نیب نے کراچی کے بلڈرز کو طلب کرلیا
کراچی میں زمینوں کی جعل سازی سے الاٹمنٹ کے معاملے پر نیب نے الاٹ زمینوں پر منصوبوں کا اعلان کرنے والے تمام بلڈرز کو طلب کرلیا ہے، بورڈ آف ریونیو افسران نے کنٹونمنٹ ملیر اور اطراف کی زمین کو بھی جعلسازی سے الاٹ کیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق الاٹ زمینوں پرایس بی سی اے کی جانب سے تعمیرات کی بھی اجازت دیدی گئی ہے، ملیر کنٹونمنٹ اور اطراف کی زمینوں پر 20 ہزار سے زائد اپارٹمنٹ اور مکانات کے منصوبے ہیں۔نیب حکام نے جناح ایونیو پر بنے تمام منصوبوں کو سیل کیا تھا، سیل کیے گئے تمام منصوبوں کے مالکان نے سیل توڑ دی تھی، نیب حکام نے مختلف پراجیکٹس بنانے والے بلڈرز کو 17 اور 18 دسمبر کو تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا۔نیب حکام کے مطابق کراچی میں مختلف رہائشی پراجیکٹس بھی جعل سازی سے الاٹ زمین پر بنائے گئے ہیں، صائمہ بلڈرکے مالک کو بھی تحقیقات کے لیے نیب طلب کیا تھا۔نیب حکام نے برج ال احد، شانزل ایکسٹینشن، ابراہیم ہیون کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں، سدرہ ٹوئن ٹاور، میٹرو پولیز، فاطمہ گالف ریزیڈنسی بنانے والے بلڈرز کو بھی نیب نے طلب کیا تھا۔نیب کے مطابق شانزل گالف ریزیڈنشیا، کمانڈر بلڈر، لائن بلڈر بھی جعل سازی سے الاٹ زمین پر بنائے گئے، مبینہ لینڈ گریبر جاوید اقبال کو گزشتہ سال نیب نے گرفتار کیا تھاجس پر 50 ہزار ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ اور قبضے کا ریفرنس ہے۔نیب ذرائع کے مطابق گرفتارلینڈ گریبر جاوید اقبال نے نیب کو اہم ترین شواہد فراہم کیے ہیں، زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق تحقیقات ابھی جاری ہے۔

