حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 11 جون تک توسیع
لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز میں عبوری ضمانت میں 11 جون تک توسیع کردی جبکہ صاف پانی کمپنی میں نیب کے گرفتار نہ کرنے کے بیان پر حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت غیر موثر ہونے پر نمٹادی.لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت شروع کی. حمزہ شہباز کے وکیل نے استدعا کی کہ ایک سینئر وکیل سلمان اسلم بٹ بیرون ملک ہیں اس لیے عید کے بعد تک ملتوی کر دیں.وکیل نے نشاندہی کی کہ عید مسلمان کا خوشی والا بڑا تہوار ہے اسے پر سماعت ملتوی کرنے کی روایت رہی ہے. وکیل نے بتایا کہ اپنی مرضی کے وکیل کی خدمات لینے آئینی حق ہے اور یہ خواہش پوری ہونی چاہیے.جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے باور کرایا کہ ضمانت کی درخواست کو اتنی دیر تک التوا میں نہیں رکھا جا سکتا اور عدالت کو بنچ نے چلانا ہے.جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہائیکورٹ میں نعرے لگائے جاتے ہیں جس پر وکیل نے وضاحت کی کہ اس کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا. فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر بنچ میں کیا ہوا. وکیل نے واضح کیا کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو پر تحفظات کا اظہار کیا ہے.جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب کا عدالتوں سے کیا تعلق ہے اور وہ کس طرح عدالتوں میں مداخلت کرسکتے ہیں. فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا نیب ملزم کو گرفتار نہیں کرسکتا.دو رکنی بنچ کے استفسار پر نیب نے بیان دیا کہ حمزہ شہباز کو صاف پانی کمپنی میں گرفتار نہیں کرنا. ہائیکورٹ نے نیب کے بیان پر صاف پانی کمپنی میں ان کی ضمانت کی درخواست نمٹا دی. حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع کڑے حفاطتی انتظامات کیے گئے.

