سانولی رنگت کے طعنے پر بیوی کی خودکشی
بھارت میں شوہر کی جانب سے سانولی رنگت پر مسلسل ہراساں کیے جانے سے تنگ آکر اس کی 21 سالہ بیوی نے خود کشی کرلی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بھارتی ریاست راجستھان میں پیش آیا۔خاتون کے والد نے خود کشی کا ذمہ دار اس کے شوہر کو قرار دیا، جس کے بعد پولیس نے اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ اب تک اس کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا، جب کہ خاتون کے شوہر نے بھی الزامات پر تاحال اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے۔بھارت میں گوری رنگت والوں کو سانولی رنگت پر فوقیت دی جاتی ہے۔خودکشی کرنے والی خاتون کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ان کا داماد ہماری بیٹی کے ساتھ سانولی رنگت کی وجہ سے ناروا سلوک رکھتا تھا، اور وہی اس کی خود کشی کا سبب بنا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت میں سانولی رنگت کے طعنوں کی وجہ سے یہ کسی لڑکی کی پہلی خود کشی نہیں ہے۔اس سے قبل بھی ایسا رنجیدہ واقعہ بھارت میں 2014 میں پیش آچکا ہے جب ایک 29 سالہ خاتون نے اپنے شوہر کے ایسے ہی طعنوں کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔علاوہ ازیں 2018 میں بھارت میں ہی سانولی رنگت والی 14 سالہ طالبہ نے کلاس کے دیگر طلبا و طالبات کی جانب سے اُس کی رنگت کے بارے میں طعنوں کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔نشریاتی ادارے کے تجزیے کے مطابق بھارت میں رنگت کی وجہ سے پیش آنے والے اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک پر رنگت کی تفریق کا کتنا غلبہ ہے۔ایسی بچیاں جن کی رنگت دیگر بچیوں کے مقابلے میں کم گوری ہوتی ہے تو انہیں بچپن سے ہی توہین آمیز ناموں کے ساتھ پکارا جانے لگتا ہے جو ان میں احساس محرومی پیدا کردیتا ہے۔

