وسطی افریقی جمہوریہ میں ٹریفک حادثے میں ستتر افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے، حکام کے مطابق حادثہ مرکزی شاہراہ پر مسافروں سے بھرے ٹرک کے الٹنے سے پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹرک میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، حادثہ ٹرک میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا ، زخمیوں کو نزدیکی اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔جن میں سے بعض زخمیوں کی حالت خراب ہے۔س حکام کے مطابق حادثہ مرکزی شاہراہ پر مسافروں سے بھرے ٹرک کے الٹنے سے پیش آیا، ٹرک میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے، حادثہ ٹرک میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا ، زخمیوں کو نزدیکی اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
قطر نے عرب ملکوں کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کردیا،عرب ملکوں نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بائیکاٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ،پابندیوں میں اضا فہ نہیں کیا گیا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر سے تعمیری مذاکرات پر زور دیا ہے۔چار عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصری ہم منصب فتاح السیسی کو فون کر کے تعمیری مذاکرات کرنے پر زوردیا ہے، جس کے بعد4عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے قطر پر مزید پابندیوں کا اعلان ملتوی کردیا۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے وزرائے خارجہ اجلاس میں سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے وزراء شریک ہوئے۔اس موقع پر جاری ہونے والے اعلامیے میں قطری رویے میں تبدیلی تک قطر کا سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا، تاہم مزید پابندیوں کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔چار عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ قطر موجودہ بحران کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان میں کہنا ہے کہ قطر نے ان ممالک کے 13مطالبات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔سعودی وزیر خارجہ کے مطابق قطر کا بائیکاٹ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک وہ اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ مناسب وقت پر قطر کے خلاف مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہوں گی۔اس سےپہلے قطر نے عرب ملکوں کے مطا لبات پر جواب بھجوا دیا تھا،جس کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے مطالبات غیر حقیقی اور ناقابل عمل قرار دیئے تھے۔دوسری جانب ترکی نے ایک بار پھر قطر کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عرب ممالک کی قطر کے خلاف پابندیوں پر غصے کا اظہار اور دوحہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ دوحہ سے کیے جانے والے 13 مذاکرات غیرحقیقی ہیں اور کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہیں۔عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے قطر کی کریڈٹ ریٹنگ مستحکم سے منفی کردی ہے۔موڈیز کا کہنا ہے کہ قطر کا دیگر ملکوں سے تنازع جلد حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اورعلاقائی ممالک کےاقدامات سےقطرکی معاشی سرگرمیاں متاثرہوں گی۔

