آصف زرداری گرفتار، نیب راولپنڈی منتقل،کل احتساب سے جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا
راواپنڈی نیب کی ٹیم نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا.نیب روالپنڈی نے گرفتاری سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہی بھی کیا جبکہ آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور کو گرفتار نہیں کیا گیا.اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور انکی بہن فریال تالپور کی عبوری ضمانت خارج کردی گئی تھی ججس کے بعد نیب راولپنڈی کی ٹیم نے آصف علی زرداری کوئٹہ گرفتار کرلیا.قومی احتساب بیورو کی ٹیم جعلی اکاؤنٹس کیس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی گرفتاری کے لیے انکی رہائش گاہ زرداری ہاؤس پہنچی. نیب ٹیم کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری بھی7 زرداری ہاؤس اسلام آباد پہنچی.آصف زرداری کے وکلاء نے نیب کی ٹیم سے عدالت کی جانب سے گرفتاری کے احکامات طلب کیے۔آصف زرداری کی گرفتاری کے پیش نظر زرداری ہاؤس کے اطراف بھاری تعداد میں پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے ، پولیس نے زرداری ہاؤس کے اطراف جانیوالے تمام راستے سیل کردیے اور مرکزی سڑک بھی سیل کردی تھی تاکہ کارکنان زرداری ہاؤس نہ پہنچ سکیں.زرداری ہاؤس پہنچنے پر نیب ٹیم اور آصف زرداری کے درمیان کچھ دیر بات چیت ہوئی جس کے بعد سابق صدر نے گرفتاری دینے پر آمادگی ظاہر کردی۔نیب کی ٹیم آصف زرداری کو زرداری ہاؤس سے لے کر نیب راولپنڈی کے دفتر روانہ ہوگئی۔آصف زرداری کی منتقلی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے کارکنان اور پولیس اہلکاروں کےدرمیان ہاتھا پائی ہوئی،. پیپلز پارٹی پنجاب وسطی کے صدر قمر الزمان قائرہ اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا.سابق صدر آصف علی زرداری کا روزمرہ کے استعمال کا سامان بھی انکے ساتھ دوسری گاڑی میں روانہ کردیا گیا.نیب ذرائع کا کہنا ہےکہ آصف زرداری کو آج رات نیب راولپنڈی کے دفتر میں رکھا جائے گا جہاں ان کا طبی معائنہ کرایا جائے گا جب کہ کل انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان کے ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔نیب ذرائع کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس میں نامزد آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کو فوری گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آصف زرداری کے رکن پارلیمنٹ ہونے کے سبب نیب کو ان کی گرفتاری سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کرنا ضروری تھا جس کے لیے نیب کی ایک ٹیم پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی تھی اور اسپیکر قومی اسمبلی کو سابق صدر آصف زرداری کے وارنٹ کے بارے میں مطلع کیا تھا.

