کشمیر سی پیک… متبا دل روٹ فکر فردا…راجہ اکبر دادخا ن
ہم جموں وکشمیر والوں کیلئے اچھی خبریں کم ہی ابھرتی ہیں، ہمارا ریاستی حق خود ارادیت مختلف ادوار میں مختلف انداز میں اگر کبھی چند قدم آگے بڑھتا رہاہے تو کبھی اس کا چند قدم پیچھے ہٹ جانا بھی ایک معمول سا بنا ہوا ہے۔ آزاد خطہ کے کچھ حصے معاشی طورپہ مستحکم کیے جاسکتے ہیں مگر اکثریت آبادی کے درمیان غربت ، ناخواندگی اور صحت عامہ کی زبوں حالی ایک حقیقت ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں حکومت کو نہ تو پاکستان نے خود تسلیم کیا اور جب وہ خود ایسا نہ کرسکے تو اس حوالہ سے دوسرے ملکوں کو ایسا کرنے کا کیسے کہا جاسکتا تھا۔ چند اضلاع پہ مشتمل یہ ریاست نما ڈھانچہ ( جہاں علیحدہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور صدارتی آفس) موجود ہیں یہ ایک غیر حقیقی صورتحال ہے جس کو ریاست پاکستان زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یقیناً ایک بے اختیار سیٹ اپ کو جس سے آج تک آزادی کشمیر کے لئے کام بھی نہیں لیا جاسکا حالانکہ اس کا وجود صرف اسی لئے قائم کیا گیا تھا کہ اس مرکز سے حصول حق خود ارادیت کے لئے کام کیا جائےگا۔ اس طرح یہ بین الاقوامی مسئلہ کسی طرف لگ جائے گا اور اس ریاست کے رہنے والے کسی نہ کسی مرحلہ پہ سکھ کا سانس لیکرپر امن ماحول میں اپنی زندگیاں گزار سکیں گے۔ 70 برس میں مختلف قسم کی حکومتوں کو بنایا اور توڑا گیا آج 43 برس گزر جانے کے بعد بھی یہ غیر حقیقی ریاست ایک عبوری آئین کے تحت چل رہی ہے۔ یہاں حکومتیں انہی جماعتوں کی بنتی ہیں جو پاکستان میں برسر اقتدار ہوں پچھلے سال مئی میں ہونے والے انتخابات میں 42نشستوں میں سے 39مسلم لیگ (ن ) نے جیتیں یہاں اس سے پچھلی حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اور اس وقت مرکز میں پیپلزپارٹی حکمران تھی۔ زبانی طورپہ سبھی تسلیم کرتے ہیںگلگت بلتستان ریاست جموں وکشمیر کاحصہ ہے۔ مگر وہاں بھی مرکز کے ایماپہ ایک ایسا جمہوری نظام نافذ کردیا گیا ہے جس میں ایک گورنر بھی تعینات کردیاگیا۔ گورنر صرف کسی ریاست کے صوبوں میں ہی تعینات کیے جاسکتے ہیں۔ آئین پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیریوں کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست پاکستان اپنے ہی اقدامات سے غیر آئینی اقدامات کو کیوں جنم دیتی ہےاور کیوں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی کہ ایسے اقدامات اس حل طلب مسئلہ کو سلجھانے میں اس کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اور کررہے ہیں۔ یا ریاستی سوچ کا یہ ڈھانچہ کشمیریوں کی پاکستان سے جڑی وابستگیوں کومضبوط نہیں سمجھتا؟ پچھلے چند سالوں کی پاکستانی سیاست میں ہر طرف ’’سی پیک‘‘ اور عمران خان چھائے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں سونامی، آج تک مکمل طورپہ لوگوں کوسمجھ نہیں آسکے ہیں۔اگر چہ دونوں اپنی جگہ مضبوط قوتیں ہیں۔ چین کا پچھلی دو دہائیوں کے دوران ایک عالمگیر مضبوط معاشی قوت کا ابھرنااور براؑعظم افریقہ، مڈل ایسٹ، ایشیا اور بڑی حد تک امریکہ کی معیشت پہ چھاجانا دنیا بھر کے لئے حیران اور پریشان کن ہے۔ مغربی دنیا علمی ادبی تکنیکی میدان میں چین سے بہت پہلے موجود ہے۔ اور ان ممالک بالخصوص امریکہ ، برطانیہ، فرانس ، جرمنی وغیرہ نے دیگر ممالک میں اپنی سفارتکاری محدود وانوسٹمنٹ اور امداد کے طریقہ سے اپنے اثر ورسوخ ایک مہذب سطح پہ قائم کیے اور قائم رکھے۔ دوسرا بڑا سوال یہ ابھرتا ہے کہ چین اتنی کم مدت میں اتنا سوپر امیر ملک کس سطح بن گیا؟ ایک پارٹی نظام حکومت ہے، جس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں۔ معیشت اور ہر طرح کے ریاستی سٹر کچر ایک مخصوص سوچ رکھنے والے افراد جن کے گرد نظام گھومتا ہے کا قبضہ ہے یہ کئی ٹرلین ڈالر سالانہ دینے والا معاشرہ خود اپنے آپ میں چھپ کر بیٹھا ہوا ہے دنیا بھر میں جس طرح دیکھو چینی انوسٹمنٹ ہی نظر آتی ہے یہاں یا تو دنیا کے معاشی نظام اور علم شماریات سے دھوکہ بازی ہورہی ہے یا پھر چین بھی بورس یلسن اور گربوچوف روس کی طرف بڑھ رہا ہے جو عنقریب معاشی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر کئی ملکوں میں بٹ سکتا ہے؟ پچھلی ایک دہائی میںآصف علی زارداری اور وزیر اعظم نوازشریف نے بھی چین کے ساتھ درجنوں’’ ایم او یوز‘‘ معاہدوں پہ دستخط کیے ہیںاور اگر یہ سب کچھ پاکستان کی بہتری کے لئے کیا گیا ہے تو دونوں عزت وتکریم کے مستحق ہیں مگر ذاتی زندگیوں میں بھی یہ جائے کہ قومی زندگیوں میں کئی دھائیوں پہ محیط ریاستی تعلقات کو درہم برہم کرنے میں بڑے وقت لگتے ہیں ،پاکستان نے اپنے دیرینہ اتحادیوں سے منہ موڑ لینے میں نہایت عجلت سے کام لیا ہے چینی دولت کے پیچھے وہاں کے عام فرد کا کم اجرت پہ نامساعد حالات میں کام کرنے کی مجبوریاں بھی شامل ہیں، مغربی دنیا ایسی غیر معیاری پالیسیوں سے غیر مطمئن ہے جس ملک میں لوگوں کے معیار زندگی وسائل کے باوجود اچھے نہ ہوں چین ایسا ہی ایک ملک ہے اور اسے افسوسناک سمجھا جانا چاہئے۔ پاکستان سی پیک کے ذریعہ بھاری مقدار میں چینی انوسٹمنٹ ملک کے لئے اچھی خبر ہے۔ بڑے انوسٹمنٹ زون پنجاب اور بلوچستان میں بن رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ بھی شاکی ہے کہ اس سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جارہے اور چند ماہ سے ہم آزاد کشمیر والے بھی خوشیوں سے نڈھال ہورہے ہیں کہ بھمبر سی پیک کا حصہ بننے جارہا ہے۔ ہر کسی کی نظریں اس ضلع پہ جم چکی ہیں حکومتی وزرا اس صنعتی زون کے لئے زمین خریدنے میں لگے ہیں۔ صنعتی زون میں مقامی لوگوں کو اولیت حاصل ہونا چاہئے۔ دوسری طرف عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ انہیں نہ سننے جاننے کا شاکی ہے۔وزیراعظم راجہ فاروق حیدر چار دن بھمبر رہے وہ ایک عوامی آدمی ہیں۔ ان کے لئے بہت بہتر تھا کہ وہ وفود کی شکل میں لوگوں سے مل لیتے، مسئلہ یہ ہے کہ بیورو کریسی سیاست دانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہےاور جلد ہی خراب کرکے اقتدار سے باہر نکلوا دیتی ہے۔ یہاں اگر اپوزیشن احتجاج کررہی ہے تو اس کو سننا وزیراعظم کا آئینی فرض ہے اور احتجاج بھی جمہوری حق ہے۔ شنید میں ہے کہ کشمیر سی پیک دھان لگی سے براستہ کہوٹہ دینیہ بھمبر پہنچے گا۔ اگر صحیح معنوں میں فائدہ آزاد کشمیر والوں کو پہنچانا ہے تو زیادہ بہتر روٹ براستہ ڈڈیال ، اسلام گڑھ، بھمبر ہوگا۔ اسی روٹ کے ساتھ تحصیل کوٹلی کے بڑے حصے بھی جڑے ہوئے ہیں جہاں بیروز گاری اور غربت عوام کے ایک بڑے حصے کو اپنی گرفت سے باہر نہیں آنے دے رہی کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ اگر یہ کہوٹہ روٹ کے لئے اہم سیاسی شخصیات کو شاں ہیں۔ مگر آزاد کشمیر کے ان علاقوں کے باسی وزیراعظم سے توقع رکھتے ہیں کہ کیونکہ وہ کشمیر کی تعمیر وترقی میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں وہ براستہ ڈڈیال روٹ کی منظوری دے کر ریاستی عوام اور ان علاقوں کے رہنے والوں کے لئے روزگار کے وسائل پیدا کرنے میں معاون بنیں گے۔ معاشی اور اخلاقی لحاظ سے اس روٹ کا کیس زیادہ مضبوط ہے۔ آزاد کشمیر والوں کی بھاری اکثریت پاکستان سے محبت کرنے والوں کی ہے اور میر پور والوں نے تو پاکستان کے لئے بجلی پیدا کرنے کے لئے بڑی تعداد میںنقل مکانی کی اور اپنے آباد واجداد کی قبریں پانی میں ڈبو دیں۔ اللہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کا حامی وناصر ہو۔

