پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی اداکارہ اقراء عزیز نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کر کے مداحوں کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔اقراء عزیز کی جانب سے شیئر کی گئی بغیر کسی آواز کے اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ متعدد صفحات پر انہماک کے ساتھ کچھ لکھ رہی ہیں اور مصروف نظر آ رہی ہیں۔اقراء عزیز نے اپنی اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں ایک کیپشن بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے کسی نئے کام کے آغاز کا حوالہ دیا ہے اور ساتھ میں ’بسم اللّٰہ‘ اور ’پریپیئرنگ‘ یعنی تیاری جاری ہے جیسے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے ہیں۔اقراء عزیز نے اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں اپنے مداحوں کو بتایا ہے کہ ’انہوں نے کچھ نیا کیا ہے جو کہ بہت دلچسپ اور سنسنی خیز ہے، اور اب وہ انتظار کر رہی ہیں کہ اُن کے مداح اُن کا نیا کام دیکھیں۔‘اقراء کی اس پوسٹ پر اُن کے مداحوں کی جانب سے ہزاروں لائیکس اور کمنٹس آ چکے ہیں، اقراء کے مداحوں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یا تو اقراء نے فلم انڈسٹری میں قدم رکھ دیا ہے یا پھر اب وہ اسکرپٹ رائٹنگ کی جانب آ گئی ہیں۔واضح رہے کہ اقراء عزیز کی جانب سے اپنی پوسٹ پر کسی قسم کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ وہ کس پروجیکٹ یاکیا نیا کرنے جا رہی ہیں۔
پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد میں پیسے کے لیے خون سفید ہو گیا، بھتیجے نے اپنے چچا پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو اغواء کر کے پونے 9 کروڑ تاوان وصول کر لیا۔ساڑھے 7 ماہ بعد نشاندہی ہوئی تو بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں ملزم لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق جناح کالونی کے رہائشی پاکستانی نژاد برطانوی شہری عثمان کو 16 فروری کو گھر سے گاڑی میں اغواء کیا گیا تھا۔ملزمان نے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کیا اور مغوی کو 5 روز تک نامعلوم مکان میں قید رکھا گیا۔اس دوران مغوی کے اکاؤنٹ سے 8 کروڑ 75 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی۔تحقیقات کے دوران مغوی کا بھتیجا فیصل اغواء اور تاوان وصول کرنے کا ماسٹر مائنڈ پایا گیا جس پر واقعے کے ساڑھے 7 ماہ بعد مقدمہ درج کر کے ملزم کو بیرونِ ملک فرار ہوتے ہوئے لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق مغوی کے اکاؤنٹ سے کی گئی ٹرانزیکشن ملزم فیصل کے اکاؤنٹ میں ہوئی تھی جس پر اس کے اغواء میں ملوث ہونے کا شبہ ہوا۔چچا کے اغواء میں ملوث بھتیجے فیصل کے علاوہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
کوار ڈینٹر سوئی گیس و وپڈا ملک آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ.آج ایک خبر سروس روڈز کے حوالے سے گردش میں ہے چند دن پہلے ریلوے کے حوالے سے بھی ایک خبر تھی.گزارش صرف اتنی ہے جس نالے کا زکر محترم کائرہ نے کیا تھا اس کا کام اسی ہفتے ایم این اے اور ایم پی صاحب کے فنڈز کی وساطت شروع ہو گا,سروس روڈز کی مکمل پروپوزل پر 1ماہ قبل ایم این اے سید فیض الحسن شاہ صاحب کی ایم ڈی صاحب سے ملاقات ہوئی تھی جس میں لالہ موسیٰ سروس روڈ اور اس کے نالوں کی مینٹنس کے حوالے سے بات چیت ہوئی.اس موقع ادارے نے کام مکمل کرانے کی یقین دہانی کرائی.کائرہ صاحب ہمارے شہر کا فخر ہیں لیکن زیرک لوگ اس چیز کو سمجھتے ہیں کہ کام حکومتی پارٹی کی کوشش سے ہی ہوتا ہے.میرا مقصد کسی کی دل عزاری نہیں پر حقائق کو جان کر نشر کرنا ہم سب کا فرض ہے۔سید فیض الحسن شاہ صاحب کے فنڈز سے36 دیہاتوں کو جلد گیس مہیا کی جائے گی جس کے نقشوں پر کام مکمل ہو گیا ہے جلد جاب نمبرز لگ جائیں گے اس طرح کے کئی کام اور بھی ہیں،اسی طرح بجلی کے حوالے سے 45 دیہاتوں کی نئی آبادی کو بجلی فراہم کرنے پر کام جاری ہے۔کل کوئی اور اس کا بھی کریڈٹ لینا چاہیے تو ضرور لے ہم عوامی ایم این اے کی زیر نگرانی ہر مسئلہ کے حل کے لیے حاضر ہیں۔
راہنما پی ٹی آئی سید مدد علی شاہ کلیووال سیداں اپنے سنگ دھڑے سمیت مسلم لیگ ق میں شامل سیدمددعلی شاہ کی لاہور چوہدری پرویزالہی سے ملاقات مسلم لیگ ق میں شمولیت کا اعلان کردیا۔اس موقع پر چوہدری مونس الہی ایم این اے چوہدری عبدالسعید کندوآنہ۔میاں بہاول شیر سمیت دیگر اخباب موجود ہیں
یونیورسٹیز اور کالجز 15 ستمبر سےکھولنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت اجلاس میں تمام صوبوں کا اتفاق ہوا۔تمام صوبوں نے یونیورسٹیز اور کالجز 15 ستمبر سے کھولنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔نویں سے 12 ویں جماعت تک تعلیمی ادارے بھی 15 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بڑی کلاسز کھولنے کے بعد کورونا کیسز کو مانیٹر کیا جائے گا۔تعلمی ادارے کھولنے کی حتمی منظوری این سی او سی دے گا۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں سے منسلک ہاسٹل کھولنے سے متعلق بھی غور کیا گیا۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت کو ایک ہفتے بعد کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹی سے آٹھویں جماعت کو ایک ہفتے بعد کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔اجلاس میں پہلی سے پانچویں تک کی جماعتیں کھولنے کا فیصلہ بھی ایک ہفتہ تک صورتحال کو مانیٹر کرنے کے بعد کیا جائے گا۔بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کو حتمی شکل دی جائے گی ، مختصر اکیڈمک سلیبس اور 2021 میں امتحانات کا انعقاد ایجنڈے میں شامل ہے ، وزرائے تعلیم کے اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا جس کے بعد تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں بحال کرنے سے متعلق سفارشارت قومی رابطہ کمیٹی کو بھجوائی جائیں گی۔اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز کا حتمی فیصلہ پیر کو کیا جائے گا، 15ستمبر سے تعلیمی سرگرمیوں کا مرحلہ وار آغا زکیا جائے گا، ایک ہفتے بعد پرائمری کلاسز کے آغاز کا بھی ارادہ ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کیلئے پیر کو تمام صوبوں کے وزراء تعلیم کا اجلاس ہوگا جس میں 15ستمبر سے تعلیمی سرگرمیوں کا مرحلہ وار آغا زکرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ایک ہفتے بعد پرائمری کلاسز کے آغاز کا بھی ارادہ ہے۔ ایس او پیز کے مطابق طالب علموں کا ماسک پہننا لازم ہوگا۔ شفقت محمود نے کہا کہ ایک دن کلاس کے آدھے طالبعلم آئیں اور اگلے دن دوسرے، سماجی فاصلہ رکھنے سے بچوں میں جراثیم کی منتقلی نہیں ہوسکے گی۔ شفقت محمود نے کہا کہ اگلے سال مارچ 2021 میں پہلی جماعت سے پرائمری تک یکساں تعلیمی نصاب نافذ ہوجائے گا ،یہ ایلیٹ انگلش میڈیم، کم فیس والے نجی اسکولوں سمیت مدارس اور تمام اسکولوں میں نافذ ہوگا
جامعہ علوم اثریہ کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر کا پُر اسرار اغوا بزرگ رہنما، محب وطن اور پرامن عالم کی رہائی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ قائدین جہلم کا متفقہ اعلامیہ جہلم (محمد زاہد خورشید )بزرگ رہنما اور پرامن عالم کی رہائی تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مذہبی، سیاسی، سماجی اور انجمن تاجران کے قائدین نے کیا۔ جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام کے مہتمم قاری محمد ابوبکر صدیق نے کہا کہ حافظ عبدالحمید عامر پرامن اور مثبت سوچ رکھنے والے عالم دین ہیں، انہیں اس طرح رات کی تاریکی میں اغوا کرنا جہلم کی پرامن فضا کو خراب کرنا ہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث راولپنڈی کے امیر مولانا احسن فاروقی نے کہا کہ حافظ صاحب کا شمار زعمائے جماعت کے معزز ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے نائب امیر ہیں، آپ کے پر اسرار اغوا سے پورے ملک میں بے چینی پھیل چکی ہے، ہماری جماعت ملکی قوانین کا احترام کرتی ہے اور ان سے کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں چاہتی، لہٰذا ہم اداروں سے اُمید کرتے ہیں کہ ہمیں پرامن رکھنے میں ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔جامعہ اثریہ کے مدیر حافظ احمد حقیق نے کہا کہ اتحاد اور امن کے داعی کو اس طرح گرفتار کرنا ملک میں اَنارکی پھیلانے کے مترادف ہے، کس قدر افسوس کی بات ہے کہ حافظ صاحب صوبائی اور ضلعی سطح پر امن کمیٹی کے ممبر ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک کسی طرح بھی قبول نہیں کریں گے۔سنی اتحاد کونسل کے سرپرست مولانا صوفی اسلم نقشبندی نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے میں حافظ عبدالحمید عامر کے ساتھ جہلم شہر میں اتحاد اُمت کے لیے کوششیں کررہا ہوں، حافظ صاحب ملنسار اور متحمل مزاج شخصیت کے حامل ہیں، ایسے شریف النفس عالم دین کو اغوا کرنا حکومتی اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیتا ہے۔ حافظ عمر عبدالحمید نے اس وقوعہ کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یکم ستمبر بروز منگل صبح تین بج کر چالیس منٹ پر چار عدد ڈبل کیبن اور ایک چھوٹی کار میں سوار سرکاری وردی(کالی کمانڈو) و سول کپڑوں میں ملبوس کئی افراد جامعہ علوم اثریہ آئے اور گارڈ کو چوک اہل حدیث لے گئے اور وہاں مہتمم جامعہ علوم اثریہ جہلم، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور ضلعی و صوبائی امن کمیٹی کے ممبر حافظ عبدالحمید عامر کی رہائش گاہ پر بلا اجازت گھسے اور رات کے وقت گھر میں ٹارچ کی لائٹیں ماریں اورہمارے فیملی تشخص اور گھر کی چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے والد محترم کو اغوا کر لیا۔میرے والد اس وقت چھیاسٹھ سال کی بڑھاپے کی عمر میں ہیں، کئی سالوں سے شوگر اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، مستقل طور پر ڈاکٹرز کے زیر علاج ہیں اور دوائیاں کھارہے ہیں، ریڈ کرنے والوں نے دوائیاں تک نہیں اُٹھانے دیں، دوائیاں وقت پر نہ کھانے سے میرے والد صاحب کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جامعہ سیدہ عائشہ للبنات کے مہتمم حافظ اظہر اقبال نے کہا کہ حافظ صاحب نے ہمیشہ ملکی قوانین کا دفاع کیا ہے اور ملکی اداروں کے دفاع کی بات کی ہے، ایسے مصلح اور بزرگ رہنما کے پر اسرار اغوا سے جہلم شہر کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، لہٰذا احکام بالا ہوش کے ناخن لیں۔ حافظ ظفر اقبال نقشبندی نے کہا کہ ضلعی سطح پر حافظ صاحب کی بین المسالک اتفاق و اتحاد کی کوششوں کو تمام مکاتب فکر سراہتے ہیں،انہی اقدامات کی بدولت وہ تمام مسالک کے علماء میں نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ایسے مصلح رہنما کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک ہم کسی طرح بھی برداشت نہیں کریں گے۔ جامعہ اثریہ کے نائب مدیر حافظ عبدالغفور مدنی نے کہا کہ حافظ صاحب ملک ہمیشہ سے ملک کی خاطر فکری اور عملی میدان میں ملک دشمن عناصر کے خلاف نبرد آز ما رہے ہیں، حب الوطنی کا جذبہ دل میں رکھنے والے مفکر اور معلم کو اس طرح رات کی تاریکی میں اور گھر میں گھس اغوا کرنے سے ذمہ داران نوجوان طبقے کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس ملک سے محبت رکھنے والوں کا یہاں ایسا انجام ہوتا ہے۔اس قدام سے حافظ صاحب کے ہزاروں عقیدت مندوں میں غصے کی شدید لہر دوڑ گئی ہے، ہم متعلقہ اداروں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ کو فی الفور رہا کیا جائے، ورنہ عوا می ہجوم کو کنٹرول کرنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ جامعہ اثریہ کے داخلی امور کے مدیر مولانا سعد محمد مدنی نے کہا کہ ہمارے محسن و مربی حافظ عبدالحمید عامر نے ہمیشہ ہمیں بردباری اور ملک میں امن کا درس دیا ہے لیکن ان کے اس طرح اغوا نے ہمارے دلوں کو چھلنی کردیا ہے، ہم واضح کرتے ہیں کہ اس امن پالیسی کو ہماری کمزروی نہ سمجھا جائے، ہم حافظ صاحب کی رہائی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ جامعہ اثریہ کے مدیر التعلیم مولانا عکاشہ مدنی نے کہا کہ چالیس سال سے حافظ صاحب جہلم میں تبلیغی و تنظیمی خدمات سر انجام دے ہیں، آج تک ان پر کسی قسم کی مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام نہیں ہے تو ایسے اتفاق و اتحاد کے علمبردار کو اغوا کرنا جہلم کی پرامن فضا میں انتشار کی آگ لگادے گا اور اس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر ہوگی۔
وزیر خارجہ کا سعودی عرب سے متعلق بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ جہلم (محمد زاہد خورشید) سعودی عرب پاکستان کا مخلص اور وفادار دوست ہے، ہر مشکل گھڑی میں اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے، ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان پر مشکل حالات آئے ہیں یا آفات الٰہیہ سے متاثر ہوا ہے، ایسی گھڑی میں سعودی عرب نے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ایک مخلص اور وفادار دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ عمومی طور پر بھی پوری دنیا میں جہاں مسلما ن کسی مشکل میں مبتلا ہوئے، وہ برما اور فلسطین کی عوام ہو، یا زمین کے کسی بھی کونے میں مسلمان آباد ہوں، سعودی عرب نے تمام اسلامی ممالک سے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا ہے اور اپنی قائدانہ ذمہ داری کو بطریق احسن نبھایا ہے۔ نیز انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے لیکن اس سے متعلق ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ تمام اسلامی سے بڑھ کر سعودی عرب نے ہمارے مؤقف کو مضبوط ہے، سعودی عرب کی قیادت میں اس دفعہ انٹرنیشنل فورم پر رابطہ عالم اسلامی کا اجلاس ہوا جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر کا باقاعدہ طور پر جھنڈا رکھا گیا، یہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا ایسے مخلص دوست کے بارے میں د ھمکی آمیز الفاظ میں بیان دینا خارجہ پالیسی سے متعلق ان کی نااہلی کو ثابت کر رہا ہے۔پھر ہم نے دیکھا کہ ملک دشمن عناصر نے اس خبر کو خوب ہوا دی اور دو طرفہ تعلقات کو کمزور کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اقدام قابل ستائش ہے کہ جنہوں نے حالات کی نزاکت کو سمجھا اور اس حوالے سے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔مزید انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو سمجھنا چاہئے کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ صرف ایک اسلامی ملک ہونے کا رشتہ نہیں ہے، بلکہ ان سے ہمارا ایمان اور عقیدے کا رشتہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ارض حرمین شریفین ہے اور وہاں ایسے مقدس مقامات ہیں، جن سے پاکستانی عوام ایمانی اور جذبانی قسم کی محبت رکھتی ہے
موجودہ حالات میں علمائے کرام کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔مولانا محمد نعیم بٹ اہداف میں کامیابی کے لیے قربانی کا جذبہ بیدار ہونا چاہئے۔ حافظ یونس آزاد جہلم (محمد زاہد خورشید) مورخہ 24اگست بروز سوموار کو مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائدین نے تبلیغی و تنظیمی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے جامعہ علوم اثریہ جہلم کا دورہ کیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، بعد میں نائب مدیر حافظ عبدالغفور مدنی نے قائدین کا جامعہ میں آمد پر شکریہ ادا کیا،ان کے دورے کے مقاصد سے متعلق جماعتی احباب کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں! مولانا سعد محمد مدنی نے حاضرین سے مہمانوں کا تعارف کروایا۔جماعتی احباب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ عبدالغفار آف ڈسکہ نے کہا کہ جامعہ علوم اثریہ جہلم ہمارا دوسرا گھر ہے۔ حافظ عبدالغفور جہلمی مرحوم اور ان کے خاندان سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں، ان شاء اللہ ہماری اگلی نسلوں تک یہ روابط برقرار رہیں گے۔ مولانا محمد نعیم بٹ سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے کہا کہ دینی مدارس کو طلبا کی ذہن سازی کرنی چاہئے کہ دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیز انہوں نے کہا کہ مدارس میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد علمی و تحقیقی مراحل کا آغاز ہوتا ہے،لہٰذا یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم بڑے عالم بن چکے ہیں، بلکہ کتب کا مطالعہ جاری رکھنا چاہئے اور ملک پاکستان کے موجودہ حالات میں علمائے کرام کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے، پہلے وہ خود ملکی حالات سے اچھی طرح باخبر ہوں اور بعد میں عوام الناس کو بہتر رہنمائی کریں۔ حافظ یونس آزاد ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پنچاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جس تحریک نے بھی کامیابی حاصل کی ہے، اس کے پیچھے قائدین اور ورکرز کی خوب محنت اور قربانی کے جذبے کا عمل دخل ہے۔ نیز انہوں نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی خدمات کھلی کتاب کی طرح ہیں۔
پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر راشد منہاس نشان حیدر کا آج 49 واں یوم شہادت ہے، راشد منہاس نے 20 اگست 1971 کو جام شہادت نوش کر کے دشمن کی سازش ناکام بنائی تھی اور نشان حیدر پانے والے کم عمر ترین پائلٹ ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔پائلٹ آفیسر راشد منہاس نشان حیدر کے 49 ویں یوم شہادت پر جاری پیغام میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آج کا دن ہمیں فرض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید ، نشان حیدر کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے، مادر وطن کے لیے شہید راشد منہاس نےپاک فضائیہ کی عظیم روایات کو برقرار رکھا۔راشد منہاس، 17فروری 1951ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کرنے کے بعد 1968ءمیں پاکستان ایئر فورس اکیڈمی جوائن کی اور 1971 ءمیں 51ویں جی ڈی پی کورس میں کمیشن حاصل کیا۔20اگست 1971 ءکو راشد منہاس ٹی 33 جیٹ ٹرینر میں سولو فلائٹ کے لئے روانہ ہوئے، ٹیکسی کرتے ہوئے جب ان کاجہاز رن وے پر پہنچا تو انسٹرکٹر پائلٹ نے انہیں رُکنے کااشارہ کیا، جہاز روکنے پر انسٹرکٹر پائلٹ نے جہاز کا کنٹرول حاصل کرنےکےلئے عقبی کاک پٹ میں جانے لئے مجبور کیا اور جہازکے ٹیک آف کرتے ہی اس کا رُخ بھار ت کی جانب موڑ دیا۔طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کےلئے راشد منہاس سے جسمانی کش مکش بھی ہوئی، اس دوران جہاز بھارتی سرحد کےقریب پہنچ چکا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کی عزت ان کی زندگی سے زیادہ ہے، راشد منہاس نے جان بوجھ کر جہاز کا رُخ زمین کی جانب موڑ دیا، بھارتی سرحد سے 51کلومیٹر کے فاصلے پر ٹھٹھہ کے قریب جہاز گر کر تباہ ہوگیا۔راشد منہاس کو 21اگست 1971 ءکو کراچی کے آرمی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا، راشد منہاس کو ان کی بہادری اور وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا، وہ نشان حیدر کا اعزاز پانےوالے کم عمر ترین پائلٹ ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اُن کا ضمیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو گا، فلسطین سے متعلق ہم نے ﷲ کو جواب دینا ہے۔ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ساتھ خراب تعلقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے لیے معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتخانہ کھولنے پر بھی اتفاق ہوا۔ معاہدے پر باضابطہ دستخط آئندہ چند ہفتوں میں ہوں گے۔اس کے علاوہ سوڈان نے بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا۔ ترجمان سوڈانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ رواں برس یا اگلے برس کے اوائل تک ہوگا۔