عمران خان نے نہ ٹرمپ کو چھوڑا نہ مودی کو نہ یہودیوں کو۔
جب آپ اسلامک انتہا پسندی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب کہ اسلام انتہا پسندی سکھاتا ہے؟ دہشت گردی کو اسلام سے منسلک کیا جاتا ہے۔ خاص طور پہ خودکش بمبنگ کو۔ ہمیں ان چیزوں سے دکھ پہنچتا ہے۔ کہا جاتا ہے جی مسلمان خود کش اس لیے کرتے ہیں کہ، وہ یقین رکھتے ہیں انہیں جنت میں حوریں ملیں گی۔ یہ سب جاہلانا باتیں چلائی جاتی ہیں۔اگر ہم تاریخ دیکھیں تو 9/11 سے پہلے 75 فیصد خودکش حملے تامل ٹائیگر کرتے تھے، جو ہندو تھے۔ کوئی بھی ہندو ازم کو خودکش حملوں سے نہیں جوڑتا۔ اور دوسری جنگِ عظیم میں جاپانی امریکی جہازوں پہ خودکش حملے کرتے تھے۔ وہاں تو کوئی مذہب کو الزام نہیں دیتا۔ کیونکہ کوئی بھی مذہب دہشتگردی نہیں سکھاتا۔ہر قسم کی دہشت گردی سیاست سے منسلک ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا۔ مسلسل کہا جاتا ہے کہ، انتہا پسند اسلام، اسلام صرف ایک ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں ملا، جس پہ ہم عمل پیرا ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اسلام نہیں۔ہر معاشرے میں آزاد خیال لوگ اور انتہا پسند لوگ ہوتے ہیں۔ ماڈرن معاشرے میں ہی ایک سفید انتہا پسند اٹھتا ہے اور نیوزی لینڈ میں مسجد پہ حملہ کر دیتا ہے۔ اور 49 نمازیوں کو قتل کر دیتا ہے۔ کیا یہ کسی مذہب نے سکھایا ہے؟ہمیں دہشگردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہو گا۔ اگر مسلم معاشروں میں انتہا پسند ہوتے ہیں، تو ایسے ہی عیسائی اور یہودی معاشروں میں بھی انتہاپسند ہوتے ہیں۔ ہمیں انڈیا کو نہیں بھولنا چاہیے، جہاں ایک انتہا پسند ملک کا حکمران بن گیا ہے۔ جو قوم پرست اور انتہا پسند ہے۔ کوئی بندہ نیویارک کی گلیوں میں کھڑا ہو کے کیسے کہہ سکتا ہے کہ کون انتہا پسند مسلم ہے اور کون ماڈرن مسلم ہے؟ کیسے کہہ سکتا ہے کہ مسلم انتہا پسند اور دہشگرد ہیں؟میرا دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ، ایک گھٹیا شخص سلمان رشدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے گستاخانہ کتاب لکھی، جس میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا گیا، میں کافی عرصہ انگلینڈ میں رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے مغربی دنیا کو احساس ہی نہیں کہ ہمیں کتنا دکھ اور تکلیف ہوتی ہے، جب ہمارے نبی کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ کیوں کہ یورپین لوگ مذہب کی قدر نہیں کرتے جیسے ہم اسلام کی قدر کرتے ہیں۔ یہ ہم مسلم لیڈران کا قصور ہے کہ ہم نے یورپ کو بتایا نہیں کہ، ہمیں کتنا دکھ تکلیف ہوتی ہے جب ہمارے نبی کی شان میں گستاخیاں ہوتی ہیں۔ہمیں ہمارے نبی کی گستاخیوں سے دلی دکھ کیوں ہوتا ہے؟ کیوں کہ ہمارے نبی ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ اور ہم جانتے ہیں کہ دلی دکھ تکلیف جسمانی تکلیف سے بہت بہت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ میں طیب اردگان اور اسلامی لیڈران سے کہتا ہوں، کہ ہمیں مغرب کو بتانا ہو گا، کہ جیسے ھولو کاسٹ ایک حساس معاملہ ہے، اس سے یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے، تو ہمارے نبی کی گستاخیوں سے ہمیں بھی ایسے ہی تکلیف ہوتی ہے۔جب کوئی امریکہ یا یورپ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی کرتا ہے، گستاخی کرتا ہے تو مسلمانوں کا ریکشن آتا ہے۔ پھر کہتے ہیں جی دیکھو کیا یہ ہے امن پسند اسلام؟یہ بڑا فورم ہے، تمام لیڈر یہاں موجود ہیں۔ میں جمعہ کے دن اپنی تقریر میں بھی یہ دو مسلے اٹھاؤں گا۔ ہمیں مسلم لیڈران کو ان دو مسلوں کو ہائی لائیٹ کرنا ہے۔ یہ انسانیت کے لیے اہم ہیں۔
عمران خان۔وزیراعظم پاکستان

