رکن بلوچستان اسمبلی عبدالمجیداچکزئی کےخلاف اغواء کےبعدکوئٹہ میں قتل کاایک کیس سامنے آگیا۔قتل کےاس کیس میں مقامی عدالت نے عبدالمجیداچکزئی کودوروزہ ریمانڈ پرپولیس کےحوالےکردیاگیا۔کوئٹہ میں گزشتہ ماہ ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی کی ٹکرسےہلاکت کےکیس میں پہلے سے گرفتار ایم پی اے عبدالمجیداچکزئی کےخلاف قتل کاایک اورمقدمہ سامنے آگیا۔1992میں کوئٹہ کےتھانہ سول لائن میں درج ایک شخص کے قتل کےمقدمہ میں ملوث ایم پی اےعبدالمجیداچکزئی کوجوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔پولیس کےمطابق عبدالمجیداچکزئی کو1992ءمیں کوئٹہ میں ایک شخص کےقتل کامقدمہ میں عدالت پیش کیاگیا ہے،ان کےخلاف کوئٹہ کےسول لائن تھانہ میں چمن کےرہائشی عبدالغفارنامی ایک شخص کےقتل کامقدمہ درج ہے،جسے کوئٹہ کے جناح روڑ پر قتل کیاگیاتھا۔ایم پی اےعبدالمجیداچکزئی ٹریفک سارجنٹ کوگاڑی کی ٹکر سے ہلاکت کےکیس میں پہلے ہی ریمانڈ پر ہیں،7 روزہ ریمانڈ کی تکمیل پرعبدالمجیداچکزئی کو کل جمعرات کو انسداد دہشت گرد ی کی عدالت میں پیش کیاجاناہے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہےکہ جے آئی ٹی سے اپنے اوپر الزام کے بارے میں پوچھا جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی پاناما کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئیں۔ وہ تقریباً 2 گھنٹے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں۔مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیشی سے قبل اپنی والدہ کلثوم نواز سے ملیں اور اس موقع پر انہوں نے والدہ کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔
کلثوم نواز نے بیٹی کو گلے لگا کر رخصت کیا اور ان کے ہاتھ میں قرآن پاک بھی موجود تھا۔مریم نواز سخت سیکیورٹی میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں جہاں (ن) لیگ کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے کارکنان کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔
جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ 2 گھنٹے جے آئی ٹی کا سامنا کیا، جو کچھ جے آئی ٹی میں پوچھا گیا اس کاجواب دیا۔مریم نواز نے کہا کہ یہ ہمارا پہلا نہیں پانچواں احتساب ہے، بے رحمانہ احتساب کا باربار سامنا کیا ہے، ہم نے تین نسلوں کا حساب دیا اور دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ والد ،چچا اور بھائیوں کی پے درپے پیشیوں کے بعد پیش ہوئی، ہمارے پاس بہت راستے تھے اور ہم بھی استثنا کا راستہ استعمال کرسکتے تھے، ہم بھی کمردرد کا بہانہ بناکر اپنی گاڑی اسپتال لےجاسکتے تھے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ نوازشریف کی بیٹی ہوں لیکن میں لڑوں گی، اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے مجھے حق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔ان کا کہنا تھا کہ جن کو بیٹیوں کی قدرنہیں وہ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بیٹیوں کوشامل کرکے نوازشریف کوامتحان میں ڈالیں گے، وزیراعظم نوازشریف آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کھڑےرہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی والوں سے سوال کرنے سے قبل اجازت مانگی، میں نے جےآئی ٹی اراکین سے سوال کیا ہم پر الزام کیا ہے؟ میرے سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامے میں میرا نام نہیں تھا، پاناما لیکس سے پہلے مجھے ڈان لیکس میں بھی شامل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اس میں دیگر 450 افراد کے بھی نام ہیں، جن لوگوں نے پاناما لیکس سے متعلق کیس دائر کیا ان کی اپنی آف شور کمپنی ہے، ان کے نام پاناما میں نہیں تو اس لیے ان کی آف شورحلال باقیوں کی حرام۔وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ سازش کرنے والوں کو پتا ہے کہ وزیراعظم محب وطن ہیں، سیاسی مخالفین کو بتانا چاہتی ہوں کہ عوام نواز شریف کی طاقت ہیں، نواز شریف نہ خود جھکے گا نہ اپنے ووٹرز کو جھکنے دیں گے، جب جب نوازشریف کے خلاف سازش ہوئی وہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر آئے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کو 70 دن ہوگئے ہیں، آج مجھے احساس ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کے پاس کچھ نہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ ہم منی ٹریل بہت پہلے دے چکے ہیں، بار بار احتساب دے چکے ہیں اور دے بھی رہے ہیں، ہم نےوہ قرض بھی اتار دیا جو واجب بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان سے تعلق ہے اور حکمرانوں کا کڑا احتساب ہوتا ہے، جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ رلاؤں گا وہ سن لیں یہ طاقت اللہ کے پاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے والد تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم ہیں، وزیراعظم کا کاروبار سے تعلق بھی نہیں تھا، جن لوگوں کا کوئی کاروبار یا ذریعہ آمدن نہیں ان سے سوال نہیں پوچھا جاتا، جو الزامات لگائے گئے وہ ذاتی کاروبار سے متعلق تھے۔مریم نواز نے کہا کہ مخالفین جان لیں کہ نواز شریف واحد لیڈر ہیں جن پر قوم اعتماد کرتی ہے اور ڈرو اُس دن سے جب نواز شریف بے رحمانہ احتساب کے زخموں کو تمغوں کی طرح سینے پر سجا کر عوام کے پاس جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سینے میں دفن سازشیں بے نقاب کرنے پر مجبور نہ کرو۔
پاکستان تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں پہلی بار بڑے بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہورہا ہے نواز شریف اور اسحاق ڈار کے بچے بھی ارب پتی ہوگئے ۔چترال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاناما کیس سےپاکستان کی تاریخ بدل رہی ہے، یہ ہے نیا پاکستان، جہاں طاقتور اورکمزور قانون کی نظر میں برابر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کا پیسہ چوری ہو رہا ہے اور سارا پیسہ ادھر سے چوری ہو کر جا رہا ہے،ان کی جے آئی ٹی میں تلاشی ہو رہی ہے، چوری کرکے معصوم سی شکلیں بناتے ہیں ۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر مسئلے کے پیچھے کرپشن ہے، ہمارے حکمران کمیشن کے لیے کوئلہ اور فرنیس آئل کے منصوبوں پرکام کررہے ہیں، قرضے واپس کرنےکے لئے ٹیکس لگایا جاتا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی نے کہا ہے کہ دس تاریخ کو کیا ہونا اور کیا نہیں ہونا، ہم انصاف چاہتے ہیں، رپورٹ میں قطری شہزادے کا بیان شامل ہونے تک اس کی اہمیت نہیں ہوگی۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب آپ کے کئی چہرے ہیں، ہمارا تو ایک چہرہ ہے، عمران خان آپ کے کتنے چہرے ہیں؟آصف کرمانی نے کہا ہے کہ جوغنڈہ گردی ،دھونس،دھاندلی سےاقتدارمیں آناچاہتےہیں ان کی خواہشات ملیامیٹ ہوں گی۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل پر مٹھائیاں بانٹی گئیں،خوشی اس لیے منائی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں نواز شریف کو نااہل نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان عوام الناس میں گمراہی پھیلاتے ہیں، وہ اور ان کے حواری عجیب کہانیاں اور باتیں کرکے عوام کو کنفیوژ کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔آصف کرمانی نے مزید کہا کہ قطر کے شہزادے نے جے آئی ٹی کو کہا کہ سوالنامہ بھجوا دیں، جواب دےدوں گا تاہم قطری شہزادے کو لکھ کر بھیجا گیا کہ ہم آپ کو سوالنامہ نہیں بھیجیں گے۔آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ سوالنامہ بھیجنے سے انکار سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین نہیں؟
وزیراعظم کےصاحبزادے حسین نواز چھٹی بار جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوگئے۔حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی پر (ن) لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر موجود تھی۔اس موقع پرحسین نواز کی سیکورٹی وی وی آئی پی ون قراردی گئی۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کےاطراف میں سیکورٹی کےغیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے جب کہ اطراف میں لگائی گئی سیکورٹی باڑ میں اضافہ اور آئی ایٹ پل سےفیڈرل جوڈیشل اکیڈمی جانے والاراستہ بھی بند رکھا گیا۔وزیراعظم کےصاحبزادے حسین نواز کی آج جے آئی ٹی کے سامنے چھٹی مرتبہ پیشی ہوئی۔ اس سے قبل وہ پہلی بار 28 مئی، دوسری بار 30 مئی ،تیسری بار یکم جون، چوتھی مرتبہ 3جون جب کہ پانچویں بار 9جون کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی 15 جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر لگ بھگ 3 گھنٹے تک سوالات کے جوابات دیئے تھے۔اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔شریف خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر اور وزیرخزانہ اسحاق ڈاربھی جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دیا تھا اور گزشتہ ہفتے عدالت عظمٰی کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت میں جمع کرائے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ مسلم لیگ ن کے خلاف بھی آیا تو سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہیں نکلیں گے۔جیونیوز کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو میں سعد رفیق کا کہنا تھا کہ 2018 تک اقتدار کی مدت پوری کرنے کی کوشش کر یں گے۔انہوں نے کہا کہ زرداری حکومت کی مدت پوری کرا نے میں تکالیف بر داشت کرسکتے ہیں تو اپنی حکومت کا بھی ایک ایک منٹ پو را کرنا چاہتے ہیں مگر نقصان صرف ہمارا نہیں عمران خان کا بھی ہو گا۔ ان کے خلاف بھی عدالتوں میں کیس ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے مزید کہا کہ 2018 سے پہلے انتخابات میں جانا پڑ گیا تو بھی کوئی پر یشانی نہیں، 4 سال سے ریت میں پانی نہیں ڈالا کام کیا ہے۔
پاناما پیپرز کی تحقیقات سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے دوارکان قطری شہزادے حمد بن جاسم کا بیان ریکارڈ کرنے دوحہ روانہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر کامران اور عرفان منگی آج صبح دوحہ روانہ ہوئے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان دبئی پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ دوحہ جائیں گے۔اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کا صرف ایک رکن قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے دوحہ جائے گا۔
ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کئی مقامات پر بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی جبکہ حب میں بارش سے مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔بلوچستان میں حب، خضدار لورالائی، موسیٰ خیل سمیت دیگر شہروں میں بارش کا سلسلہ گزشتہ تین دن سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔حب میں پتھرکالونی دارو ہوٹل کے مقام پر بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے کے واقعات میں ملبے تلے دب کر 5 افراد جاں بحق ہوئے جن کی لاشیں نکال لی گئیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔راجن پور ،کوہ سلیمان کے پہاڑی برساتی ندی نالوں کا سیلابی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے تاہم مختلف علاقوں میں سیلابی پانی سے فصلیں اور مکانات متاثر ہوئے ہیں۔سندھ میں حیدر آباد ،میرپور خاص، ٹھٹھہ، بدین، سانگھڑ سمیت دیگر شہروں میں بھی بارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے ۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ کمانڈنٹ ایف سی پارا چنار کو تبدیل کردیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پارا چنار دھماکوں میں ملوث عناصر کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کیا جائے گا جب کہ کمانڈنٹ ایف سی پارا چنار کو تبدیل کردیا گیا ہے۔سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قبائلی عمائدین سے ملاقات اور جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی کے لئے پارا چنار میں مزید سیکیورٹی بھیجی جارہی ہے۔22 جون کو پارا چنار میں کڑمان اڈہ کے قریب لوگ عید کی خریداری میں مصروف تھے کہ یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوگئے جس کے نتیجے میں 75 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ پارا چنار حملے کے متاثرہ افراد کے اہلخانہ کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کمانڈنٹ ایف سی کو تبدیل کیا جائے۔
امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی نئی کتاب میں پاکستان میں گرفتاری سے لے کر رہائی تک کی سنسنی خیز داستان بیان کردی ہے۔ریمنڈ ڈیوس کے مطابق اسے کوٹ لکھپت جیل سے رہا کرانے میں جان کیری، نواز شریف، آصف زرداری، جنرل پاشا اور حسین حقانی نے مل کر مدد کی۔ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ بھی خفیہ ایجنسی کے کئی اہلکار اس کی رہائی کے وقت عدالت میں موجود تھے جب کہ پاکستان سے رہائی کے لئے جنرل پاشا نے جتنی مدد کی شاید ہی کسی نے کی ہو۔رہائی کے وقت جنرل پاشا لاہور کی سیشن عدالت میں موجود تھے، جنرل پاشا کے ہاتھ میں موبائل فون تھا جس کے ذریعے وہ عدالت کی سماعت سے متعلق امریکی سفیر کیمرون منٹر کو اپ ڈیٹ کررہے تھے۔کتاب کے متن کے مطابق جان کیری کی نواز شریف سے ملاقات کے بعد رہائی کے راستے ہموار ہونا شروع ہوئے اور رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد جنرل پاشا کو مدت ملازمت میں توسیع بھی مل گئی تھی۔ʼThe Contractor: How I Landed in a Pakistani Prison and Ignited a Diplomatic Crisisʼ نامی یادداشت میں امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق ملازم ریمنڈ ڈیوس نے پاکستان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔