حجاب والی مسلمان خواتین فیشن ورلڈ کو فتح کررہی ہیں
لندن (خصوصی نمائندہ) حجاب والی مسلمان خواتین فیشن ورلڈ کو فتح کررہی ہیں۔ اعتدال پسند فیشن بلاگرز انسٹا گرام پر نظر رکھتے ہیں۔ تاہم ان ملبوسات کی طلب جو مسلمان خواتین کے لیے مناسب ہوں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں پلے بوائے میگزین نے ایک نوجوان صحافی خاتون نورتا گوری کی حجاب والی تصویر شامل کی، وہی حجاب جس پر پابندی کے لیے زوردار مباحثے ہورہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد ایسا لگتا تھا جیسے امریکہ میں مسلمانوں کی حیثیت گر رہی ہے اور اسی لیے مسلمان خواتین پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے اوپر حملے کے خطرے کے پیش نظر حجاب نہ استعمال کریں۔ بہرحال2016ء وہ سال بھی تھا جب تاگوری جیسی مسلمان خواتین نے فیشن ورلڈ فتح کرلیا۔ گزشتہ سال ہی امریکی کاسمیٹکس کمپنی کور گرل نے نورا عافیہ کو چنا جو حجاب پہنے والی خاتون عورت ہے۔ اس کے ذریعے کمپنی نے اپنی مصنوعات کی تہشیر کی۔ اسے کمپنی کی نئی مسکارا کمپنی شروع کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس سے قبل2015ء میں ’’کلوز دی لوپ‘‘ کمپین کے لیے ایچ اینڈ ایم نے پہلی مرتبہ ایسی ماڈل کا انتخاب کیا جو حجاب پہنتی ہے۔ فریحہ ادریس پاکستانی مراکشی خاتون ہے جو لندن میں رہتی ہے۔ یہ وہ چند ایونٹس ہیں جن پر بعض میگزینوں کو حجاب کو فیشن سٹیٹمنٹ بنانا پڑا اور برطانیہ کے دی گارجین اخبار کے ایک رائٹر کو پیشگوئی کرنا پڑ گئی کہ ہم اب کروشین سسٹرز کو عبایا میں دیکھیں گے۔ مسلمانوں کا روایتی عبایا ایک ڈھیلا ڈھالہ لبادہ ہے جو خواتین پردے کے لیے اپنے لباس کے اوپر پہنتی ہیں۔ خواتین کے حجاب کے استعمال والا رجحان گزر جانے والا نہیں، کیونکہ ہزاروں خواتین اس کے پیچھے کھڑی ہیں۔ سوشل نیٹ ورک پر ان کا سیلاب آیا ہوا ہے جس کے لاکھوں دیکھنے والے موجود ہیں۔ برطانیہ کی ڈینا ٹور کیا اور انڈونیشیا کی ڈیان پیلنگی کے انسٹا گرام اور یوٹیوب پر لاکھوں دیکھنے والے موجود ہیں۔ وہ فیشن کے لیے حجاب کے حوالے سے اپنے انداز زندگی کو بیان کرتی ہیں۔ اعتدال پسند فیشن کوئی نئی چیز نہیں، یہ مسلمان ملکوں میں برسوں سے موجود ہے جہاں فیشن ویک ہوتے ہیں ترکی اور انڈونیشیا جسے مسلمان ملکوں کے فیشن شوز میں لباس مذہبی اقدار کا عکاس ہوتا ہے۔

