اسپین میں مقیم کمیونٹی نے مقامی معیشت کی تر قی کے لیے اہم کر دارادا کیا ہے،سفیر پاکستا ن
بارسلونا(خصوی نمائندہ)سپین میں پاکستانیوں کی آمد کا سلسلہ 60کی دہائی میں شروع ہواجو تا حال جاری ہے جب کہ سفیر پاکستان رفعت مہدی کا کہنا ہے کہ سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے مقامی معیشت کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔سپین میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد 1999میں بڑھنا شروع ہوئی تھی جب یورپ کے دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی جو کاغذات کے بغیر اُن ممالک میں رہتے تھے وہ سپین میں رہائش کے قانونی کاغذات بنوانے کے لئے یہاں کے مختلف شہروں میں پہنچے اور اپنے قانونی کاغذات کے حصول کی جدو جہد میں لگ گئے ۔سپین میں ایک قانون ’’ آرایگو ‘‘ کے نام سے نافذ العمل ہے جس کے تحت جو غیر ملکی یہ ثابت کر دے کہ وہ سپین میں مسلسل تین سال سے رہائش پذیر ہے اور اس کے لئے وہ کسی مکان میں رہنے کی رجسٹریشن رکھتا ہے تو وہ غیر ملکی کسی بھی مقامی کمپنی سے کام کرنے کا کنٹریکٹ لے گا اور ہسپانوی حکومت کو اپیل کرے گا کہ اُسے سپین میں رہنے کی قانونی اجازت دی جائے ۔ اس سسٹم کو مکمل ہونے میں تین سے چار ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے ۔حکومت جمع کروائے گئے اُن کاغذات کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور وہ کاغذات مختلف اداروں سے ہوتے ہوئے قانونی کارروائی کے لئے ہوم آفس میں پہنچتے ہیں جہاں سے کاغذات کو منظور یا نا منظور کرنے کی اطلاع اپیل کرنے والے تک پہنچتی ہے ۔اس قانون کے تحت دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے کاغذات حاصل کئے اور مزدوری کے ساتھ اپنے چھوٹے چھوٹے کاروبار چمکا لئے بزنس میں پاکستانیوں کی زیادہ تعداد شعبہ تعمیرات کے ساتھ منسلک ہو گئی اس کام میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنا مقام بنایا اور کمائے جانے والے سرمائے سے پاکستان میں عالی شان مکانات اور جائیدادیں بنائیں۔ کاروباری برادری میں پاکستانیوں نے اپنی محنت ، لگن اور ایمانداری سے نام بناکر اپنا اور اپنے ملک پاکستان کا وقار بڑھایا شعبہ تعمیرات کے بعدزیادہ ترپاکستانی کمیونٹی ریسٹورنٹس کے شعبے سے وابستہ ہے ۔سفیر پاکستان میڈرڈ رفعت مہدی کی ہسپانوی بادشاہ سے ہونے والی ملاقات میںبادشاہ نے پاکستانی کمیونٹی کی محنت اور جفاکشی کا ذکر بہت ہی اچھے الفاظ کیا تھا بادشاہ کی جانب سے تعریف پوری کمیونٹی کے لئے باعث فخر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم نے اپنی محنت سے سپین کی معیشت کو بڑھانے اور ترقی دینے میں قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ سفیر پاکستان نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ کا پاکستانی قوم کے بارے میں مثبت سوچ رکھنا ہم سب کے لئے فخر کی بات ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم محنت ، جفا کشی اور ایمانداری سے کاروبار بڑھائیں ترقی کریں اور اپنے بچوں ، رشتہ داروں اور ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی ترقی میں بہتر کردار ادا کریں ۔اسپین میں پاکستانیوں کی تعداد بڑھی تو یہاں شادی، بیاہ اور دوسری تقریبات کے لئے بڑے بڑے ریسٹورنٹ اور شادی ہال بھی بنا لئے گئے جہاں پاکستانی ماحول اور کلچر کے مطابق مذہبی اور قومی رسومات بھی ترتیب دی جاتی ہیں ۔پاکستانی ریسٹورنٹس کے شعبہ سے وابستہ افراد جہاں اپنے وطن سے بہت دورپاکستانی کھانوں کے مزے اپنی کمیونٹی میں تقسیم کررہے ہیں وہیں مقامی کمیونٹی بھی پاکستانی کھانوں کو پسند کرنے لگی ہے ۔ پاکستانی پکوان کے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے چوہدری علی شوکت ، سکندر حیات گوندل ، راجہ امجد خالق ، امجد ڈار ، سعید بٹ اور ملک امتیاز نے روزنامہ جنگ کو بتایا کہ ہم یہ سنتے تھے کہ یورپی لوگ مرچ مصالحہ پسند نہیں کرتے وہ تھوڑی سی مرچ زیادہ ہو تو برا محسوس کرتے ہیں ، پاکستانی کھانوں کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ، مقامی کمیونٹی ہمارے ریسٹورنٹس پر آتی ہے تو خود فرمائش کی جاتی ہے کہ کچھ مرچ زیادہ ہو ، کھانا چٹ پٹا ہو ، تازہ ہو وغیرہ وغیرہ ، ان صاحبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھانوں کی تازگی اور ’’ سواد ‘‘ مقامی کمیونٹی کو لگ گیا ہے اب وہ سپانش کھانوں سے زیادہ پاکستانی کھانوں کو پسند کرتے ہیں۔ ریسٹورنٹس مالکان کا کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹی کا پاکستانی کھانوں میں دلچسپی لینا جہاں ہماری معاشی ترقی کا باعث بن رہا ہے وہاں مقامی کمیونٹی کے ساتھ ہمارے روابط اور تعلقات کو بھی مزید مضبوط بنا رہا ہے ۔مقامی کمیونٹی پاکستانی ریسٹورنٹس پر آکر تازہ اور لذیز کھانا تو کھاتے ہی ہیں لیکن وہ پاکستانی ریسٹورنٹس کی انتظامیہ اُن کے اخلاق اور محبت کے ساتھ خندہ پیشانی کو بھی سراہتے ہیں ۔سفیر پاکستان رفعت مہدی نے مقامی وزراء ، سینیٹرز ، ہسپانوی ملکہ اور دوسرے سرکاری اداروں کے سربراہان کو پاکستان کے آم اور چٹ پٹی اشیائے خوردو نوش کی دعوت کھلا کر انہیں بھی وطن عزیز کا گرویدہ بنا لیا ہے ۔ ریسٹورنٹس کے شعبہ سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ کاروبار کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس مقامی کمیونٹی اور پاکستانی برادری کو ایک جگہ اکھٹا بیٹھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں جہاں دو ممالک کے کلچر ، تہذیب و تمدن ،رہن سہن ، رسومات ، مذہبی اور سیاسی گفتگو سے ایک دوسرے کے لئے معلومات کی فراہمی کا باہم زریعہ میسر آتا ہے ۔ریسٹورنٹس سے وابستہ افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹی اور سرکاری محکموں نے ہمیں محبت دی ہے ، سرمایہ کاری کرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں ، ہمارے حقوق کو اپنا جانا ہے ، ہمارے احساسات اور جذبات کی قدر اُسی طرح کی ہے جس طرح ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ، سب کا کہنا ہے کہ ہمیں اس ملک کو اپنے وطن کی طرح سمجھنا ہو گا ، یہاں کے قوانین کی پابندی اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ ملنسازی کا روَیہ ہمیں یہاں کامیاب مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے ۔ہمیں خود کمانا ہے لیکن اپنے بچوں کو یہاں تعلیم یافتہ بنانا ہو گا تاکہ وہ مقامی سرکاری اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں ۔

