دنیا بھر میں ذیابیطس کی شرح میں پاکستان پہلے نمبر پر آگیا
پاکستان میں ذیابیطس کی بیماری کی شرح کا اضافہ ایک ناپسندیدہ ترین ترند ہے۔ شوگر کی انتشار کی شرح کا بڑھنا ایک صحت کے لحاظ سے ناگوار اور فکر انگیز مسئلہ ہے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں، ذیابیطس کی بیماری کی صورتحال کو سختی سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کے لیے سرگرمیاں اور تدابیر کی ضرورت ہے تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور متاثرہ افراد کو بہترین علاج فراہم کیا جا سکے۔ذیابیطس کی بیماری کی شرحوں کی ایسی مقارنہ کرنا اہم ہے تاکہ عوام کو اس بیماری کی پیشگوئی کرنے اور اس کے علاج کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت سمجھائی جا سکے۔ اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ذیابیطس کی شرح بہت ہی فزوں ہے اور یہ ایک بڑی صحت کی خدمت کے لیے چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر ممالک جیسے کویت اور مصر بھی ذیابیطس کی بیماری کی شدت سے دوچار ہیں اور ان ممالک میں بھی اس بیماری کے بارے میں اہمیت کی بات ہونی چاہئے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں، عوام کو صحت کے مسائل کی اہمیت اور ان کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ذیابیطس کی بیماری کی شدت کی اعداد و شمار مختلف ممالک میں مختلف ہیں۔ قطر، ملیشیا، اور سعودی عرب میں بھی ذیابیطس کے مریضوں کی شرح کافی زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، نائیجیریا میں ذیابیطس کی شرح کم ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بیماری کی شرحوں کی بڑھوتری نے یہ بیان کرتا ہے کہ صحت کی تحفظ اور معالجہ کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

