قومی
National News from The Pk Media
وارم اپ میچ: پاکستان کی بیٹنگ جاری
ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستان نے اپنے پہلے وارم اپ میچ میں افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، اوپنر امام الحق اور فخرزمان نے 47 اوورز کا اچھا آغاز دیا لیکن امام الحق کے 32 رنز پر فخرزمان کا ساتھ چھوڑ گئے۔امام الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد فخرزمان بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 19 رنز بناکر محمد نبی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے، اسی اوور میں محمد نبی نے صرف ایک رن پر حارث سہیل کو بھی کلین بولڈ کردیا۔یکے بعد دیگر دو وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان کے رنز بنانے کی رفتار سست پڑگئی، 20 اوورز میں پاکستان کا مجموعی اسکور 100 رنز تھا، محمد حفیظ 20 گیندوں پر صفر 12 رنز بناکر راشد خان کی گیند پر رحمت شاہ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔بابر اعظم نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔میچ کیلئے پاکستانی اسکواڈ میں کپتان سرفراز احمد، فخر زمان، امام الحق، آصف علی، بابر اعظم، شعیب ملک، محمد حفیظ، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب خان، محمد عامر، حسن علی، وہاب ریاض، محمد حسنین اور شاہین شاہ آفریدی شامل ہیں۔دوسری جانب افغانستان کی ٹیم میں کپتان گلبدین نائب، محمد شہزاد، نور علی زدران، حضرت اللہ زازئی، رحمت شاہ، اصغر افغان، حشمت اللہ شہیدی، نجیب اللہ زدران، سمیع اللہ شنواری، محمد نبی، راشد خان، دولت زدران، آفتاب عالم، حامد حسن اور مجیب الرحمان شامل ہیں۔ورلڈکپ 2019 کا باقاعدہ آغاز 30 مئی سے ہوگا تاہم اس سے قبل تمام ٹیمیں 2، 2 وارم اپ میچز کھیلیں گی۔ٹیم پاکستان 26 مئی کو اپنا دوسرا وارم اپ میچ بنگلادیش کے خلاف کھیلے گی
کوئٹہ، پشتون آباد کی مسجد میں دھماکا، 2 افراد شہید
کوئٹہ کے نواحی علاقےپشتون آباد کی مسجد میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں دو افراد شہید جبکہ متعددزخمی ہو گئے.ذرائع کے مطابق پشتون آباد میں واقع رحمانیہ مسجد میں دھماکا نماز جمعہ کی ادائیگی سے کچھ دیر قبل ہوا جس وقت نمازی وضو کر رہے تھے،مسجد نمازیوں سےبھری ہوئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں15افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جس سے علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں بھاری تعداد میں جائے وقوعہ پرپہنچے۔ دھماکے سے متاثر ہونے والے نمازیوں کو اسپتال منتقل کیا ۔کوئٹہ کے سول اسپتال میں اب تک پانچ زخمی منتقل کیے جاچکے ہیں جبکہ کئی زخمیوں کو قریبی نجی اسپتال بھی منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔دھماکے میں ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو حصار میں لے کر واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے واقعے پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ زخمیوں کے طبی امداد اور علاج میں کسی قسم کی کمی نہیں آنی چاہیے۔وزیرداخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہع عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والےدہشت گرد انسان کہلانے کے لائق نہیں،انہوں نے عبادت گاہوں اور دیگر عوامی مقامات کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کر دی۔وفاقی وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد اوران کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائیں گے،گھناؤنی سازش کےتحت بلوچستان،ملک میں امن کی صورتحال خراب کرنیکی کوشش کی جارہی ہے۔ادھرمسلم لیگ ن کےصدر،قائدحزب اختلاف شہبازشریف نے دھماکےکی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں جمعہ کےدوران اللہ کےگھر میں خون ریزی کرنیوالےمسلمان نہیں ہوسکتے۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ انتہائی تشویشناک ہے،دہشت گردی کا عفریت ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے ،نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی سستی،لاپرواہی مجرمانہ غفلت کی انتہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت معاملے کو سنجیدہ لیتے ہوئے فی الفور پارلیمان کو اعتماد میں لے۔
وزیراعظم کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات
وزیراعظم عمران خان سے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی جس میں پاک ایران تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ملکوں کے درمیان وزارتِ خارجہ میں وفود کی سطح پرمذاکرات اور دو طرفہ معاملات پر تعاون بدستور جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے.اس سے قبل جواد ظریف نے وزارت خارجہ کا دورہ کیا جہاں فریقین نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ایران میں فیصلوں اور عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ دوطرفہ معاملات پر تعاون بدستور جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
2018 میں پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کیسز میں 11 فیصد اضافہ ہوا ، رپورٹ
دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے ریکارڈ ہونے والے کیسز میں گیارہ فیصد اضافہ ہوا، تین ہزار آٹھ سو بتیس کیس رپورٹ ہوئے،ہر روز دس سے زیادہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا.بچوں کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم ساحل نے سالانہ رپورٹ “سفاک اعداد و شمار دو ہزار اٹھارہ” جاری کردی،رپورٹ پچاسی قومی اور علاقائی اخبارات کے ڈیٹا کی مدد سے مرتب کی گئی ہے،ساحل کے مطابق بچوں سے زیادتی کے کیسز ملک بھر سے رپورٹ ہوئے اور 2018 میں ہر روز دس سے زیادہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان بچوں میں 55 فیصد لڑکیاں اور 45 فیصد لڑکے تھے۔بچوں کو جن سنگین جرائم کا نشانہ بنایا گیا ان میںاغوا، بد فعلی، جنسی زیادتی،اجتماعی زیادتی ،کم عمری کی شادی اور انہیں لاپتہ کرنے جیسے جرم شامل ہیں۔ساحل کی رپورٹ کے مطابق 6 سے 10 سال اور 11 سے 15 برس کی عمر میں بیشتر لڑکے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے،پانچ برس تک کی عمر اور 16 سے 18 برس کی عمروں میں لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا زیادہ نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2017 کے مقابلے میں 2018 میں بد فعلی کے کیسز میں 61 فیصد اور جنسی زیادتی میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔غیر سرکاری تنظیم کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں اخبارات میں رپورٹ کردہ کیسز میں سے 86 فیصد پولیس میں رجسٹر ہوئے، 56 کیسز میں پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا جبکہ 11 فیصد معاملات میں اخبارات نے کیس کا اسٹیٹس بیان نہیں کیا۔2018 میں اغوا کے 1064 کیس اخبارات میں رپورٹ ہوئے جن میں 79 فیصد لڑکیاں اور 21 فیصد لڑکے تھے۔ اسی طرح بچوں کی شادی کے 130 رپورٹ کردہ کیسز میں سے 85 فیصد کم عمر لڑکیاں اور 15 فیصد لڑکے تھے۔
سینئر اینکر پرسن و کالم نگار جاوید چوہدری کے والد محترم چوہدری محمد خان خالق حقیقی سے جا ملے
افسوس ناک اطلاع
سینئر اینکر پرسن وکالم نگار جاوید چوہدری کے والد محترم چوہدری محمد خان خالق حقیقی سے جاملے،مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد از نماز عصر لالہ موسی کے گائوں شاہ مست میں ادا کی جائے گی۔
افسوس کی اس گھڑی میں جاوید چوہدری اور ان کےجملہ خاندان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں،اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عنایت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور اس پہ اجر عظیم سے نوازے۔آمین
منجانب: ڈائریکٹر The PK Media
آغا سراج کے گھر سے نیب نے کیا کچھ تحویل میں لیا؟
قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپے کے دوران کیا کچھ تحویل میں لیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔نیب ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی کے گھر پر مارے گئے چھاپے میں جائیداد،گاڑیوں اور گھر وں سے متعلق اہم دستاویزات حاصل کیں۔ذرائع کے مطابق نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی کے اہل خانہ کے سامنے سیزر میمو بنایا،جس پر ان کی صاحبزادی سے تصدیقی دستخط کرائے گئے۔
نیب ذرائع نے آغا سراج درانی کی صاحبزادی سے زبردستی دستخط کرانے کی بھی تردید کردی۔نیب ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی سے مثبت سمت میں تحقیقات جاری ہیں۔
’میری پاکستان واپسی کےلئے ماحول ساز گار ہے‘
سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان میں تو میں ضرور جاوں گا،اب تو واپسی کےلئے ماحول بھی سازگار ہے۔ دبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان جاوں گا مگر بیوقوفوں کی طرح چھلانگ نہیں ماروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میرے لئے اب ماحول ساز گار ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی آدھی کابینہ تو وہی ہے جو میرے دور حکومت میں تھی۔ سابق صدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہتر بنانے پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پاکستان کو طاقتور مسلم ملک سمجھتا ہے،ہم تھوڑی سی کوشش کریں تو اسرائیل سے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔
جنرل (ر) پرویز مشرف نے مزید کہا کہ اسرائیل سے پاکستان کے اچھے تعلقات سے پوری امت مسلمہ پر اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ پاک اسرائیل وزرائے خارجہ کی ملاقات سے متعلق ترک صدر کے ذریعے اسرائیل کو پیغام دیا تو ایک دن میں ہی اسرائیلی وزیراعظم کا مثبت جواب آگیا۔سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ مل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کو اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کےلئے ترکی بھیجا۔
ساہیوال فائرنگ: سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا
ساہیوال فائرنگ پر زخمی بچے کا بیان سامنے آگیا، زخمی بچے کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں میرے والدین، بہن اور والد کا دوست شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کارروائی میں زخمی ہونے والے بچے عمیرخلیل کا کہنا ہے کہ ’’ہم اپنے گاؤں بورے والا میں چاچو رضوان کی شادی میں جارہے تھے، فائرنگ میں مرنے والی میری ماں کانام نبیلہ ہے اور والد کا نام خلیل ہے۔ مرنے والی بہن کا نام اریبہ ہے‘‘۔بچے نے مزید بتایا ہے کہ ’’ہمارےساتھ پاپا کےدوست بھی تھے، جنہیں مولوی کہتےتھے۔ فائرنگ سے پہلے پاپا نے کہا کہ پیسے لےلو، لیکن گولی مت مارو۔ انہوں نے پاپا کو ماردیا اور ہمیں اٹھا کر لے گئے، پاپا، ماما، بہن اور پاپا کے دوست مارے گئے‘‘۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل
ساہیوال واقعے پر ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی ، ایم آئی اور آئی بی کے افسران بھی شامل ہوں گے ۔ ترجمان کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 3 روز میں واقعے کی رپورٹ پیش کرے گی ۔
وزیر اعظم نے رپورٹ طلب کرلی
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نےکہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ساہیوال واقعے پر اپنے ویڈیو پیغام میں ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کار پر فائرنگ میں انسانیت سوز واقعے پر عمران خان اور عثمان بزدار نے فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ وزیراعظم نے شفاف تحقیقات کے ساتھ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
اریبہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہاں ہے
دوسری جانب فائرنگ سے مارے گئے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہماری فیملی پر فائرنگ کرکے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے۔ جلیل نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی فائرنگ کے وقت گاڑی میں 4بچے بھی سوارتھے، ان بچوں میں 14سال کی اریبہ بھی تھی، جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔ جلیل نے کہا کہ میرا بھائی خلیل پرچون کی دکان پر کام کرتا تھا اور شادی میں شرکت کے لئے جارہا تھا۔
گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی لاہور کی جانب سے آرہی تھی، جسے ایلیٹ فورس کی گاڑی نے روکا اور فائرنگ کردی جبکہ گاڑی کے اندر سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔ عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ گاڑی میں کپڑوں سے بھرے تین بیگ بھی موجود تھے، جنہیں پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے کار میں سوار بچوں کو قریبی پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین کو مار دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے رپورٹ طلب کرلی
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب امجد جاوید سلیمی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ساہیوال سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کے مطابق اگر مارےگئے افراد پُر امن شہری تھے تو فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر واقعے میں کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔
اداکار علی اعجاز انتقال کر گئے
فلم، ریڈیو، ٹی وی کے اداکار علی اعجاز77برس کی عمرمیں لاہور میں انتقال کرگئے، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔اداکارعلی اعجاز کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، وہ مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے،انہوں نے 1961ء میں فلم انسانیت سے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔علی اعجاز کی مشہور فلموں میں سالا صاحب اور دبئی چلو کا شمار ہوتا ہے جبکہ مشہور ٹی وی ڈراموں میں خواجہ اینڈ سنز، کھوجی اور شیدا ٹلی شامل ہیں۔اداکار علی اعجاز مرحوم کی 1979 ءمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی سماجی فلم دبئی چلو سپرہٹ رہی۔علی اعجاز کی پنجابی فلموں مفت بر اور دادا استاد نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے، پیار دا بدلہ، بھائیاں دی جوڑی، یملا جٹ، بد نالوں بدنام برا ،عشق میرا ناں، سادھو اور شیطان، لیلیٰ مجنوں، ظلم کدی نئیں پھلدا ، سدھا رستہ، بادل، سوہرا تے جوائی، مسٹر افلاطون، نوکر تے مالک، ووہٹی دا سوال اے، باؤ جی، دشمن پیارا، اندھیر نگری، دھی رانی، چور مچائےشور، عشق میرا ناں، بھروسہ، اتھرا پتر، آپ سے کیا پردا، عشق سمندر مشہور پنجابی فلموں میں شامل ہیں۔اداکار ننھا اور علی اعجاز کی جوڑی 80ء کی دہائی میں مقبولیت کی بلندیوں پر رہی، حکومت نےانہیں 14اگست 1993ءکو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔اداکار علی اعجاز کی خدمات کے اعتراف میں انہیں نگارا ایوارڈ بھی عطا کیا گیا،انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے ڈرامہ سیریل لاکھوں میں تین میں کام کر کے بھی شہرت سمیٹی۔اداکار علی اعجاز نے89 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،اپنی مزاحیہ اداکاری کے علاوہ سنجیدہ کرداروں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔علی اعجاز نے معمر شہریوں کے حقوق کیلئے علی اعجاز فاؤنڈیشن کےنام سےاین جی او بھی بنائی، وہ عمر کے آخری حصے میں حکومت اور معاشرے کی بے اعتناعی کا شکوہ کرتے رہے، اداکاری سے کنارہ کشی کے بعد ان کا زیادہ وقت ادبی کتب کے مطالعے میں گزرا۔علی اعجاز مرحوم نے سوگواروں میں بیوہ کشور اور 2 بیٹے بابر اور یاسر چھوڑے ہیں، ان کا جنازہ ان کی رہائش گاہ 41 ڈی نیو مسلم ٹاؤن لاہور سے اٹھایا جائے گا۔علی اعجاز کی نمازجنازہ بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی جبکہ انہیں مقامی قبرستان میں سپردخاک کیا جائے گا۔اداکار علی اعجاز کو 12 برس قبل فالج ہوا تھا، وہ قلب کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے مقامی نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔


