اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے آرٹیکل پر تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہرتین ماہ بعد حساس نوعیت کے معاملات اٹھائے جارہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ قومی سلامتی کو اعلی سطح پر نقصان پہنچایا گیا ہے،حسین حقانی نےاس وقت کے صدر، وزیراعظم کی اجازت کے بعد دبئی اور واشنگٹن سے ویزے جاری کیے۔ان کا کہنا تھا کہ حسین حقانی کئی بار پاکستان کی سیکیورٹی کے بارے میں لکھ چکے ہیں، اس بار انہوں نے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کا نام لیا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے غدار کہہ کر جان چھڑالی، معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، معاملے کی کھلی انکوائری کی جائے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ حسین حقانی نےدعوی کیا ہے کہ اس بارے میں اس وقت کے صدر، وزیراعظم دونوں آگاہ تھے، اس بارے میں تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حسین حقانی بطور سفیر کئی معاملات میں رچرڈ بائوچر سے رابطے میں رہے ،جس سے سابق دور حکومت کے وزیراعظم اور صدر آگاہ تھے، پارلیمنٹ سب سے اہم اور بڑا فورم ہے، کمیشن بنانے کی رائے یہیں سے لی جائے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم حسین حقانی کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے، وہ عدلیہ کی اجازت سے باہر گئے اور اب تک نہیں لوٹے، اس کے صدر اور وزیر اعظم نے ان کے سابقہ بیان کو تسلیم کیا تھا۔
ویانا (خصوصی نمائندہ) پاکستان کمیونٹی آسٹریا کے تمام افراد کو جان کر خوشی ہوگی کہ ہماری نئی نسل میں اردو زبان سے بڑھتی ہوئی لاتعلقی کے سدباب کی غرض سے کچھ فکر مند دوستوں نے آج ایک ادبی تنظیم کی بنیاد رکھی ہے جس کا نام (احبابِ ادب) تجویز کیا گیا ہے۔اِس تنظیم کے زیر اہتمام فروغ اردو کے سلسلے کی پہلی کا وش کے طور پر یوم پاکستان کے مبارک دن کے موقع پر 25 مارچ بروز ہفتہ شام چھ بجے بارہ ڈسٹرکٹ کے مقامی ہال میں ایک محفل مشاعرہ منعقد کیا جائے گا جس میں شرکت کی دعوت عام ہے۔
ایم پی ٹین کسی میوزک کمپنی یا ملٹری پولیس کا مخفف نہیں بلکہ خطرناک جراثیم ہیں جو دنیا بھر میں فضائی و دیگر آلودگی سے پھیل چکے ہیںاور اگر ان کو مزید پھیلنے سے نہ روکا گیا تو انسان کا سانس لینا دشوار ہو جائے گا۔عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی ،غلاظت سے دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کی اموات ہو رہی ہیں،ماحولیاتی گندگی اور حفظان صحت کا مناسب انتظام نہ ہونے سے ہر سال پانچ برس سے کم ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچوں کی اموات ہو رہی ہیں اور زیادہ تر اموات کا شمار ترقی پذیر ممالک میں کیا گیا ہے۔جنیوا کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ہر چوتھا بچہ گندگی کے سبب موت کے منہ میں جا رہا ہے ۔موت کے خطرات دنیا میں ہر جگہ موجود ہیں لیکن بکثرت تمباکو نوشی ،فضائی آلودگی، کوکنگ آئل کا دھواں ،گندا پانی اور خاص طور پر صاف بیت الخلاء نہ ہونے سے جراثیم پھیل جانے کے سبب اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔بڑوں کے علاوہ بچے خاص طور پر اس گندگی کا شکار ہوتے ہوئے ڈائریا،ملیریا اور نمونیا میں مبتلا ہو کر جان گنوا رہے ہیں دیگر عوامل میں نا مناسب دوا علاج اور جعلی ادویہ کے علاوہ جعلی معالج کا علاج بھی اموات کا حصہ ہیںکیونکہ معصوم بچوں کے نازک اورگان اور مدافعتی نظام شدید متاثر ہوتے ہیں جس سے انہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ،آلودگی وہ کسی بھی شے کی ہو سب کو اپنی گرفت میں لیتی ہے انفیکشن سے ابتداء ہوتی ہے اور موت اختتام۔ادارے کی جنرل ڈائریکٹر مارگریٹ چن کا کہنا ہے اموات کی چند اہم وجوہات یہ ہیں کہ گندگی سے سانس کی نالیوں میں انفیکشن ہو جاتی ہے۔ڈائریا،مناسب علاج دوا نہ ہونے سے حاملہ خواتین کا پہلے دو ماہ میں بچے کے اورگان میں پیچیدگیاں پیدا ہونا ،ملیریا،نظام زندگی درست کا نہ ہونا جس میں ٹرانسپورٹ وغیرہ کی سیفٹی اور ایکسیڈنٹ ہونا، زہریلے مواد کا استعمال ،ڈوب جانے یا کسی بھی قسم کے حادثات کی صورت میں اموات ممکن ہوتی ہیں۔ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو فوری طور پر صاف پانی ، کوکنگ اور حرارتی نظام ،تعلیمی اداروں میں صاف بیت الخلاء اور بجلی کی اشد ضرورت ہے۔
Transport Pollution
شہروں میں زیادہ سے زیادہ سبزہ اور ٹرانسپورٹ سسٹم کی درستگی اہم ترین ہے یعنی جس سے کم سے کم کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہو ،کیمیکلز انڈسٹریز کو زہریلے مواد سے پیدا ہونے والے دھوئیں کے اخراج کا مکمل بندوبست کرنا لازمی ہے تاکہ کم سے کم دھواں پھیلے۔ایم پی ٹین۔پارٹی کیولیٹ میٹر کے دو سائز ہیں ایم پی ٹو پوائنٹ فائیو اور ایم پی ٹین، جن کا زیادہ سے زیادہ حجم ٹو پوائنٹ فائیواور ٹین مائکرو میٹر ہوتا ہے علاوہ ازیں فائن ڈسٹ کا شمار بھی ترقی پذیر ممالک میں کیا گیا ہے جو کہ خطرناک ہے ماہرین کا کہنا ہے ایم پی ٹین جتنا زیادہ مقدار میں ہوگی اتنا زیادہ آلودگی کی سطح میں اضافہ ہو گا۔دنیا کے چند ممالک جہاں ایم پی ٹین کا بوجھ زیادہ شمار کیا گیا ہے۔
پہلے نمبر پر نائجیریا دوسرے نمبر پر پاکستان اور ایران،سعودی عرب،افغانستان، چین، اور بھارت کا شہر گوالیار ہیں ان شہروں میں پانچ سو چورانوے سے تین سو انتیس کیوبک میٹر کے حجم میں ایم پی ٹین پھیلی ہوئی ہے جو جان لیوا ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں کسی قسم کی کنسٹرکشن سے پہلے مکمل پلاننگ کی جاتی اور حکومت سے اجازت نامہ لیا جاتا ہے۔
پلاننگ میں سر فہرست اخراج کا سسٹم ہوتا ہے مثلاً فیکٹری کے دھوئیں کا اخراج، مکان بنانے سے پہلے سیوریج سسٹم، ریستوراں کے لئے مناسب مقام اور کوکنگ آئل کے اخراج کا طریقہ تاکہ لوگ دھوئیں سے متاثر نہ ہوں یا موٹر ویز کی تعمیر کے لئے ٹرانسپورٹ منسٹری سے منظور شدہ پلاننگ وغیرہ پر عمل درامد کیا جاتا ہے ،جب تک ترقی پذیر ممالک میں سیفٹی فرسٹ کا نظام قائم نہیں ہو گا کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا ،کئی ممالک کے زوال کی مثالیں ہم سب کے سامنے ہیں۔
پیرس (نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ ن فرانس کے جنرل سیکرٹری شیخ وسیم اکرم ہیں خاں یوسف سابقہ جنرل سیکرٹری ہیں۔سیکرٹری انفارمیشن پاکستان مسلم لیگ ن فرانس زاہد مصطفی اعوان نے ایک بیان میں کہا کہ میڈیا نمائندگان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس تیز دور میں بھی بے خبر ہیں ،کہ پاکستان مسلم لیگ ن فرانس کے صدر چوہدری ریاض پاپا اور جنرل سیکرٹری شیخ وسیم اکرم ہیں۔ فرانس کے میڈیا نمائندگان اپنا ریکارڈ کر لیں۔انھوں نے کہا کہ علی اشفاق صرف فوٹو گرافی کریں ،خبریں لکھنا ان کے بس میں نہیں ہے ۔صدر اور جنرل سیکرٹری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن دیکھ کر خبر لکھا کریں۔ یہ کڑوی گولی اب کھانی ہی پڑے گی۔
پیرس (خصوصی نمائندہ) سلاو میں معروف صحافی وقار ملک اور چوہدری محمد اشتیاق کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان خصوصی اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے کمشنر محمد افضال بھٹی کے علاوہ مقامی سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا اہتمام برٹش پاکستانیوں کو موجودہ حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے بارے ا?گاہی دی گئی۔کہ کس طرح اپنی جائداداوں اور وراثت کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔ چوہدری محمد اشتیاق نے اس موقع پر کھلے الفاظ میں کہا کہ ستم گری یہ ہے کہ اس وقت جو سیاست دان یا سوشل لیڈرز اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔مشکل پڑنے پر ہمیں انھی سے مدد مانگنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔تقریب کے حاضرین کی بڑی تعداد عام طور پر پاکستان سے آنے والے منسٹرز اور ایم پی کی تعریفوں کے پل باندھنے لگتے ہیں اور ان کی مریدی میں لگ جاتے ہیں اور ایسا ہی ہوا کئی لوگوں نے اپنی تقاریر میں کمشنر صاحب کو عرش پر بٹھا دیا مگر چوہدری اشتیاق نے اس بار اس ٹرینڈ کو بدلنے کی کوشش کی اور مطالبہ کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ایک ایسا ادارہ ہونا چاہئیے جو کہ ان کے ساتھ زیادتی کرنے والی سیاسی اور بارسوخ شخصیات کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کر سکے۔محمد افضال بھٹی نے اس موقع پر کہا کہ برٹش پاکستانی پاور آف اٹارنی دیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ پاور آف اٹارنی میں صرف مخصوص شقیں شامل کریں جن کی معاملہ سلجھانے میں ضرورت ہو نہ کہ مکمل اختیارات دے دیں اس طرح وہ اپنے ہاتھ پاوں کٹوا بیٹھتے ہیں۔اگر سائل پاور آف اٹارنی میں مکمل اختیارات دے دیں تو حکومت بھی ان کی مدد نہیں کر سکتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیادہ تر کیسز جو ان کے محکمے کے سامنے لائے جاتے ہیں ان میں رشتہ دار ہی اپنے سمندرپار رشتہ داروں کے ساتھ زیادتیاں کرتے ہیں۔آخری اور نہایت ضروری بات یہ کہ اوورسیز پاکستانیز کو اپنی جائیدادوں یا کسی قسم کی زیادتی کی شکایت اوورسیز پاکستانیز کمیشن کی ویب سائٹ پر رجسٹر کرائیں۔ اور اپنا ریفرنس نمبر محفوظ رکھیں اس کے بغیر آپ کے مسئلے کا حل ناممکن ہے۔ویب سائٹ پر کیس رجسٹر ہونے کے بعد ان کے ادارے کے لئے واجب ہو جاتا ہے کہ مسئلہ حل کروائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میاں شہباز شریف بذات خود اس ویب سائٹ پر رجسٹر ہونے والے کیسز کی نگرانی کرتے ہیں۔
برسلز (خصوصی نمائندہ) چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں سات سالہ معصوم بچی کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہادت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ برسلز سے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہاکہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔واضح رہے کہ سات سالہ بچی بھارتی سکورٹی فورسز کی طرف سے ایک حملے کے دوران شہید ہوئی۔ اس واقعے میں اس بچی کا چھ سالہ بھائی فیصل بھی زخمی ہوا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے یہ کاروائی اس سے قبل اسی علاقے میں ایک حملے کے دورا ن ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہو جانے کے بعد انتقام کے طور پر کی۔علی رضاسید نے معصوم اورکمسن بچی کی شہادت اس المناک واقعے پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ یہ بھارت کی انتہائی وحشیانہ ریاستی دہشت گردی ہے ۔ بے گناہ اور نہتے لوگوں کو ماردیناایک غیرانسانی اور ناقابل تحمل فعل ہے۔ اب کشمیرمیں معصوم بچے جن کا کسی لڑائی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا، بھی بھارتی درندگی سے محفوظ نہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے کشمیرکے لوگوں سے پرامن اور باوقار زندگی کا حق ہی چھین لیاہے۔ ان کی جان ، مال اور عزت محفوظ نہیں۔ کشمیریوں کا قتل عام اوران کی عزت کو پامال کرنابھارتی فوجیوں کا معمول بن گیا ہے۔ علی رضاسید نے کہاکہ یہ ایک غیرجمہوری اورغیرانسانی فعل ہے۔ یہ وحشیانہ ہتھکنڈے بھارتی حکومت کی اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں۔ بھارتی حکومت طاقت کے زورپر مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کو دبانا چاہتی ہے۔کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بھارتی حکومت ہرحربہ استعمال کررہی ہے جس میں انتہائی تشدد اوربے پناہ ریاستی دہشت گردی بھی شامل ہے۔انھوں نے کہاکہ بھارت کویادرکھناہوگاکہ کشمیریوں کا حق خودارادیت عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ حق ہے اور وہ اس حق سے کبھی بھی دستبردارنہیں ہوں گے۔جب تک مسئلہ کشمیرکشمیرکے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوجاتاہے ، حق خودارادیت کے لیے جدوجہدجاری رہے گی۔عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کانوٹس لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک فعال اور موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
واشنگٹن (خصوصی نمائندہ) امریکا میں نیویارک سمیت مختلف ریاستوں میں برفانی طوفان اور تیز ہواؤں کے بعد نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جس کے بعد حکومت نے متاثرہ ریاستوں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔امریکی ریاست نیویارک، نیوجرسی، میری لینڈ اور کنکٹیکٹ شدید برفانی طوفان اور تیز ہواؤں کی لپیٹ میں ہیں جہاں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جب کہ سینکڑوں پروازیں منسوخ ہونے اور سڑکوں پر برف کے ڈھیر لگنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔حکام کے مطابق اب تک سڑکوں پر 8 انچ تک برف موجود ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کے بعد لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جب کہ متاثرہ ریاستوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی گئی۔نیویارک کے حکام کا کہنا ہے کہ طوفان تمام تر توقعات سے کئی گنا خطرناک ہے جس کے بعد ریاست میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہنگامی بنیاد پر سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ ریاست مشی گن میں برفباری کے باعث گاڑیوں کے ٹکرانے کے متعدد واقعات رونما ہوئے شکاگو ایکسپریس وے پر 34 گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک، واشنگٹن، بوسٹن، بالٹی مور اور فلاڈلفیا کے ایئرپورٹس سے 7 ہزار 600 سے زائد فلائٹس منسوخ کی جاچکی ہیں جب کہ جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر سینکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ برفباری کے ساتھ طوفانی ہواؤں کے باعث ورجینیا سے پنسلوانیا کے ایک لاکھ صارفین بجلی سے محروم ہوگئےمحکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی ریاستوں میں 2 فٹ تک برفباری کا امکان ہے جب کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں رواں سال مارچ میں درجہ حرارت 15 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرچکا ہے۔
دمشق (خصوصی نمائندہ) پہلا خودکش دھماکہ عدلیہ کی ایک مرکزی عمارت کے اندر ہوا جس میں کم ازکم 25 افراد ہلاک ہو گئے۔بدھ کے روز دو مختلف مقامات پر خود کش دھماکوں نے شام کے د ارالحکومت دمشق کو ہلا کر رکھ دیا۔شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے بتایا ہے کہ دو الگ الگ واقعات میں خود کش حملہ آوروں نے خود کو باردوی مواد سے اڑا دیا۔پہلا خودکش دھماکہ عدلیہ کی ایک مرکزی عمارت کے اندر ہوا جس میں کم ازکم 25 افراد ہلاک ہوگئے ۔کئی دوسرے میڈیا ذرائع ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 بتا رہے ہیں۔اس حملے کے تقریباً دو گھنٹے کے بعد ایک اور خودکش بمبار نے خود کو دمشق کے مغربی علاقے الربوہ میں ایک ریستوران کے اندر دھماکے سے اڑا دیا۔سرکاری ٹیلی وژن کا کہنا ہے کہ ریستوران میں داخل ہونے والے خودکش بمبار نے اس وقت دھماکہ کیا جب سیکیورٹی اہل کار اس کا پیچھا کرتے ہوئے ریستوران میں داخل ہوئے۔شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے کہا ہے کہ اس حملے کی زد میں آکر کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ، تاہم اس نے ہلاک و زخمی افراد کی تعداد نہیں بتائی۔بدھ کے روز ہونے والا حملوں سے ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ پہلے شیعوں کے قبرستان کے قریب اسی طرح کے ایک حملے میں کم ازکم 40 افراد ہلاک اور 120 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔اس حملے کی ذمہ داری شام میں القاعدہ سے منسلک ایک گروپ نے قبول کرنے کا دعوی کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر شیعہ زائرین تھے جو شام میں زیارتوں کے لیے آئے تھے۔
واشنگٹن (خصوصی نمائندہ) امریکی صدر کو ایک بار پھر منہ کی کھانا پڑی۔ ریاست ہوائی میں 6 مسلم ملکوں کے شہریوں پرسفری پابندیوں کا نیا حکم نامہ بھی عمل درآمد شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے معطل کر دیا گیا ہے۔نئے حکم نامے کے خلاف ریاست ہوائی کی درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی، جس پر وفاقی جج ڈیریک واٹسن نے فیصلہ سنا دیا ہے۔جج نے کہا ہے کہ ہوائی کا یہ مؤقف کہ نیا حکم نامہ امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور تعصب پر مبنی ہے، جو کہ درست لگتا ہے۔ نئے حکم نامے کو چیلنج کرنیوالوں کا موقف تھاکہ یہ بھی پہلے حکم نامے کی طرح مسلمانوں سے تعصب پر مبنی ہے۔جج نے کہا کہ حکومت ہوائی نے درخواست کی ہے کہ اگر ریلیف نہ دیا گیا تواس سے ناقابل تلافی نقصان ہوسکتاہے۔ انصاف اورعوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ریلیف کو منظور کیا جائے۔نئے حکم نامے میں صومالیہ، ایران، سوڈان، شام اور لیبیا پرامریکی ویزے کی پابندی عائد کی گئی تھی، جبکہ عراق کو پابندی کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے پر کہا ہے کہ سفری پابندی کے خلاف فیصلہ دیکر عدالت نے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔عدالت کے فیصلے سے کمزور امریکا کا تصور جائے گا اور سفری پابندی کے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا۔
پیرس (خصوصی نمائندہ) جرمنی میں ایک اور مسجد بند کر دی گئی ہے۔پولیس نے عدالتی حکم کے بعد جرمنی کے شہر ھلڈس ہائم میں سلفی جماعت سے تعلق رکھنے والی مسجد کو انتہا پسند مسلمانوں کا استعمال کرنے پر بند کر دیا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس واضح ثبوت ہیں کہ مسجد دہشت گردوں کی منصوبہ بندی کا مرکز تھی