لاہورکی مقامی عدالت نےمسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمدصفدر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا، یہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔ایڈیشنل سیشن جج لاہور تجمل شہزاد نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی، جس کی وجہ سے ان پر ایسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق حاصل ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بدھ کو سنایا جائے گا۔
نامور موبائل فون کمپنی ایپل نے پرانے سیٹ رکھنے والے اپنے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موبائل فون کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ نہیں کریں گے تو وہ بند ہوجائیں گے۔غیر ملکی ٹیبلائیڈ کے مطابق آئی فون کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے آئی فون 5 کے صارفین کو 2 نومبر رات 12 بجے بمطابق گرین وچ ٹائم (پاکستانی وقت کے مطابق 3 نومبر کی صبح 5 بجے تک) اپنے موبائل فون کو آپریٹنگ سسٹم کو 10.3.4 کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ہے۔اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایسا کرنے میں صارفین ناکام ہوجاتے ہیں تو ان کا موبائل فون آن تو ہوجائے گا لیکن وہ انٹرنیٹ استعمال نہیں کرسکیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ویب براؤزر سفاری، ای میلز، ایپ اسٹور، آئی کلاؤڈ اور میپس کو بھی استعمال نہیں کر سکیں۔علاوہ ازیں آئی فون 4 ایس اور آئی پیڈ صارفین کو بھی اپنے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔کمپنی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ معاملہ جی پی ایس کے مسئلہ کی وجہ سے اٹھا ہے جو تقریباً ہر 19 سال بعد ہوتا ہے، یہ مسئلہ رواں برس اپریل میں ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی ایپل ڈیوائسز اپنے وقت کی قطار سے ہٹ گئی ہیں۔اپریل میں آنے والے اس بگ کو ٹھیک کرنے کے لیے مختلف ڈیوائسز کی لوکیشن سروسز اور گھڑیوں کو روک دیا گیا جس نے الجھن پیدا کردی۔کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بگ آئی ایس او 10.3.4 اور آئی ایس او 9.3.6 یا اس کے بعد آنے والے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ کرنے سے ختم ہوجائیں گے، تاہم اگر کوئی صارف ایسا نہیں کرتا تو اسے پریشانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔یاد رہے کہ اس حوالے سے ایپل نے اپنے صارفین کو جولائی میں ہی خبردار کردیا تھا کہ انہیں اکتوبر کے اختتام تک اپنا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہے۔آئی فون 5 کے صارفین کو ان کے فون پر مسلسل وارننگ موصول ہورہی کہ ’آئی فون 5 کے صارفین کو یہ ایکشن کرنے کی ضرورت ہے۔‘اس کے ساتھ ساتھ آئی فون 4 ایس، آئی پیڈ 2، آئی پیڈ ود ریٹینا ڈسپلے اور آئی پیڈ فورتھ جنریشن کے بھی سافٹ ویئر کی اپ گریڈ کی ضرورت ہے۔
کمپالا: یوگینڈا میں ایک ماں پر 44 بچے پیدا کرنے کے بعد مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مریم نباتنزی نامی خاتون کے 44 بچے ہیں جن میں سے 4 مرتبہ دو جڑواں بچے، 5 مرتبہ 3 جڑواں بچے اور پانچ بار چار جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ مقامی طور پر انہیں سب سے زرخیز عورت کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ مریم کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوگئی تھی اور ایک سال بعد ہی اپنے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ڈاکٹرز نے مریم پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ پابندی مریم کے اس خواہش کے بعد لگائی گئی جس میں مریم نے کہا تھا وہ ایک اور بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں کیوں کہ ان کے والد کے بھی 45 بچے تھے۔محکمہ صحت نے بھی ڈاکٹرز کے مشورے پر مریم کی صحت کو دیکھتے ہوئے مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
بسا اوقات عادی مجرم بھی ایک مشہور شخصیت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ اسپین میں پیش آیا ہے جب مشہور مجرم کی قبر پر اس کا مجسمہ اور پسندیدہ گاڑی کی نقل(ریپلیکا)نصب کی گئی ہے۔اسپین کے شہر غرناطہ کے قبرستان میں ایک قبر پر آپ عالیشان دھاتی مجسمہ دیکھ سکتے ہیں جو اس کی عین جسامت کے برابر ہے۔ اسی کے ساتھ آڈی کیو فائیو کار کا ماڈل بھی موجود ہے جس پر بیٹھ کر مجرم وارداتیں کرتا تھا۔اینتونیو المعروف ایل ٹونٹو( یعنی احمق)پورے اسپین میں قزاقِ ٹرک کے نام سے مشہور تھا جسے تاریخ کا کامیاب مجرم قرار دیا جاسکتا ہے۔ اپنے شاندار کیریئر میں وہ 60 مرتبہ گرفتار ہوا اور وہ بڑے قیمتی ٹرالر اور ٹرک چوری کرتا تھا اور ان کے بدلے قیمتی سامان، پرفیوم اور کمپیوٹر وغیرہ خریدا کرتا تھا۔ اسپین میں بھنگ اور حشیش کا کاروبار بھی اسی نے شروع کیا۔ ترقی کے برق رفتار سفر میں اس نے ایک مارکیٹ بنائی جس میں وہ اپنی ہی چوری کا سامان بیچتا تھا۔ جرم کی راہ میں وہ منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا 46 سال کی عمر میں فوت ہوگیا اور اس سے چند روز قبل اس نے سات بڑے ٹرک چھینے تھے۔
صندل خٹک ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی ساتھی ہیں اور دونوں مل کر متعدد ٹک ٹاک ویڈیوز بنا چکی ہیں ۔دفتر خارجہ میں متنازع ویڈیو بنانے والی ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کی دوست صندل خٹک ان کی حمایت میں بول پڑیں۔ حریم شاہ کی ٹک ٹاک ساتھی صندل خٹک نے ایک بیان میں کہا کہحریم شاہ نے ویڈیو ریکارڈنگ کر کے کچھ غلط نہیں کیا کہ جس پر انکوائری ہو، کوئی بھی دفتر خارجہ جاسکتا ہے اور سیاستدانوں سے ملاقات کرسکتا ہے۔متنازع ویڈیو میں بالی وڈ گانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو صندل خٹک نے جواب دیا کہ وہ بغیر سوچے سمجھے ایسے ہی انتخاب کرلیا گیا تھا اس کے پیچھے کوئی مقصد نہیں۔کچھ روز قبل حریم شاہ کی دفتر خارجہ میں بنائی گئی ایک ویڈیو بالی وڈ گانے کے بیک گرانڈ کے ساتھ وائرل ہوئی تھی جس پر تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ویڈیو میں دیکھا گیا کہ حریم شاہ وزیر خارجہ کی اجلاس کی صدارت کرنے والی کرسی پر بیٹھی ہیں، انہوں نے کانفرنس روم دکھائے جہاں وزیر خارجہ کی اہم ملاقاتیں ہوتی ہیں۔بعدازاں حریم شاہ کی سرکاری دفتر میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر انکوائری شروع کر دی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا 8 ہفتوں کےلیے معطل کردی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ان کی سزا معطلی کی درخواست منظور کی اور انہیں 20 ،20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 8 ہفتوں میں نواز شریف کا علاج مکمل نہ ہونے پر صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جائے۔اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی اور جج ویڈیو کیس سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے اس وقت 4 آپشنز ہیں، معاملہ ایگزیکٹو کو بھجوائیں یا نیب کی تجویز پر ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی مان لیں یا درخواست خارج کر دیں، شفاء اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ڈاکٹرز بھی صرف اپنی کوشش ہی کرتے ہیں۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نے ضمانت کا معاملہ ایگزیکٹوز کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت کو یہ معاملہ بھجوانا جو ہماری شدید مخالف ہے زیادہ مناسب نہ ہو گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت تو ابھی تک اس معاملے پر کنفیوز ہیں۔اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ ہم نواز شریف کو کہیں کھو نہ دیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کل نواز شریف کی مکمل باڈی اسکین کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کو جان بچانے والی ادویات دی گئیں، 8 دن میں ان کا 7 کلو وزن کم ہو گیا، میں نے آج تک کبھی نواز شریف کی اتنی تشویش ناک حالت نہیں دیکھی۔ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضۂ قلب بھی لاحق ہے، نوازشریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے۔سروسز اسپتال لاہورکے ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک بیماری کا علاج کرتے ہیں تو دوسری بیماری کھڑی ہوجاتی ہے، نواز شریف کی حالت اس وقت بھی خطرے میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے 5 دن کا کورس مکمل ہو گیا، اب نواز شریف کو قوتِ مدافعت بڑھانے اور ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کے لیے انجکشن کا کورس شروع کرا دیا گیا ہے، نیفرولوجی کے ڈاکٹر نے بھی نواز شریف کا معائنہ کیا ہے۔ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کے گردوں کا یوریا کرٹینین کا ٹیسٹ کیا گیا، جس کے بعد نواز شریف کو یوریا کرٹینین کے لیے ادویات بھی دی گئیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کو گردے کی شکایت پہلے سے ہے، 5 دن تک اسٹیرائیڈز اور شوگر کی ادویات کے استعمال کے بعد گردوں کا معائنہ ضروری ہو گیا تھا۔ڈاکٹر سلیم چیمہ نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کا بیک وقت دل، گردوں، شوگر اور آئی ٹی پی کا علاج کیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 28 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عالیہ کے روبرو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے حوالہ جات پیش کیے۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ فالج سے بچاؤ کے لیے پلیٹ لیٹس بڑھانا ضروری ہے، پلیٹ لیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، قدرتی طور پر نواز شریف کے پلیٹ لیٹس نہیں بڑھ رہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں، 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کر رہا۔خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام میڈیکل سہولتیں ملنا ضروری ہیں، ہمیں ڈاکٹرز کی نیت و قابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔انہوں نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے نواز شریف کا صحت مند ہونا ضروری ہے، سابق وزیرِ اعظم کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے۔نواز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی تو وہ دوبارہ قید کی سزا کاٹ سکتے ہیں، نواز شریف کا علاج ہو رہا ہے، ڈاکٹرز کی بہت اچھی ٹیم علاج کر رہی ہے۔خواجہ حارث نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹرز کی استدعا پر کیس پیر کے بجائے آج منگل کے لیے رکھا گیا تھا، ابھی تک بیماری کی وجوہات ہی معلوم نہیں ہو رہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست کے کیس میں وزيرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اسپتال میں ہیں، انہیں پنجاب حکومت پر اعتماد ہے، ہم نواز شریف کا بھر پور خیال رکھیں گے۔عثمان بزدار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ میں نے ایک سال میں آٹھ مرتبہ جیلوں کا دورہ کیا، ساڑھے 4 ہزار قیدیوں کو فائدہ دیا، جیل ریفارمز کے ذریعے جیلوں کا سسٹم ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ۔خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آ گئے، انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی، عدالتِ عظمیٰ نے سزا معطلی کے وقت کچھ پیرامیٹرز طے کیے تھے۔جہانزیب بھروانہ نے مزید کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف ان 6 ہفتوں میں ملک سے باہر نہیں جا سکتے، ان سے 6 ہفتوں میں پاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کا کہا گیا تھا۔عدالتِ عالیہ نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی جبکہ جج ویڈیو سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔جسٹس عامر فاروق کا اس حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ آج مرکزی اپیل اور دیگر درخواستیں بھی مقرر تھیں، فرض کریں اگر ویڈیو اسکینڈل کی وجہ سے فیصلہ کالعدم ہوتا ہے تو ایسی صورت میں صرف العزیزیہ نہیں فلیگ شپ کا فیصلہ بھی کالعدم ہو گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیادوں پر سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، یہ فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی مرکزی اپیل پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی اور جج ویڈیو کیس سے متعلق متفرق درخواستوں پر نیب کو تحریری جواب داخل کرانے کا حکم دے دیا۔دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے اس وقت 4 آپشنز ہیں، معاملہ ایگزیکٹو کو بھجوائیں یا نیب کی تجویز پر ٹائم فریم کے تحت سزا معطل کریں۔انہوں نے کہا کہ آپ کی مان لیں یا درخواست خارج کر دیں، شفاء اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، ڈاکٹرز بھی صرف اپنی کوشش ہی کرتے ہیں۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نے ضمانت کا معاملہ ایگزیکٹوز کو بھجوانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک حکومت کو یہ معاملہ بھجوانا جو ہماری شدید مخالف ہے زیادہ مناسب نہ ہو گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت تو ابھی تک اس معاملے پر کنفیوز ہیں۔اس سے قبل کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہنا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ نواز شریف کو کہیں کھو نہ دیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کل نواز شریف کی مکمل باڈی اسکین کا فیصلہ کیا ہے، نواز شریف کو جان بچانے کی ادویات دی گئیں، 8 دن میں ان کا 7 کلو وزن کم ہو گیا، میں نے آج تک کبھی نواز شریف کی اتنی تشویش ناک حالت نہیں دیکھی۔ڈاکٹر عدنان نے یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضۂ قلب بھی لاحق ہے، نواز شریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ نواز شریف کو کہیں ہم کھو نہ دیں۔سروسز اسپتال لاہورکے ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک بیماری کا علاج کرتے ہیں تو دوسری بیماری کھڑی ہوجاتی ہے، نواز شریف کی حالت اس وقت بھی خطرے میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے 5 دن کا کورس مکمل ہو گیا، اب نواز شریف کو قوتِ مدافعت بڑھانے اور ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کے لیے انجکشن کا کورس شروع کرا دیا گیا ہے، نیفرولوجی کے ڈاکٹر نے بھی نواز شریف کا معائنہ کیا ہے۔ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کے گردوں کا یوریا کریٹینین کا ٹیسٹ کیا گیا، جس کے بعد نواز شریف کو یوریا کریٹینین کے لیے ادویات بھی دی گئیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کو گردے کی شکایت پہلے سے ہے، 5 دن تک اسٹیرائیڈز اور شوگر کی ادویات کے استعمال کے بعد گردوں کا معائنہ ضروری ہو گیا تھا۔ڈاکٹر سلیم چیمہ نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کا بیک وقت دل، گردوں، شوگر اور آئی ٹی پی کا علاج کیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 28 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔نواز شریف کےوکیل خواجہ حارث نے عدالت عالیہ کے روبرو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے حوالہ جات پیش کیے۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ فالج سے بچاؤ کے لیے پلیٹ لیٹس بڑھانا ضروری ہے، پلیٹ لیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، قدرتی طور پر نواز شریف کے پلیٹ لیٹس نہیں بڑھ رہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں، 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کر رہا۔خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام میڈیکل سہولتیں ملنا ضروری ہیں، ہمیں ڈاکٹرز کی نیت وقابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔انہوں نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے نواز شریف کا صحت مند ہونا ضروری ہے، سابق وزیرِ اعظم کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے۔نواز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی تو وہ دوبارہ قید کی سزا کاٹ سکتے ہیں، نواز شریف کا علاج ہو ضرور رہا ہے، ڈاکٹرز کی بہت اچھی ٹیم علاج کر رہی ہے۔خواجہ حارث نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹرز کی استدعا پر کیس پیر کے بجائے آج منگل کے لیے رکھا گیا تھا، ابھی تک بیماری کی وجوہات ہی معلوم نہیں ہو رہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست کے کیس میں وزيرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف اسپتال میں ہیں، انہیں پنجاب حکومت پر اعتماد ہے، ہم نواز شریف کا بھر پور خیال رکھیں گے۔عثمان بزدار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ میں نے ایک سال میں 8 مرتبہ جیلوں کا دورہ کیا، ساڑھے 4 ہزار قیدیوں کو فائدہ دیا، جیل ریفارمز کے ذریعے جیلوں کا سسٹم ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ۔خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آ گئے، انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی، عدالتِ عظمیٰ نے سزا معطلی کے وقت کچھ پیرامیٹرز طے کیے تھے۔جہانزیب بھروانہ نے مزید کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف ان 6 ہفتوں میں ملک سے باہر نہیں جا سکتے، ان سے 6 ہفتوں میں پاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کا کہا گیا تھا۔
اسلام آباد میں پشاور موڑ پر اتوار بازار میں آگ لگ گئی جس سے لگ بھگ 1000 اسٹالز جل گئے۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق 12 گاڑیوں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا۔آتشزدگی کے وقت شہر بھر کی تمام فائر بریگیڈ کی گاڑیوں اور واٹر ٹینکرز کو طلب کرلیا گیا تھا۔فائر بریگیڈ عملے کے مطابق کارپٹ، جوتوں اور دیگر اشیاء کے اسٹالز میں آگ لگی۔حکام نے بتایا کہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، آگ لگنے کی وجہ بھی فی الحال معلوم نہیں ہوسکی۔ذرائع کے مطابق آگ ایچ نائن سیکٹر میں لگی جہاں مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ کا جلسہ کریں گے۔واضح رہے کہ اس بازار میں رواں سال 18 جولائی اور دیگر کئی مرتبہ آتشزدگی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ رات گئے ملتان پہنچ گیا، ملتان میں قیام کے بعد قافلہ آج لاہور روانہ ہوگا۔مارچ میں شرکت کے لیے بلوچستان سے آنے والا قافلہ پہلے ہی ملتان پہنچ چکا ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ عوام کے قافلے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اسلام آباد میں مشاورت سے اگلی حکمت عملی بنائیں گے۔انہوں نے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مارچ دیکھ کر حکومت حواس باختہ ہے، ہم پورےجوش وجذبےکےساتھ آگے بڑھ رہےہیں۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ گزشتہ روز سکھر سے پنجاب کے لیے روانہ ہوا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں افغان امن عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن عمل سے متعلق پاکستان پر عزم ہے، افغان تنازع کے پائیدار سیاسی حل کیلئے حائل رکاوٹوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو افغانستان میں تشدد کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، افغان امن عمل کے حوالے سے منفی بیانیے کیخلاف کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔زلمے خلیل زاد سے ملاقات میں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ افغانستان اور خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے، پاکستان مخلص دوست اور سہولت کار کی حیثیت سے کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔