ایران:سارے پاکستانیوں کو بطورِ قوم مل کرکشمیر کی وکالت کرنی چاہیے۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
ایران :(سعید راجپوت)سارے پاکستانیوں کو بطورِ قوم مل کرکشمیر کی وکالت کرنی چاہیے۔ سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
ہم مسلمان ممالک کو بھی مسئلہ کشمیر نہیں سمجھا سکے، عرب ممالک میں آج بھی بھارتی مقبوضہ کشمیر کو آزاد کشمیر سمجھا جاتا ہے۔ ہماری کمزور سفارتکاری کے باعث آج ہندوستان کے تعلقات اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے ساتھ ہم سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہیں۔عربی اور مغربی ممالک میں ہندوستان کو پاکستان پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ہمیں ہندوستان کو کوسنے کے بجائے اپنی ریاستی پالیسیوں اور سفارتکاری کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کے اجلاس میں کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایران کے شہر قم میں سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اراکین اجلاس نے کشمیر کاز پر تحقیقی کتب لکھنے اور ان کتابوں کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔اجلاس کے افتتاحیے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفقت شیرازی نے کہا کہ اہلیانِ کشمیر کی آواز بن کر ہم کشمیر یوں پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ یہ ہمارے انسان اور مسلمان ہونے کا ثبوت ہے۔اجلاس میں تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے فورم کے سیکرٹری شبیر سعیدی نے کہا کہ ہمیں دنیا کو مسئلہ کشمیر کی صحیح شناخت اور پہچان کروانی چاہیے، انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کشمیر کا پاکستان، ہندوستان، چین اور اقوامِ متحدہ سے جو تعلق ہے اُسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر کی مظلومیت اس لئے بھی زیادہ ہے چونکہ کشمیر کی وکالت کرنے والا پاکستان اُس کی وکالت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے لہذا اب سارے پاکستانیوں کو بطورِ قوم مل کرکشمیر کی وکالت کرنی چاہیے۔

