فرانس (میاں عرفان صدیق) پیرس کی سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیت چوہدری محمد رزاق ڈھل کے والد مرحوم کے انتقال پر تعزیت کے لئے ان کے گاڑیوں کے شوروم پر دوستوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ پیرس کی سیاسی وسماجی اور کاروباری معروف شخصیات نے چوہدری محمد رزاق ڈھل کے صاحبزادے چوہدری رضی الحسن سے اظہار افسوس کیا۔
لاہور :(نمائندہ خصوصی) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری نثار کاظمی نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں ڈی آئی خان میں محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی آئی خان میں ایک بار پھر پاکستان و اسلام دشمن عناصر محب وطن پاکستانیوں کو اپنی نفرت کا نشان بنا رہے ہیں۔انہوں نے واقعہ ملوث ملزمان کو جلداز جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ ملت تشیع پاکستان کی تاریخ خون سے سرخ ہے، ہم نے ہمیشہ صبر و استقامت سے ظالمین کا سامنا کیا ہے، سینکڑوں شہدا کے لاشے اٹھائے لیکن قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، دن دیہاڑے شیعہ ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا جانا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان کی سرزمین پر ناسور ہیں، ان کے خاتمہ میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔نثار کاظمی نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب ہو یا رد الفساد مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے سیکیورٹی اداروں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
فرانس (پ۔ر) دورہ پاکستان سے واپس فرانس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ھوئے تحریک انصاف فرانس، یورپ کے سینئر رہنما یاسر قدیر نے یورپ بھر کے کارکنان کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ ان کے حالیہ دورہ پاکستان میں چئیرمین عمران خان سمیت دیگر سینئر قیادت سے تفصیلی ملاقات ھوئی ہے اور یورپ میں مقیم کارکنان کے لیے خوشخبری ہے کہ چیرمین عمران خان کے مجوزہ دورہ یورپ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے اور جلد ہی تمام معاملات و شیڈول کو حتمی شکل دے دی جائے گی اور بہت جلد پاکستان کے ہر دل عزیز لیڈر اپنے کارکنان و یورپ میں مقیم اورسیز پاکستانیوں کے درمیان ہوں گے اور انشاء اللہ قائد تحریک کے دورہ یورپ میں ان کا تاریخی استقبال کیا جائے گا۔انھوں نے بتایا کہ یورپ میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے ان کا سیکرٹری او آئی سی سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے اورجلد ہی یورپ بھر میں تنظیمی انتخابات شروع ہونے والے ہیں اس حوالے سے تمام چپٹرز کو ہدایات کر دی گئی ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ممبرشپ کریں اور ان انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے حالیہ دورہ پاکستان میں سینئر قیادت سے یورپ کے حوالے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ہے جس میں یورپ بھر میں تنظیمی صورتحال اور پاکستان میں جاری پانامہ لیکس کے حوالے سے یورپ میں مقیم پاکستانیوں کی سوچ اور تحریک انصاف سے وابستہ توقعات سے انہوں نے لیڈرشپ کو آگاہی دی ہے۔
تحریر : علی عبداللہ
“انسان ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے _ لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انسان کو اپنا غلام بنائے ” یہ اس اعلان کے ابتدائی جملے ہیں جسے اعلان آزادی کہا جاتا ہے _ امریکہ کو برطانیہ سے آزاد کروا کے اعلان آزادی کرنے والا یہ شخص جارج واشنگٹن تھا اور یہ آزاد جمہوریت کی پہلی باقاعدہ شکل تھی _ دور جدید میں جمہوریت کو ہی بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے اور جو شخص جمہوریت پر اعتراض کرے اسے سیاست میں جاہل سمجھا جاتا ہے _ دنیا میں رائج مختلف سیاسی نظاموں میں سے ایک جمہوری نظام بھی ہے _ اس کی اہمیت کے پیش نظر آجکل ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ اسے جمہوری نظام کی تاریخ اور نظریات کا علم ہو۔جمہوریت انگریزی لفظ “ڈیموکریسی” کا ترجمہ ہے اور عربی میں اسے “دیمقراطیہ” بولا جاتا ہے _ گو کہ سیاست کے شہسواروں کے درمیان جمہوریت کے معنوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن جمہوریت کے روایتی معنی ہیں, ” ایسی حکومت جس میں عوامی رائے کو کسی بھی شکل میں حکومت کی پالیسیاں بنانے میں بنیاد بنایا جائے ” جمہوریت جدید دنیا کی پیداوار نہیں بلکہ عہد یونان میں بھی جمہوریت کا نظریہ موجود تھا _ وہاں جمہوریت کا تصور سادہ اور محدود سا تھا جس میں ایسا کوئی دستور موجود نہیں تھا جو طے کرے کہ کن معاملات میں عوام رائے دے سکتی ہے اور کن معاملات میں بادشاہ عوامی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے _ یونان کے چھوٹے چھوٹے شہر ایک مستقل ریاست ہوا کرتے تھے جن میں سپارٹا اور ایتھنز وغیرہ مشہور ہیں _ ان ریاستوں میں بادشاہ عوامی رائے لینے کے لیے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتے اور کسی بھی فیصلے میں عوامی رائے طلب کر لیتے تھے _ لیکن جن ملکوں کی آبادی بڑی تھی اور وہاں ایسا ممکن نہیں ہوتا تھا جیسا کہ سلطنت روم وغیرہ, وہاں جمہوریت کے اس تصور کو محدود کر دیا گیا اور بادشاہوں نے اپنے مشورے اور رائے کے لیے مجلس شوریٰ اور کونسل بنا لیں _ رفتہ رفتہ عوام کو رائے میں شامل کرنا ختم ہوتا چلا گیا _ مطلق العنانی نظام میں جمہوریت عملی طور پر دم توڑ گئی۔
غالباً اٹھارویں صدی میں دوبارہ سے جمہوری تصورات نے سر اٹھانا شروع کیا اور آزاد خیال جمہوریت کی بنیاد ڈالی گئی _ جدید جمہوریت کے بانی تین لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جن میں وولٹائر, مونٹیسکو اور روسو شامل ہیں _ یہ تینوں اشخاص فرانس سے تعلق رکھتے تھے اور انہی کے نظریات کے نتیجے میں جدید جمہوریت وجود میں آئی _ وولٹائر نے فلسفے , سائنس اور آرٹ پر بہت سی کتابیں لکھیں _ اسکا خیال تھا کہ تمام آسمانی مذاہب تحریف شدہ ہیں اور اب مذہب صرف ایک ہی ہے جسے اس نے فطری مذہب کا نام دیا _ دوسری بات جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں چرچ یا حکومت کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں دخل اندازی کر سکے _ اور جب یہ بات طے ہو گئی کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے تو سیکولرازم وجود میں آیا _ ان سب نظریات کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ چرچ کا مذہب کے نام پر ظلم و ستم ڈھانا تھا _ جمہوریت کی نئی صورت پیش کرنے والا دوسرا شخص مونٹیسکو تھا۔
اس کا نظریہ تفریق اختیارات کا نظریہ کہلاتا ہے _ اس کے مطابق اختیارات کسی ایک شخص یا ادارے کو نہیں سونپنے چاہییں بلکہ مختلف اختیارات مختلف اداروں یا افراد میں تقسیم کر دیے جانے چاہییں اور یہ افراد اور ادارے مکمل آزاد ہوں _ اسی بنیاد پہ قانون سازی کو مقننہ کا نام دے کر الگ ادارہ قائم کیا گیا _ قانون کے مطابق ملک چلانے کا اختیار جس ادارے کو سونپا گیا اسے انتظامیہ کا نام دے دیا گیا _ اسی طرح قانون کی تشریح اور تصفیہ کے لیے عدلیہ کے نام سے تیسرا ادارہ قائم ہوا _ مونٹیسکو کے مطابق ان تمام اداروں کو خود مختار ہونا چاہیے کوئی کسی دوسرے کے کاموں میں دخل اندازی نہ کرے _ تیسرا شخص روسو تھا جس نے جمہوریت کی صورت گری کی _ اسی نے ہی مشہور معاہدہ عمرانی میں تجدید کی اور کہا کہ معاہدہ عمرانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حکومت میں افراد کو آزادی ہو اور حکومت افراد کی نمائندہ ہو _ عوام اپنی حکومتوں کی نمائندگی کرے اور ہر فرد کے مفادات کا تحفظ کیا جائے _ ان تین بنیادی نظریات کے نتیجے میں جدید سیکولر جمہوریت وجود میں آئی۔
جدید دنیا میں جمہوریت امریکہ کی آزادی اور انقلاب فرانس سے تیزی سے پھیلی اور اب ہر ملک جمہوریت نافذ کرنے پر کوشاں ہے _ درحقیقت انقلاب فرانس پوری دنیا میں جمہوریت کے نفاذ کا سب سے اہم سبب سمجھا جاتا ہے کیونکہ امریکہ یورپ سے بہت دور ہے اور وہاں کے جمہوری نظریات بہت زیادی مؤثر طریقے سے یورپ تک نہیں پہنچ پائے تھے۔
تحریر : شہزاد عمران رانا
آج 25فروری بروز ہفتہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن 2017-18ہونے جارہا ہے جس کی نشستوں کی تعداد لاہور بار کے مقابلے میں کافی کم ےعنی چارہے جن میں صدر، نائب صدر،سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں مگر یہاں ووٹرز کی تعداد کافی زیادہ ہے کیونکہ یہاں سو سے زائد بار ایسوسی ایشنز کے ممبران جو لاہور ہائی کورٹ کی حدود میں آتے ہیں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ یہاں بھی صدر کی نشست پر ہربار حامد خان کے پروفیشنل گروپ اور عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے مابین ہی مقابلہ ہوتا ہے گزشتہ سال حامد خان گروپ نے کافی عرصے بعد صدارت اپنے نام کی تھی جس میں راناضیاءعبدالرحمن نے اپنے مضبوط سیاسی حریف رمضان چوہدری کو شکست سے دوچارکیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا آخری الیکشن تاریخ میں پہلی بارمکمل طور پر ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کے تحت ہوا تھااوراِس بار عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدارتی امیدوار رمضان چوہدری نے پہلے کافی کوشش کی کہ الیکشن بذریعہ ”دستی“طریقہ کار سے ہو مگر اِس بار بھی الیکشن”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “ کے تحت ہی ہوگا ۱ور حالیہ دہشت گردی کے پیشِ نظرسیکورٹی کے لیے پاکستان رینجرز سے مدد مانگی گئی ہے۔
عاصمہ جہانگیر گروپ نے دوبارہ رمضان چوہدری کوہی میدان میں اتارا ہے مگر اِس بار دو ایسے امیدوار بھی میدان میں کودپڑے ہیں جو ہمیشہ اِس گروپ کے سیاسی حلیف رہے ہیں اور جو رمضان چوہدری کے لئے بڑی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اِن میں سابقہ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے فرزند اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنما سردارخرم لطیف کھوسہ اور ایک مشہور وکیل راہنما آزر لطیف خان صدر کے لئے کھڑے ہیں جبکہ حامد خان گروپ کی طرف سے لاہور بار کے سابقہ صدر چوہدری ذوالفقارعلی میدان میں ہیں اِس طرح عاصمہ جہانگیر گروپ کے تین امیدواروں کا حامد خان گروپ کے ایک امیدوار سے مقابلہ ہے۔
نائب صدر کی نشست پرون ٹو ون مقابلہ ہے جس میں دونوں امیدواروں کا یہ دوسرا الیکشن ہے جن میں قائداعظم لاءکالج کے بانی حاجی چوہدری سلیم جبکہ اِن کے مدمقابل ممبر پنجاب بار کونسل آغا فیصل کے امیدوار اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنماراشد لودھی ہیں دونوں امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے یاد رہے کہ حاجی چوہدری سلیم پنجاب بار کونسل کے انتخابات 2014میں بھی لاہور سیٹ کے لئے امیدوار تھے اور ہارگئے تھے ویسے اب تک حاجی چوہدری سلیم کسی بھی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
Election
سیکرٹری کی نشست پر کل پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدوار پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میںحامد خان گروپ کے سرگردہ راہنما ممبرپاکستان بار کونسل مقصود بٹرکے امیدوار حسن اقبال وڑائچ جبکہ اَسی گروپ کے ایک اور راہنما ممبرپاکستان بار کونسل طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار عامر سعید راں بھی میدان میں ہیں اِن کے علاوہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے راہنماسیالکوٹ سے ممبر پنجاب بار کونسل رفیق جٹھول کے امیدوار عرفان ناصر چیمہ جن کو اِسی گروپ کے لاہور سے ممبرپنجاب بار کونسل سید فرہادعلی شاہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ملک زاہد اسلم اعوان اور میاں مظفر حسین کو مختلف بار ایسوسی ایشنز کی موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے یعنی سیکرٹری کی نشست پر بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ الیکشن لاہور بار میں سید فرہادعلی شاہ کے امیدوار برائے نائب صدر عرفان صادق تارڑ اور طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار برائے سیکرٹری ملک فیصل اعوان کامیاب رہے تھے۔ فنانس سیکرٹری یعنی لاہور ہائی کورٹ بارکی آخری نشست۔اِس نشست پر کل تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدواربھی پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میں سابقہ فنانس سیکرٹری اور آئندہ امیدوار برائے ممبر پنجاب بار کونسل بھکر سیٹ سید اخترحسین شیرازی کے امیدوارحافظ اللہ یار سپراءجن کو موجودہ فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، اِ ن کے علاوہ سابقہ سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)لائیزز فورم کے سرکردہ راہنمارانا اسد اللہ خاں کے امےدوار محمد ظہیر بٹ اورایک آزاد امیدوار انتظار حسین کلیار شامل ہیں۔
اِس نشست پربھی تمام امیدواروں کومختلف بار ایسوسی ایشنز کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے اِس نشست پر بھی تمام امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تصور کیا جا رہاہے۔ویسے بھی وکلاءسیاست میں قبل ازوقت پیش گوئی غلط بھی ہوجاتی ہے کیونکہ اِس الیکشن میں بھی لاہور بار کی طرح مختلف گروپوں کی آخری وقت کی ”معاملہ کاری“ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور جو بڑے بڑے برُج الٹ بھی دیتی ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیرداخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی کم ہوئی ہے، بتایا جائے کہ سہون میں سیکورٹی کی ذمے داری وفاق کی تھی یا صوبے کی، دہشت گردی کے واقعات پر سیاست کرنا گناہ عظیم ہے۔وزیرداخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انفرادی کریڈٹ لینا مناسب نہیں، سہون واقعے پر وفاقی حکومت اور وزیر داخلہ پر تیر چلائے جاتے رہے، سیہون میں سیکیورٹی کی ذمے داری وفاقی حکومت کی تھی یا سندھ حکومت کی؟ مزار پر واک تھرو گیٹس کام نہیں کر رہے تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اے پی ایس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا تھا، 2 سال قبل میڈیا سے دہشت گردوں کو بلیک لسٹ کرنے کی اپیل کی تھی، اہم ملکی امور پر مشاورت کے لئے میڈیا تنظیموں کے سربراہوں کو بلایا ہے، میری درخواست پر میڈیا نے دہشت گردوں کی رننگ کمنٹری ختم کر دی۔انہوں نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تشویش کے بادلوں کو نزدیک نہ آنے دیں،عوام کو متحرک اور پر عزم کریں، وہ جذبہ پیدا کریں، جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکے، تجزیہ کریں پچھلے ساڑھے 3 برس میں سیکیورٹی کے حالات میں بہتری آئی یا نہیں؟ملکی سلامتی کے لئے دہشت گردوں کی تشہیر روکنا ضروری ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کسی چیز کا کریڈٹ نہ لینے اورکسی پر تنقید نہ کرنے پر عمل کیا، دہشت گردی کے جنگ میں انفرادی کریڈٹ لینا ٹھیک نہیں، جون 2013 میں روزانہ 6 سے 7 دھماکے ہوتے تھے اور جس دن کم دھماکے ہوتے اس دن خبر وہ ہوتی تھی۔
تحریر : شہزاد عمران رانا
حصہ اول میں، میں نے 23 جنوری کو ہونے والے لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن 2017-18 سے قبل کا جائزہ پیش کیا تھا جس کی صدارت حامد خان گروپ کے نام رہی۔ اس حصہ میں، میں 25 فروری کو ہونے والے لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کی بات کروں گاجس کی نشستوں کی تعداد لاہور بار کے مقابلے میں کافی کم ےعنی چارہے جن میں صدر، نائب صدر،سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں مگر یہاں ووٹرز کی تعداد کافی زیادہ ہے کیونکہ یہاں سو سے زائد بار ایسوسی ایشنز کے ممبران جو لاہور ہائی کورٹ کی حدود میں آتے ہیں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ یہاں بھی صدر کی نشست پر ہربار حامد خان کے پروفیشنل گروپ اور عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے مابین ہی مقابلہ ہوتا ہے گزشتہ سال حامد خان گروپ نے کافی عرصے بعد صدارت اپنے نام کی تھی جس میں رانا ضیاء عبد الرحمن نے اپنے مضبوط سیاسی حریف رمضان چوہدری کو شکست سے دوچارکیا تھا۔عاصمہ جہانگیر گروپ نے دوبارہ رمضان چوہدری کوہی میدان میں اتارا ہے مگر اِس بار دو ایسے امیدوار بھی میدان میں کودپڑے ہیں جو ہمیشہ اِس گروپ کے سیاسی حلیف رہے ہیں اور جو رمضان چوہدری کے لئے بڑی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اِن میں سابقہ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے فرزند اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنما سردارخرم لطیف کھوسہ اور ایک مشہور وکیل راہنما آزر لطیف خان صدر کے لئے کھڑے ہیں جبکہ حامد خان گروپ کی طرف سے لاہور بار کے سابقہ صدر چوہدری ذوالفقار علی میدان میں ہیں اِس طرح عاصمہ جہانگیر گروپ کے تین امیدواروں کا حامد خان گروپ کے ایک امیدوار سے مقابلہ ہے۔نائب صدر کی نشست پرون ٹو ون مقابلہ ہے جس میں دونوں امیدواروں کا یہ دوسرا الیکشن ہے جن میں قائداعظم لاءکالج کے بانی حاجی چوہدری سلیم جبکہ اِن کے مدمقابل ممبر پنجاب بار کونسل آغا فیصل کے امیدوار اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنماراشد لودھی ہیں دونوں امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے یاد رہے کہ حاجی چوہدری سلیم پنجاب بار کونسل کے انتخابات 2014میں بھی لاہور سیٹ کے لئے امیدوار تھے اور ہارگئے تھے ویسے اب تک حاجی چوہدری سلیم کسی بھی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سیکرٹری کی نشست پر کل پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اور یہ تمام امیدوار پہلی بارالیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میںحامد خان گروپ کے سرگردہ راہنما ممبرپاکستان بار کونسل مقصود بٹرکے امیدوار حسن اقبال وڑائچ جبکہ اَسی گروپ کے ایک اور راہنما ممبرپاکستان بار کونسل طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار عامر سعید راں بھی میدان میں ہیں اِن کے علاوہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے راہنماسیالکوٹ سے ممبر پنجاب بار کونسل رفیق جٹھول کے امیدوار عرفان ناصر چیمہ جن کو اِسی گروپ کے لاہور سے ممبرپنجاب بار کونسل سید فرہادعلی شاہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ملک زاہد اسلم اعوان اور میاں مظفر حسین کو مختلف بار ایسوسی ایشنز کی موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے یعنی سیکرٹری کی نشست پر بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔یاد رہے کہ حالیہ الیکشن لاہور بار میں سید فرہادعلی شاہ کے امیدوار برائے نائب صدر عرفان صادق تارڑ اور طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار برائے سیکرٹری ملک فیصل اعوان کامیاب رہے تھے۔فنانس سیکرٹری یعنی لاہور ہائی کورٹ بارکی آخری نشست۔اِس نشست پر کل تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدواربھی پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میں سابقہ فنانس سیکرٹری اور آئندہ امیدوار برائے ممبر پنجاب بار کونسل بھکر سیٹ سید اخترحسین شیرازی کے امیدوارحافظ اللہ یار سپراءجن کو موجودہ فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، اِ ن کے علاوہ سابقہ سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)لائیزز فورم کے سرکردہ راہنمارانا اسد اللہ خاں کے امےدوار محمد ظہیر بٹ اورایک آزاد امیدوار انتظار حسین کلیار شامل ہیں اِس نشست پربھی تمام امیدواروں کومختلف بار ایسوسی ایشنز کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے اِس نشست پر بھی تمام امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تصور کیا جا رہاہے۔ویسے بھی وکلاءسیاست میں قبل ازوقت پیش گوئی غلط بھی ہوجاتی ہے کیونکہ اِس الیکشن میں بھی لاہور بار کی طرح مختلف گروپوں کی آخری وقت کی ”معاملہ کاری“ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور جو بڑے بڑے برُج الٹ بھی دیتی ہے۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا آخری الیکشن تاریخ میں پہلی بارمکمل طور پر ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کے تحت ہوا تھا مگر اِس بار لاہور بار ایسوسی ایشن کا الیکش”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم“کے تحت تمام تیاریوں کے باوجود نہیں ہوسکا اور ایک ہفتے کے لئے ملتوی بھی کیا گیا تھا اِس بات کی وجہ سے عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار رمضان چوہدری نے چیئرمین الیکشن بورڈجاوید اقبال راجہ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ وہ آخری الیکشن میں”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوگئے تھے جس پر انہوں نے اپنے ہی گروپ کے اہم راہنما اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل محمد احسن بُھون سے ”دستی “ طریقہ سے الیکشن کروانے کے لئے حکم نامہ بھی حاصل کرلیا ہے جس کوصدراتی امیدوار خرم لطیف کھوسہ نے مداخلت قرار دیتے ہوئے چیلنج کردیا ہے اور حامد خان گروپ کے امید وار چوہدری ذوالفقارعلی بھی اِس معاملے کو چیلنج کرنے والے ہیں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کس طریقہ کے تحت ہوتا ہے یا مقررہ وقت سے ملتوی ہوجاتا ہے ویسے وکلاءبرادری کی اکثریت وقت کے ضائع سے بچنے کے لئے ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “ کے تحت الیکشن کو ہی پسند کرتی ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے صوفیائے کرام اور مذہبی درگاہیں سب کے لیے قابل احترام ہیں، صوفیائے کرام اور مذہبی درگاہوں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔وزیراعظم نواز شریف نے سہون کے دورے پر درگاہ پر حاضری کی خواہش کا اظہارکیا تھا۔وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ وزیراعظم نے حکومت سندھ کی ایڈوائس پر وزیراعظم نے وہاں جانے سے اجتناب کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ حکومت نے بتایا تھا کہ درگاہ لال شہباز قلندر پر فورنزک شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں، نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شدت پسندی کم یا ختم کرنے کیلئے پاکستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے، عالمی طاقتوں کو پاکستان کے کردار کا اندازہ کرنا چاہئے۔جنوبی ایشین رائیزنگ کانفرنس سے خطاب میں سابق صدر نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو 80 کی دہائی میں جہادی پالیسی کی ضرورت تھی، عالمی طاقتوں کے تعاون سے پاکستان نے طالبان بنائے، اسلام آباد پر مذہبی شدت پسندی کو فروغ دینے کا الزام غلط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اسٹرٹیجک تعلقات میں جنوب ایشائی ممالک کے ساتھ توازن رکھنا پڑے گا جبکہ جنوب ایشیائی ممالک کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، بینکنگ سیکٹر، زرمبادلہ کا نظام بہتر کرنا ہو گا۔پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ فوج کی خواہشات کے برخلاف پاک فوج کے بجٹ کو اپنے دور حکومت میں کم کیا تھا، پاکستان اور بھارت کو سرکریک، سیاچن، کشمیر جیسے مسائل کے حل کی طرف بڑھنا پڑے گا۔
سیسن (نمائندہ خصوصی) سیکیورٹی حکام ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا شہر الباب سے 8 کلو میٹر دور سیسن کے علاقے میں ہواحکام کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سے گنجان آباد علاقے میں دھماکا کیا ہے۔الباب جسے چند گھنٹے قبل ہی ترک فورسز نے داعش کے قبضے سے چھڑایا ہے۔ ترکی اور اتحادی افواج نے داعش کے خلاف اگست 2016 میں آپریشن کا آغاز کیا تھا۔