ہائیکورٹ نے سعد رفیق سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی
لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت پر رہائی کیلئے درخواستیں مسترد کر دیں. دونوں بھائیوں نے اپنی ضمانت پر رہائی کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھالاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی نیب نے دونوں کی ضمانت مسترد ہونے پر انہیں پر گیارہ دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا تھا. سماعت کے دوران نیب کے وکیل چودھری خلیق الزمان نے دلائل میں کہا کہ پیراگون سوسائٹی خواجہ برادرز کی ملکیت ہے اور وعدہ معاف گواہ قیصر امین بٹ ان کے کاروباری پارٹنر ہیں۔نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ اثاثوں کے بارے میں خواجہ برادران کی انکوائری پرائزبانڈ نکلنے کی بناءپرختم کردی گئی۔ بنچ نے استفسار کیا کہ کیا پرائز بانڈ کا انکوائری سے کیا تعلق ہے اور بانڈ کتنے کے نکلے۔نیب کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ برادران کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے بانڈ نکلے۔نیب پراسیکیوٹر نے یہ نشاندہی کی کہ پیراگون غیر قانونی سکیم ہے، ٹی ایم اے نے سکیم کوعبوری طور پر منظور کیا۔نیب پراسیکیوٹر نے الزام لگایا کہ پیراگون نقشوں پر پلاٹ فروخت کرتے ہوئے لوگوں سے ہیسے ہتھیاتے رہے۔نیب پراسیکیوٹر نے توجہ دلائی کہ ایک بھائی ریلوے کاوزیر اور دوسرا بھائی صحت کاوزیراور بااثر تھے۔اتنے بااثر افراد کے خلاف ایل ڈی اے کیسے کاروائی کرتا۔نیب پراسیکیوٹر نے کسی رکن اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کیلئے اعلی عدلیہ نے پذیرائی نہیں اور اس سلسلے میں درخواستیں مسترد کر دی.نیب کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ اجلاس میں شرکت کیلئے پروڈکشن آرڈر ضرور ہے ضمانت پر رہائی نہیں.خواجہ برادران کے وکلا نے واضح کیا کہ پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی کا دونوں بھائیوں سے تعلق نہیں ہے. یہ قیصر امین بٹ کی ملکیت ہے.وکلا نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی جہاں وعدہ معاف گواہ قیصر امین بٹ کا دو مرتبہ بیان ریکارڈ کرایا گیا ہو. وکلا نے نشاندہی کی کہ پر ایز بانڈز نکلنے پر انکوائری بند نہیں کی گئی بلکہ تین خواجہ برادران نے انکوائری کا سامنا کیا.

