لاہور کراچی میں لفظی جنگ چھڑ گئی، شعیب اور معین آمنے سامنے
سرفراز احمد کے بعد سابق قومی کپتان معین خان بھی شعیب اختر کے ریڈار میں آگئے. ماضی کے عظیم فاسٹ بولر نے معین خان کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ اگر آپ پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے توراشد لطیف کے آتے ہی کرکٹ چھوڑ جاتے.ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم آپ جیسوں کے ساتھ کھیلے۔اپنے ویڈیو پیغام میں شعیب اختر نے کہا کہ سرفراز احمد کے بارے میں میں نے صرف اتنا ہی کہا ہے کہ وہ موٹا لگ رہا ہے اور ان فٹ ہےجب کپتان کے جسم کا حجم اتنا بڑھ جائے گا تو وہ وکٹ کیپنگ کیسے کر سکے گا، ویسے بھی اسے2سال سے کیپنگ کرنے میں پرابلم آ رہی ہے. شعیب اختر نے معین خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایوریج بندے کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کا کپتان بنا دیا ہےانہوں نے کچھ باتیں میرے خلاف کی ہیں حالانکہ میں نے بی20 سال ان کی بڑی عزت کی ہے اور ان کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا،میں ان کے لیول پر جا کر کچھ کہنا نہیں چا ہ رہا تھا لیکن اب ان کے اعتراضات کا جواب دینا بھی ضروری ہے.معین خان نے میرے بارے میں کہا کہ اگر شعیب اختر پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے تو وہ 450وکٹیں لے چکے ہوتے۔معین خان کے لئے میرا جواب یہ ہے کہ میں نے نہ صرف ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ میں ٹوٹل ملا کر ساڑھے چار سو وکٹیں ہی حاصل کی ہیں بلکہ کئی سیریز بھی پاکستان کو جتوائی ہیں، معین خان صاحب اگر آپ پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے تو جب راشد لطیف جیسا بہتر انسان، وکٹ اور بیسٹمین موجود تھا تو آپ کو خود سے ہی گلووز چھوڑ دینے چاہیے تھے.شعیب اختر کا مزید کہنا تھا کہ ایک کرکٹر ساڑھے چار سو وکٹیں اس وقت ہی لیتا ہے جب اس کا کپتان معین خان کی بجائے عمران خان ہو،لیڈر سے ہی پلیئر بنتے ہیں، معین خان آپ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ آپ بڑے لوگوں کے ساتھ کھیلے اور ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم آپ جیسوں کے ساتھ کھیلے۔

