اسلام آباد: یوم پاکستان پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل اسلام آباد کےشکر پڑیاں گراؤنڈ میں جاری ہے۔دارالحکومت کی فضاء جنگی طیاروں کی گھن گرج سے گونج رہی ہے۔تفصیلات کےمطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یوم پاکستان پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل میں بری، بحری، فضائی افواج، فرنٹیئر کور اورمجاہد فورس سمیت دیگر سروسز کے دستے پریڈ میں حصہ لے رہے ہیں۔پاک فضائیہ کےلڑاکا طیارے، پاک بحریہ اور فوج کے ہیلی کاپٹر فلائی پاسٹ کررہے ہیں جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کےلیے راولپنڈی اسلام آباد میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے ہیں۔اسلام آباد ٹریفک پولیس نےیوم پاکستان پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل کےلیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔فل پریڈ ریہرسل کے باعث ایکسپریس وے، فیض آباد فلائی اوور اور مری روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کےلیےبند کردیاگیا ہے۔ایکسپریس وے کھنہ پل سے زیرو پوائنٹ تک اور فیض آباد فلائی اوور ہر قسم کی ٹریفک کےلیے بند ہے۔ایئرپورٹ سے آنے والی ٹریفک مری روڈ جانے کےلیے کھنہ پل سے ترامڑی چوک کا راستہ استعمال کرے گی، آبپارہ ،بھارہ کہو اورمری جانے کےلیے کشمیر ہائی وے کھلی رہے گی۔واضح رہےکہ یوم پاکستان پریڈ کی فل ڈریس ریہرسل کے پیش نظرراولپنڈی اسلام آباد کےمختلف علاقوں میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔
اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کو وطن واپس پہنچنے پر نیب نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تاہم ضمانتی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں رہاکردیاگیا۔تفصیلات کےمطابق پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن رات گئے دبئی سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو نیب کی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا۔شرجیل میمن کے ساتھ اس موقع پران کے ہمراہ سندھ حکومت کے تین وزراامداد پتافی، مکیش چاؤلہ، فیاض بٹ بھی موجودتھے۔سابق صوبائی وزیرکواحتساب بیوروہیڈکوارٹرراولپنڈی میں رکھاگیا۔نیب نےڈیڑھ گھنٹے سے زائد سابق صوبائی وزیر سے پوچھ گچھ کی۔اس دوران شرجیل میمن نےاپنی ضمانتی دستاویزات پیش کیں جن کی جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق ہونے کےبعد نیب نے انہیں رہا کردیا۔خیال رہےکہ شرجیل میمن کے وکلا نےاسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کرا رکھی تھی اور انہیں 20 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا تھا جس کی وجہ سے وہ کراچی کے بجائے اسلام آباد پہنچے۔دوسری جانب شرجیل میمن کےساتھ اسلام آبادایئرپورٹ آنےوالےفیاض بٹ کی اےآروائی نیوزسےخصوصی گفتگوکرتے ہوئےکہاکہ شرجیل میمن کوقانون نافذ کرنےوالے اداروں نے گرفتارکیا۔فیاض بٹ کاکہناتھاکہ جہازسےاترتےہی ہمارےساتھ بدتمیزی کی گئی جبکہ سادہ لباس اہلکار شرجیل میمن کو اپنے ساتھ لےگئے۔انہوں نےکہاکہ شرجیل میمن پرصرف ایک مقدمہ ہےجس کی ضمانت کرارکھی ہے۔ادھرپیپلز پارٹی کےصوبائی وزیر امداد پتافی نے شرجیل میمن کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ وہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں اور ان کے پاس ضمانت کے کاغذات تھے لیکن انہیں حراست میں لیے جانے کے دوران اس بات کا بھی خیال نہیں رکھاگیا۔شرجیل میمن نے رہائی کےبعد اےآروائی نیوزسےخصوصی گفتگوکرتے ہوئےکہاکہ آج میڈیاکوتمام صورت حال سےآگاہ کروں گا جبکہ پیرکو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گا۔پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہناتھاکہ عدالت میں پیش ہونےکےبعدکراچی آنےکاپلان دوں گا۔انہوں نےکہاکہ مقدمات کاسامناکرنےپاکستان آیاہوں۔شرجیل میمن نیب ہیڈکوارٹرراولپنڈی سےرہائی کےبعد امدادپتافی،فیاض بٹ اورمکیش چاؤلہ کے ہمراہ سند ھ ہاؤس روانہ ہوگئے۔واضح رہےکہ شرجیل میمن سندھ حکومت کے وزیراطلاعات رہے ہیں اور ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ نیب نے شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کررکھا ہے اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔
کراچی : انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی عدم گرفتاری پر اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے فاروق ستار اور عامر خان کو پیر کے روز عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں 22 اگست کو کی گئی بانی ایم کیو ایم کی متنازع تقریر کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار کی عدم گرفتاری پر پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پولیس عوام کو بےوقوف بنانے کا کام کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سالانہ تنخواہ خیراتی ادارے کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاﺅس کے ترجمان شین سپائسر نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سال کے آخر پر اپنی سالانہ تنخواہ جو 4 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے ، ایک خیراتی ادارے کو عطیہ کریں گے واضح رہے کہ قبل ازیں دو امریکی صدور ہربرٹ ہوور اور جان ایف کینیڈی بھی اپنی تنخواہ خیراتی اداروں کو دیتے چلے آرہے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق چینی حکومت نے اپنی مسلح افواج کو جدید تر بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کا مسلح افواج کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا مجموعی طور پر مسلح افواج کو سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ توجہ تکنیکی جدت پر دی جائے گی۔ ان میں نئے جیٹ طیارے، نئی آبدوزیں اور مصنوعی سیاروں کا خلاء میں بھیجنا شامل ہے۔
ترکی میں آئینی اصلاحات پرریفرنڈم ہورہا ہے، اورمغرب ناراض ہے، کیوں؟ ہالینڈ حکومت چراغ پا ہے، کیوں؟ جرمن حکومت مشتعل ہے، کیوں؟ سوئیڈن نے ہالینڈ سے کاندھے ملالیے؟ کیوں؟ فرانس پہلے ہی شانہ بہ شانہ ہے، اورآسٹریا دانت پیس رہا ہے، کیوں؟؟ کہاں گیا لبرل یورپ؟ کہاں گیا جمہورکا احترام؟ کہاں گیا روادار اقدار کا محافظ یورپ؟ کہاں گیا انسانی حقوق کا علمبرداریورپ؟دوفروری جمعرات کا روز تھا۔ انقرہ میں اہم پریس کانفرنس ہوئی۔ جرمن چانسلرانگیلا مرکل اورترک صدرطیب اردوان ون آن ون ملاقات کے بعد خوشگوار موڈ میں ذرائع ابلاغ کے روبرو ہوئے۔ جرمن چانسلر نے کہا، ” ہم نے تفصیل سے ‘اسلامی دہشتگردی’ سمیت دہشت کی ہرقسم پرگفتگو کی ہے، کرد قوم پرست جنگجوؤں کا تذکرہ بھی ہوا۔ ہم نے تعاون پر اتفاق کیا، ہم سب ہی دہشتگردی سے متاثرہیں۔ ہم نے مستقبل میں تعاون میں مزید استحکام پراتفاق کیا ہے۔”مرکل کے ان الفاظ پرصدراردوان غصے میں آگئے۔ اپنی باری پرانہوں نے جرمن چانسلر پرواضح کردیا کہ ” اسلامی دہشت گردی کے الفاظ سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، یہ موازنہ ہرگز درست نہیں، اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں، اسلام کا مطلب امن ہے۔ داعش کے دہشتگردوں کو بنیاد بناکر’اسلامی دہشتگردی’ کی اصطلاح کا استعمال افسوسناک ہے۔ برائے مہربانی، آئندہ یہ اصطلاح استعمال نہ کریں۔ جہاں تک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کی ضرورت کا سوال ہے، میں بطورمسلمان صدریہ اصطلاح قبول نہیں کرسکتا۔”
جرمن چانسلرنے یہ اصطلاح ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کے ساتھ پریس کانفرنس میں دوبارہ استعمال کی، گویا ٹرمپ پالیسی کی خاموش حمایت جاری رکھی۔ جرمن چانسلرکا یہ پالیسی بیان دو وجوہات کے سبب نسبتا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی انتہا پسندی کاطوفان آیا، توسب کی پرامید نظریں جرمنی کی جانب اٹھ گئیں، گمان تھا کہ جرمنی لبرل جمہوریت کا آخری محافظ بن کر سامنے آئے گا، مگرجرمن چانسلر نے ‘اسلامی دہشتگردی’ کی اصطلاح دوہرانا ہی باعث شرف جانا، اوراس پراصرارکیا۔دوسری وجہ وقت ہے۔ اگلے ماہ سولہ تاریخ کو ترکی میں آئینی اصلاحات پرریفرنڈم ہے۔ اس ریفرنڈم کا ایک فیصلہ کُن کرداریورپ میں آباد پچاس لاکھ ترک شہریوں کا ہے۔ جن میں سے چودہ لاکھ ووٹرز صرف جرمنی میں رہتے ہیں، ان کی رائے بہت اہم ہے۔ ترک صدریورپ میں مقیم ترک شہریوں میں ریفرنڈم کی مہم چلارہے ہیں۔ جسے جرمن حکومت نقصان پہنچارہی ہے۔ چانسلرمرکل کی اشتعال انگیزی اور ترک دشمن پالیسی نمایاں ہے۔
غرض جرمنی لبرل اقداراور جمہوری اخلاقیات بالائے طاق رکھ کرترک مخالف یورپی مہم کا سرخیل بن چکا ہے۔ جرمنی میں وزراء ترکی کی جمہوری حکومت کے خلاف بیان دیتے ہیں کیونکہ یہ رائے کی آزادی کا اظہارہے، مگرترک حکام کوآئینی اصلاحات کیلئے مہم چلانے کی اجازت نہیں کیونکہ یہ سکیورٹی رسک ہے۔ یورپ کویہ فکرتوہے کہ ترکی میں آئینی اصلاحات سے آمریت آسکتی ہے، مگرمصرمیں موجود آمریت پرماتھے پرشکن تک نہیں پڑتی۔کچھ عرصہ پہلے سماجی منصوبوں کی ترک وزیر فاطمہ بتول ریفرنڈم مہم کے سلسلے میں بذریعہ سڑک ہالینڈ کے شہرروٹر ڈیم پہنچیں، لیکن حکام نے انھیں قونصل خانے میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ جس کے بعد فاطمہ بتول وطن لوٹ گئیں۔ اس واقعہ پراستنبول سے روٹرڈیم تک ترک شہریوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ اس سے قبل ہالینڈ کی حکومت نے ترک وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو کی پرواز کو بھی روٹرڈیم میں اترنے سے روک دیا تھا۔
سوئیڈن میں ترک آئینی اصلاحات مہم پرایک ریلی شیڈول تھی، مگرمقامی منتظم نے اچانک ترک حکمران جماعت سے معاہدہ توڑدیا، ریلی کے انتظام سے ہاتھ اٹھالیے، اورکوئی وجہ بیان نہ کی۔ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس لوکے راسموسین نے فرمایا کہ ترکی میں ‘جمہوری اقدار شدید دباؤ میں ہیں۔’غرض، پورا مغرب ترکی میں تبدیلی پرپریشان ہے۔ یہی وہ مغرب ہے جوسوسال پہلے ترکی میں مصطفی کمال کے مظالم کا پشتیبان تھا، جومغرب مساجد پرتالے دیکھ کربغلیں بجایا کرتا تھا، اور یہی وہ مغرب ہے جوترکی میں جمہوریت کے لگاتارقتل عام پرپھولے نہ سماتا تھا۔۔آج یورپ بھی انتہا پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیچھے چل پڑا ہے۔۔۔ نئے عالمی انتشارکے نقوش ابھرنے لگے ہیں۔ یہ ڈچ وزیرگیرٹ ویلڈرز کے نقش ہیں، یہ فرانسیسی سیاستدان لی پین کے نقش ہیں، یہ جرمن چانسلرانگیلا مرکل کے نقش ہیں، اوریہ پوپ اربن دوئم کے نقش ہیں۔اس صورتحال پرصدررجب طیب اردوان کہتے ہیں ”گذشتہ چند روز میں مغرب نے بہت واضح ہو کے اپنا حقیقی چہرہ دکھایا ہے۔ جب سے (ترکی مخالف) واقعات شروع ہوئے ہیں میں نے ہمیشہ کہا کہ فاشسٹ دباؤ ہے۔ میرا خیال تھا کہ نازی ازم ختم ہوگیا لیکن میں غلط تھا۔ درحقیقت مغرب میں یہ اب بھی زندہ ہے۔ میری بہن کو، ہماری خاتون وزیر(فاطمہ بتول) کو، اپنے ہی ملک کے قونصل خانے کی عمارت میں سفارتی گاڑی میں داخل ہونے سے کوئی ملک (ہالینڈ) کیسے روک سکتا ہے۔ وضاحت کریں یہ کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں ہالینڈ نے بوسنیا سربرینیکا کے آٹھ ہزار انسانوں کے قتل عام میں اہم کردارادا کیا۔۔۔۔ ”سچائی یہ ہے، کہ ترکی سوسال سے مغرب کا کامیاب سیکولرتھیسس تھا، مگرآج اینٹی تھیسس بن چکا ہے، اوراب سن تھیسس تشکیل دے رہا ہے۔ اور مغرب اس سن تھیسس سے خوفزدہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رجب طیب اردوگان کا کہنا تھا ترکی نے ہالینڈ کو سربرینٹسا میں ہی پہچان لیا تھا، صدر اردوگان نے کہا کہ ہالینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کرنے والے ممالک کے وقار پر کاری ضرب لگی ہے۔جرمن چانسلر مرکل نے ہالینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے، اردوگان نے کہا کہ جرمنی اور ہالینڈ میں کوئی فرق نہیں، ہم ان سے اسی طرح کے متعصبانہ اور نسل پرستانہ رویے کی ہی توقع رکھتے ہیں۔
اسرائیل کی سفاکانہ پالیسیوں پر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے فلسطینیوں پر نسلی تعصب مسلط کر رکھا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام عالم اسرائیل کا بائیکاٹ کرے اور پابندیاں بھی عائد کی جائیں۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ دو امریکی پروفیسرز کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) الیکشن کمیشن میں نااہلی ریفرنس مسترد ہونے پر لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا عمران خان اور جہانگیر ترین اپنے خلاف الزامات کا سامنا نہیں کرسکے بلکہ تکنیکی بنیادوں پر بھاگے ہیں، فیصلہ میرٹ پر نہیں۔ان کا کہنا تھا فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے پر لیگی رہنمائوں کا ردعمل ، تحریک انصاف “تحریک الزام” عمران خان کو الزام خان قرار دیدیا۔دانیال عزیز کا کہنا تھا ریفرنس میں فیصلہ میرٹ پر نہیں بلکہ قابل سماعت نہیں ہے۔ لیگی رہنما طلال چودھری نے کہا پی ٹی آئی رہنما اپنی چوری استثنی کے پیچھے چھپا رہے ہیں۔طلال چودھری کا کہنا تھا یہ تو ابھی ابتدائے عشق ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
کراچی : جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلی شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ دفتر ڈاخلہ اب بھی سنجیدہ نہیں ہے۔نئے گستاخوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے والوں کو چاہیے کہ سزا یافتہ گستاخوں کو سزا دی جائے تا کہ مجرم اور جرم کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسی مثال قائم کی جائے کہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسا کرنے سے ڈرے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی اصل کامیابی عدالتی فیصلوں کی تعمیل کروانا ہے، جن جن کو قانون ناموس رسالتۖ کے تحت سزا دی گئی ہے ان سب کو پھانسی دی جائے،وقت مقرر کیا جائے کہ اتنے عرصے میں حکم کی تعمیل ہو اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو سو موٹو ایکشن لیا جائے اور قصہ تمام کیا جائے۔مختلف پروگرامات و نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ جو گستاخ پہلے سے جیلوں میں بند ہیں انہیں عدالت کے فیصلے کے مطابق پھانسی دی جائے، آسیہ ملعونہ کو پھانسی دے کر کیس فارغ کیا جائے، جو گستاخ جیلوں میں زندہ ہیںوہ لوگ بھی خانہ جنگی اور انتشار کا باعث بن سکتے ہیں، عاشقان رسول ۖ کے غم و غصے اور جذبات کو متحمل رکھنا ہے تو پھر تمام گستاخوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ملک کے سب سے بڑے دہشت گرد 295Cکے قانون کے تحت سزایافتہ لوگ ہیں جنہیں قرار واقعی سزا نہیں دی جارہی ہے،عوام کے صبر کا امتحان کیوں لیا جا رہا ہے؟پھر کوئی شخص کھڑا ہوگا اوآصیہ جیسی گستاخ کے لئے اظہار ہمدردی کے کلمات کہے گا اور قرآن کے فیصلوں کی بے حرمی کرے گا، ایسا موقع آنے سے پہلے جو مجرم عدالت کے فیصلے کے تحت گستاخ قرار دیے گئے ہیں انہیں پھانسی دی جائے،جب تک آسیہ ملعونہ کو پھانسی نہیں دی جائے گی تب تک گستاخ بلاگرز جیسے عناصر کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی اور وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ اسلام اور رسول اللہ کے خلاف جتنا چاہیے بے ادبی کریں قانون کی پکڑ میں آسکیں گے۔شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ پنڈورا باکس کھل چکا ہے، حسین حقانی صرف سہولت کار تھے، اصل ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی،پانامہ لیک، ڈان لیک اور حقانی لیک میں ملوث کرداد قوم کے گناہگار ہیں،قوم احتساب خود کرے گی،الحمد اللہ ،جمعیت علماء پاکستان اس ملک کی واحد مذہبی و سیاسی جماعت ہے جو کسی بھی لیک یا اسکینڈل میں ملوث نہیں ہے،قوم اگر نظام مصظفیۖ کے پرچم تلے متحد ہوجائے تو یہ سارے دو نمبر سیاستدان بھاف جائینگے، کیوں نظام مصظفی عدل و انصاف کا نظام ہے۔جمعیت علماء پاکستان و مرکزی جماعت اہل سنت، انجمن طلبہ اسلام، فدایان ختم نبوت اور انجمن نوجوانان اسلام کی مشترکہ کال پر ملک بھر میں چار روزہ احتجاجی مہم جاری ہے، لاہور میں مرکزی رہنما پیر اعجاز ہاشمی،ملتان میں قاری احمد میاں خان،شیخوپورہ میںمرکزی رہنما علامہ قاری زوار بہادر، سکھر میں مفتی محمد ابراہیم قادری ،مردان میں فیاض خان،رحیم یار خان میں علامہ نور احمد سیال، جیکب آباد میںمفتی شریف سرکی،میر پور خاص میں مفتی نور النبی سکندی،گھوٹکی میں مولانا بدرالدین، لاڑکانہ میں پیر محمد علی جان مجددی،شکار پور میں مولانا شفیق قادری،پشاور میں مولانا معراج الدین اور دیگر قائدین جمعیت و اکابرین نے مختلف مظاہروں و ریلیوں سے خطابات کیے۔ملک بھر میں گستاخ بلاگرز کے خلاف عوامی غم و غصہ اپنے عروج پر ہے۔حکومت جلد قصوروار عناصر کو گرفتار کرے،ملک بھر میں جاری احتجاجی مہم میں مختلف شہروں میں ،قائدین نے اپنے پیغام و خطابات میں کہاہے کہ گستاخانہ مواد چاہے تحریری شکل میں ہو یا پھر ویڈیو کی صورت میں ہو، دونوں صورتوں میں بند کروایا جائے، ہمارے لئے رسول اللہ ۖ کی حرمت دنیا و آخرت کی تمام اشیاء سے زیادہ قیمتی ہے،اگر فیس بک اور یوٹیوب بند کرنے کی ضرورت ہے تو پہلی فرصت میں بند کردی جائے،جن ویب سائٹ پر مواد موجود ہے، ان ویب سائٹ کے مالکان کو بھی پکڑا جائے، صرف ویب سائٹ بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔مسلمان کی جان، مال اور اولاد سب کچھ ناموس رسالت پر قربان ہے،قائدین نے عوام سے عہد لیا کہ ناموس رسالت کے دفاع کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،اور ہر پلیٹ فارم پر تحفظ ناموس رسالتۖ اور تحفظ شعائر اسلام کا پیغام عام کریں گے اور سیکولر لابی کو اسلام مخالف ذہن سازی کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔قائدین نے عزم کیا کہ نظریہ پاکستان و نظریہ اسلام کے خلاف جو بھی سازش ہوئی، اس کے خلاف بہتر حکمت عملی سے عوامی، سیاسی اور مذہبی سطح پر اس کا توڑ لائینگے۔