مصر نے فلسطین کی فتح تحریک کی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکرٹری جبریل الرجوب کو ملک میں داخل ہونے سے منع کرکے واپس بھیج دیا ہے۔جبریل الرجوب مصر میں عرب لیگ کے زیر اہتمام تشدد اور دہشت گردی کے حوالے سے ایک کانفرنس میں مدعو تھے، لیکن مصری انتظامیہ نے انکو واپس بھیج دیا، جواب میں فلسطینی وفد نے مذکورہ کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا۔یاد رہے کہ مصر اور غزہ کی حماس تحریک کے درمیان حالیہ قربت کی وجہ سے مصر اور فتح تحریک کے درمیان دوریاں متوقع تھیں۔ الرجوب ماضی میں فلسطین کے ٹاپ خفیہ ایجنسی کے سربراہ تھے اور اس پر حماس تحریک کے لیڈران اور کارکنوں پر تشدد اور قتل اور گرفتاریوں کے الزامات ہیں۔
عراقی سرکاری فوجی دستے موصل کے مغرب میں واقع حکومت کی مرکزی عمارتوں کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جنگجوئوں کو گھیرے میں لے لیا۔عراقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سریع الحرکت دستے موصل کی صوبائی کونسل اور دیگر سرکاری عمارتوں کے اتنے نزدیک ہیں کہ اب وہ ان عمارتوں میں مورچہ بند داعش کے جنگجوؤں کو براہ راست نشانہ بنا سکتے ہیں۔گزشتہ روز ہی عراقی فوج موصل شہر کے جنوب میں واقع ایک اہم پل تک پہنچ گئی تھی۔ موصل کو اسلامک اسٹیٹ سے آزاد کرانے کی عسکری کارروائی گزشتہ برس اکتوبر سے جاری ہے۔
ایران میں پولیس نے ایک خاتون انسانی حقوق کارکن فرزانہ جلالی کو مغربی شہر کرمان شاہ سے حراست میں لے کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ایرانی نیوز ویب پورٹل ’’بیدار زنی‘‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے کرد انسانی حقوق کارکن فرزانہ جلالی کو محض اس لیے حراست میں لیا ہے کہ اس نے اپنی ہتھیلی پر ایک جملے پر مبنی مطالبہ کیا تھا جس کے الفاظ ’خواتین پرتشدد بند کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی پولیس نے متعدد مرتبہ سماجی کارکن فرزانہ جلالی کو سیکیورٹی مراکز میں طلب کیا تھا۔فارسی نیوز ویب پورٹل کے مطابق فرزانہ جلالی کو حال ہی میں ایران کی رجسٹریشن آفس سے اپنے دستاویزات مکمل کرنے کے لیے دفتر آنے کی ایک کال آئی تھی جس کے بعد وہ دفتر پہنچی تو وہاں موجود پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد سے وہ لا پتا ہیں۔
ممبئی : بالی ووڈ کے دل کی دھڑکن سلمان خان نے ایک بار پھر شائقین کے دل جیتنے کیلئے کمال کردیا، اپنی نئی آنیوالی فلم ”ٹائیگر زندہ ہے“ کیلئے 17 کلو وزن کم کرلیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بالی ووڈ اسٹار اداکار سلمان خان نے نئی آنیوالی فلم ”ٹائیگر زندہ ہے“ کیلئے اپنا وزن 17 کلو کم کرلیا، سلمان خان نے فلم ”سلطان“ میں اپنے کردار کیلئے وزن بڑھایا تھا، اب وہ مسلسل ڈائٹنگ اور ورزش کرکے وزن گھٹا رہے ہیں۔
فلم ”ٹائیگر زندہ ہے“ میں سلمان شائقین کو مختلف انداز میں نظر آئیں گے، فلم کی ہدایات علی عباس ظفر دیں گے جبکہ دبنگ خان کی ہیروئن کترینہ کیف ہوں گی
دبئی: پی ایس ایل کے اہم میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی جیت میں جہاں ان کی کھلاڑیوں کی محنت ہے وہیں گلوکارہ مومینہ مستحسن کی موجودگی بھی تماشائیوں کو خوش کردیتی ہے۔دبئی کے اسٹیڈیم میں موجود مومینہ نے کوئٹہ گلایڈیٹرزکےخلاف میچ میں اپنی ٹیم کو بڑھ چڑھ کر سپورٹ کیا۔ انھوں نے پاکستان کی ویمنز ٹیم کی کھلاڑیوں کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیا اور خوب انجوائے کیا۔مومینہ کے ساتھ ویمنز ٹیم کی بسمہ معروف،جویریہ اور انعم امین بھی موجود تھیں۔ سیاہ ٹاپ اور نیلی جینز میں مومینہ بہت جاذب نظر دکھائی دے رہی تھیں
ممبئی / لاس اینجلس : معروف بالی ووڈ اداکارہ عائشہ ٹاکیہ کی پلاسٹک سرجری خراب ہوگئی، نجی تقریب میں شرکت کیلئے جب وہ پہنچیں تو لوگ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔
پلاسٹک سرجری آج کل ہر ہالی، بالی اور لال ووڈ اداکار اور اداکارہ کا اولین مقصد بن گئی ہے، اس بات سے قطع نظر کہ اس کے کیا اثرات شخصیت اور ان کی زندگی پر پڑیں گے، اداکارئیں خصوصی پلاسٹک سرجری کو اہمیت دے رہی ہیں۔کچھ اداکار اور اداکارئیں سرجری سے اچھی شکلیں تو کچھ بد نما شکل کے تجربوں سے گزرے، ایسی ہی تازہ مثال بالی ووڈ اداکارہ عائشہ ٹاکیا کی ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں جاری رپورٹس کے مطابق بھارت کی معروف اداکارہ عائشہ ٹاکیہ نے شادی کے بعد سے بالی ووڈ کو تو خیر باد کہہ تاہم حالیہ تقریب میں کافی عرصے بعد نظر آنے والی عائشہ نے سب کو حیران کردیا۔
عائشہ ٹاکیا نے ایسی پلاسٹ سرجری کرائی کے ان کا چہرہ بد نما ہوگیا۔ رپورٹس کے مطابق عائشہ ٹاکیا نے گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں پلاسٹک سرجری کرائی تھی جو کہ خراب ہوگئی جس کے بعد ان کے ہونٹ مزید موٹے اور چہرہ سرد ہو گیا۔
نجی محفل میں سرگوشوں پر عائشہ ٹاکیا دل گرفتہ ہوگئیں، تاہم لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور خوب مذاق اڑایا اور طرح طرح کے دل آزاری والے جملے داغے۔تاہم تمام تر نفرت کے باوجود عائشہ ٹاکیہ کسی بھی بات کا جواب سختی سے نہ دیا اور سوشل میڈیا کی معروف ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک پیغام شیئر کیا اور کہا کہ آپ میٹھے اور جوس سے بھرے ہوئے آڑو بن سکتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہونگے جو آڑو پسند نہیں کرتے۔امید ہے اداکارہ لوگوں کی جانب سے ملنے والے حوصلہ شکن جملوں سے پریشان نہیں ہوگئیں اور اسے اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں گئیں۔
لاس اینجلس : فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈز میلے میں مون لائٹ کو بہترین فلم قرار دیا گیا ہے.خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ آسکر کا89 واں میلہ لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے، جہاں ایما اسٹون بہترین اداکارہ تو “مون لائٹ” کو بہترین فلم قرار دیا گیا ہے۔
ایما اسٹون کا آسکرز کیلئے مقابلہ فلم جیکی میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی نیٹلے پورٹ مین سے تھا، فلم بلیک سوان کیلئے انہوں نے 2011ء میں آسکرز جیتا تھا، جب کہ جان ایف کینیڈی کی اہلیہ جیکولین کینیڈی کا کردار بھی بخوبی نبھاکر وہ ایک بار پھر فیوریٹ لسٹ میں تھیں۔
بہترین فلم کیلئے لالا لینڈ اور مون لائٹ میں سخت مقابلہ تھا، جہاں فتح کا تاج اس دفعہ “مون لائٹ” (جس کی کہانی ایک سیاہ فام کی زندگی میں پیش آئے واقعات سے جڑی ہے) کے نام رہا۔
لاس اینجلس : فلمی دنیا کے سب سے بڑے میلے آسکر کی تقریب لاس اینجلس میں جاری ہے، جہاں ہزاروں ستاروں کی کہکشاں نے اپنے رنگ جمائے ہوئے ہیں وہی میزبانی کے دوران میزبان سے بڑی غلطی بھی سرزد ہوگئی۔آسکر ایورڈ کی تقریب کے دوران سب کو بہترین فلم کے اعلان کا انتظار تھا، دل تھامے تمام اداکار اس بند لفافے پر نظریں جمائے بیٹھے تھے جس میں بہترین فلم کا نام قید تھا، اور پھر وہ فیصلہ کن گھڑی آہی گئی اور میزبان کی جانب سے بہترین فلم کا نام پکارا گیا اور وہ ہی ہوا جس کی سب کو امید تھی۔
گولڈن گلوب، بافٹا، کریٹکس چوائس ایوارڈ اور دیگر ایوارڈز اپنے نام کرنے والی لالا لینڈ کو بہترین فلم کے ایوارڈ کیلئے پکارا گیا، جس پر ستاروں سے سجا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
اسٹیج پر لالا لینڈ کی پوری ٹیم امڈ آئی اور انہیں تمام نیک خواہشات اور مبارک بادوں کے ساتھ ایوارڈ سونپا گیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد آسکر انتظامیہ اور میزبان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ہال میں ایک سم سناٹا چھا گیا۔
میزبان نے عجیب تاثرات کے ساتھ مائیک کو تھاما اور گلا صاف کرتے ہوئے معذرت خواہ لہجے میں اعلان کیا گیا بہترین فلم کا ایوارڈ “لا لا لینڈ” کو غلطی سے دیا گیا ہے، اس ایوارڈ کا حقدار کوئی اور ہے، جس کے بعد سال کی بہترین فلم کیلئے “مون لائٹ” کے نام کا اعلان ہوا۔
مون لائٹ کے کرو، اداکاروں اور دیگر افراد کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا اور ان کی امانت آسکر ایوارڈ ان کو دیا گیا
اسلام آباد:ایپلٹ کورٹ نے کرنسی اسمگلنگ کیس میں مسلسل عدم حاضری پر ڈالر گرل کی اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ایان علی کے وکیل کو کیس سے دلچپسی نہیں رہی۔ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالے جانے کے بعد کرنسی اسمگلنگ کیس میں ملوث ماڈل گرل ایان علی ایان تو دبئی چلی گئیں، مگر لگتا ہے کہ اُن کے وکیل نےبھی کیس میں دلچسپی لینا چھوڑدی ہے۔کرنسی اسمگلنگ کیس میں ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ کی مسلسل عدم حاضری پر اپیلٹ کورٹ کے ڈویژنل بنچ نے پانچ کروڑ جرمانے کے خلاف ایان علی کی اپیل خارج کر دی۔۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بظاہرلگتا ہے کہ ایان علی کے وکیل کو اب کیس میں دلچسپی نہیں رہی لہذا عدم حاضری پر اپیل خارج کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ ماڈل گرل نے کسٹم کورٹ کی جانب سے پانچ کروڑ جرمانے کے فیصلے کو چیلنچ کر رکھا تھا۔
میجر طفیل محمد شہید کے والد کا نام چودھری موج الدین تھا۔ جو دین پر سختی سے کاربند تھے اور دور و نزدیک صوفی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کا خاندان موضع کھرکاں ضلع ہوشیار پور (بھارت) کا رہائشی تھا۔ کاروبار کی وجہ سے 1913 ء میں ہوشیار پور سے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں میں منتقل ہو گئے۔ جہاں پر 22 جولائی 1914 ء کو طفیل محمد نے جنم لیا۔طفیل محمد لکھنے پڑھنے کی عمر کو پہنچے تو انہیں شام چورائی کے ایک مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔اسی مدرسے سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج جالندھر میں داخلہ لے لیا۔اس کالج سے انہوں نے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ایک طرف ان دنوں طفیل محمد فوج میں جانے کی کوشش کر رہا تھا دوسری طرف انہی دنوں ان کی شادی خاندان میں میں ہی نیاز بی بی سے کر دی گئی ۔یہ 22 جولائی 1932 ء میںوہ سپاہی بھرتی ہوئے ۔سپاہی سے ترقی کرتے کرتے جمعدار بن گئے ۔1940 ء میں صوبے دار کے عہدے پر پہنچے 1943 ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اور 1947ء میں جب وہ میجر کے عہدے تک پہنچ چکے تھے ، وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔شہری مسلح فورسز میں ایک امتیازی کیرئیر کے بعد 1958 ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان تعینات ہوئے۔جون 1958ء میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958ء کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانی اسمگلرز کا کاروبار بند کرنے اور چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔وہ اپنے دستے کے ساتھ وہاں پہنچے اور7 اگست کو بھارتی چوکی کو گھیرے میں لے لیا۔
اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے ،دشمن سے 15 گز کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ جب مورچہ بند دشمنوں نے مشین گن سے فائر شروع کئے تو میجر طفیل اپنے ساتھیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے ۔برستی گولیوں میں ،بے تحاشہ بہتے خون کی حالت میں انہوں نے ایک گرینیڈ دشمنوں کی طرف پھینکا جو سیدھا دشمن کے گن مین کو لگا ۔جو گن سمیت فنا ہو گیا ۔ جسم میں خون کے بہنے سے ان کی زندگی کا چراغ بجھنے کو تھا ۔اس حالت میں بھی وہ اپنے ساتھیوں کی قیادت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔
ایک مشین گن تو خاموش ہوگئی لیکن دوسری مشین گن نے اسی وقت فائرنگ شروع کر دی ۔جس کی اندھا دھند فائرنگ سے میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ نشانہ بن گئے ۔میجر طفیل نے ایک گرینیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کردیا۔اس دوران ان کا خون بہتا رہا ۔وہ اپنے نوجوانوں کو ہدایات دیتے رہے۔
اب لڑائی دوبدو لڑی جا رہی تھی ۔اس دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ ایک دشمن دبے پائوں ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا۔بے شک کہ میجر صاحب خود شدید زخمی تھے، چل نہیں سکتے تھے، رینگتے ہوئے دشمن اور جوان کے درمیان پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنے ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگانا شروع کر دیں۔اس لڑائی میں بھارتی اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑکر فرار ہو گئے۔
میجر طفیل محمدشہید کی ولادت کھرکاں (ہوشیار پور) میں22 جولائی 1914 ء کو ہوئی اور 7 اگست 1958ء کولکشمی اور میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا اور آپ کی تدفین چک نمبر 253 ای بی وہاڑی میں ہوئی۔
میجر طفیل محمد کو شجاعت اور بہادری کے باعث انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ 15نومبر 1959ء کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک خاص دربار میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔
Nishan-e-Haider
”نشانِ حیدر” سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو ایسے افسروں اور جوانوں کو ملتا ہے جنہوں نے بہادری و شجاعت کے غیر معمولی کارنامے سرانجام دئیے ہوں۔ ”نشانِ حیدر” جیسا بڑا فوجی اعزاز اب تک 10فوجی افسروں اور جوانوں کو مل چکا ہے ، جن میں کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، میجر شبیر شریف شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور حوالدار لالک جان شہید ، شامل ہیں۔
یہ اعزاز برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ”وکٹوریہ کراس” کے برابر ہے ۔ اس ”اعزاز” کے حاصل کرنے والوں کے ورثاء کو ماہانہ الاؤنس اور تین مربع اراضی بھی دی جاتی ہے۔ ۔زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں پروفیسر حمیدکوثر نے نشانِ حیدر پانے والے شہداء پر نظمیں لکھیں۔ اس کے علاوہ ان کا اہم کام یہ ہے کہ میجر طفیل محمدشہید(نشانِ حیدر) کی منظوم سوانح عمری لکھی جو کتابی صورت میں 1967ء میں شائع ہوئی۔کتاب کا نام ”فاتح لکشمی پور” رکھا گیا۔جسے محکمہ تعلیم نے 1969 ء میں پاکستان کے تمام سکولوں’ کالجوں اور دیگر لائبریریوں کے لئے منظور کیا۔میجر طفیل محمد شہید کے بارے میں پروفیسر حمید کوثر کے یہ اشعار ملاحظہ کریں۔
عروج یونہی کسی کو نہیں ملا کرتا
لہو میں ڈوب کے روشن ہوا ہے نام طفیل
مرے وطن کو مبارک ہو یہ مقام طفیل
نشاندارِ حیدر’ وطن کے سپاہی
شہادت کی منزل کے بے لوث راہی
یہ ہے ”لکشمی پور” دیتا گواہی
زمانے میں جب تک اجالا رہے گا
ترے نام کا بول بالا رہے گا
زمانے میں جب تک اجالا رہے گا
ترے نام کا بول بالا رہے گا