ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں اشتہاری ملزم عارف کو سعودی عرب سے گرفتار کر کے ملتان منتقل کردیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق مقتولہ قندیل بلوچ کا بھائی عارف قتل کے مقدمے میں نامزد تھا جو فرار ہو کر سعودی عرب چلاگیا تھا۔عدالت کی جانب سے ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا جس کے بعد انٹرپول کی مدد سے ملزم کو سعودی عرب سے گرفتار کر کے ملتان منتقل کر کے ملزم کو مقامی عدالت مین پیش کیا گیا۔عدالت کی جانب سے ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔واضح رہے کہ 15 جولائی 2016 کو ماڈل قندیل بلوچ کو مظفر آباد میں اس کے بھائیوں نے قتل کردیا تھا، ملزم عارف کو عدالت نے مفرور قرار دیا تھا۔قندیل بلوچ کو 15 جولائی 2016 کو مظفرآباد میں قتل کیا گیا تھا اور 17 جولائی 2016 سے 26 ستمبر 2019 تک اس کیس کی 152 سماعتیں ہوئی تھیں، جس کے بعد ماڈل کورٹ نے27 ستمبر کو قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔
بیٹسمینوں کی ناقص کارکردگی کے باعث سری لنکا نے پہلے ٹی20 میچ میں عالمی نمبر ایک پاکستان کو 64 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک۔صفر کی برتری حاصل کرلی۔دنوشکا گونا تھیلاکا کو عمدہ بیٹنگ پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 166رنز کا ہدف دیا، جس کے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم 101 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا، 13 کے مجموعی اسکور پر بابر اعظم صرف چار رنز بناکر پردیپ کی گیند پر وکٹ کیپر بھنوکا کو کیچ دے بیھٹے۔نئے آنے والے بیٹسمین عمر اکمل اگلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوکر واپس پویلین لوٹ گئے۔افتخار احمد تیزی سے رنز بنانے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوابیٹھے، وہ 25 کے اسکور پر رن آؤٹ ہوئے۔کپتان سرفراز احمد ایک بار پھر متاثر کن پرفارمنس نہ دے سکے اور 30 گیندوں پر 24 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں صرف ایک باؤنڈری شامل ہے۔عماد وسیم 7، آصف علی 6، فہیم اشرف 8، شاداب خان 6 اور محمد عامر صرف ایک رن بناسکے۔بابر اعظم 13، سرفراز احمد 24 اور افتخار احمد کے سوا کوئی بھی پاکستانی بیٹسمین ڈبل فیگر میں اسکور نہ کرسکا۔سری لنکا کی طرف سے نووان پردیپ اور ایسورو ادانا نے تین، تین جبکہ ونندو ہسارانگا نے دو اور کسون راجیتھا نے ایک وکٹ حاصل کی۔دوسرا ٹی20 انٹرنیشنل 7 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔اس سے پہلے پہلے محمد حسنین کی ہیٹ ٹرک بھی سری لنکا کو بڑے اسکور سے نہ روک پائی، اوپنرز کے شاندار آغاز کے باعث مہمان ٹیم نے پاکستان کو جیت کے لیے166 رنز کا ہدف دیا ہے۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جسے سری لنکن اوپنرز دنوشکا گونا تھیلاکا اور اویشکا فرنانڈو نے 84 رنز کا برق رفتار آغاز دے کر غلط ثابت کردیا۔دنوشکا گونا تھیلاکا 38 گیندوں پر 57 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹ گئے، ان کی اننگز میں ایک چھکا اور آٹھ چوکے شامل تھے۔دنوشکا گونا تھیلاکا کے آؤٹ ہونے کے بعد اویشکا فرنانڈو بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 33 کے انفرادی اسکور پر رن آؤٹ ہوگئے، اس وقت ٹیم کا مجموعی اسکور 120 رنز تھا۔بھنوکا راجا پاکسے 22 گیندوں پر32 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ کپتان داسون شناکا نے 17 رنز کی اننگز کھیلی، شیہان جے سوریا صرف 2 رنز بناسکے۔اس طرح سری لنکا کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 165 رنز بنائے۔پاکستان کی طرف سے محمد حسنین سب سے کامیاب بولر رہے، انہوں نے 37 رنز کے عوض تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شاداب خان نے ایک وکٹ حاصل کی۔
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان کی نقل اتاردی۔نیوز کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کی نقل اتارنے کے ساتھ موجودہ حکمرانوں کو کم عقل بھی قرار دیا۔انہوں نے عمران خان کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ اُس نے کیسے کہا تھا، قومی اسمبلی میں’میں کیا کروں؟ کیا میں حملہ کردوں؟‘مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے کشمیر کمیٹی چیئرمین شپ کے دور پر حکومتی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں کیا کرتا؟ کیا حملہ کردیتا؟ کیسے کم عقل لوگ حکمران بن گئے ہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
مظفر آباد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پر آزاد کشمیر بھر سے قافلے مظفرآباد پہنچ گئے ہیں اور چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کےلئے مارچ شروع کردیا گیا ہے۔آزاد کشمیر سے آنے والے شرکاءاپر اڈاہ میں جمع ہوئے جس کے بعد پیدل سیز فائر لائن کی جانب مارچ شروع کردیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاءکو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کےلئے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔کمشنر مظفرآباد ڈویڑن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے، جس سے شہریوں کو شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے۔کمشنر مظفرآباد ڈویڑن نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے نزدیک عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے، جلوس کے شرکا سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔
کراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے 2 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد وائرس سے مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔ذرائع محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی وائرس کاشکار25 سالہ شہزاد لانڈھی کا رہائشی ہے اور وہ گزشتہ روز سے جناح اسپتال میں زیر علاج تھا، جبکہ ڈینگی سے انتقال کرجانے والا دوسرا مریض 31 سالہ محمد عامر صفورہ چوک پر واقع نجی اسپتال میں زیرعلاج تھا ۔واضح رہے کہ کراچی میں ڈینگی وائرسسے متاثرہ افراد کی تعداد 3600 سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں مزید 59 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔دوسری جانب پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 217 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخواہ میں ڈینگی کے مزید 72 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد4 ہزار 220 تک پہنچ گئی ہے۔
اسلام آباد ( آن لائن ) آصفہ بھٹو کے سکیورٹی گارڈ نے جیالے کو آصفہ بھٹو کے ساتھ سیلفی لینے پر گریبان سے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آصف زرداری کی پیشی کے موقع پر آصفہ بھٹو اور بلاول بھٹو بھی ان سے ملاقات کے لئے پہنچے۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جیالے بھی احتساب عدالت کے احاطے میں پہنچ گئے۔جیالوں نے آصفہ بھٹو کے ساتھ سیلفی لی جس پر آصفہ بھٹو کے سکیورٹی گارڈ نے ایک جیالے کو پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کے کسی اقدام سے تاجروں کیلئے مشکلات پیدا ہوئیں نہ ہوں گی، 5؍ ماہ میں تاجروں کی ایک شکایت بھی نہیں ملی، اختیار دیں پھر دیکھیں سعودی عرب کو 4 ہفتے لگے میں 3 ہفتوں میں سب لوٹا مال واپس لاؤں گا، منزل کا تعین کرلیا ہے، ہواؤں کا رخ تبدیل ہوا ہے اور موسم بدلا ہے، وہ سلاخوں کے پیچھے ہیں جن کیخلاف کارروائی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، جو کرے گا وہ بھرے گا.پاناما کیس میں جسکی معلومات جلدی آگئیں اس پرجلد فیصلہ کیا گیا، نیب عوام دوست ادارہ ہے، نیب فیس نہیں کیس دیکھتا ہے،دوران تفتیش کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کرتے ، نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں ملک بھر سے ایوان صنعت و تجارت کے نمائندے شامل ہوں گے، 345؍ ارب بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ، بلا خوف احتساب جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت لاہور میں بزنس کمیونٹی اور ممتازصنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر سارک چیمبر آف کامرس افتخار علی ملک اور ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم بھی موجود تھے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ نیب اقدامات سے کاروباری برادری پریشان ہے، نیب کے اقدامات سے ان کوپریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ کاروباری برادری کے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس کے حوالے سے مقدمات ایف بی آر کو بھیجیں گے.نیب نے اکتوبر 2017ء کے بعد ٹیکس چوری کا کوئی کیس شروع نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بینک نادہندگی کے مقدمات میں نیب براہ راست کارروائی نہیں کرتا۔ سٹیٹ بینک یہ کیس نیب کو بھجواتا ہے، جب بینک اور صارف کے درمیان بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اس پر کارروائی شروع کرتے ہیں۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ بینک اور تاجروں کا کاروبار کے لئے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تاجر قرض لیتے ہیں اور اقساط میں واپس کرتے ہیں، اگر تاجر قرض واپسی کا اپنا وعدہ پورا نہیں کریں گے تو بینک کارروائی کرے گا۔ نیب نے بینک نادہندگی کے مقدمات میں بینک کی شکایت کے بغیر کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک مافیا نہیں بہت مافیا ہیں ،تاجر طبقہ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، تاجر خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال ہو گا، اس نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر نیب اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ5 ماہ میں تاجروں کی ایک شکایت بھی نہیں ملی، نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 342 ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کرکے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نمایاں کا میابی ہے جبکہ گزشتہ 22 ماہ کے دوران 71 ؍ ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب کے مقدمات میں ان افراد کے نام ہیں جنہوں نے کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے،جن کے پاس 1980ء میں کچھ نہیں تھا لیکن آج وہ دبئی میں پلازوں کے مالک ہیں، ان کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی؟ انہوں نے کہا کہ نیب مقدمات کی تفتیش کے دوران کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتا، عزت و احترام اور وقار سے انہیں نیب میں طلب کیا جاتا ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب میں مقدمات کو شروع اور ختم کرنے سے پہلے ان کے قانونی پہلوؤں پر غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے غریب لوگوں سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹی ہے۔ غریبوں کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کو نیب کسی صورت نہیں چھوڑے گا چاہے وہ دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کی شکایات کو فوری طور پر نمٹانے کیلئے نیب ہیڈ کوارٹرز میں خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے جہاں پر ڈائریکٹر سطح کا افسر موجود ہوتا ہے، اسی طرح نیب کے علاقائی بیوروز میں بھی خصوصی ڈیسک قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک 100 ارب ڈالر کا مقروض ہے، یہ پیسے ملک کی ترقی کیلئے لئے گئے تھے لیکن ان کو عوام پر خرچ نہیں کیا گیا، اس پیسے کو خرچ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا میرا فرض ہے، اسے پہلے بھی پورا کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا کسی گروہ، گروپ، مفاد اور شخص سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے مفادات اور وفاداریاں پاکستان اور پاکستانی عوام سے ہیں، ہمارا مقصد کمزور معیشت کو بہتر کرنا اور اربوں روپے باہر لے جانے والوں سے لوٹی گئی رقم واپس لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہسپتالوں اور تعلیمی شعبہ کی صورتحال ابتر ہے۔ بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے، جب ذمہ داروں کو گرفتار کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ نیب نے معماران قوم کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہی لوگ نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں 35 سالہ دیانتداری اور ایمانداری کا تجربہ داؤ پر نہیں لگاؤں گا‘ پاکستان واحد ملک ہے جہاں ضعیف ماں کا بیٹا ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتا ہے کیوں کہ ہسپتالوں میں کتے کاٹے کی ویکسین موجود نہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم لاہور سے شروع ہو کر اسلام آباد پہنچتا ہے، وہاں سے دبئی اور دیگر ریاستوں میں پہنچ جاتا ہے، 100ارب خرچ ہوا اور بچے رکشوں اور فرش پر جنم لے رہے ہیں۔ ایک شخص کو میں نے 90 کی دہائی میں موٹر سائیکل پر دیکھا آج اس کے دبئی میں ٹاورز ہیں ۔چیئرمین نیب نے کہاکہ پاناما کیس میں جس کی معلومات جلدی آگئیں اس پرجلد فیصلہ کیا گیا، پاناما کے باقی کیسز بھی چل رہے ہیں، ہرانسان میں خامیاں ہیں، کوئی عقل کل نہیں البتہ اللہ نے عقل دی ہے تاکہ خامیوں پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نیب پر یکطرفہ احتساب کا الزام لگایا جاتا ہے حالانکہ جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے وہ 35 سال تک اقتدار میں رہے جبکہ دوسروں کو اقتدار میں آئے ہوئے تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر چیز نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں، میڈیا پر جب نیب کے خلاف پروگرام کئے جاتے ہیں تو اس وقت نیب کی کارکردگی کو دیکھنا چاہئے اور نیب کا موقف لینا چاہئے۔ کہا جاتا ہے کہ میں سعودی عرب کی طرز پر بدعنوان عناصر سے ریکوری کروں حالانکہ مجھے گرفتار ملزم کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے جبکہ سعودی عرب میں بادشاہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز احتساب کا عمل جاری ہے۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں، موت کا وقت اٹل ہے، کسی ڈر، خوف کے بغیر احتساب کا عمل جاری رکھیں گے۔
متحدہ عرب امارات رواں سال کے آخر تک پاکستان میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے عرب میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یواےای رواں سال کے آخر تک پاکستان میں 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جو آئل ریفائنری سیکٹر میں کی جائے گی۔اماراتی سفیر کا کہنا ہے کہ آئل ریفائنری کا منصوبہ بلوچستان کے علاقے حب میں شروع کیا جائے گا، ریفائنری کی صلاحیت ڈھائی سے 3 لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔رواں سال کے اوائل میں ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر منصوبے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔
دریائے سندھ میں گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان نایاب بلائنڈ ڈولفن کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں جو پانی کی کمی یا پھر مچھلیوں کے لیے بچھائے گئے جال میں پھنس کر مر جاتی ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال دریائے سندھ میں کئے گئے سروے کے مطابق گڈو بیراج سے سکھر بیراج کے درمیان نایاب نسل کی 14 سو سے زائد بلائنڈ ڈولفن موجود ہیں۔وائلڈ لائف ذرائع کے مطابق رواں سال دو درجن سے زائد بلائنڈ ڈولفن جال یا پانی کم ہونے کی صورت میں نہروں سے نکل کر پھنس گئیں جن میں سے صرف 10 ڈولفنز کو بچایا جاسکا۔جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق فریش واٹر کی چار اقسام کی ڈولفن میں سے یانگزی ریور کی ڈولفن ختم ہوچکی ہیں ، گنگا ڈولفن کی نسل بھی ختم ہونے کے قریب ہے، اس وقت صرف ایمازون اور انڈس بلائنڈ ڈولفن رہ گئی ہیں، عالمی سطح پر انڈس ریور کی نایاب نسل کی بلائنڈ ڈولفن کو انتہائی پذیرائی حاصل ہے۔ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ بلائنڈ ڈولفن کو نسل کشی سے بچانے کے لیے دریائے سندھ اور بیراجوں سے نکلنے والی نہروں کے اطراف میں رہائش پذیر افراد اور مچھیروں کو آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے طالبان وفد کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق کا کہنا تھا کہ طالبان وفد کے ساتھ دفترِ خارجہ میں مذاکرات مفاہمتی عمل کے لیے نیک شگون ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز طالبان وفد کی وزیرِ خارجہ سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی تھی، ہم پر امید ہیں کہ اس سے عنقریب مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ڈاکٹر فردوس عاشق نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی، عالمی امن کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنے میں گراں قدر کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعظم سے طالبان وفد کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور اس ضمن میں نشر اور شائع ہونے والی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔