شہر قائد کراچی میں ’چارجڈ پارکنگ‘ کا آغاز
حکومت ہو یا حزب اختلاف اس پر متفق ہیں کہ روشنیوں کے شہر عروس البلاد کراچی میں 80 کی درمیانی دہائی سےجن مسائل نے سر اُٹھایا وہ بجائے قابو کے بڑھتے ہی رہے۔غریب پرور شہر میں سوائے آبادی کے اضافے کے ہر سہولت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی گئی ہے۔ وہ کھیل کا میدان ہو یا پانی، فٹ پاتھ ہو سڑکیں ہر چیز کمرشل ہوکر برائے فروخت ہوئیں۔لوگ اگر اپنے حافظے پر زور ڈالیں تو انہیں یاد آئے گا کہ آج سے تین عشروں قبل کے مکین نہ پانی خریدتے تھے، متعدد میدان بچوں نوجوانوں کے لیے مفت دستیاب تھے، چوڑی فٹ پاتھ صرف چلنےکےلیے اور سڑکیں چارجڈ پارکنگ کی بلا سے آزاد تھیں۔آج کی اکثر نوجوان نسل یہ سن کر حیران ہی ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ خراب امن و امان کی صورتحال کے سبب ہوا۔ اور شہری کئی طرح کے ٹیکس دینے کے باوجود جو بنیادی سہولتیں ان کا حق تھیں ان کی مزید قیمت دینے پر مجبور ہوئے۔آج آپ شہر کے کسی بازار، اسپتال اور شاپنگ سینٹر میں جائیں گے۔ ابھی سنبھل ہی نہ پائیں گے کہ کوئی شخص آپ کی گاڑی یا موٹر سائیکل کی جانب آکر پارکنگ کے پیسے مانگے گا اورآپ چاہتے نہ چاہتے اسے دینے پر مجبور ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق شہر بھر میں 200سے زائد جگہوں پر چارجڈ پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے، جس میں کے ایم سی ،ڈی ایم سیز، یونین کونسل کنٹونمنٹ بورڈ سمیت دیگر اداروں اور بعض مقامات پراس منافع بخش کام میں بااثر مافیا ملوث ہیں۔دوسری طرف یہ چارجڈ پارکنگ شہر کی مصروف شاہراہوں پر ٹریفک جام کا سبب بنتے نظر آتے ہیں۔جس کی وجہ زیادہ کمانے کے چکر میں ایک لین سے زیادہ گاڑیاں پارک ہونا ہے۔

