دہشت گر دی کی نئی لہر اور پا کستا نی قوم تحریر:بیرسٹر امجد ملک… راچڈیل
من حیث القوم یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ نعشوں کے انبار اٹھانے کے باجود قوم دہشت گردی کی مذمت اور مقابلے کے لیے توانا اور تیار ہے، مال روڈ کا واقعہ ہو یا سہون شریف کے دالان میں خودکش حملہ، پشاور اور کوئٹہ میں سرکاری ملازمین پر حملہ ہو یا چارسدہ کا واقعہ، دہشت پھیلانے والوں کی گیدڑ بھبکیاں، ہر واقعہ کے بعد ایک نئی جہت، ایک نئی سوچ اور ایک نئے عزم کے ساتھ اس کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار پاکستانی قوم، پاکستانی سپاہ اور ہزاروں کمزوریوں کے باوجود پاکستانی حکومت شاباش کی مستحق ہے، مال روڈ کے واقعہ کے بعد جس طرح خادم اعلیٰ پنجاب شہیدوں کے گھروں میں ان کے دکھ بانٹنے گئے اور پولیس افسران کی ڈھارس بندھائی اور ان کے اہل خانہ سے دکھ درد بانٹا اور حق کی راہ میں جان دینے والوں کی قربانیوں کا عظیم اعتراف کیا، ایک دوست پولیس کمانڈر مبین احمد اور راوین بھائی ایس ایس پی زاہد گوندل کا غم بھولے نہیں تھے کہ لعل قلندر کے مزار پر آتش فشانی نے دل توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لوگ لاشے اٹھا رہے ہیں اور اہل قلم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں عظیم کامیابیاں سمیٹنے کے بعد بھی ہم کہاں کھڑے ہیں، اس لیے یہ جائزہ غصے اور غم کے ادراک کے باوجود ضروری ہے، کیونکہ جنگ میں بھی بہرطور ملکی سلامتی کے لیے ادارے کام کرتے رہتے ہیں، کیا یہ جنگ ہم نے جیتی ہے یا ابھی تاحال جاری ہے کے جواب میں، میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہم نے اس جنگ میں بھاری کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن جانیں بھی بہت گنوائی ہیں، ہمارے شہیدوں کی تعداد تمام افغان جنگ کے شہیدوں سے کہیں زیادہ ہے، وسائل کی کمی اور نیشنل ایکشن پلان کی نوازئیدگی اور سول و ملٹری کے تعاون و اشتراک کی لمبی تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے رعایتی پاس تو کیا جاسکتا ہے، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود دہشت گردی کی عدالتیں نہ بنانے اور نیکٹا کو اس کی اصل روح کے مطابق طاقتور ادارے کی شکل نہ دینے کی پاداش میں امتیازی نمبر نہیں دیے جاسکتے۔ راقم نے پشاور حملے اور نیشنل ایکشن پلان بننے کے بعد وزیراعظم صاحب کی خدمت میں دسمبر2014ء ایک تفصیلی مراسلہ ملاقات میں دیا تھا، جس کی وزیراعظم صاحب نے دہشت گردی کی جنگ میں تجاویز کے طور پر استعمال کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی تھی، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ دو سال گزرنے کے بعد بھی ہم تین سال مزید فوجی عدالتوں کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ سزائے موت پر وقتی عملدرآمد اور فوجی عدالتوں سے دشمنوں کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پاکستان کے کمزور قانونی اور لیگل سسٹم سے انہیں جیلوں سے چھڑوایا نہیں جاسکے گا اور مجرم اپنے منطقی انجام تک ضرور پہنچیں گے، لیکن ساتھ ساتھ وہ عدالتیں بھی بنانا تھیں یا ان کا اعتماد بحال کرنا تھا، تاکہ فوجی عدالتیں صرف جاسوسوں اور ملٹری ٹرائل کے لیے علامتی طور پر رہ جاتیں، جن لوگوں کا ہم ٹرائل اپنے مجوزہ آئین طریقہ کار کے تحت کرنے سے قاصر ہیں، انتہائی حالات انتہائی اقدامات کے متقاضی ہوتے ہیں، لیکن قوم کو ہمیشہ ہی ہم انتہائی حالات کے چنگل میں نہیں رکھ سکتے، کبھی نہ کبھی عام اور آئینی ڈھانچے کی طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رکھوالوں کو لوٹنا پڑتا ہے۔ انتہائی حالات کے پردے کے پیچھے نیکٹا میں ابتدائی بھرتیوں کو اختیار اور فوجی عدالتوں کا اختیار تو عارضی طور پر فوج کو دیا جاسکتا ہے اور جو دیا بھی گیا، اب اس اختیار سے نیکٹا میں سول ادارے کی شکل میں ایک ادارہ ابھرنا چاہیے تھا جو جرم ہونے سے پہلے ملزمان کو پکڑے۔ بعداز واقعہ نصیحتوں کے کاغذوں سے ہمیں نکلنا ہوگا اور اب نہیں تو کب پر عمل کرتے ہوئے اگر200ملین لوگوں کو قربانی کے لیے تیار کرنا ہے تو ان اداروں کو چلانے کے لیے بھی ان کی تربیت کرنا ہوگی، تاکہ ہم حتمی کامیابی کی طرف پیش قدمی کرسکیں۔ فوری انصاف کی فوجی عدالتیں عبوری وقت کے لیے تو کارگر ہیں لیکن مخصوص مدت میں اصلاحات اور بین الاقوامی طرز کی فیڈرل عدالت جہاں چیزیں قومی قانون کو مدنظر رکھ کے چلائی جائیں وقت کی اہم ضرورت ہے، برطانیہ اور امریکہ نے9 دسمبر اور7جولائی کے حملوں کے بعد ملک سے انتہا پسندی کی طرف مائل جماعتوں کا مکمل صفایا کردیا، کسی ایسی عسکری جماعت چاہے وہ کتنی ہی خیراتی کام نہ کرتی ہو، اسے ملک میں پابند کردیا اور ہم اچھے اور برے دہشت گردوں کے چکر میں ایسے پھنسے ہیں کہ راہ دکھائی نہیں دیتی، ایسی ہی جہت کرنے میں ہم نے سالوں لگا دیے ہیں، لیکن عسکری تنظیموں اور اسلحہ بردار جتھوں کا قلع قمع کرنے کا جتنا یہ وقت اہم ہے پہلے کبھی نہ تھا، چاہے وہ لسانی اور فرقہ واریت پر مبنی ہوں یا کسی مغرب اور گلف کے ملک کے دلدادہ ہوں، سب کو ایک لائن میں کھڑا کرکے قانون کی کسوٹی پر پرکھنے کا وقت آن پہنچا ہے، کسی بھی قسم کی تنظیم کو خوف اور تقسیم کی کارروائی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ نیکٹا کو جدید تقاضوں کے تحت مضبوط اور انتہا پسندی کے خلاف منظم ادارے کے طور پر تشکیل دیئے بنا کوئی بھی کامیابی حتمی اور مکمل نہیں ہوگی، بلکہ عارضی علاج ہوگا، غداری کے معنی تبدیل کرکے ملک اور قوم سے حب الوطنی کے تقاضے طے کرنا ہوں گے، تاکہ آرٹیکل5پر عمل ہوسکے اور سب پر لاگو بھی ہو کہ ریاست کی خدمت سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ نفرتیں ابھارنے اور گلے کاٹنے والی سوچ کی بیخ کنی کرنا ہوگی، دہشت گردی کے پیچھے اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور سہولت کاروں کو کٹہروں میں لانا ہوگا، مادر پدر آزاد ادارے چاہے وہ خیراتی ہوں یا مذہبی ان سے پوچھے جانے کا وقت آگیا ہے کہ وہ بتائیں پیسہ کہاں سے آیا، کہاں استعمال ہوا اور کس نے بھیجا، اس کی چھان بین اور آڈٹ ہو تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔ ہم اگر خود نہیں کریں تو الزام در الزام کے تحت بھائی بھائی سے لڑتا پھرے گا اور دشمن کو ایک عظیم مسکراہٹ کا موقع دیں گے، ہم خود ہی تو کہتے رہے ہیں کہ سلطنت برطانیہ، عظیم روس اور بہادر امریکہ ان پہاڑوں سے عظیم فتح نہیں بٹور سکے، ہمارے پاس تجربہ ہے، طاقت ہے، صلاحیت ہے تو اسے مشترکہ دشمن کے خلاف کیوں نہ استعمال کریں، میرے خیال میں پاکستانی قوم اپنی افواج سے بے پناہ لگائو رکھتی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان کی جہت تبدیل کررہے ہیں، اسے غربت اور ورلڈ بینک کے چنگل سے نکال کر پاک چائنا کوریڈور اور گوادر کے ذریعے ایک خودانحصار ملک کی طرف لے جارہے ہیں۔ چائنا نے پاکستان پر اعتبار کرکے46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ہے، یہ وقت ہے کہ مل کر مشترکہ دشمن کی بساط لپیٹ دی جائے۔ غصے، غم اور خوف میں کئی دفعہ دشمن دھندلا جاتا ہے، ہمارا دشمن کوئی اور نہیں وہی پرانا ہے، ہمیں زعم چھوڑ کر مشترکہ دشمن کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور ایک عظیم پاکستان کی طرف پیش قدمی کرنا چاہیے جو خودمختار ہو، ترقی پسند ہو اور خیرات دے نہ کہ خیرات لے اور جس کا دنیا میں سکہ چلتا ہو، انشاء اللہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ایک پرامن ملک میں لوگ نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے، یہی ترقی ہے اور یہی تنگ نظر تعصبی دشمن کو جواب بھی۔

