گجرات:ٹریفک پلان بسلسلہ کبڈی عالمی مقابلہ 2020.
گجرات انتظامیہ نے 14.02.2020 کو ظہور الہی سٹیڈیم میں منعقد ہونے والے کبڈی کے مقابلوں کے دوران گجرات میں ٹریفک کو بحال رکھنے کے لیے ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے.
News from The Pk Media
گجرات انتظامیہ نے 14.02.2020 کو ظہور الہی سٹیڈیم میں منعقد ہونے والے کبڈی کے مقابلوں کے دوران گجرات میں ٹریفک کو بحال رکھنے کے لیے ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے.
لالہ موسی (خالد ڈار) میں سیف سٹی پراجیکٹ لانچ کر دیا گیا ھے اور لالہ موسی شہر میں 100 کے قریب cctvکیمرے کاروباری مراکز بینکوں سمیت بازاروں اور جی ٹی روڈ پر نصب کر دئے گئےھیں گجرات کے بعد لالہ موسی میں بھی تاجروں نے پولیس کے ساتھ ملکر شہر لالہ موسی کو محفوظ شہروں کی فہرست میں شامل کر لیا ھے لالہ موسی میں لگائے گئے تمام کیمروں کا کنٹرول روم لالہ موسی تھانہ سٹی میں قائم کیا گیا ھے آر پی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی اور ڈی پی او گجرات سید توصیف نے لالہ موسی کے سیف سٹی پراجیکٹ کا فیتہ کاٹ کر افتتاح کیا۔اس موقع پر آر پی او گوجرنوالہ جناب طارق عباس قریشی اور ڈی پی او گجرات جناب توصیف حیدر کی طرف سے کھلی کچہری کا بھی انقعاد کیا گیا۔جس میں انہوں نے عوام والناس کے مسائل بھی سنیں بعد ازاں ضلع گجرات کے محتلف تھانوں سے 72 لاکھ روپے کی ریکوری مدعی مقدمہ مالکان کے حوالے کیپورے ضلع سے ایس ایچ او صاحبان اور ملازمین کے علاوہ معززین علاقہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔آخر میں آر پی او گوجرنوالہ طارق عباس قریشی اور ڈی پی او گجرات نے ضلع بھر میں اچھی کارکردگی کرنے والے افسران میں اسناد اور چیک بھی تقسیم کیے
پریس کلب رجسٹرڈ شرقپور شریف کے چیئرمین حاجی خلیل احمد کے بڑے بھائی صحافی ڈاکٹر شکیل احمد مرحوم کی یاد میں لاویہ دا ٹھٹہ میں پہلا شکیل میموریل کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی چئیر مین پریس کلب شرقپور شریف حاجی خلیل احمد اور صدر پریس کلب شیخ عدیل اشرف یعقومیہ تھے جبکہ اس موقع پر سابقہ صدر راؤ مزمل۔ سینئر وائس چیئرمین حاجی طارق اقبال۔ چوہدری فاروق احمد تارڑ۔ سیکٹری فنانس ملک ندیم خالد۔ جنرل سیکرٹری طہماسپ علی نقوی۔ سینئیر نائب صدر ملک اقبال شاکر۔ نائب صدر صادق عطاری۔ محمد علی اشرف یعقومیہ۔ مرزا جنید بیگ۔ گوھر حبیب۔ کے علاوہ تحریک انصاف تحصیل شرقپور شریف کے رہنما ملک خادم اختر۔ اور سابقہ کونسلر حاجی صداقت علی رحمانی۔ کے علاوہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی اس ٹورنامنٹ کا فائنل شہزاد منیر الیون نے جیتا جیتنے والی ٹیم کو مہمان خصوصی چیئرمین پریس کلب حاجی خلیل صدر پریس کلب شیخ عدیل اشرف یعقومیہ۔اوردیگر پریس کلب عہدے داران و ممبران نے 20 ہزار روپیے نقد اور ٹرافی دی اور رنر اپ ٹیم کو 10 ہزار روپیے نقد اور ٹرافی دیگئی
وزیراعظم عمران خان نے آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافے کا نوٹس لے لیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے پارٹی رہنما جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کو ٹاسک دے دیا۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے آٹے کی قیمتوں سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ کے پی سے بھی مشاورت کی ہدایت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق نے پاسکو کے کوٹے سے خیبر پختونخوا کو ایک لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت رواں سال 3 لاکھ ٹن گندم درآمد بھی کرے گی، جس کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی سے منظور کروائی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز 21 جنوری سے ہو گا۔صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالی، جبکہ صدر ٹرمپ اس الزام سے تردید کرتے ہیں۔امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ سینیٹ میں چلانے کی قرارداد کی منظوری دے دی ہے، مواخذہ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔مواخذے کی کارروائی میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔امریکی آئین کے مطابق ‘صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے اس صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے جب انہیں بغاوت، رشوت ستانی، کسی بڑے جرم یا بد عملی کی وجہ سے سزا دینا درکار ہو۔تاریخ میں صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن مگر دونوں کو سینیٹ سے بری کر دیا گیا تھا۔
.اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آئی جی سندھ کی تبدیلی سے متعلق سندھ حکومت کے خط کا جواب دے دیا ہے جس میں کہا گیاہے کہ درخواست پرغور کررہے ہیں جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے ۔ذرائع کےمطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہےکہ جب تک فیصلہ نہیں ہوجاتا کلیم امام ہی آئی جی سندھ رہیں گے ، سندھ حکومت کلیم امام کے ڈی نوٹیفائی ہونے تک قائم مقام آئی جی نہیں لگا سکتی ۔
یوں تو خطروں سے کھیلنا اور کچھ منفرد کر دکھانا ایڈونچر کے شوقین منچلوں کا پسندیدہ کھیل ہے، تاہم ان میں سے کچھ لوگ ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دیتے ہیں کہ دیکھنے والے حیران رہ جائیں۔ویڈیو میں نظر آنے والے اس فرانسیسی شہری کا شمار بھی ایسے ہی کھلاڑیوں میں کیا جا سکتا ہے، جس نے فلمی ہیرو اسپائڈر مین کا انداز اپنایا اور مظاہرین کی حمایت میں پیرس کی48 منزلہ بلند و بالا عمارت پر چڑھ گیا۔فرانس سے تعلق رکھنے والے57 سالہ Alain Robert نامی شخص بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے پیرس میں قائم Total Towe کی 187میٹر بلند عمارت پر یوں تیزی سے چڑھا کہ جیسے حقیقتاََ اسپائیڈر مین ہو۔فرانسیسی اسپائیڈر مین کے اس کارنامے کا مقصد فرانس میں جاری پینشن اصلاحات کیخلاف مظاہرین کی حمایت کرنا ہے۔
نیپرا نے سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے باعث 1300سے زائد مہلک حادثات پیش آئے۔نیپرا رپورٹ کی مطابق مالی سال 19-2018 کے دوران کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں 152 جان لیوا حادثات پیش آئے۔اس سے قبل یکم جولائی 2011 سے 30 جون 2018 تک سات سالوں میں کے الیکٹرک سمیت بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں 1169 مہلک حادثات ہوئے۔ حادثات سیفٹی معیارات پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث پیش آئے۔کے الیکٹرک اور دیگربجلی تقسیم کار کمپنیوں کو گزشتہ مالی سال کے دوران ٹرانسمیشن وڈسٹری بیوشن لاسز اور کم وصولیوں سے مجموعی طور پر 123 ارب روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ کے مطابق نیپرا کو مالی سال 19-2018 کے دوران 5 ہزار 854 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 5 ہزار 440 نمٹا دی گئیں جبکہکے الیکٹرک کے صارفین کی دو ہزار 344 شکایات میں سے دو ہزار 307 کونمٹا دیاگیا۔مالی سال 19-2018 کے دوران ملک میں نیٹ میٹرنگ کے 1143 لائسنس جاری کیے، نیٹ میٹرنگ کے یہ لائسنس مجموعی طور پر 19.55 میگاواٹ صلاحیت کے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین چھوٹے پیمانے پر اضافی بجلی متعلقہ کمپنی کو فروخت کر سکتے ہیں۔گزشتہ مالی سال کے دوران کوئلے، بگاس، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی بنانے کیلئے 625 میگاواٹ کے بارہ لائسنس جاری کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 16ہزار 776میگاواٹ، سندھ میں 7 ہزار 530، خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 854، بلوچستان میں 3 ہزار 766 اور آزاد کشمیر میں 1999 میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے پلانٹس ہیں۔اس طرح پنجاب 51.55 فیصد، سندھ 19.44 فیصد، کے پی 14.84 فیصد، بلوچستان 7.52 فیصد اور آزاد کشمیر میں 6.66 فیصد بجلی کے پیداوار ی پلانٹس ہیں۔
مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ اسے سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے۔ قومی اسمبلی میں قرآن مجید کو جس طرح موضوع بحث بنایا جارہا ہے وہ مناسب نہیں۔اپنے ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ملحوظ خاطر رکھیں کہ کسی بھی طور پر قرآن پاک کے تقدس پر حرف نہ آئے۔ کسی بھی جانب سے قرآن مجید کو سیاسی معاملات کے بیچ میں نہ لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کو اس سلسلے میں سخت ترین اقدام سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں رانا ثناء اور شہریار آفریدی کے درمیان ہونے والی بات میں قرآن پاک کا ذکر ہوا تھا۔
بالآخر ہوا وہ ہی جس کا ڈر تھا وفاقی حکومت کے اتحادیوں نے اختیارات نہ ملنے اور مانگیں پوری نہ ہونے پر تنگ آکر پیچھے ہٹنا شروع کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی جو کہ پہلے ہی اپنی وزارت سے انتہائی ناخوش تھے گوگل چھوڑ کر پاکستان آنے والی اور حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا کا ایک بڑا نام بنانے کی کوششیں کرنے والی ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کی سربراہ تانیہ ادرس کی مسلسل مداخلت کے باعث وزارت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ وزارت کے لیے دوسرا نام امین الحق کا دیا گیا تھا جبکہ فیصل سبزواری کو مشیر بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا مگر کسی بھی وعدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور کارکن شدید بددل ہوچکے ہیں،پی ٹی آئی اور حکومتی ذرائع نے تانیہ ادرس سے متعلق ہر الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں وہ اپنی ذمے داریاں اچھی طرح سرانجام دے رہی ہیں اور انہوں نے کوئی بھی ایسا کام بالا بالا نہیں کیا جو خلاف ضابطہ ہو۔وہ اپنی ذمے داریاں انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دے رہی۔ دُوسری جانب خالد مقبول صدیقی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ اپنی ہی وزارت میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرنے لگے تھے اور تانیہ ادرس نے وزیر اعظم اور دوسرے اداروں سے براہ راست ملاقاتیں شروع کردی تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ اُن اداروں کو بھی ہدایات دینے لگی تھیں جن پر وزارت کے معاملات چلانے کی ذمہ داری تھی جس کی شکایت وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شعیب صدیقی نے بھی کئی بار کی اور خالد مقبول صدیقی کے پاس وزارت سے استعفی دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا کیونکہ ایک طرف تو انھیں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی طرف سے شدید دباؤ تھا کہ اُن کی نوکریوں کے لیے کچھ کیا جائے، دوسری طرف خالد مقبول کا بطور وزیر کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔خالد مقبول اس بات پر بھی دل برداشتہ ہیں کہ وہ رابطہ کمیٹی کے کنوینر ہیں مگر حکومت سندھ میں اہم ذمے داری کسی اور کو دینا چاہتی ہے جس کے فیصلے بالا ہی بالا کیے جارہے ہیں اور اُن سے کوئی رائے نہیں لی گئی۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اب خالد مقبول کسی بھی قیمت پر وزارت واپس نہیں لیں گے کیونکہ ماضی کی ایم کیو ایم اس حوالے سے پہلے ہی بدنام ہے کہ وہ وزارتوں اور اتحادوں سے اس لیے باہر نکلتی ہے تاکہ حکومت کو بلیک میل کرسکے جس سے ایم کیو ایم اور پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے شہر کراچی کے باسیوں کا تشخص متاثر ہوتا ہے لہذا اس دفعہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر اور پکا کیا گیا ہے اور ایم کیو ایم اب کسی بھی ہرزہ سرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ہمیں پڑھے لکھے ووٹرز کا سامنا ہے جن کو ہر بات کا جواب چاہیے ہوتا ہے۔دوسری طرف سندھ حکومت سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا کہ کیا ایم کیو ایم اب آپ کے ساتھ شامل ہورہی ہے تو ترجمان مرتضی وہاب نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتہائی خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ متحدہ کو دعوت دی ہے اور ایم کیو ایم جان لے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اگر کراچی کے لیے کچھ دیا بھی تو اپنے جیتنے والے ممبران کے ذریعے دے گی ایم کیو ایم کے نہیں کیونکہ اگر پی ٹی آئی نے ایسا نہ کیا تو اُس کو اگلے الیکشن میں کوئی ووٹ نہیں دے گا تاہم یہ بھی ایک سچ ہے کہ کراچی پی ٹی آئی حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں۔مرتضی وہاب نے کہا کہ متحدہ کا وفاقی حکومت سے معاہدہ دراصل سیاسی خود کشی ہے کیونکہ دونوں کا ووٹر ایک ہی ہے اور ووٹر اُسی کو ووٹ دے گا جو اُس کو فائدہ دے گا لہذا وفاقی حکومت جان بوجھ کر متحدہ کے لیے مسائل کھڑی کررہی ہے تاکہ اُن کا ووٹر بدزن ہو، اگر متحدہ کو تھوڑی بھی عقل ہوئی تو وہ میری اس بات کو سمجھ جائے گی بصورت دیگر جو بچی کچی متحدہ ہے وہ بھی جلد ختم ہوجائے گی۔