نئی دہلی: (نمائندہ خصوصی) پاناما کیس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کی بازگشت اب بھارتی ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران ایک اہم بیان دیتے ہوئے انڈین وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ حکومت پاناما پیپرز میں موجود ہر نام اور اکاؤنٹ کے بارے میں تحقیقات کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ ضرور ہونگی لیکن مکمل چھان بین سے قبل کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔انڈین میڈیا کے مطابق ارون جیٹلی کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ پاناما پیپرز میں شامل بھارتیوں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کب کیا جائے گا؟ اس موقع پر ارون جیٹلی نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کا اپنا قانون ہے، ہمارا نظام پڑوسی ملک جیسا نہیں جہاں پہلے نااہل قرار دے کر ٹرائل شروع کیا جاتا ہے۔
لاہور (نمائندہ خصوصی) انسان ایک دوسرے کو اس وقت سے نقصا ن پہنچاتے آ رہے ہیں جب سے انہیں اس بات کا علم ہوا ہے کہ اس دنیا میں طاقت حاصل کرنا کتنا ضروری ہے ۔طاقت کے حصول کے لئے دنیا میں کئی لڑا ئیاں ہوئیںجن میں سے ایک پہلی عالمی جنگ ہے جب دنیا کے کئی ممالک اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے لڑ رہے تھے۔ یہ جنگ 28 جولائی 1914ء کو شروع ہوئی اور 11 نومبر 1918ء کو 9 ملین فوجی اور 7 ملین عام شہریوں کو لقمہ اجل بنانے کے بعد اختتام کو پہنچی ۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کے علاوہ سپینش فلو نامی بیماری نے بھی لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ یہ جنگ دنیا میں انسانوں کے درمیان ہونے والی چھٹی بدترین لڑائی تھی ۔ پہلی عالمی جنگ سے متعلق کچھ ایسے حقائق ہیں جن سے عام آدمی آج تک انجان ہے ۔اس جنگ نے امریکہ کو عسکری لحاظ سے دنیا کا سب سے طاقتور ملک بنا دیا ۔ ایک فرانسیسی سپاہی کا کمرہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جیسا 1918ء میں تھا ۔ عالمی جنگ کے دورا ن ایک کبوتر نے پیغام رسانی کے ذریعے 194 افراد کی جان بچائی جس میں اس کی ایک ٹانگ اور آنکھ بھی ضائع ہوئی ۔ موجودہ کیمو تھراپی عالمی جنگ میں استعمال ہونے والی مسٹرڈ گیس کی ضمنی پیداوار ہے ۔ امریکی شہریت نہ ہونے کے باوجود 13 ہزار مقامی امریکیوں نے پہلی عالمی جنگ میں حصہ لیا ۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک برطانوی فوجی نے جس زخمی جرمن کی جان بخشی اس کا نام ایڈولف ہٹلر تھا ۔ جنگ میں حصہ لینے والے سپاہیوں میں سب سے کم عمر سپاہی 8 سال کا ایک چھوٹا بچہ تھا۔عالمی جنگ کے دوران کتوں کو بھی پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا گیا۔ لوگوں میں محب وطنی کا جذبہ اجاگر کرنے کے لئے جنگ کے دوران امریکی حکومت نے ہیم برگر کا نام تبدیل کر کے لبرٹی برگر رکھنے کی بھی کوشش کی ۔ پہلی عالمی جنگ کے متعلق ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس جنگ کے دوران جرمنی ، برطانیہ اور روس کے حکمران ایک دوسرے کے ’’فرسٹ کزنز‘‘تھے۔عالمی جنگ کے بعد جرمن فوج کے جس سپاہی نے ایڈولف ہٹلر کو ’’ آئرن کراس‘‘ دینے کی سفارش کی وہ ایک یہودی تھا۔الائیڈ افواج جنگ کے دوران جرمن افواج پر بے دریغ فائرنگ کرتی تھیں تاکہ فائرنگ کے نتیجے میں گرم ہونے والی مشین گن پر چائے بنا نے کے لئے پانی ابالاجاسکے۔پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی کا قرضہ 96ہزار ٹن سونے کے برابر تھا۔اس جنگ میں استعمال کی جانے والی زہریلی گیس نے تقریباً1.3ملین لوگوں کو موت کی نیند سلادیا۔پہلی عالمی جنگ میں 8ملین گھوڑے ہلاک کئے گئے اور جو بچ گئے ان کو کسی بھی اور کام کے لئے’’ ان فٹ ‘‘قرار دے دیا گیا۔ جرمن حکومت پہلی عالمی جنگ کی ذمہ دار تھی۔ جرمنی نے بلقان کی جنگ کو ممکن بنایا۔ انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ سربیا پر آسٹریا اور ہنگری کے حملے سے یہ بڑی جنگ بن سکتی ہے، اس کی حوصلہ افزائی کی۔جرمنی نے نہ صرف آسٹریا کی غیر مشرو ط حمایت کا اعلان کیا بلکہ اس نے روس اور فرانس کو بھی الٹی میٹم دینے شروع کر دیئے تھے۔جرمنی نے عالمی معاہدوں کی دھجیاں بکھیر دیں، اور یہ جانتے ہوئے کہ اگر بیلجیئم پر حملہ ہوا تو برطانیہ بھی اس جنگ میں شریک ہو جائیگا، اس نے لگسمبرگ اور بیلجیئم پر یلغار کر دی۔ڈاکٹر ہیتھر جونز کے مطابق آسٹریا، ہنگری ، جرمنی اور روس کے چند سخت گیر سیاست دان اور فوج کے پالیسی ساز پہلی جنگ عظیم کے ذمہ دار تھے۔1914 ء سے پہلے شاذ و نادر ہی کوئی شاہی قتل کسی جنگ کا سبب بنا تھا۔ آسٹریا اور ہنگری کے سخت گیر فوجیوں نے سرائیوو میں ہنگری کے شاہی خاندان کے افراد کے بوسنیائی سربوں کے ہاتھوں قتل کو سربیا پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہا۔سربیا اس وقت انتہائی عدم استحکام کا شکار تھا، لیکن وہ اس کے باوجود اپنی سرحدوں کو وسیع کرنے کی بھی کوشش کر رہا تھا۔ وہ 1912ء کی جنگ میں تھک چکا تھا اور 1914ء میں مزید جنگ نہیں چاہتا تھا۔یہ جنگ پورے یورپ میں اس وقت پھیلنے لگی جب جرمنی نے آسٹریا اور ہنگری کی سربیا پر حملہ آور ہونے کی حوصلہ افزائی کی لیکن جب روس سربیا کی مدد کرنے لگا تو جرمنی نے بلغاریہ کے راستے روس اور اس کے اتحادی فرانس پر یلغار کر دی۔ اس صورتِ حال نے برطانیہ کو بھی اس جنگ میں گھسیٹ لیا۔کسی سرکاری ایجنسیوں کے پاس جنگ کے سالوں کے دوران شہریوں میں نقصانات کا ریکارڈ نہیں ہے، مگر محققین کے اندازے کے مطابق اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پرہلاک ہونے والے غیر فوجی افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔اتنی بڑی ہلاکتوں کی وجہ سے “اسپینش فلو” پھیل گیا جو تاریخ کی سب سے موذی انفلوئنزا کی وباء ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے یا اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ جائیداد اور صنعتوں کا نقصان بہت خطیر تھا، خاص طور پر فرانس اور بیلجیم میں، جہاں لڑائی بہت شدید تھی ۔ 9 نومبر 1918ء کو بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے تناؤ اور جرمن فوج کے سربراہوں کی دستبرداری کے بیچ شہنشاہ (قیصر) ولیم 2 نے جرمنی کا تخت چھوڑ دیا۔ اسی دن ایس پی ڈی نے فیلیپ شائیڈی مان کو نائب بنا کر بھیجا اور جرمنی میں فرائیڈرش ایلبرٹ کو عبوری حکومت کا سربراہ بنا کر نئی جمہوریہ کا اعلان کر دیا ۔ دو دن بعد کیتھولک سینٹر پارٹی زینٹرم کی قیادت میں جرمنی کے نمائدے متھئیس ارزبرگر نے اتحادی قوتوں کے کمانڈنگ جنرل فرانسیسی فیلڈ مارشل فرڈینینڈ فوچ کی قیادت کے تحت فاتح اتحادی قوتیوں کے وفد کے ساتھ مپیگ نے جنگل میں ایک ریل کے ڈبے میں ملاقات کی اورصلح کی شرائط قبول کرلیں۔ 11 نومبر 1918ء کی صبح 11 بجے مغربی محاذ پر جنگ بند ہو گئی۔ اس زمانے کے لوگ اس جنگ کو “جنگ عظیم” کے نام سے منصوب کرتے تھے، یہ بند ہو گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے ۔
لاہور (نمائندہ خصوصی) اس وقت قاہرہ میں 900 سے زیادہ مساجد ہیں جنہیں دیکھنے کیلئے کئی ماہ درکار ہوتے ہیں۔جب قاہرہ دارالخلافہ بنا تو 351ھ میں جامع ازہر کی تعمیر شروع ہوئی ۔ سب سے بڑی بات یہاں چاروں اماموں کے مصلے موجود ہیں ۔ جامع سلطان حسن قاہرہ کی سب سے خوبصورت مسجد ہے ۔یہ سلطان حسن کے حکم سے 757ھ میں تعمیر ہوئی۔وسعت محراب کے حوالے سے دنیا کی تمام مساجد سے منفرد ہے ۔اسی مسجد کے ایک طرف شاہ فواد اول کا مزار بھی ہے ۔
جامع رفاعی سڑک کے دوسری طرف جامع سلطان حسن کے مقابل ہے ۔ نہایت عظیم الشان اور بلند مسجد ہے جسے بیگم ابراہیم پاشا والدہ اسماعیل پاشا خدیو مصر نے تعمیر کروا کر اپنے بزرگ امام رفاعی کے نام کردیا ۔ جامع احمد بن طولون عہد بنو عباس کی یادگار ہے ۔ یہ جامع اسی نام کے ایک مصری فرمانروا کی تعمیر شدہ ہے ۔ 243 ھ میں اس کی تعمیر پر اس وقت 15 لاکھ روپے صرف ہوئے تھے۔ یہ مسجد جامع عمرو بن العاص سے زیادہ شاندار ہے ۔ یہاں شاہ فاروق بھی کبھی کبھی نماز پڑھنے آتے تھے ۔
جامع محمد علی ترکوں کے اقتدار کے زمانہ کی بہترین یادگار ہے ۔ اس مسجد کے دو مینار بہت بلند ہیں اور بیچ میں ایک گنبد ہے اور اس میں قبہ دار چار محرابیں ہیں ۔ تمام مسجد سنگ مرمر کی بنی ہوئی ہے ۔ گنبد میں سونے کے پانی کی آیات قرآنی لکھی ہوئی ہیں اور خلفائے راشدین کے اسمائے مبارک بھی لکھے گئے ہیں ۔ اس مسجد کے قریب ہی قلعہ محمد علی کی عمارت ہے جو اب شکستہ ہے ۔ سنا ہے کہ انگریزی استعمار کے زمانہ میں انگریزی فوجیں اس قلعہ میں رہتی تھیں ۔
جامع سیدنا حسین ؓ جامع ازھرسے بالکل متصل ہے ۔ شاہ فواد اول نے اس کی تعمیر و آرائش کرائی تھی ۔ روایت ہے کہ مسجد کے عقبی حصہ میں حضرت امام حسین ؓکا سرمبارک دفن ہے اور دیگر تواریخ میں ہے کہ آپ کا سر مبارک دمشق کی جامع اموی میں دفن ہوا تھا مگر جب المعزالدین جب والی مصر و شام ہوا تو اس نے سرمبارک کو شام سے لاکر یہاں مصر میں دفن کروادیا تھا۔ واللہ اعلم باثواب۔ محکمہ اوقاف کی طرف سے حفاظ متعین ہیں جو ہر وقت قرآن کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں ۔ مزار پر بہت رونق رہتی ہے ۔
نئی دہلی (نمائندہ خصوصی) سابق وفاقی وزیر وینکیا نائڈو بھارت کے تیرہویں نائب صدر بن گئے ۔ نئی دلی میں ہوئی تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔ صدر رام ناتھ کووند نے صدارتی محل میں ہوئی تقریب میں نائب صدر نائڈو سے حلف لیا جس میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت حکمران جماعت بی جے پی کے اہم رہنما اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی ۔ ریاست آندھرا پردیش میں بی جے پی کے سابق صدر اڑسٹھ سالہ نائڈو نے پانچ اگست کو ہوئے انتخاب میں تحریک آزدی کے رہنما مہاتما گاندھی کے پوتے گوپال کرشن کو شکست دی تھی ۔ وہ ایوان بالا جسے راجیہ سبھا کہتے ہیں،کے سپیکر کا عہدہ بھی سنبھالیں گے ۔
لاہور: (نمائندہ خصوصی) امریکہ نے شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاریاں مکمل کر لی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج تیار کھڑی ہے، امید ہے کم جونگ ان کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔ گزشتہ روز شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے چند روز میں امریکی جزیرے گوام پر4 راکٹ داغے گا اور یہ راکٹ جاپان کے اوپر سے ہو کر گزریں گے۔جرمن چانسلر انگیلا مارکل نے فریقین کو جنگ سے گریز کرنے اور مسئلے کے حل کیلئے اقوام کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واشنگٹن: (نمائندہ خصوصی) امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیلی ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے اسے اہم قدم قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ سابق فوجیوں کی ذہنی صحت ایک بڑ امسئلہ تھا، نئے پروگرام سے ان کی ذہنی صحت کا بہتر خیال رکھا جا سکے گا جبکہ خودکشی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ ٹیلی ہیلتھ پروگرام کےتحت سابق فوجی اپنے موبائل فون سے جب چاہیں ڈاکٹر سے وقت لے سکتے ہیں۔
لاہور: (نمائندہ خصوصی) امریکہ میں افغانستان کو کرائے کے قاتلوں کے حوالے کرنے پر غور ہونے لگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں افغان جنگ کی ذمہ داری پرائیوٹ کنٹریکٹرز کے حوالے کرنے پر غور و خوض جاری ہے۔ پلان کے مطابق 5500 سابق فوجیوں پر مشتمل ایک فورس تشکیل دی جائے گی جس کو 90 جنگی طیاروں پر مشتمل ایک پرائیوٹ ایئر فورس کی مدد بھی حاصل ہو گی۔ اس مقصد کے لیے بلیک واٹر اور اس جیسی دیگر کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا جائے گا۔ عراق جنگ کے دوران بلیک واٹر کے اہلکار شدید جنگی جرائم کا مرتکب ہوئے تھے۔
بیجنگ: (نمائندہ خصوصی) چین کے سرکاری اخبار کے مطابق ڈوکلام کے تنازعے پر چین دو ہفتوں کے اندر فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ اخبار نے دفاعی امور کے ماہر ہوزی یونگ کا انٹرویو شائع کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ چین موجودہ فوجی تعطل کو زیادہ دیر جاری نہیں رہنے دے گا، انڈین فوجیوں کو ڈوکلام سے باہر نکالنے کے لیے دو ہفتوں کے اندر محدود نوعیت کی فوجی کاروائی شروع ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین فوجی کارروائی سے پہلے ایک بار پھر بھارت کو مطلع کرے گا، دو ماہ پہلے بھارتی فوج نے چینی حدود میں گھس کر سڑک کی تعمیر روک دی تھی۔
بیت المقدس: (نمائندہ خصوصی) اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ مزید سخت کرنے پر تل گیا، صیہونی فوج نے حماس پر سرنگوں کے ذریعے اسرائیل میں دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے۔ جس کے بعد الزام کو بنیاد بنا کراسرائیل نے غزہ کے ساتھ بارڈر پر دیوار کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے۔ 60 کلو میٹر طویل دیوار کی اونچائی چھ میٹر ہے۔ دیوار میں سرنگوں کی پہچان کیلئے سینسر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ادھرمغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے دو فلسطینی گھروں کو منہدم کر دیا، رام اللہ شہر میں بھی ایک گھر کو دھماکے سے اڑانے کے لیے مکینوں سے خالی کرا لیا گیا۔
بغداد: (نمائندہ خصوصی) غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث عراقی عوام بے حال ہیں تو وہیں بجلی میں کمی کے باعث ان کی پریشانی میں شدید اضافہ ہو رہا ہے۔صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم حیدر العبادی نے تمام سرکاری ملازمین کو آج چھٹی دینے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بھی شدید گرمی میں اضافے کا امکان ہے۔