غزہ جنگ بندی پر مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم
حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات مسئلہ ختم کرنے کیلئے اہم اور امیدوار قدم ہیں۔ ان دونوں طرفوں کے درمیان مذاکرات کی ناکامی قابلِ توجہ ہے اور انسانیت کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ مذاکرات سے پیدا ہونے والی کوئی بھی مثبت ترقی اور امن کی فراہمی سب کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان مذاکرات سے امن اور استقرار کے لئے بہترین نتائج حاصل ہوں گے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں کمی رہنماؤں کے درمیان اہم اور خوش امید قدم ہوسکتے ہیں۔ حماس کے رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو معاہدے تک نہیں پہنچنا چاہتے اور انہیں امریکی حکومت کورٹ میں دباؤ ڈالنے کے لیے معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ حماس نے اسرائیل کو زندہ بچ جانے والے یرغمالیوں کی فہرست فراہم کرنے کی مطالبہ کو مسترد کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ اس مطالبے کو معاہدے کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
قاہرہ مذاکرات کو پہلی توسیع شدہ 40 روزہ جنگ بندی قرار دیا گیا تھا اور اس دوران کئی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، آئندہ ہفتے رمضان کے آغاز سے قبل غزہ میں انسانی ساختہ قحط کے خاتمے کے لیے امداد سامان پہنچایا جائے گا۔مصر کے سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی کہ اسرائیلیوں کے ساتھ رابطہ جاری ہے تاکہ بغیر ان کے موجودگی کے مذاکرات جاری رکھی جا سکیں۔ امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے منظور شدہ معاہدہ کو میز پر ہونے کی دعوت دی ہے، اور اب حماس پر ہے کہ وہ اسے قبول کرے۔ حماس مذاکرات کے بہترین نتائج کی توقع کر رہی ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے مذاکرات کے ختم ہونے کو الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل سے غزہ میں انسانی تباہی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جہاں اسرائیل کے حملوں میں 30غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد، امدادی رسائی میں کمی کا شدید اثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے قحط کی صورتحال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ خوراک کی فراہمی میں انقطاع کی وجہ سے جنگ زدہ علاقے میں افراد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اور کچھ ہسپتالوں میں زخمیوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی بھوک کی وجہ سے موتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ احمد کنان، جو کہ رفح کے العودہ کلینک میں پایا گیا، امداد نہ ملنے کی وجہ سے اپنا نصف وزن کھو چکا ہے، اور اس کا حالت بہت نازک ہے۔ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔العودہ کلینک کی نرس دیا الشعر نے غذائی قلت کا شکار کمزور بچوں کی غیرمعمولی تعداد کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے شمالی علاقوں میں جہاں امدادی ایجنسیوں یا نیوز کیمروں کی پہنچ نہیں ہے، وہاں صورتحال انتہائی خراب ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ہسپتال میں داخل 15 بچے غذائی قلت یا پانی کی کمی سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی کنارے پر موجود دو چوکیوں کے راستے غزہ کو مزید امداد فراہم کرنے کی اجازت دینے کی تیاری کر رہی ہے۔اسرائیل الزام عائد کرتا ہے کہ وسیع پیمانے پر امداد کی تقسیم میں اقوام متحدہ و دیگر امدادی ایجنسیوں ناکام ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خرابی سے یہ ناممکن ہو گیا ہے اور یہ اسرائیل پر منحصر ہے جس کے فوجیوں نے غزہ کے مختلف مقامات پر دھاوا بول دیا ہے اور وہاں گشت کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کی علاقائی ڈائریکٹر ادیل خضر نے کہا ہے کہ “والدین اور ڈاکٹروں میں بے بسی اور مایوسی کا احساس بڑھ رہا ہے، جان بچانے والی امداد چند کلومیٹر کے فاصلے پر مگر پہنچ سے دور رکھی جا رہی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔”

