپی یونین کی جانب سے دئیے گئے فنڈ زکے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔کام پر جانےو الے والدین کے ہرسال 16ارب پونڈ بچ رہے ہیں،گرینڈ پیرنٹس گرینڈ چلڈرن کی دیکھ بھال پر اوسطاً 8گھنٹے سے زائد خرچ کرتے ہیں
لندن (خصوصی نمائندہ) ایمرڈیل سٹار بھاسکر پٹیل نے جنوبی ایشیائی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سٹروک کی عمومی علامات سے آگاہی حاصل کریں جس پر پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی حالیہ نیشنل ایکٹ فاسٹ کمپین میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ ایکٹ فاسٹ میں سٹروک کی اہم علامات اور خود میں یا کسی دوسرے شخص میں کوئی ایک علامت نظر آنے کی صورت میں فوری طور پر 999سے رابطے کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کو یاد دہانی کرائی گئی۔ سٹروک برطانیہ میں ہونے والی اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے اور جنوبی ایشیائی ذیابیطیس اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے اپنے سفید فام ہم عصروں کی بہ نسبت انتہائی خدشات کے شکار ہوتے ہیں۔ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سٹروک کا اہم سبب بنتے ہیں۔ نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال سٹروک کے نتیجے میں 40,000 افراد جاں بحق اور تقریباً دو تہائی معذور ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج ہوتے ہیں، لوگوں میں 55 سال یا زائد عمر ہونے کی صورت میں سٹروک کے امکانات ہوتے ہیں مگر ایشیائی باشندوں کو کم عمری میں ہی اس کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ایمر ڈیل اداکارہ بھاسکر پٹیل نے کہا ہے کہ سٹروک ایک سنجیدہ میڈیکل ایمرجنسی ہے جس کے نتیجے میں معذوری اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ جنوبی ایشیائی باشندوں میں اپنے سفید فاہم ہم عصروں کے مقابلے میں سٹروک کے خدشات دگنے ہوتے ہیں۔
بارسلونا(خصوی نمائندہ)سپین میں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ 60کی دہائی میں شروع ہواجو تا حال جاری ہے جب کہ سفیر پاکستان رفعت مہدی کا کہنا ہے کہ سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے مقامی معیشت کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔سپین میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 1999میں بڑھنا شروع ہوئی تھی جب یورپ کے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی جو کاغذات کے بغیر اُن ممالک میں رہتے تھے وہ سپین میں رہائش کے قانونی کاغذات بنوانے کے لئے یہاں کے مختلف شہروں میں پہنچے اور اپنے قانونی کاغذات کے حصول کی جدو جہد میں لگ گئے ۔سپین میں ایک قانون ’’ آرایگو ‘‘ کے نام سے نافذ العمل ہے جس کے تحت جو غیر ملکی یہ ثابت کر دے کہ وہ سپین میں مسلسل تین سال سے رہائش پذیر ہے اور اس کے لئے وہ کسی مکان میں رہنے کی رجسٹریشن رکھتا ہے تو وہ غیر ملکی کسی بھی مقامی کمپنی سے کام کرنے کا کنٹریکٹ لے گا اور ہسپانوی حکومت کو اپیل کرے گا کہ اُسے سپین میں رہنے کی قانونی اجازت دی جائے ۔ اس سسٹم کو مکمل ہونے میں تین سے چار ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔حکومت جمع کروائے گئے اُن کاغذات کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور وہ کاغذات مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے قانونی کارروائی کے لئے ہوم آفس میں پہنچتے ہیں جہاں سے کاغذات کو منظور یا نا منظور کرنے کی اطلاع اپیل کرنے والے تک پہنچتی ہے ۔اس قانون کے تحت دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے کاغذات حاصل کئے اور مزدوری کے ساتھ اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار چمکا لئے بزنس میں پاکستانیوں کی زیادہ تعداد شعبہ تعمیرات کے ساتھ منسلک ہو گئی اس کام میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنا مقام بنایا اور کمائے جانے والے سرمائے سے پاکستان میں عالی شان مکانات اور جائیدادیں بنائیں۔ کاروباری برادری میں پاکستانیوں نے اپنی محنت ، لگن اور ایمانداری سے نام بناکر اپنا اور اپنے ملک پاکستان کا وقار بڑھایا شعبہ تعمیرات کے بعدزیادہ ترپاکستانی کمیونٹی ریسٹورنٹس کے شعبے سے وابستہ ہے ۔سفیر پاکستان میڈرڈ رفعت مہدی کی ہسپانوی بادشاہ سے ہونے والی ملاقات میںبادشاہ نے پاکستانی کمیونٹی کی محنت اور جفاکشی کا ذکر بہت ہی اچھے الفاظ کیا تھا بادشاہ کی جانب سے تعریف پوری کمیونٹی کے لئے باعث فخر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے اپنی محنت سے سپین کی معیشت کو بڑھانے اور ترقی دینے میں قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ سفیر پاکستان نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ کا پاکستانی قوم کے بارے میں مثبت سوچ رکھنا ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم محنت ، جفا کشی اور ایمانداری سے کاروبار بڑھائیں ترقی کریں اور اپنے بچوں ، رشتہ داروں اور ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی ترقی میں بہتر کردار ادا کریں ۔اسپین میں پاکستانیوں کی تعداد بڑھی تو یہاں شادی، بیاہ اور دوسری تقریبات کے لئے بڑے بڑے ریسٹورنٹ اور شادی ہال بھی بنا لئے گئے جہاں پاکستانی ماحول اور کلچر کے مطابق مذہبی اور قومی رسومات بھی ترتیب دی جاتی ہیں ۔پاکستانی ریسٹورنٹس کے شعبہ سے وابستہ افراد جہاں اپنے وطن سے بہت دورپاکستانی کھانوں کے مزے اپنی کمیونٹی میں تقسیم کررہے ہیں وہیں مقامی کمیونٹی بھی پاکستانی کھانوں کو پسند کرنے لگی ہے ۔ پاکستانی پکوان کے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے چوہدری علی شوکت ، سکندر حیات گوندل ، راجہ امجد خالق ، امجد ڈار ، سعید بٹ اور ملک امتیاز نے روزنامہ جنگ کو بتایا کہ ہم یہ سنتے تھے کہ یورپی لوگ مرچ مصالحہ پسند نہیں کرتے وہ تھوڑی سی مرچ زیادہ ہو تو برا محسوس کرتے ہیں ، پاکستانی کھانوں کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ، مقامی کمیونٹی ہمارے ریسٹورنٹس پر آتی ہے تو خود فرمائش کی جاتی ہے کہ کچھ مرچ زیادہ ہو ، کھانا چٹ پٹا ہو ، تازہ ہو وغیرہ وغیرہ ، ان صاحبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھانوں کی تازگی اور ’’ سواد ‘‘ مقامی کمیونٹی کو لگ گیا ہے اب وہ سپانش کھانوں سے زیادہ پاکستانی کھانوں کو پسند کرتے ہیں۔ ریسٹورنٹس مالکان کا کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹی کا پاکستانی کھانوں میں دلچسپی لینا جہاں ہماری معاشی ترقی کا باعث بن رہا ہے وہاں مقامی کمیونٹی کے ساتھ ہمارے روابط اور تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنا رہا ہے ۔مقامی کمیونٹی پاکستانی ریسٹورنٹس پر آکر تازہ اور لذیز کھانا تو کھاتے ہی ہیں لیکن وہ پاکستانی ریسٹورنٹس کی انتظامیہ اُن کے اخلاق اور محبت کے ساتھ خندہ پیشانی کو بھی سراہتے ہیں ۔سفیر پاکستان رفعت مہدی نے مقامی وزراء ، سینیٹرز ، ہسپانوی ملکہ اور دوسرے سرکاری اداروں کے سربراہان کو پاکستان کے آم اور چٹ پٹی اشیائے خوردو نوش کی دعوت کھلا کر انہیں بھی وطن عزیز کا گرویدہ بنا لیا ہے ۔ ریسٹورنٹس کے شعبہ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کاروبار کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس مقامی کمیونٹی اور پاکستانی برادری کو ایک جگہ اکھٹا بیٹھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں جہاں دو ممالک کے کلچر ، تہذیب و تمدن ،رہن سہن ، رسومات ، مذہبی اور سیاسی گفتگو سے ایک دوسرے کے لئے معلومات کی فراہمی کا باہم زریعہ میسر آتا ہے ۔ریسٹورنٹس سے وابستہ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹی اور سرکاری محکموں نے ہمیں محبت دی ہے ، سرمایہ کاری کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں ، ہمارے حقوق کو اپنا جانا ہے ، ہمارے احساسات اور جذبات کی قدر اُسی طرح کی ہے جس طرح ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ، سب کا کہنا ہے کہ ہمیں اس ملک کو اپنے وطن کی طرح سمجھنا ہو گا ، یہاں کے قوانین کی پابندی اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ ملنسازی کا روَیہ ہمیں یہاں کامیاب مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے ۔ہمیں خود کمانا ہے لیکن اپنے بچوں کو یہاں تعلیم یافتہ بنانا ہو گا تاکہ وہ مقامی سرکاری اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں ۔
لندن/ برمنگھم/ بینبری/ بولٹن( خصوصی نمائندہ) طوفان ڈوری نے برطانیہ کے بیشتر علاقوں میں تباہی مچادی ہے جبکہ طوفان سے ایک خاتون ہلاک ہوگئی ہے۔اورشمالی انگلینڈ، ایسٹ اینگلیا۔ نارتھ ویلز اور مڈ لینڈز شدید ہوائوں کی لپیٹ میں ہیں اور سکاٹ لینڈ کے بالائی علاقوں میں برفباری بھی ہوئی ہے ، طوفان کی وجہ سے ہیتھرو ایئر پورٹ پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی متعدد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں ،مسافروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ انھیں ریل اور سڑک کے راستے سفر کے دوران رکاوٹوں کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے،شمالی آئر لینڈ میں طوفان کی وجہ سے درخت گرنے کی وجہ سےکم وبیش 7ہزار گھر اور دکانیں بجلی سے محروم ہوگئے ہیں، اورڈارٹ فورٹ کراسنگ کے قریب سے کینٹ اور ایسیکس کو ملانے والی انگلینڈ کی شاہراہیںبند کردی گئی ہیں،جبکہ سکاٹ لینڈ میں برفباری کی وجہ سےایچن کلنز اورجنوب کی جانب جانے والی سڑک پر 9نمبر چوراہے پر بینک برن پر برفباری کی وجہ سے شمال کی جانب جانے والی ایم 80،بند کردی گئی ہے۔موسم سے متعلق پیش گوئی میں سکاٹ لینڈ میں 18-12انچ تک برف پڑنے کی توقع ہے۔جبکہ کیپل کیورگ میں 94میل فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ ہیتھرو ایئر پورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر 77پروازیں منسوخ کرنے کی اطلاع دی ہے اور کہاہے کہ خراب موسم کی وجہ سے اس نے 10فیصد پروازیں کم کردی ہیں۔ایر لنگس نے برطانیہ اور جمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان اپنی تمام پروازیں منسوخ کردی ہیں،ٹرینوں کے مختلف روٹس پر رفتار50میل کردی گئی ہے جس کی وجہ سے ویلز، چلترن ریلویز، ایسٹ مڈ لینڈ ٹرینز ،گرانڈ سینٹرل، گریٹ ناردرن ،سائوتھ ویسٹ اور سائوتھ ایسٹرن سروسز پر ٹرینوں کی آمد میں تاخیر ہورہی ہے۔ ایک خاتون ترجمان نے بتایا ہےکہ ہیتھرو پر گنجائش کے99فیصد کے مساوی کام ہورہاہے اور تاخیر کاشکار ہونے والی پروازوں کیلئے اب اس ہوائی اڈے پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگوں سے کہاگیاہے کہ بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کی صورت میں 105پر رابطہ کریں،ناردرن آئرلینڈ الیکٹرک نے 14ہزار صارفین کی بجلی بحال کرنے کادعویٰ کیاہے۔ ماحولیات سے متعلق ایجنسی نے برطانیہ میں سیلاب کی کوئی پیش گوئی نہیں کی ہےتاہم مزید بارش ہونے اور تیز ہوائوں کاسلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات نے شمالی انگلینڈ کے برفباری سے متاثرہ علاقوں کیلئے زرد وارننگ جاری کردی ہے۔پیشگوئی کے مطابق اختتام ہفتہ اور اگلے ہفتے بھی مزید بارش ہونے اور تیزہوائیں چلنے کاامکان ہے لیکن اس کی شدت طوفان ڈوری جیسی نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں ولور ہمپٹن کی ڈڈلی سٹریٹ میں طوفان کے دوران عمارتی ملبے کی زد میں آکر ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔ اسے سر میں شدید چوٹیں آئی تھیں۔ برمنگھم سے نمائندہ جنگ کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز کے پورے علاقے میں طوفان سے معلومات زندگی بری طرح متاثر ہوگئے موٹر ایم 6سمیت ویسٹ مڈ لینڈز کے اطراف میں موٹرویزے پر برف گرنے سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا جبکہ ٹرینوں اور ہوائی جہازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا۔ ڈڈلی چڑیا گھر میں غیر معینہ مدت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ اولڈہم سے نمائندہ جنگ کے مطابق اولڈہم اور گردونواح میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی۔ جگہ جگہ درخت گرنے کی اطلاعات ہیں، کچھ مقامات پر گاڑیوں پر درخت یا گھروں کی ٹائلز گرنے سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بینبری سے نمائندہ جنگ کے مطابق برطانیہ بھر کی طرح بینبری بھی ڈوری طوفان کے زیر اثر رہا۔ بدھ کی رات سے ہی زور دار طوفانی ہواہیں چلنی شروع ہوئیں جن میں جمعرات کی صبح تک شدت آگئی تھی، ہوائیں اس قدر زور دار تھیں کہ جب گھروں کی کھڑکیوںسے ٹکڑاتی تو لوگ لرز اٹھتے،طوفان کی وجہ اٹلانٹک سے آنے والا گہرا کم دبائو والا سسٹم بتایا گیا، تیز ہوائوں کے جھکڑ چلنے کے باعث لوگوں نے ضرورتاً ہی باہر نکلنے کو ترجیح دی۔ صبح کے وقت وہ والدین جو اپنے بچوں کو گھر سے نزدیک سکول ہونے کے باعث پیدل سکول لے کر جاتے ہیں انھوں نے بھی گاڑیوںسے جانے کو ہی مناسب سمجھا کیونکہ پیدل چلنے والوں کو خاصی دشواری کا سامنا ہو رہا تھا۔ خاص کر سائیکل سوار اور موٹر سائیکل چلانے والوں کو بھی بہت دشواری رہی۔ کئی مقامات پر معمر اور کمزور لوگ فٹ پاتھوں پر نصب پولز کے سہارے چلتے نظر آرہے تھے ، بینبری کے ارد گرد کے ٹائونز میں پاور کٹ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ تمام دن ایمبولنس کے سائرن بھی سنائی دیتے رہے۔ بولٹن سے نمائندہ جنگ کے مطابق برطانیہ کے مختلف علاقوں کی طرح بولٹن میں بھی طوفانی ہواؤں سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا، تیز ہواؤں سے مکانوں، دکانوں اور گرجا گھروں کو نقصان پہنچا۔ مختلف مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے ایک 40سالہ خاتون زخمی ہوگئی جبکہ بجلی کی تاریں ٹوٹنے سے 600مکانات اندھیرے میں ڈوب گئے۔
لندن (خصوصی نمائندہ) گھریلو زیادتی کرنے والوں کو اب انگلینڈ اور ویلز کی عائلی عدالتوں میں اپنے سابق پارٹنرز سے جرح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اعلان جسٹس سیکرٹری کرنے والی ہیں۔ لز ٹرس اس پابندی کو توسیع دیں گی جو پہلے ہی فوجداری عدالتوں میں نافذ ہے۔ انہوں نے متاثرین کی حمایت کرنے والے گروپوں کی کمپین کے بعد ایک ایمرجنسی کا حکم گزشتہ ماہ دیا تھا۔ یہ دی پرزنز اینڈ کورٹس بل کا حصہ ہے جس کے تحت موبائل فون اور منشیات کے استعمال سے نمٹنے کے اقدامات سمیت پرزن سسٹم میں بڑی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ جسٹس منسٹر سر اولیور ہیلڈ نے کہا ہے کہ متاثرین اور بے سہارا افراد ہماری تبدیلیوں کا حصہ ہیں جن سے تمام افراد کو زیادہ جلدی انصاف فراہم ہوگا۔ لز ٹرس نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ جیلیں نظم و ضبط اور بہتری لانے والی جگہیں ہوں۔ شیڈو جسٹس سیکرٹری رچرڈ برگون نے کہا ہے کہ کنزرویٹو کا پرزن اینڈ کورٹس بل جیلوں کے بحران سے نمٹنے میں ناکام ہے۔ جیلوں کو مجرموں کی اصلاح کرنی چاہیے۔ تاہم یہ تجاویز سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔ صورتحال بہت سنگین ہے جس کا ادراک کیا جانا چاہیے۔