شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، سلامتی کونسل اجلاس میں اختلافات
شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے بعد سلامتی کو نسل کا ہنگامی اجلاس اختلافات کا شکار ہو گیا۔امریکا شمالی کوریاکےخلاف مزید اقتصادی پابندیوں کا حامی ہے،جبکہ روس نے مخالفت کر دی، جس کا کہنا ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔امریکی سفیر کہتی ہیں کہ اگر نئی پابندیاں منظور نہ کی گئیں تو امریکا اپنے طور پر نمٹ لے گا ۔شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر نیویارک میں سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں امریکا، چین اور روس کے علاوہ جاپان اور جنوبی کوریا کے مندوبین بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں روسی نائب سفیر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریاکامیزائل درمیانی فاصلےتک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے۔امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا کہ شمالی کوریاکےخلاف اقتصادی پابندیاں ناگزیر ہیں،اس کی ہٹ دھرمی پرفوجی کارروائی کا آپشن بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کا دفاع کرنا جانتا ہے، شمالی کوریا کے ساتھ چین کی تجارت اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔روسی نائب سفیر نے کہا کہ سب کوتسلیم کرنا ہوگا کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، شمالی کوریا کو معاشی طور پر تباہ کرنا ناقابل قبول ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا جنوبی کوریا کو میزائل شکن نظام کی تیاری سے روکے، خود امریکا کو جنوبی کوریا میں ٹھاڈ میزائل شکن نظام کی تنصیب سے روکا جائے۔روس کی جانب سے شمالی کوریا پر پابندیوں اور فوجی کارروائی کی مخالفت کی گئی جبکہ چین نے بھی جنوبی کوریا میں ٹھاڈ میزائل شکن نظام کی تنصیب روکنے کا مطالبہ کردیا۔اس صورت حال کے بعد شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر ہونے والا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اختلافات کا شکار ہوگیا۔

