صدارتی آرڈینینسز کیخلاف کیس، عدالتی معاونین مقرر
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کے حکومت کی جانب سے جاری کردہ 8 صدارتی آرڈینینسز کے خلاف کیس میں سینئر وکلا رضا ربانی، مخدوم علی خان، بابر اعوان، عابد حسن منٹو کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کی، عدالت نے سیکریٹری قانون و انصاف کو 2 ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت کچھ سوالات بنا کر معاونین کو بھیجے گی تاکہ وہ تحریری جواب جمع کرا دیں۔چیف جسٹس نے معاونین سے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے حکومت کس صورتِ حال میں آرڈیننس جاری کر سکتی ہے؟ابھی کیا آرڈیننس آگیا ہے؟وکیل عمر گیلانی نے جواب دیا کہ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا، مگر حکومت نے جواب جمع نہیں کرایا۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے دریافت کیا کہ کیا پہلے سے جاری کردہ آرڈیننس واپس نہیں ہوگئے؟وکیل عمر گیلانی نے جواب دیا کہ وہ آرڈیننس واپس نہیں لیے گئے بلکہ مزید آرڈیننس بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ابھی کیا آرڈیننس آیا ہے؟محسن شاہنواز رانجھا نے بتایا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس آیا ہے جس میں بزنس اور بیوروکریٹس کو تحفظ حاصل ہے۔وکیل عمر گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 89 کا اسکوپ آرڈیننس جاری کرنے کے حوالے سے بہت کم ہے، حکومت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بیورو کریٹس کو تحفظ سے متعلق تو 2016ء کا سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ نیب سیاسی طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔مسلم لیگ نون کے ایم این اے محسن شاہنواز رانجھا نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔چیف جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے دورانِ سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم نےمختلف پارٹیز سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہرین کو بھی معاون مقرر کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ درخواست مسلم لیگ نون کی ہے، رضا ربانی، بابر اعوان کوبھی عدالتی معاون مقررکیا ہے، عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی پریقین رکھتی ہے، ہم اسی کومدنظررکھ کریہ کیسز سن رہے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

