ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں 2030ء تک موٹرسا ئیکل چلانے پرپابندی لگادی گئی ہے۔ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں شدید فضائی آلودگی کے تناظر میں حکام نے سن 2030ء تک موٹرسائیکلوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ ہنوئی میں موٹرسائیکل سواری لوگوں کے نقل و حرکت کا سب سے اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ستر لاکھ کی آبادی کے شہر ہنوئی میں 50لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں ہیں جب کہ وہاں چلنے والی کاروں کی تعداد صرف 5لاکھ کے قریب ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ خاتون کو کرمنل انویسٹی گیشن کے لئے نہ بلائے جانے کا کہا جارہا ہے لیکن کیا یہ درست ہے کہ اپنی بیٹیوں کے نام پر چوری کا پیسا رکھا جائے۔وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ شریف فیملی کو جواب دینے کی عادت نہیں جب کہ مریم نواز جے آئی ٹی کو جواب دیئے بغیر واپس چلی گئیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ سمجھتے تھے کہ مریم نواز لندن میں موجود جائیدادوں کے حوالے سے اپنے جھوٹ پر معافی مانگیں گی لیکن انہوں نے پہلے جھوٹ بولا اور بعد میں جائیدادیں تسلیم کرلیں۔فواد چوہدری نے شریف فیملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حسن اور حسین نواز اچانک کیسے ارب پتی بن گئے، کیا ادارے یہ سوال کرنے کا حق نہیں رکھتے کہ 16 سے 18 سال کی عمر میں ارب پتی کیسے بنے جب کہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار 22 سال کے ہیں اور وہ اربوں روپے کے مالک ہیں۔ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سیاست پیسے کی سیاست ہے اور جب وزیراعظم کے اثاثے کئی گنا بڑھ جائیں تو جواب دینا بنتا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد وزیراعظم نواز شریف ہوں یا مریم نواز، اسحاق ڈار اور حسین نواز، تمام لوگ پیشی کے بعد عمران خان کے خلاف بیان بازی شروع کردیتے ہیں، پاناما کیس عمران خان تو لے کر نہیں آئے اور وہ تو اس کی تحقیقات نہیں کر رہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ناقابل فہم بات ہےپیشی کے موقع پرپولیس نے مریم نواز کو سلیوٹ کیوں کیا؟عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کوطےکرنا ہوگا کہ یہاں جمہوریت ہوگی یا بادشاہت چلے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ عام شہری مریم کوسرکاری پروٹوکول کیوں دیا جارہا ہے۔مریم نواز جوکرمنل انویسٹی گیشن میں جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے پیش ہورہی ہیں۔
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکمران جے آئی ٹی اور سرکاری اداروں کے ملازمین کو ڈرا اور دھمکا رہے ہیں، اس پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ ہم حیران ہیں پاناما کیس کو ایک سال ہوگیا لیکن مریم نواز کو اب تک یہ نہیں پتا کہ الزامات کیا ہیں؟ان کا کہناتھاکہ مریم ماضی میں کہتی رہیں کہ ان کی ملک یا بیرونِ ملک کوئی جائیداد نہیں،آج نئی منطق لائے ہیں کہ ہم پر الزام ہی کوئی نہیں، ن لیگی کی طر ف سے باربار کہا جارہاہے کہ نواز شریف کا احتساب ہوا تو جمہوریت کو خطرہ ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم شروع سے کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے، حسین نواز نے اپنی کمپنیز کو پانامالیکس سے پہلے تسلیم کرنا شروع کیا،وزیراعظم کے صاحبزادے اربوں روپے کی جائیداد کے مالک ہیں۔شفقت محمود نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد اسحاق ڈارکے آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے،ہم ڈار صاحب سے پوچھتے کہ وہ بتائیں کہ ارب پتی کیسے بن گئے ؟ان کا کہناتھاکہ مریم نواز کو اس لیے بلایا گیا کہ انہوں نے کہا ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں،اسحاق ڈار کی بہوکو اس لیے نہیں بلایا گیا کہ انہوں نے کوئی بیان نہیں دیا۔پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ والے باربارکہہ رہےہیں کہ قطری کا بیان ریکارڈ کریں،قطری کا خط آپ نےپیش کیا تھا،ان کوپاکستان لانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے،قطری آئیں گےتو ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ساتھ ہی لائیں گے۔ان کا کہناتھاکہ یہ سول بالادستی کی جنگ نہیں احتساب کا معاملہ ہے،ان سے انکوائری جےآئی ٹی کرتی ہےاورباہرنکل کر عمران خان پرتنقید کرتے ہیں،لگتا یوں ہے جیسے عمران خان جے آئی ٹی کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کران کوٹف ٹائم دے رہیں ہیں۔
رکن بلوچستان اسمبلی عبدالمجیداچکزئی کےخلاف اغواء کےبعدکوئٹہ میں قتل کاایک کیس سامنے آگیا۔قتل کےاس کیس میں مقامی عدالت نے عبدالمجیداچکزئی کودوروزہ ریمانڈ پرپولیس کےحوالےکردیاگیا۔کوئٹہ میں گزشتہ ماہ ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی کی ٹکرسےہلاکت کےکیس میں پہلے سے گرفتار ایم پی اے عبدالمجیداچکزئی کےخلاف قتل کاایک اورمقدمہ سامنے آگیا۔1992میں کوئٹہ کےتھانہ سول لائن میں درج ایک شخص کے قتل کےمقدمہ میں ملوث ایم پی اےعبدالمجیداچکزئی کوجوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔پولیس کےمطابق عبدالمجیداچکزئی کو1992ءمیں کوئٹہ میں ایک شخص کےقتل کامقدمہ میں عدالت پیش کیاگیا ہے،ان کےخلاف کوئٹہ کےسول لائن تھانہ میں چمن کےرہائشی عبدالغفارنامی ایک شخص کےقتل کامقدمہ درج ہے،جسے کوئٹہ کے جناح روڑ پر قتل کیاگیاتھا۔ایم پی اےعبدالمجیداچکزئی ٹریفک سارجنٹ کوگاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کےکیس میں پہلے ہی ریمانڈ پر ہیں،7 روزہ ریمانڈ کی تکمیل پرعبدالمجیداچکزئی کو کل جمعرات کو انسداد دہشت گرد ی کی عدالت میں پیش کیاجاناہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہےکہ جے آئی ٹی سے اپنے اوپر الزام کے بارے میں پوچھا جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی پاناما کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئیں۔ وہ تقریباً 2 گھنٹے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں۔مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے قبل اپنی والدہ کلثوم نواز سے ملیں اور اس موقع پر انہوں نے والدہ کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔
کلثوم نواز نے بیٹی کو گلے لگا کر رخصت کیا اور ان کے ہاتھ میں قرآن پاک بھی موجود تھا۔مریم نواز سخت سیکیورٹی میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں جہاں (ن) لیگ کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے کارکنان کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔
جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 2 گھنٹے جے آئی ٹی کا سامنا کیا، جو کچھ جے آئی ٹی میں پوچھا گیا اس کاجواب دیا۔مریم نواز نے کہا کہ یہ ہمارا پہلا نہیں پانچواں احتساب ہے، بے رحمانہ احتساب کا باربار سامنا کیا ہے، ہم نے تین نسلوں کا حساب دیا اور دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ والد ،چچا اور بھائیوں کی پے درپے پیشیوں کے بعد پیش ہوئی، ہمارے پاس بہت راستے تھے اور ہم بھی استثنا کا راستہ استعمال کرسکتے تھے، ہم بھی کمردرد کا بہانہ بناکر اپنی گاڑی اسپتال لےجاسکتے تھے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ نوازشریف کی بیٹی ہوں لیکن میں لڑوں گی، اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے حق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔ان کا کہنا تھا کہ جن کو بیٹیوں کی قدرنہیں وہ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بیٹیوں کوشامل کرکے نوازشریف کوامتحان میں ڈالیں گے، وزیراعظم نوازشریف آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کھڑےرہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی والوں سے سوال کرنے سے قبل اجازت مانگی، میں نے جےآئی ٹی اراکین سے سوال کیا ہم پر الزام کیا ہے؟ میرے سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامے میں میرا نام نہیں تھا، پاناما لیکس سے پہلے مجھے ڈان لیکس میں بھی شامل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اس میں دیگر 450 افراد کے بھی نام ہیں، جن لوگوں نے پاناما لیکس سے متعلق کیس دائر کیا ان کی اپنی آف شور کمپنی ہے، ان کے نام پاناما میں نہیں تو اس لیے ان کی آف شورحلال باقیوں کی حرام۔وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ سازش کرنے والوں کو پتا ہے کہ وزیراعظم محب وطن ہیں، سیاسی مخالفین کو بتانا چاہتی ہوں کہ عوام نواز شریف کی طاقت ہیں، نواز شریف نہ خود جھکے گا نہ اپنے ووٹرز کو جھکنے دیں گے، جب جب نوازشریف کے خلاف سازش ہوئی وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر آئے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کو 70 دن ہوگئے ہیں، آج مجھے احساس ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کے پاس کچھ نہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ہم منی ٹریل بہت پہلے دے چکے ہیں، بار بار احتساب دے چکے ہیں اور دے بھی رہے ہیں، ہم نےوہ قرض بھی اتار دیا جو واجب بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان سے تعلق ہے اور حکمرانوں کا کڑا احتساب ہوتا ہے، جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ رلاؤں گا وہ سن لیں یہ طاقت اللہ کے پاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے والد تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم ہیں، وزیراعظم کا کاروبار سے تعلق بھی نہیں تھا، جن لوگوں کا کوئی کاروبار یا ذریعہ آمدن نہیں ان سے سوال نہیں پوچھا جاتا، جو الزامات لگائے گئے وہ ذاتی کاروبار سے متعلق تھے۔مریم نواز نے کہا کہ مخالفین جان لیں کہ نواز شریف واحد لیڈر ہیں جن پر قوم اعتماد کرتی ہے اور ڈرو اُس دن سے جب نواز شریف بے رحمانہ احتساب کے زخموں کو تمغوں کی طرح سینے پر سجا کر عوام کے پاس جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سینے میں دفن سازشیں بے نقاب کرنے پر مجبور نہ کرو۔
سرگودھا (نمائندہ خصوصی) عدالت کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت ہونے کے بعد رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر جیل کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے جمشید دستی کی رہائی پر نعرہ بازی کی اور مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمشید دستی کا کہنا تھا کہ میں رہائی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں اور از خود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔خیال رہے کہ مظفر گڑھ سے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کیخلاف حکومتی اجازت کے بغیر نہر کھولنے کا مقدمہ تھا جس میں انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔
پارا چنار (نمائندہ خصوآصی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششوں سے پارا چنار کے قبائلی عمائدین نے گزشتہ جمعہ سے جاری دھرنا ختم کر دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارہ چنار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔اس موقع پر مقامی قبائلی عمائدین نے دھرنا ختم کرنے سے متعلق اپنے مطالبات بھی پیش کیے جس پر آرمی چیف نے علاقے کی سیکیورٹی سے متعلق مطالبات پر فوری طور پر عمل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد قبائلی عمائدین نے دھرنا ختم کر دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پارا چنار کے بازار میں عین اس وقت یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے تھے جب لوگوں کی بڑی تعداد عید کی خریداری میں مصروف تھی جس میں 75 افراد جاں بحق اور100 کے قریب زخمی ہوئے تھے جس کے بعد متاثرین اور مقامی عمائدین نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا تھا۔
نوشہروفیروز (نمائندہ خصوصی) آصف زرداری نے نوشہرو فیروز میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم پر تنقید کے خوب تیر برسائے۔ سابق صدر نے کہا کہ میاں صاحب کو اب پتہ چلا کہ احتساب کیا ہوتا ہے۔انہوں نے انہیں پیپلز پارٹی کا احتساب بھی یاد دلایا، ساتھ ہی ساتھ کپتان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس نے میاں برادران کے اوسان خطا کر دیئے ہیں، پنجاب کے لوگ آصف زرداری کا انتظار کر رہے ہیں۔
احمد پور شرقیہ (نمائندہ خصوصی) احمد پور شرقیہ میں آئل ٹینکر کے حادثے کے بعد علاقے میں سوگ، ہر چہرے پر اداسی اور افسردگی چھائی ہوئی ہے۔آئل ٹینکر کی آگ سے جل کر جاں بحق افراد کے جنازے اٹھے تو ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ادھر انتظامیہ نے حادثے میں تباہ موٹر سائیکلیں، کاریں اور رکشے کا ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے، جبکہ ہائی وے کا ایک حصہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔دوسری جانب خوفناک آگ میں جلنے والوں کے اعضا ابھی تک قریبی کھیتوں میں پڑے ہیں۔ انتظامیہ نے ابھی تک انسانی اعضا کو اکٹھا کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔خیال رہے کہ احمد پور شرقیہ میں اس وقت قیامت ٹوٹی جب حادثے کا شکار آئل ٹینکر سے لوگ پٹرول جمع کرنے میں مصروف تھے کہ ایک چنگاری نے سب کچھ جلا کر راکھ دیا۔