واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) پینٹاگان نے کہا ہے کہ شام میں القاعدہ کے خلاف ایک فضائی کارروائی کی گئی۔ تاہم، اس بات کی تردید کی کہ مسجد کو ہدف بنایا گیا، جس کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپ کا کہنا ہے کہ حملے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔پینٹاگان کے ترجمان نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ پائلٹ والے اور پائلٹ کے بغیر طیاروں نے حلب کے قریب واقع الجناح کے قصبے میں مسجد کے ساتھ والی ایک عمارت کو نشانہ بنایا۔ ترجمان، نیوی کے کپتان، جیف ڈیوس نے بتایا کہ فضائی کارروائی میں القاعدہ کےدرجنوں چوٹی کے اہل کار ہلاک ہوئے، جو جمعرات کے روز اس عمارت میں اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔اپنے دعوے کی حمایت میں، پینٹاگان نے فضائی کارروائی کے بعد لی گئی تصویر جاری کی ہے۔ فوٹو میں دکھایا گیا ہے کہ مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جب کہ اس قریبی عمارت کو کئی ہتھیار لگے، جس کا ملبہ سڑکوں میں پھیل گیا۔ تاہم، مسجد اور تباہ شدہ عمارت کے ساتھ کھڑی موٹر گاڑیاں محفوظ رہیں۔ڈیوس کے بقول، ”فضائی کارروائی سے پہلے علاقے کی تفصیلی نگرانی کی گئی، تاکہ شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچے”۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) وائٹ ہاوس کے ترجمان شون اسپائسر نے اس بات کا دفاع کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے 6 ممالک پر ویزہ پابندی سے متعلق بل، قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہے جس کی بحالی کےلیے جلد ہی اپیل کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔اسپائسر نے اپنی یومیہ اخباری کانفرنس کے دوران بتایا کہ دو وفاقی ججوں نے اس بل کو مسترد کر دیا ،حکومت نے اس بل کو دوبارہ مرتب کرنے کے لیے تمام ضروری قانونی تقاضوں کو پورا کیا مگر اس کی منسوخی ناقابل فہم ہے ۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ججوں کی اس بل کے بارے میں معلومات کم ہیں، صدر ٹرمپ کو عوام نے اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ ہجرت نظام کو تبدیل کریں کیونکہ امریکی عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے ۔علاوہ ازیں، اسپائسر نے کہا کہ جہاں تک سابق انتظامیہ کی طرف سے ٹرمپ ٹاور کے ٹیلی فون سننے کا معاملہ ہے تو اس بارے میں دلائل جب بھی ملے عوام کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے۔
پیرس (نمائندہ خصوصی) فرانس میں پہلے پاکستانی نے ادویات بنانے کی پہلی فیکٹری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاندونے فرانس میں ادویات بنانے والی پاکستان کی ایک کمپنی کا افتتاح کیا۔تقریب میں میئرپاسکل، میڈم نتھالی اور اعلیٰ حکومتی حکام نے بھی شرکت کی جبکہ صدر نے فیکٹری کا تفصیلی دورہ بھی کیا اس موقع پر فرانس میں پاکستان کے سفیر معین الحق بھی موجود تھے۔صدر کو کمپنی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ 2014 ءمیں مذکورہ فارماسیوٹیکل کمپنی کے قیام کا باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا۔فیکٹری کے قیام کو صدر نے دونوں ممالک کے درمیان ’دوستی کی علامت‘ قرار دیا ہے۔
پیرس (نمائندہ خصوصی) خودکشی یا قتل۔ پیرس گیارہ کے گلی مونترائی سے دو افراد کی لاشیں برآمد۔ پولیس مصروف تفتیش۔ تفصیل کے مطابق پیرس 11 کے علاقے سے علی الصبع دو افراد کو مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔پولیس اور سیکیورٹی ادارے واقعہ کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ واقعہ خود کشی تھا یا دو افراد کو قتل کیا گیا ہے۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے اعلان کہ” شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی بھی ’ایک متبادل ہے‘ یعنی ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے ” کے بعد ایک اعلان صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کیا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ “شمالی کوریا کا رویہ انتہائی غیر مہذبانہ ہے، یہ سالہا سال سے امریکہ کے ساتھ کھیل کھیلتا آیا ہے۔ ”ٹویٹر پیغام میں چین سے بھی ستم کرنے والے ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے اس مؤقف کے خلاف چین نے بھی مطلوبہ تعاون کا مظاہرہ نہیں کیا۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ٹیلر سن نے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری سرگرمیوں سے پاک علاقے کا دورہ کرتے ہوئے اہم اعلانات کیے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’سٹریٹیجک برادشت ‘ کی پالیسی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب امریکہ سفارتی، سکیورٹی اور اقتصادی اقدامات جیسے نئے پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔خیال رہے کہ شمالی کوریا نے حالیہ مہینوں میں میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں جس سے خطے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔دوسری جانب ٹیلرسن جنوبی کویرا کے بعد آج چینی صدر ِ مملکت شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔یہ بھی خیال رہے کہ اسوقت امریکہ ، جاپان اور جنوبی کوریا ، جزیرہ نما کوریا میں مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سالانہ تنخواہ خیراتی ادارے کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاﺅس کے ترجمان شین سپائسر نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سال کے آخر پر اپنی سالانہ تنخواہ جو 4 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے ، ایک خیراتی ادارے کو عطیہ کریں گے واضح رہے کہ قبل ازیں دو امریکی صدور ہربرٹ ہوور اور جان ایف کینیڈی بھی اپنی تنخواہ خیراتی اداروں کو دیتے چلے آرہے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق چینی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو جدید تر بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کا مسلح افواج کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا مجموعی طور پر مسلح افواج کو سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ توجہ تکنیکی جدت پر دی جائے گی۔ ان میں نئے جیٹ طیارے، نئی آبدوزیں اور مصنوعی سیاروں کا خلاء میں بھیجنا شامل ہے۔
ترکی میں آئینی اصلاحات پرریفرنڈم ہورہا ہے، اورمغرب ناراض ہے، کیوں؟ ہالینڈ حکومت چراغ پا ہے، کیوں؟ جرمن حکومت مشتعل ہے، کیوں؟ سوئیڈن نے ہالینڈ سے کاندھے ملالیے؟ کیوں؟ فرانس پہلے ہی شانہ بہ شانہ ہے، اورآسٹریا دانت پیس رہا ہے، کیوں؟؟ کہاں گیا لبرل یورپ؟ کہاں گیا جمہورکا احترام؟ کہاں گیا روادار اقدار کا محافظ یورپ؟ کہاں گیا انسانی حقوق کا علمبرداریورپ؟دوفروری جمعرات کا روز تھا۔ انقرہ میں اہم پریس کانفرنس ہوئی۔ جرمن چانسلرانگیلا مرکل اورترک صدرطیب اردوان ون آن ون ملاقات کے بعد خوشگوار موڈ میں ذرائع ابلاغ کے روبرو ہوئے۔ جرمن چانسلر نے کہا، ” ہم نے تفصیل سے ‘اسلامی دہشتگردی’ سمیت دہشت کی ہرقسم پرگفتگو کی ہے، کرد قوم پرست جنگجوؤں کا تذکرہ بھی ہوا۔ ہم نے تعاون پر اتفاق کیا، ہم سب ہی دہشتگردی سے متاثرہیں۔ ہم نے مستقبل میں تعاون میں مزید استحکام پراتفاق کیا ہے۔”مرکل کے ان الفاظ پرصدراردوان غصے میں آگئے۔ اپنی باری پرانہوں نے جرمن چانسلر پرواضح کردیا کہ ” اسلامی دہشت گردی کے الفاظ سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، یہ موازنہ ہرگز درست نہیں، اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں، اسلام کا مطلب امن ہے۔ داعش کے دہشتگردوں کو بنیاد بناکر’اسلامی دہشتگردی’ کی اصطلاح کا استعمال افسوسناک ہے۔ برائے مہربانی، آئندہ یہ اصطلاح استعمال نہ کریں۔ جہاں تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کی ضرورت کا سوال ہے، میں بطورمسلمان صدریہ اصطلاح قبول نہیں کرسکتا۔”
جرمن چانسلرنے یہ اصطلاح ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کے ساتھ پریس کانفرنس میں دوبارہ استعمال کی، گویا ٹرمپ پالیسی کی خاموش حمایت جاری رکھی۔ جرمن چانسلرکا یہ پالیسی بیان دو وجوہات کے سبب نسبتا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی انتہا پسندی کاطوفان آیا، توسب کی پرامید نظریں جرمنی کی جانب اٹھ گئیں، گمان تھا کہ جرمنی لبرل جمہوریت کا آخری محافظ بن کر سامنے آئے گا، مگرجرمن چانسلر نے ‘اسلامی دہشتگردی’ کی اصطلاح دوہرانا ہی باعث شرف جانا، اوراس پراصرارکیا۔دوسری وجہ وقت ہے۔ اگلے ماہ سولہ تاریخ کو ترکی میں آئینی اصلاحات پرریفرنڈم ہے۔ اس ریفرنڈم کا ایک فیصلہ کُن کرداریورپ میں آباد پچاس لاکھ ترک شہریوں کا ہے۔ جن میں سے چودہ لاکھ ووٹرز صرف جرمنی میں رہتے ہیں، ان کی رائے بہت اہم ہے۔ ترک صدریورپ میں مقیم ترک شہریوں میں ریفرنڈم کی مہم چلارہے ہیں۔ جسے جرمن حکومت نقصان پہنچارہی ہے۔ چانسلرمرکل کی اشتعال انگیزی اور ترک دشمن پالیسی نمایاں ہے۔
غرض جرمنی لبرل اقداراور جمہوری اخلاقیات بالائے طاق رکھ کرترک مخالف یورپی مہم کا سرخیل بن چکا ہے۔ جرمنی میں وزراء ترکی کی جمہوری حکومت کے خلاف بیان دیتے ہیں کیونکہ یہ رائے کی آزادی کا اظہارہے، مگرترک حکام کوآئینی اصلاحات کیلئے مہم چلانے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ سکیورٹی رسک ہے۔ یورپ کویہ فکرتوہے کہ ترکی میں آئینی اصلاحات سے آمریت آسکتی ہے، مگرمصرمیں موجود آمریت پرماتھے پرشکن تک نہیں پڑتی۔کچھ عرصہ پہلے سماجی منصوبوں کی ترک وزیر فاطمہ بتول ریفرنڈم مہم کے سلسلے میں بذریعہ سڑک ہالینڈ کے شہرروٹر ڈیم پہنچیں، لیکن حکام نے انھیں قونصل خانے میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ جس کے بعد فاطمہ بتول وطن لوٹ گئیں۔ اس واقعہ پراستنبول سے روٹرڈیم تک ترک شہریوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ اس سے قبل ہالینڈ کی حکومت نے ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو کی پرواز کو بھی روٹرڈیم میں اترنے سے روک دیا تھا۔
سوئیڈن میں ترک آئینی اصلاحات مہم پرایک ریلی شیڈول تھی، مگرمقامی منتظم نے اچانک ترک حکمران جماعت سے معاہدہ توڑدیا، ریلی کے انتظام سے ہاتھ اٹھالیے، اورکوئی وجہ بیان نہ کی۔ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لوکے راسموسین نے فرمایا کہ ترکی میں ‘جمہوری اقدار شدید دباؤ میں ہیں۔’غرض، پورا مغرب ترکی میں تبدیلی پرپریشان ہے۔ یہی وہ مغرب ہے جوسوسال پہلے ترکی میں مصطفی کمال کے مظالم کا پشتیبان تھا، جومغرب مساجد پرتالے دیکھ کربغلیں بجایا کرتا تھا، اور یہی وہ مغرب ہے جوترکی میں جمہوریت کے لگاتارقتل عام پرپھولے نہ سماتا تھا۔۔آج یورپ بھی انتہا پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیچھے چل پڑا ہے۔۔۔ نئے عالمی انتشارکے نقوش ابھرنے لگے ہیں۔ یہ ڈچ وزیرگیرٹ ویلڈرز کے نقش ہیں، یہ فرانسیسی سیاستدان لی پین کے نقش ہیں، یہ جرمن چانسلرانگیلا مرکل کے نقش ہیں، اوریہ پوپ اربن دوئم کے نقش ہیں۔اس صورتحال پرصدررجب طیب اردوان کہتے ہیں ”گذشتہ چند روز میں مغرب نے بہت واضح ہو کے اپنا حقیقی چہرہ دکھایا ہے۔ جب سے (ترکی مخالف) واقعات شروع ہوئے ہیں میں نے ہمیشہ کہا کہ فاشسٹ دباؤ ہے۔ میرا خیال تھا کہ نازی ازم ختم ہوگیا لیکن میں غلط تھا۔ درحقیقت مغرب میں یہ اب بھی زندہ ہے۔ میری بہن کو، ہماری خاتون وزیر(فاطمہ بتول) کو، اپنے ہی ملک کے قونصل خانے کی عمارت میں سفارتی گاڑی میں داخل ہونے سے کوئی ملک (ہالینڈ) کیسے روک سکتا ہے۔ وضاحت کریں یہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں ہالینڈ نے بوسنیا سربرینیکا کے آٹھ ہزار انسانوں کے قتل عام میں اہم کردارادا کیا۔۔۔۔ ”سچائی یہ ہے، کہ ترکی سوسال سے مغرب کا کامیاب سیکولرتھیسس تھا، مگرآج اینٹی تھیسس بن چکا ہے، اوراب سن تھیسس تشکیل دے رہا ہے۔ اور مغرب اس سن تھیسس سے خوفزدہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا ترکی نے ہالینڈ کو سربرینٹسا میں ہی پہچان لیا تھا، صدر اردوگان نے کہا کہ ہالینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کرنے والے ممالک کے وقار پر کاری ضرب لگی ہے۔جرمن چانسلر مرکل نے ہالینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، اردوگان نے کہا کہ جرمنی اور ہالینڈ میں کوئی فرق نہیں، ہم ان سے اسی طرح کے متعصبانہ اور نسل پرستانہ رویے کی ہی توقع رکھتے ہیں۔
اسرائیل کی سفاکانہ پالیسیوں پر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطینیوں پر نسلی تعصب مسلط کر رکھا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام عالم اسرائیل کا بائیکاٹ کرے اور پابندیاں بھی عائد کی جائیں۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ دو امریکی پروفیسرز کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔