حافظ کریم اللہ چشتی آف پائی خیل
حافظ کریم اللہ چشتی کا تعلق میانوالی کے علاقہ پائی خیل سے ہے۔ حافظ صاحب پیشہ تعلیم و تدریس سے بھی منسلک ہیں اور ہر موقع کی مناسبت سے کالم نگاری میں بھی اعلیٰ مہارت رکھتے ہیں ۔
آپکے کالم ،شاعری، کہانیاں
حافظ کریم اللہ چشتی کا تعلق میانوالی کے علاقہ پائی خیل سے ہے۔ حافظ صاحب پیشہ تعلیم و تدریس سے بھی منسلک ہیں اور ہر موقع کی مناسبت سے کالم نگاری میں بھی اعلیٰ مہارت رکھتے ہیں ۔
ڈاکٹر تصور حسین مرزا پوران کے رہائشی ہیں اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال میڈیا پریس کلب جہلم کے بانی و صدر بھی ہیں ۔ضلعی سطح پر مثبت صحافت میں ان کا قلیدی کردار ہے جب کہ کالم نگاری میں بھی یہ لازوال صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
★فرانس وہ پہلا ملک تھا جہاں پاکستان سے باہر پاکستان کا پرچم پہلی بار لہرایا گیا
اس کا واقعہ کیا تھا ملاحظہ ہو
سن 1947 میں یہ تو پکا ہو ہی چکا تھا برصغیر کی تقسیم کی جائے گی لیکن اس کا ٹائم فریم طے نہیں تھا۔ تو اسی دوران فرانس میں عالمی بوائے سکاؤٹس کا کنونشن آ گیا جسے جمبوری کہا جاتا ہے۔ تو انڈیا کی جانب سے جو بوائے سکاؤٹس کا دستہ بھیجا گیا اس میں مسلمان سکاؤٹس بھی شامل تھے جن میں سے ایک نوجوان کا نام سرفراز رفیقی تھا جو بعد میں پاکستان ائیر فورس کا ایک لیجنڈ پائلٹ بن کر ابھرا اور پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہلالِ جراءت حاصل کرتے ہوئے 65 کی جنگ میں جام شہادت نوش کیا۔ یہ سب لوگ انڈیا کے سکاؤٹس کے دستے میں اکٹھے بحری جہاز پر فرانس کے لیے روانہ ہوئے۔
ابھی راستے میں ہی تھے کہ انہیں پتہ چلا کہ چودہ اگست کو برصغیر کی تقسیم ہونا طے پائی ہے۔ یہ بات سن کر سب مسلمان سکاؤٹس اکٹھے ہوئے اور آپس میں فیصلہ کیا کہ چاہے جو بھی ہو چودہ اگست کو ہمارا الگ ملک بن جائے گا تو اس دن ہم کسی بھی صورت انڈیا کے جھنڈے کو سلامی نہیں دیں گے بلکہ اس دن ہم اپنے الگ ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے سبز ہلالی پرچم کے نیچے الگ کھڑے ہوں گے۔
یہ بات جیسے ہی سکاؤٹس دستے کے ہندو لیڈر کو پتہ چلی اس نے تمام مسلمان سکاؤٹس کا کھانا بند کروا دیا کیونکہ خرچ کے لیے تمام رقم اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس تمام سفر کے دوران مسلمان سکاؤٹس پورے دن میں مشکل سے ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارا کرتے رہے لیکن ان میں سے ایک بھی پاکستان کی نمائندگی کرنے کے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹا۔
اگلا مرحلہ جھنڈا حاصل کرنے کا تھا۔ پاکستان ابھی بنا بھی نہیں تھا تو اس کا جھنڈا کہاں سے ملتا تو سب مسلمان سکاؤٹس نے جھنڈا خود سینا شروع کیا۔ لیکن ایک مشکل اس وقت پیدا ہو گئی جب یہ پتہ چلا کہ سبز رنگ کا کوئی بھی سوٹ کسی بھی مسلمان سکاؤٹ کے پاس موجود نہیں۔ یہ بات جہاز پر ان کے قریبی کیبن میں رہائش پذیر ایک نوجوان ترک لڑکی نے سن لی اور وہ کسی کے کہے بنا اپنے کیبن میں گئی اور اپنے بالکل نئے سبز سوٹ کا دوپٹہ لا کر ان سکاؤٹس کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔
اس طرح پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تیار کیا گیا۔
اور ارادوں کے پکے مسلم سکاؤٹس نے چودہ اگست کے دن باقی انڈین سکاؤٹس سے الگ ہو کر اپنے علیحدہ آزاد ملک کی نمائندگی کی اور سبز پرچم کو سلامی دے کر پاکستان سے باہر پاکستان کی
نمائندگی کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔
بشکریہ #اسلام_و_انسان
لاہور (نمائندہ خصوصی) اور اللہ کا کرم کہ ہم برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کے حصول کی جدوجہد کے دوران ان صفات کا حامل قائد میسر آیا جس نے ہمیں حصول پاکستان کی منزل تک پہنچایا۔ اس میر کارواں کو دنیا محمد علی جناحؒ کے نام سے جانتی ہے اور ہم نے فرط عقیدت سے اسے قائد اعظمؒ کہا اور یہ لقب اس کی سچی قیادت کے تاج میں ایک تابناک ہیرے کی طرح جگمگایا۔ قائد کی قیادت ، ان کی شخصیت کی صداقت کے حوالے سے ملی وحدت کی علامت بن گئی اور بہ حیثیت مسلمان ہماری صدیوں کی عظمت رفتہ کی بازیافت کے امکانات روشن ہوگئے۔ ان کی رہنمائی نے ہمارے اندر خود شناسی کا جوہر بیدار کیا ان کے کردار کے جلال ، عزم کے جمال اور گفتار کی صداقت نے ہمیں ’’ایمان ، اتحاد اور تنظیم‘‘ کے معانی سمجھائے اور ان کا نام ہمارے ملی تشخص کی علامت بن گیا۔ حصول پاکستان کی تحریک کے دوران ایک زمانہ ہمیں حیرت سے دیکھنے لگا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے اور یہ کیسا قائد ہے جو نہ مخالف کی طاقت سے گھبراتا ہے نہ تعداد سے ، منزل کی دشواریوں سے دل شکستہ ہوتے ہیں نہ خطرات سے ، انہیں نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے ، نہ خوفزدہ کیا جاسکتا ہے نہ خریدا جاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے عزم ، ارادے ، بے خوفی اور جذبہ ایمانی نے ایک پیکر خاکی کی شکل اختیار کرلی تھی اور محمد علی جناحؒ نام پایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظمؒ کے معیار کی کامیابی دنیا میں بہت کم رہنماؤں کو میسر ہوئی ہے ان کی مخالفت پر دو بہت بڑی طاقتیں کمربستہ تھیں یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور برطانوی حکومت۔ پھر جس وقت انہوں نے حصول پاکستان کے لئے مسلمانوں کی قیادت کا فیصلہ کیا اس وقت بظاہر برصغیر کے مسلمان منتشر اور کمزور نظر آرہے تھے ۔ قائد اعظم صرف ہمارے وکیل نہیں تھے وہ اس فکر کا عملی نمونہ تھے جس نے اقبال کی شاعری کو توانا اور محکم بنایا ہے۔ اسلام ظاہر پرستی سے عبارت نہیں ، اسلام کی شرط اول فکر کی ضمانت اور خیال کی پاکیزگی ہے۔ قائداعظم ؒکی ساری زندگی گواہ ہے کہ سستی شہرت کے وہ کبھی طالب نہیں ہوئے اور منفی سیاست ان پر کبھی غالب نہیں آئی۔ قائد اعظمؒ نے کبھی کوئی ایسی روش اختیار نہیں کی جس سے انہیں مسلمانوں میں جذباتی ناموری حاصل ہوجاتی۔قوموں کی زندگی میں حقیقی اہمیت تو افکار کی ہوتی ہے اور ان تحریکوں کی جو ان افکار سے پیدا ہوتی ہیں لیکن تحریکوں کی روح وہ افراد ہوتے ہیں جن کے حسن عملی اور اعلیٰ کردار سے وہ افکار قومی زندگی میں اثرپذیر ہوتے ہیں اور اسی روشنی میں قومیں آزمائش کے مرحلوں سے گزر کر کامیابی کی منزلوں تک پہنچتی ہیں۔قیام پاکستان ایک سمت برصغیر کی امت مسلمہ کے لئے ایک تاریخ ساز کامیابی کی علامت ہوا تو دوسری سمت مخالف قوتوں کے لئے یہ شدید ناکامی اور محرومی کی علامت بھی بنا چنانچہ اس قدر واضح ناکامی کے بعد ان قوتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔ اب کوششیں یہ ہورہی ہیں کہ ان مقاصد کو ہی فکری انتشار کا نشانہ بنایا جائے جن کے حصول کے لئے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی گئی ۔ تاریخ کے آئینے میں قائد اعظم ؒکے خدوخال بہت نمایاں ، بہت روشن ہیں۔ انسان کی شخصیت کی طرح تاریخ کا آئینہ بھی پہلو دار ہوتا ہے اور اس آئینے میں قائد اعظم کی شخصیت کا ہر پہلو نمایاں اور آئینے کی طرح ہی صاف و شفاف ہے۔ حصول علم میں بھرپور محنت سے کامیابی حاصل کی ، وکالت کے فرائض ادا کرتے ہوئے زندگی بھر دیانت اور امانت سے کام لیا، دل میں حصول آزادی کی لگن تھی لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے ملّی تشخص کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہونا ہی اس کا بھرپور ثبوت ہے کہ وہ نظری اور عملی دونوں اعتبار سے مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے قائل تھے۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بھرپور کوشش کی لیکن مسلمانوں کو ہندوستانی قومیت میں ضم ہوجانے کا مشورہ کبھی نہیں دیا اور جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان دونوں قوموں کے مابین باعزت بقائے باہمی کا سمجھوتہ ممکن نہیں تو انہوں نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے حصول کے لئے کاروان ملت کی قیادت کی اور تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ سچی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ عالمی سطح پر مسلم امہ کی بیداری کی راہ بھی ایک نمایاں اور کشادہ ہوتی چلی جارہی ہے۔ قائد اعظم سیدھے سادھے اور سچے مسلمان تھے جب ۔انہوں نے یہ کہا کہ برصغیر کے مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں تو یہ بات انہوں نے کسی مصلحت کی بنا پر یا مسلمانوں میں سستی شہرت کے حصول کے لئے نہیں کہی تھی۔ وہ دل سے مسلمانوں کے ملّی تشخص کے قائل تھے اور بالکل اسی طرح وہ دل کی گہرائیوں سے پاکستان میں حقیقی اسلامی نظام کے قیام کے آرزو مند تھے۔قائد اعظمؒ متعصب بھی نہیں تھے کیونکہ اسلام بنیادی طور پر تکریم آدمیت کا درس دیتا ہے لیکن وہ ’’لادین‘‘ ہونے کے معنوں میں سیکولر ہر گز نہیں تھے۔ وہ پاکستان میں کسی قیمت پر اس نوعیت کے سیکولر نظام کے قیام کے حامی نہیں تھے جیسا نظام مملکت اقوام مغرب نے اپنالیا ہے۔ قائد اعظم اللہ پر اور اللہ کے آخری رسولؐ، آخری پیغمبر کی حیثیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھتے تھے اور پاکستان میں وہ اسی نظام حکومت کے قیام کے آرزو مند تھے جس کو عصر حاضر میں حقیقی معنوں میں اتباع سنت نبوی ؐقرار دیا جاسکے۔ قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری سالانہ اجلاس میں جو کراچی میں منعقد ہوا تھا دسمبر 1943ء کے آخری ہفتے میں اپنے خطبہ صدارت میں واضح الفاظ میں فرمایا تھا۔ ’’وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے ہم مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟ وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت استوار ہے ؟ وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اس پورے پس منظر میں ’’ایمان ، اتحاد ، تنظیم‘‘ کے معانی واضح ہوجاتے ہیں۔
ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ .. ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺁﭖ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ.ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻮ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ . . ﮐﺠﺎ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ .. ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﻧﮯ ﺗﯿﺰ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﮔﮩﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺱ ﺑﺎﺧﺘﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﯿﺎﮨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻮﺯﻭﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺁﭖ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﺁﭖ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ .. ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭼﻬﻮﭨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﺮﺩﮦ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻭ ﻣﺎﮨﺘﺎﺏ ﺗﮏ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮨﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﮨﮯ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﺍﺗﻨﮯ ﻭﺿﻊ ﺩﺍﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﻨﺎ ﻣﻮﺕ ﮨﮯ ﭼﮧ ﺟﺎﺋﯿﮑﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﻬﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻮ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﻟﭩﺮﺍ ﺳﺎﻭﻧﮉ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺭﯾﻦ ﮐﯽ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ..ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﯽ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻼﻡ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ14 .. ﺳﺎﻟﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﻣﺮﻭﮌ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .. ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .. . ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﮭﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﻮ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺳﮯ ﻣﻞ ﻟﮯ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﮈﻫﮯ ﺳﯽ ﮔﺌﯿﮟ . . ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﺭﻧﺞ .. ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﯽ ﺗﺠﺴﺲ ﺁﻣﯿﺰ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﻟﺌﮯ .. ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﮐﯽ ﭘﺸﺖ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭨﮑﺎﺋﮯ ﮨﻮﻟﮯ ﮨﻮﻟﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﺟﻬﻼﺋﮯ ﮔﺌﯿﮟ .. ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﻔﯿﻒ ﺳﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ..ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮔﺰﺭﯼ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﻟﯿﮟ .. ﺟﮭﻮﻟﺘﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻭﻗﺎﺭ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ..ﯾﺲ .. ﮐﻢ ﺍﻥﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ .. ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .. ﻣﺮﯾﻀﮧ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻦ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯿﮟ ..ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺷﺮﻣﺴﺎﺭ ﺳﯽ .. ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﯽ ﻣﺎﮞ .. ﺟﻮ ﻋﻤﺮ ﺭﺳﯿﺪﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﭽﮫ ﮨﯽ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﺩﮐﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ …ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﻟﭙﯿﭧ ﻟﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻧﺎﺩﺍﻧﺴﺘﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺟﮭﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ..ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﭘﻞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﺋﮯ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﯿﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﭘﺮﯾﮑﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮐﻬﮯ ﺗﮭﮯ .. ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﻣﺮﯾﻀﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺻﺪﻣﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ . ﺍﺏ ﻭﮦ ﺻﺪﻣﮧ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﻓﯿﺸﻨﻞ ﺍﺯﻡ ﻧﮯ ﻏﻠﺒﮧ ﭘﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ..ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺸﻨﻞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﻧﮯ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ .. ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺮﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻮﺋﯽﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﺮ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﻋﻠﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ … ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺴﺮ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺑﯿﮓ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮﻧﺴﻠﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺑﯿﮓ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﭨﮑﭧ ﭘﺮ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ .. ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺩ ﯾﮧ ﺫﻟﺖ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ . ﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﮔﻼ ﺩﺑﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ …ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﭘﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺘﻼﺷﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎ .. ﻭﮦ ﺍﭨﻬﯿﮟ . ﺭﻭﻡ ﻓﺮﯾﺞ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﺑﻬﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺎ .. ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﺎﺯﯾﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ .. ﻣﺒﺎﺩﺍ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻟﮕﯽ ﮨﻮ .. ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ …. ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﻼﺱ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ , ﮨﺎﺗﻬﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﭙﮑﭙﺎﮨﭧ ﺍﺗﻨﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﻠﻮﺭﯾﮟ ﮔﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﻠﮑﻮﺭﮮ ﮐﻬﺎﺗﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﺗﺎ ﺗﻬﺎ . ﻟﺒﻮﮞ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﻪ ﭘﺎﻧﯽ ﭼﻬﻠﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻪ ﺳﺎﺗﻪ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ .. ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮑﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﮯ ﮔﻮﻟﮯ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺑﮍﮮ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺑﻬﺮ ﮐﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧﺀ ﺗﮑﻠﻢ ﺟﻮﮌﺍ ..ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍ .. ﺗﻢ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﯽ .. ﺳﮑﻮﻝ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ .. ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺐ ﮨﻮﺍ .. ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍﺳﻠﺴﻠﮧﺀ ﺗﮑﻠﻢ ﺟﻮﮌﺍ ..ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﮧ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍ .. ﺗﻢ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﯽ .. ﺳﮑﻮﻝ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ .. ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﺐ ﮨﻮﺍ .. ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺍ ..ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﺯﺍﺩ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ..ﺁﮦ .. ﻣﺴﺰ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﺧﺴﺎﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﻟﮍﻫﮑﻨﮯ ﻟﮕﮯ .. ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﻘﺐ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ .. ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﻮ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﮐﯿﻠﯽ ﮨﮯ .. ﭘﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ .. ﺯﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ .. ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﻬﺎﺑﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺎﻭ ﺑﮩﻦ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ .. ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻞ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ 14 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ 16 ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﮭﺎﻧﺠﺎ … ﮨﻢ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﺭﮨﮯ .. .ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺘﯿﺠﮯ ﻓﮩﺪ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﮧ ﮐﻮ ﭼﻬﯿﮍﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﯽ .. ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺰﺍﺣﻤﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻓﮩﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻠﻤﮧ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ….ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﻞ ﺳﻮﺟﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ .. ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯿﮟ . ﯾﮩﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﺣﻞ ﮨﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﻮﺭﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺣﻞ ﮨﮯ .ﺑﯿﮕﻢ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯﻗﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﻬﭩﮑﺎ .. ﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﻓﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻤﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ … ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻭﺍ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ .. ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ .. ﺳﺴﺮ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ .. ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﭨﻬﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﻭﮎ ﭘﺎﻭﮞ ﮔﯽ .. ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ .. ﯾﮧ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ..ﺑﮯ ﺑﺲ ﻣﺎﮞ ﯾﮑﺪﻡ ﺍﭨﻬﯽ ﺍﻭﺭ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ….. ﻭﮦ ﻣﺎﮞ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﭼﯿﺘﮭﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﯿﺲ ﺟﯿﻮﻟﺮﯼ .. ﺑﺪﻧﻤﺎ ﻣﻨﮑﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻬﯽ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﻭﺍﺯ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﻪ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﯾﮑﺪﻡ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﻮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮐﺮﺏ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻻﭼﺎﺭ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻬﺎﻡ ﮐﺮ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯼ …. ﭘﻠﯿﺰ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﮨﯿﮟ . ﺍﻭﻻﺩ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ , ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮨﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ .. ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﻭﮞ .. ﺍﺱ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﮟ ﺧﺪﺍﺭﺍ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﯾﮟ ..ﮈﺍﮐﭩﺮﻣﻮﻣﻨﮧ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻠﺪ ﯾﺎ ﺑﺪﯾﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ . ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ..ﺭﻭﺗﯽ ﺩﮬﻮﺗﯽ ﭘﺮﺩﮮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ .. ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻠﮑﺘﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﯾﻀﮧ ﮐﻮ ﺗﺴﻠﯽ ﻭ ﺗﺸﻔﯽ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ .. ..ﻣﺮﯾﻀﮧ ﮐﻮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯿﮟ .. ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺸﻨﻞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺱ ﺩﻝ ﺩﻫﮍﮐﺘﺎ ﺗﻬﺎ … ﻭﮦ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﭘﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﻬﯽ ..ﻭﮦ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺗﺴﻠﺴﻞ ﺗﮭﺎ .. ﺍﻥ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭﮮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﯾﻞ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ… ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﺎﻝ ﺍﺳﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﻭﮐﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺑﯿﮓ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﻗﻌﮧ ﭘﻮﺵ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺗﻬﮯ .. ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺑﯿﮓ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﭘﺎﺭ ﮐﯽ ﻋﺰﯾﺰﮦ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﮨﺰﺑﯿﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻨﮕﯿﻦ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ .. ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﺑﻬﯽ .. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﻧﮯ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﻭﮐﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺁﻓﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﻀﮧ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮦ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ .. ﻭﮨﺎﮞ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺯﺭﺍ ﺳﯽ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﭘﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .. ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮭﺠﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺍﻥ ﻭﮐﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ .. ﻣﯿﺮﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺹ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﺱ ﺳﻮﺩﮮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﻣﻌﺰﺯ ﻭﮐﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﺎ ﻭﯾﺰﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻭﮦ ﻭﯾﺰﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻻ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮐﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﺮﺩﮦ ﺳﻮﺩﺍ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ .. ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﺑﻬﯽ ﮐﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮐﯿﻞ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺋﮩﮯ ﮔﺎ ..ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻣﻮﻣﻨﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ …. .. ﻣﮑﺎﻓﺎﺕ ﻋﻤﻞ … ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ… ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻗﺮﺽ ﺁﺝ ﺑﯿﭩﯽ ﭼﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ..
دبئی سے آنے والی ایک پاکستانی خاتون نے یہ میسیج کیا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمایں
پاکستان کی موبائل فون کمپنیز چور نہیں ڈکیت ہیں اور عوام مظلوم نہیں جاہل ہیں جو ان کو چیلنج نہیں کرتے۔ گزشتہ ماہ پاکستان کا سفر کیا۔ ایئر پورٹ پر اترتے ہی موبائل سم خریدی۔ موبائل میں سم ڈالی اور =/3000 روپے کا بیلینس کروایا۔ گاڑی میں بیٹھ کر ایک کال کی، کال کے فوری بعد ایک مسیج آیا۔ U فون نے مجھے پیغام بھیجا کہ اس کال کے عوض آپ کے =/15 روپے کٹ گئے لیکن انوکھی بات یہ تھی کہ ٹیکس ان کے علاوہ تھا۔ میں نے نمائندہ کو فون کیا علم ہوا 11 روپے کی کال تھی 4 روپے ٹیکس تھا۔ نمائندہ نے مجھے بیوقوف بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے دوسرے نیٹ ورک پر بات کی اس لئے کال کی قیمت اور ٹیکس کی رقم ذائد ہے۔ میں نے نمائندے سے پوچھا کہ کیا میں نے انڈین نیٹ ورک پر کال کی؟ یا پھر آپ پاکستان کا نیٹ ورک نہیں ہیں۔ سوال سے سوال نکلے علم ہوا کہ جس رقم تین ہزار کا میں نے بیلنس کروایا اس میں سے بھی 750 روپے ٹیکس کاٹ لیا گیا۔ اب میں مکمل طور پر چپ ہو گئی اور نمائندہ ہیلو ہیلو کرکے فون بند کر گیا۔
میں یہ سوچ رہی تھی کہ ایک ہی رقم پر دو بار ٹیکس اس ملک کو تو سوپر پاور ہونا چاہیے کیونکہ میں گزشتہ 10 سال سے Du اور اتصلات کی سروس استمعال کر رہی ہوں۔ اتصلات میں میرا سم 5 ہے، میں 100 درہم کا بیلنس کرواؤں تو 125 درہم مجھے ملتے ہیں اور ساتھ انٹرنیشنل 120 منٹ فری ملتے ہیں۔ اور سو درہم کا بیلنس ایک ماہ کے لئے کافی ہوتا ہے۔ جبکہ انٹرنیٹ کے لئے مجھے 30 روپے میں انلمیٹڈ وائی فائی، 10 جی بی سپیڈ ملتا ہے۔ پاکستان کی موبائل کمپنیاں اور حکومت مل کر لوگوں کو اتنی بری طرح لوٹ رہی ہیں کہ جس کی مثال قومشعیب میں بھی نہیں ملتی۔
کیلنڈر کی تاریخوں کے بدلنے سے انسان کے ماہ وسال بھی ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں۔گھڑی کی سوئیوں کی مقررہ گردش کے بعد2016 اپنے اختتام کو پہنچااور 2017 کا سورج نئی امنگوں اور عزم کے ساتھ طلوع ہونے کے بعد ماضی کا حصہ بننے کیلیئے رواں دواں ہے۔فطرت کا تقاضا ہے کہ جو چیز انسان کے لیئے جتنی ذیادہ ضروری ہے اسکا ملنا اتنا ہی آسان ہوتا ہے۔آپ ایسے سمجھیئے کہ ہوا انسان کےلیئے سب سے ذیادہ ضروری چیز ہے اللہ تعالی نے اسکا حصول اتنا ہی آسان کردیا ہے کہ انسان سویا ہوابھی باآسانی اس سے استفادہ حاصل کررہا ہوتا ہے۔ ہوا کے بعد انسان کے زندہ رہنے کے لیئے پانی بھی بے حد ضروری ہے۔اور پانی بھی وافر مقدار میں مفت میسر آجاتا ہے۔اسی طرح رب العلمین کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات سے مزین زندگی گزارنا بھی اللہ کی نعمتوں میں سےایک نعمت ہے۔کیونکہ اسلامی تعلیمات بھی انسانی ذہنیت کی روحانی غذا ہے جوکہ اللہ کی خوشنودی کے حصول کیلئے نہائت ضروری ہے۔لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہےکہ عصری علوم سے لبریزنوجوان اسلام کے ابتدائی احکام سے اسطرح ناآشنا ہیں جیسے وہ مسلمان ہی نہیں ہیں
استغفراللہ۔
میں آپکو اپنے ساتھ رونما ہوا ایک واقع سناتا ہوں چند دن پہلے کی بات ہے میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد میں بیٹھا اذکار میں مصروف تھا۔میرے ایک دوست تشریف لائے سلام کے بعد فرمانے لگے اعظم بھائی مجھے لاہور ضروری کام کیلیئے جانا ہےتو آپ بھی تیار ہوجائیں۔ میں نے والدہ محترمہ سے اجازت طلب کی تو والدہ محترمہ نے بادل نخواستہ اجازت دےدی اور اپنی دعاؤں کے سائے تلے رخصت کرتے ہوئے فرمایا ًًً(پتر چھیتی واپس آجایا جے) خیر میں گاڑی میں انکے ساتھ براجمان ہوا تو راستے میں الفاظ کا دلچسپ تبادلہ ہوتا رہا آخرکار ہم مذکورہ مقام پر پہنچے محترم عبدالسلام مکی صاحب نے اپنا کام نپٹایا اور اسکے بعد فرمانے لگے اعظم بھائی عصر کی نماز کا ٹائم ہوچکا ہے آؤ اللہ کے حضور سربسجود ہوکر فرض ادا کریں خیر ہم نماز کیلیئے مسجد میں پہنچے دیکھا کہ مولانا صاحب سلام پھیر چکے تھے محترم مکی صاحب فرمانے لگے حافظ اعظم صاحب میں نے ایک حدیث پڑھی تھی کہ( رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وسلم کا فرمان ذیشان ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اکیلے پڑھنے سے ستائیس درجے بہتر ہے)میں نے کہا مکی صاحب حدیث گوش گزار کرنے کا مقصد بتاسکتے ہیں فرمانے لگے اسکا مقصد یہی ہے کہ نماز باجماعت کروالی جائے.میں نے کہا ضرورجماعت ہی کروانی چاہیئے امامت کی ذمہ داری بھی مجھے سونپی گئی۔اس سے پہلے کہ بات کو مزید طول دیا جائے ایک حدیث ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب دو آدمی جماعت میں شامل ہوں تو دونوں اکٹھے کھڑے ہونگےبعد میں آنے والا شخص امام کے ساتھ کھڑے مقتدی کو پیچھے کھینچ کر امام کے پیچھے کھڑے ہونگے )دوران جماعت ایک خوبرو شکل کا مالک نوجوان میرے ساتھ کھڑے مقتدی کو پیچھے کرنے کی بجائے اسکے ساتھ ہی کھڑا ہوگیاجوکہ علوم دینیہ سے ناواقفیت کا کھلا اظہار تھا۔نماز مکمل ہوئی توبعد میں ہم نے ہمت کرکے نوجوان سے سلام کیا اور حال احوال پوچھا۔میں نے ان سے پوچھا بھائی جان آپکی تعلیم کیا ہے ۔؟مدرارس اور مدارس کے طلباء پر زہر آلود تیروں کا نشانہ بنانے والو۔
اس نوجوان نے اپنی تعلیم کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ میں ایم۔ایس۔سی پارٹ2 کا سٹوڈنٹ ہوں ۔
محترم قارئین۔ایسی تعلیم پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہےجو اسلام سے قرآن سے دوری کا سبب بنے۔پاکستان کو صرف ڈاکٹرز ۔انجینیرز ۔پروفسرز ۔ سائنسدانوں کی ہی ضرورت نہں بلکہ جہاں جسمانی بیماری کی تشخیص کےلیئے ڈاکٹرکی ضرورت ہوتی ہے وہاں روحانی بیماریوں کی تشخیص کے لیئےعلماءکرام کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اشد ضرورت ہے ۔
جبکہ وطن عزیز کے نوجوانوںکو عالمی شہری بننے اور بنانےپر قائل کیا جارہا ہےاسکے لیئے میڈیا کا بے دریغ استعمال جس میں فلمیں ۔ڈرامے ۔تھیٹر ۔حیاباختہ اشتہارات اور نت نئے فیشن متعارف کروانے کے بعد باقاعدہ پریکٹل کروائے جاتے ہیں۔سائنس وٹیکنالوجی میں ہمارا ملک برابر ترقی کرہاہےمگر اسلام سے کھلی ناواقفیت ۔اسلامی پستی وزوال اس ملک کا مقدر بن چکا ہے۔اسلامی نظریاتی ملک میں حقیقی ۔اسلامی ۔نظریاتی۔جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مدارس اور مدارس کے طلباء کو معاشرے کےٹھکرائے ہوئے لوگ کہ کریبوست سے لبریز دماغوں سے زہرآلود تیروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔زمانہ بھر کےالزام ودشنام کی توپوں کا رخ ان فاقہ مستوں طرف موڑ دیاجاتاہے۔اپنوں کے ستم خوردہ غیروں کے زخم رسیدہ یہ مہمانان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قافلے سے جدا نہیں ہوتے۔اپنی اصلیت دکھانے والوں نے طلباء مدارس کو کنویں کا مینڈک لکھا۔نیم خواندہ ملا کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔بسم اللہ کے گنبد میں بند کے طعنے دیے جاتے ہیں مدارس اسلامیہ کے طلباء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انکی اسناد گوروں کے دستخطوں سے پاک ہے۔مدارس کے نصاب تعلیم پر وہ لوگ بات کرتے وخود لارڈ میکالے کے زہرآلود دماغ سے خیرات مانگتے ہیں ۔سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سجے چہرے پر پھبتی وہ کستے ہیں جنکے انگ انگ سے نحوست ٹپکتی ہے جوحضرات رسم دنیا اور موقع دیکھ کر مدارس کو طلباء مدارس کو نشانہ تنقید بناتے ہیں انکی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہےکہ اگر آپکی تنقید میں وزن اور نیت میں اخلاص ہے تو کچھ وقت کے لیئے اپنے راحت کدوں چھوڑ کر ان بوریہ نشیں ملاؤں کے ساتھ وقت گزاریے تاکہ آپکو حقائق مدارس دینیہ کا قریب سے علم ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی غذا بھی میسر آسکے اورآپکو مدرسے کی پکی ہوئی بریانی بھی پیش کی جاسکے۔
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل
مسلم معاشرہ میں عورت کاکردار
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشت ویراں سے ذرانم ہوتویہ مٹی بہت زرخیزہے ساقی
آج مملکت خدادادِپاکستان کے مختلف علاقوں میں حواکی معصوم بیٹیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پراتنی خاموشی کیوں نظرآرہی ہے ؟حکومت ،سیاسی اورمذہبی جماعتیں اتنی خاموش کیوں ہیں؟ کیاان عزت کے لٹیروں سے بھی مذاکرات ہوں گے جس طرح انسانیت کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کی باتیں ہورہی ہیں؟ آج مسلم معاشرہ میں بھی پائی جانیوالی زمانہ جاہلیت کی ایسی فرسودہ رسومات کودیکھ کردل خون کے آنسوروتاہے۔کیونکہ آقاکی بعثت مبارکہ سے قبل عرب کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ۔بیٹیوں کوزندہ درگورکردیاجاتاتھا۔ جس گھر میں لڑکی پیداہوتی تھی گویاوہ معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتاتھا۔اس شرم سے بچنے کے لئے لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔عرب کے معاشرہ میں عورت کوکوئی عزت ووقارحاصل نہ تھا۔بلکہ یہاں تک کہ جس گھرمیں لڑکاپیداہوتاتوخوشی منائی جاتی اگراسی گھرمیں لڑکی پیداہوتی تووہ گھرماتم کدہ بن جاتا۔آقاکی بعثت مبارکہ کے ساتھ ایک انقلاب آناشروع ہوگیا۔آقانے عورت کومعاشرہ میں وہ مقام دلایاجس کی نظیرکہیں بھی نہیں ملتی۔
آج عالمی سطح پرطاغوتی قوتیں اسلام اورعالم ِ اسلام کے خلاف صف آراءہیں مغرب اپنی گندی ثقافت کوفروغ دے کرمسلمانوں کوانکی اعلیٰ اخلاقی اقدارسے دورکرنا چاہتاہے ایسے میں نسل نوکی تعلیم وتربیت قرآن وسنت کی روشنی میں کرکے انہیں مغربی سازشوں سے بچایاجاسکتاہے اور اس ضمن میںخواتین کواپنابنیادی کرداراداکرناہوگا۔کیونکہ ہردورمیں معاشرے کی اصلاح میں خواتین نے اپنانمایاں کرداراداکیاہے ۔اگرہم قرآن وحدیث کابغورمطالعہ کریں تویہ بات روزِ روشن کی طرح ہم پرعیاں ہوجاتی ہے کہ خالق کائنات ،مالکِ عرض وسماوات اللہ رب العالمین نے خواتین کے لئے بھی خصوصی احکامات دیے ہیں ۔سوائے دین اسلام کے دنیاکے کسی مذہب میں عورتوں کے لئے الگ سے کوئی قانون یااس کاخاکہ موجود نہیں ہے ۔قرآن مجیدفرقان حمیدکی سورة النسائ،سورة النور،سورة الاحزاب اوردیگرکئی آیات مقدسہ کے علاوہ احادیث مبارکہ میں خواتین کے لئے جوخاص تعلیمات دی گئی ہیں وہ انہیں اسلامی معاشرے کی تعمیراورگھریلوزندگی کے معاملات میں اہم کرداراداکرنے پراُکساتی ہیں۔
آج مسلم معاشرہ ایک ایسے دوراہے پرکھڑاہے جہاں سے نکلنے کے لئے ہمیں کافی محنت کی ضرورت ہے ۔کیونکہ معاشرہ کی اصلاح آج کے دورمیں سب سے اہم ترین ضرورت ہے ۔اوراس کی اصلاح میں سب سے اہم اورمرکزی کردارعورت کاہوتاہے ۔کیونکہ اگرایک عورت دین اسلام اورعصری تعلیم سے مزین ہوتووہ پورے گھرکواسلام کے سانچے میں ڈھال سکتی ہے ۔جس کی مثالیں ہمیں امہات المومنین ،صحابیات اوردیگر مسلم خواتین کی زندگی سے ملتی ہیں۔جن کی سیرت طیبہ مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔امہات المومنین حضرت سیدہ خدیجة الکبریٰ ؓ سب سے پہلے آقاپرایمان لائیں اورآپؓ کوآقاکی پہلی بیوی ہونے کی بھی سعادت حاصل ہے ۔ آپؓ قریش خاندان کی بہت باوقاراورممتازخاتون تھیں ۔آپؓ کی سیرت مبارکہ کااگرہم مطالعہ کریں توپتاچلتاہے کہ آپؓ نے ہرطریقے سے اللہ کے پیارے محبوبکاساتھ دیا۔چونکہ آپؓ کاتعلق بھی ایک مالدار گھرانے سے تھا۔آپؓ حسنِ سیرت ،اعلیٰ اخلاق،بلندکردار،عزت وعصمت کی مالک اورشرافت ومرتبہ کی وجہ سے مکة المکرمہ اوراردگردکے علاقوں میں ”طاہرہ“کے خوبصورت اورپاکیزہ لقب سے مشہورہوئیں ۔آپؓایسی تمام برائیوں سے پاک تھیں جوعرب میں پھیلی ہوئی تھیں ۔آپؓ کالقب “سیدہ نساءقریش “تھا ۔آپؓ نے آقاکی راہنمائی میں اپنی بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اس طرح فرمائی کہ آپؓ کی سب سے چھوٹی بیٹی سیدہ ،طیبہ ،طاہرہ حضرت فاطمة الزہراؓکوخاتونِ جنت ،بتول اورسیدة النساءالعالمین جیسے عظیم القاب ملے ۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشة الصدیقہ ؓ کی سیرت مبارکہ کاہم مطالعہ کریں توآپؓ کی سیرت مبارکہ سے پتاچلتاہے کہ آپؓعہدبچپن سے انتہائی ذہین اورسادگی پسندتھیں ۔آپؓ نے اپنی عمرمیں حضورکوکبھی شکایت کاموقع نہ دیااورایک وفاشعاربیوی کی حیثیت سے رہیں گھرکاساراکام خودکرتیں اگرکبھی مال کی فراوانی ہوتی بھی توراہِ خدامیں تقسیم فرمادیتیں۔آپؓ میں جذبہ سخاوت اسقدروسیع تھاکہ کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔آپؓ کاحافظہ بہت تیزتھااورآپؓ کوحصول علم کابہت شوق تھا۔ آقاسے ہرطرح کے مسائل بے جھجک معلوم کرتیں اورخواتین کی رہنمائی کرتی تھیں ۔آپؓ نے معلم کائنات سے تعلیم حاصل کی اسی وجہ سے اتنی بلند پایہ عالمہ ہوگئیں کہ آقاکے ظاہری وصال کے بعدبڑے بڑے صحابہ کرام علہیم الرضوان آپؓ سے مسائل دریافت فرماتے تھے۔ آقاپرجب وحی اترتی آپؓ اسے یادفرمالیتیں۔آپؓ بے حدزاہدہ اورعابدہ تھیں ہرسال حج اداکرتیں غزوات میں زخمیوں کی مرہم پٹی اورزخمیوں کوپانی پلانے کی ذمہ داری اٹھاکرجہادمیں حصہ لیتی تھیں۔غزوہ بدرمیں آقانے آپؓ کادوپٹہ میدان جنگ میں بطورعَلم لہرایااسی بناءپراللہ پاک نے فتح عطافرمائی جوکہ آپؓ کی عظمت کی دلیل ہے۔آپؓ نے علمی بصیرت سے اپنے گھرکودعوت دین کامرکزبنایا۔الغرض تاریخ اسلام کااگرہم جس پہلوسے بھی مطالعہ کریں توامہات المومنین ،صحابیات کے علاوہ کئی مسلم خواتین کے نام بھی ملتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرکے اپنی زندگی کواسلام کے سانچے میں ڈھال کراپناسب کچھ اسلام کے لئے قربان کردیا۔
اس پُرفتن دورمیں ہماری ماﺅں ،بہنوں،بیٹیوں نے غیرملکی میڈیاکی عریانی ،فحاشی اورگندی ثقافت کواپنالیاہے ۔ہمارے گھروں کاماحول بدل چکاہے ۔ناچ گانا،ڈائجسٹ ،ناول وغیرہ کامطالعہ کرنا،نمازاورقرآن پاک کی تلاوت سے دوررہنا،اپنے سروں پردوپٹہ نہ کرناجیسے فعل ہماراشعاربن چکے ہیں۔جوحقیقت میں عذاب الٰہی کاباعث ہیں۔آج ضرورت اس امرکی ہے کہ ہماری مائیں،بہنیں اپنے گھروں کاماحول سیرت نبوی ﷺکی روشنی میں واضح کریں جدیدعلوم کے ساتھ دینی علوم پر بھی خصوصی توجہ دیں ۔دین اسلام کے احکامات کی خودبھی پابندی کریں اوراپنی اولادوں کوبھی دین اسلامِ کی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالیں۔ مسلم معاشرہ میں اصلاح وترقی کے لئے جوکردارعورت اداکرسکتی ہے وہ کوئی اور انجام نہیں دے سکتا۔کیونکہ کسی بھی فردکے لئے معاشرے کی اکائی اس کاگھرہوتاہے ۔اگراس کوگھرمیں اسلامی ماحول مل جائے تووہ خودبھی سنورکر دوسروں کوسنوارنے کی کوشش کرتاہے۔گھرکی خاتون میں وہ صلاحیتیں اورخوبیاں شامل ہوتی ہیں جواپنے گھرکی فضاءکومثبت طریقے سے موڑسکتی ہیں۔کیونکہ جب ماں خودنمازپڑھے گی تلاوت قرآن کرے گی تووہ اپنے بچوں کوبھی نمازکی تلاوت قرآ ن کی ضرورتلقین کرے گی۔ماں خودسنت کے مطابق کھاناپینا،رہناسہنااورلباس وغیرہ پہنے گی تووہ اپنی اولادکوبھی ضرورایساکرنے کاکہے گی۔اس سے مسلم معاشرہ میں تبدیلی آئےگی۔اگرہمارے گھروں کے یہی حالات رہے اور ہم نے مغربی تہذیب کوعملی جامہ پہنائی رکھاتومسلمان دن بدن اورذلیل ورسواہوتے جائیں گے۔قرآن کریم جیسی مقدس کتاب پڑھنے کے لئے تھی ہم نے اس کوالماریوں میں رکھ دیا۔نمازاورصبرسے مددمانگنے کی بجائے دربدرچل پڑے ۔ رزق حلال کے حصول کی بجائے ہم نے حلال وحرام میں تمیزچھوڑدی۔اس سے ہم دن بدن پستی کی طرف جارہے ہیں۔
معززقارئین کرام!آج کے پُرفتن دورمیں ہمارے معاشرے میں عورتوں سے متعلق عام برائیوں کوبھی دورکرنے کی اشدضرورت ہے۔ کیونکہ جب تک یہ بیماریاں ہمارے معاشرے میں ختم نہ ہوں گی سکون کہیں بھی نظرنہیں آئے گا۔اس لئے غیبت،چغلی،لعن طعن،بے صبری،جھوٹ وغیرہ اوردنیاکی عیش وعشرت کی خاطردنیاوی آرائش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا،توہمات وغیرہ کوجڑسے اکھاڑپھینکناہوگا ۔ دین اسلام نے خواتین کوعزت ووقاردیااورجنت کوبھی ماں کے قدموں تلے رکھااس لئے ہماری مائیں ،بہنیں،بیٹیاں،امہات المومنین ،صحابیات اورخاتون جنت ؑکاکرداراپنے سامنے رکھیں ااوران کواپنا آئیڈیل بنائیں ۔دین اسلام کی تعلیمات پرخودبھی عمل پیراہوں اوردوسروں کوبھی تلقین کریں۔مسلم معاشرہ میں عورت کے پاس عزت،عفت وعصمت ،پاکدامنی اورشرم وحیاءجیسے زیورات کاہونااشد ضروری ہے ۔تاکہ معاشرہ میں مسلم اورغیرمسلم میں تمیزہوسکے۔جس طرح ازواج مطہرات ،صحابیات ودیگرمسلم خواتین نے اپناکرداراداکیااسی کردارکوسامنے رکھ کرہماری مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں اپناحقیقی فرض اداکریں۔کیونکہ جوعورت مومنہ کرداراداکرتی ہے میرے آقانے اسے خوشخبریں سنادی ہے کہ ”عورت جوپانچ وقت کی نمازپڑھے، اپنی عصمت کی حفاظت کرے،اپنے شوہرکی اطاعت کرے تووہ جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوسکتی ہے“۔
دین ِ اسلام کی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں عورت کے ساتھ ایساظلم ہورہاہے جسے دیکھ کردل خون کے آنسوروتاہے۔ سب سے پہلی وجہ تویہ ہے کہ اسلام نے عورت کوجومقام دیاہے وہ خودگنوابیٹھی ہے اورہم بھی اس کوبھول گئے ہیں۔ہم مسلمان زمانہ جاہلیت کی فرسودہ رسم کوزندہ کرکے حواکی معصوم بیٹیاں کی ساتھ اجتماعی زیادتیوں کے علاوہ عورت کو”ونی کی بھینٹ“چڑھادیتے ہیں۔یہ کتنابڑاظلم عظیم جس کی اسلام ہمیں اجازت بھی نہیں دیتا۔شیطان کی مکروفریب میں آکرعیاشیاں باپ،بیٹا،چچاوغیرہ کرتے ہیں اورا سکی سزاعورت کودی جاتی ہے۔ایسے کئی واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ظلم عظیم کاایساواقعہ کچھ دن قبل سننے اورپڑھنے کوملاکہ سترہ سالہ لڑکی نے ”ونی کی بھینٹ“چڑھنے سے انکارکردیا۔مخالفین نے ان کے گھرپردھاوابول دیا۔آخرکاروہ لڑکی اوراس کے والدین مخالفین سے تنگ آکرگھربارچھوڑکرکہیں رخصت ہوگئے۔یہ ہماری بزرگ شخصیات ہیں جن کاہم احترام کرتے ہیں پنجایت میں بیٹھ کرایسے فیصلے کرتے ہیں جومعاشرہ میں عذاب الٰہی کاباعث بنتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے زندگی کے ہرشعبے میں ہماری مکمل راہنمائی فرمائی ہے۔ شریعت نے توواضح فیصلہ کردیاہے کہ ناحق خون کے بدلے خون ہاں اگراس کے رفقاءقصاص لیں تویہ ان کی مرضی پرمنحصرہے۔اسلام نے توہمیں عورت کے حقوق اداکرنے کاحکم دیاہے نہ کہ عورت کے ساتھ ایساظلم کرنے کاحکم دیاہے۔اگرہماری حالت یہی رہی توقرآن مجیدفرقان حمیدکے اوراق گواہ ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جواپنی حالت خودنہ بدل ڈالے۔
خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہوجس کوخیال آپ اپنی حالت بدلنے کا
وطن عزیزپاکستان کے قوانین بھی ایسے ظالمانہ فعل کے لئے متحرک نہیں ۔اورمتحرک ہوںکیسے جب تک اس ملک میں نظام مصطفیلاگونہیں ہوتاہماری حالت یہی رہے گی۔اس لئے ہرشخص کوملک میں نظام مصطفیلاگوکرنے کے لئے اپناکرداراداکرناضروری ہے۔سربراہان مملکت دیگرایسے ظالمانہ فعل کوجڑسے اکھاڑپھینکنے کے لئے قانون کوحرکت میں لائیں۔”ونی کی بھینٹ چڑھنا،شراب ،جوا،زنا،اورپھانسی کی سزاکوبرقراررکھ کرمسلم معاشرہ میں ایسی برائیوں اورخرافات کاقلع قمع کریں۔ملک پاکستان میں روزبروزبڑھتے ہوئے ہزاروں ایسے ہونیوالے واقعات پرمسلم حکمران دل کی آنکھیں کھولیں۔ہم بھی اپنے آپ کوسنواریں کیونکہ آج مغرب میں اسلام بڑی تیزی سے پھیل رہاہے اوراسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خائف ہوکرمغرب اسلام اورعالم اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پراترآیاہے موجودہ صدی عالمگیرغلبہ اسلام کی ہے اسلام دنیامیں غالب ہونے کے لئے آیاہے جوغالب ہوکررہے گا۔ان شاءاللہ
جنگی جنون کا شکار بھارت ہرسال اپنے دفاعی بجٹ میں بے پناہ اضافہ کررہا ہے جو پوری دنیا کے امن کےلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ بھارت نے گزشتہ دنوں اسرائیل کیساتھ ایک جنگی معاہدہ کیا ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل سے جدید ترین طیارہ شکن میزائل خریدنے کے ایک معاہدے کی منظوری دی جس کی مالیت 2 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے۔اس معاہدے کے تحت بھارت کو اسرائیل میں تیار کردہ ”بارک 8“ طیارہ شکن میزائل نظام فروخت کئے جائیں گے جن کی فراہمی 2023 ءتک مکمل کرلی جائے گی جبکہ یہ بھارتی برّی فوج کے سپرد کیے جائیں گے۔ یہ طیارہ شکن میزائلوں کا اب تک بھارت اور اسرائیل کے مابین سب سے بڑا معاہدہ بھی ہے۔ بھارت جنگی جنون میں اس قدر پاگل ہوچکا ہے کہ اُس نے چند ماہ میں 200 ارب ڈالرز کے ہنگامی دفاعی معاہدے کرلیے۔ جن ممالک سے خریداری کی جارہی ہے ان میں اسرائیل اور روس سرفہرست ہیں جبکہ اس حوالے سے دیگر مغربی ممالک کے ساتھ معاہدوں کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔ان معاہدوں کا مقصد یہ بات یقینی بنانا ہے کہ بھارت کی مسلح افواج 10 روز تک مسلسل’ ’شدید لڑائی“ کے قابل ہوسکیں اورانھیں اسلحہ و گولہ بارود اور دیگر جنگی آلات کے ختم ہوجانے کا خدشہ نہ ہو۔ ایک طرف بھارتی سرکار جنگی جنون میں مبتلا ہوکر ایسے بڑے معاہدے کررہی ہے تو دوسری طرف بھارتی افواج اپنی حکومت اور اعلیٰ حکام کے ناروا رویے کے باعث بددلی کا شکار ہوتی جارہی ہےں۔ مشکل حالات اور کم سہولیات میں ڈیوٹی بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست کررہی ہے اور وہ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔جس وقت میں یہ سطور رقم کررہا تھا اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں تعینات پرمود کمار نامی بھارتی فوجی نے خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا ۔
برہان وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فوجی آزادی کے متوالوں کی وجہ سے مزید خوف کا شکار ہیں۔دہلی سرکار کے جنگی جنون اور پاکستان دشمنی پر سیاست چمکانے میں قربانی کا بکرا صرف بھارتی فوجی بنتے ہیںجنہیں ناکافی تربیت اور کم ساز و سامان کے ساتھ بارڈر اور مختلف آپریشنز کےلئے بھیج دیا جاتا ہے جہاں انہیں منہ کی کھانا پڑتی ہے۔ اکثر اوقات دہلی سرکار خود ”ڈرامے“ کرکے اپنی ہی فوج پر حملے کرواتی ہے ،خود اپنے فوجی مار کر الزام پاکستان پر دھر دیتی ہے۔یہ ”طریقہ واردات“ بھی بھارتی فوجیوں کو بزدل بنا رہا ہے۔کم سہولتوں اور ناقص اسلحہ و ناکافی ساز و سامان کے باعث بھارتی فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔خالی پیٹ جب وہ محاذوں پر ڈیوٹی سے اکتا جاتے ہیں تو چھٹی کی درخواست کرتے ہیں لیکن چھٹی نہیں ملتی۔یہ وجہ بھارتی فوجیوں کو مزید چڑچڑا بنارہی ہے۔12 جنوری 2017 ءکو مشرقی بہار میں ایک سینئر اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اپنے چار سینئر افسران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ چاروں افسران اس واقعے میں جانبر نہ ہوسکے ۔یہ تمام سکیورٹی اہلکار سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس سے تعلق رکھتے تھے۔اس بھارتی فورس کا کام اٹیمی تنصیبات اور ائیر پورٹ کی سکیورٹی ہے۔اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی اٹیمی تنصیبات کی سکیورٹی کیسے ہاتھوں میں ہے۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ فروری 2014 ءمیں بھی ایک بھارتی فوجی نے سری نگر میں قائم ملٹری کیمپ میں اپنے 5 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر خود کشی کر لی تھی۔وجہ یہی تھی کہ سینئر نے چھٹی دینے سے انکار کیا۔فوجی لمبی ڈیوٹی، کم خوارک، سخت سردی اورنا مناسب رہائش کی وجہ سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا اور جب اس نے دیکھا کہ چھٹی نہیں مل رہی تو اس نے موت کو گلے لگالیا لیکن اس سے پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو بدلے کی آگ کی نذر کر دیا۔
لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے دوران بھی بھارت کا بھاری جانی نقصان ہوالیکن عیار و مکار دہلی سرکار اپنے فوجیوں کی لاشیں چھپا لیتی ہے اور ان کے لواحقین کو مجبور کرتی ہے کہ” چپ چاپ ان کا انتم سنسکار کردو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو“یہ رویہ بھی بھارتی فوجیوں میں بددلی پھیلا رہا ہے کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے لئے جان دینے والوں کو رات کی تاریکی میں آگ دی جاتی ہے اور ان کے گھر والے مہینوں مرنے والوں کی پینشن کے لئے دھکے کھاتے ہیں تو بھارتی فوجیوں کی لڑنے کی ہمت مزید شکستہ ہو جاتی ہے۔2 نومبر 2016ءکو سابق بھارتی فوجی رام کشن گریوال نے پینشن کے معاملات حل نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی۔
مقبوضہ کشمیر میں2014ءسے 2017ءتک 130 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جن میں سے18 اوڑی حملے میں مارے گئے تھے۔بھارت کے اپنے ہمسایوں پر حملے اور ریاستوں پر قابض رہنے کے لئے جنونیت نے اس کے اپنے فوجیوں کی کمر توڑ دی ہے۔جنگ میں مرنے والوں سے زیادہ تعداد خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہے۔2009 ءسے 2017تک 800بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد پاگل پن کا شکار ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے والے تقریبا ً375 کے قریب بھارتی فوجی پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں اوران کا علاج نفسیاتی طبی مراکز میں جاری ہے۔بھارتی فوج اور سرکار کی رہی سہی عزت کا جنازہ اس ویڈیو نے نکال دیاجس میں ایک بھارتی فوجی جوان تیج بہادر نے عام سپاہیوں کو ملنے والی سہولیات کا پول کھول دیا۔کہیں شنوائی نہیں ہوئی تو سپاہی نے ویڈیو فیس بک پر ڈال دی اور ویڈیو وائرل ہوگئی۔ویڈیو میں سپاہی جلی ہوئی روٹیاں اور پانی والی دال دکھا رہا ہے۔اس ویڈیو میں تیج نے کہا میں بی ایس ایف کی 29 بٹالین کا جوان ہوں یاد رہے یہ وہ بٹالین ہے جوکہ جموں و کشمیر میں فرائض انجام دیتی ہے۔وہ کہتا ہے ہم برف، ٹھنڈ، طوفان میں روز گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔اس نے اپنے سینئرز کے بارے میں کہا کہ وہ چیزیں بیچ دیتے ہیں اسی وجہ سے اشیاءان تک نہیں پہنچتیں۔اس نے سوال کیا ایسی خوارک کھا کر کیا دس گیارہ گھنٹے ڈیوٹی کی جاسکتی ہے؟تیج نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا شاید اس ویڈیو کے بنانے کے بعد وہ غائب کردیا جائے کیونکہ اعلیٰ افسران کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ باقی تین ویڈیوز میں اس نے پانی میں بنی دال ، جلی ہوئی روٹیاں دکھائیں۔ دہلی سرکار کی یہ ویڈیو دیکھ کر نیندیں اڑ گئیں۔کہاں 200ارب ڈالرز کا بجٹ اور کہاں بھوک سے بلبلاتے فوجی۔بی ایس ایف حکام یہ ویڈیو دیکھ کرسیخ پا ہوگئے اورالٹااس جوان کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔اس کے کیرئیر پر سوال اٹھا دیئے کہ اسکا کردار شروع سے ٹھیک نہیں، وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اسے شراب کی بھی لت ہے‘ اس کی بہت عرصہ کونسلنگ بھی کی گئی ہے۔تیج نے میڈیا پر آکر کہا اگر بھارتی فوجی جوانوں کا خیال رکھا جاتا تو وہ ایسی ویڈیو کیوں پوسٹ کرتا۔اس نے کہا یہ مجھ پر الزام ہے کہ میرا کردار ٹھیک نہیں۔ میرے خلاف یہ الزام تراشی سچ کو سامنے لانے پر کی جارہی ہے۔تیج بہادر یادیو کی بیوی شرمیلا یادیو نے بھی کہا روٹی مانگنا کوئی جرم تو نہیں۔جو سچائی ہے وہی ان کے شوہر سامنے لائے۔شرمیلا نے مزید بتایا تیج کو سچ بولنے کی سزا ملی ہے۔ اس کو پلمبر بنا کر دوسری یونٹ میں بھیج دیا گیا اور اس کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔
اس سے قبل جنوری میں بھارتی فوجی افسروں کا ماتحت سپاہیوں سے گھریلو کام لینے کا انکشاف ہوا ۔ بھارتی سپاہی کپڑے دھوتے ہیں، کتے نہلاتے ہیں۔ بھارتی سپاہیوں کی دکھ بھری داستان بھارتی میڈیا پر آ ئی۔ 13جنوری 2017ءکو بھارتی فوجی لانس نائیک یاگیا پرتاب سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس نے انکشاف کیا کہ بھارتی فوج کے سپاہیوں کو افسران کی ذاتی ڈیوٹی کرنے اور ملازم بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اب بھارتی میڈیا نے دیولالی کیمپ میں رہنے والے ان فوجی افسران کا پول کھولا ہے جنہوں نے سپاہیوں کو گھریلو کام پر لگا رکھا ہے۔ ان میں سے بعض اہلکار گزشتہ پانچ برس سے فوجی افسروں کے گھر ذاتی ملازم بن کر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور صاحب کے بجائے ان کی میم صاحب کے احکامات مان رہے ہیں۔ ایک سپاہی کا کہنا تھا صاحب میرے ساتھ تقریباً ٹھیک رہتے ہیں، میڈم کبھی کبھی بگڑ جاتی ہیں۔ دوسرے افسروں کی بیویوں سے اکثر باتیں کرتی ہیں۔ ایک اور بھارتی سپاہی نے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے کہا اب تو واشنگ مشین آ گئی ہے ورنہ پہلے توہاتھ سے کپڑے دھونے پڑتے تھے۔ بعض اہلکار افسروں کے بچوں کو سکول لانے لے جانے، بیویوں کو بیوٹی پارلر یا بازار لے جانے کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔
ایک طرف بھارتی فوج دنیا کے سامنے اپنا مذاق بنارہی ہے تو دوسری طرف”اڑی حملے“کا قصور وارپاکستان کو ٹھہرانے والے بھارت کو اُس وقت منہ کی کھانا پڑی جب بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے بھی 2 پاکستانی نوجوانوں کی بے گناہی کا اعتراف کرلیا۔ اڑی میں فوجی اڈے پر حملے میں فیصل حسن اور احسن خورشید کو کلین چٹ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی۔ گزشتہ سال18 ستمبر کو ضلع اڑی میں بھارت کے فوجی اڈے پر حملے کے الزام میں گرفتار2پاکستانی نوجوانوں سے متعلق شواہد نہیں ملے،انڈین نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے رپورٹ بند کرکے خصوصی عدالت میں جمع کرائی۔بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستانی نوجوانوں پر اڑی واقعے کے دہشت گردوں کی رہنمائی کرنے کا الزام تھا۔ فیصل حسن اوراحسن خورشید کو جذبہ خیر سگالی کے تحت جلد پاکستان واپس بھیجاجائےگا۔ ”بوکھلائے“ہوئے بھارت کو اپنی ”جنونی پالیسیوں“پر نظر ثانی کرنا چاہئے ورنہ مودی ”چائے والا“ ہی رہ جائے گا۔