صدر پاکستان کے ٹوئٹر بیان کیخلاف درخواست مسترد
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے کشمیر سے متعلق بیانات کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔صدر عارف علوی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے معاملے پر سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک ہیں اور اس حوالے سے متعدد ٹوئٹس بھی کر چکے ہیں۔ صدر مملکت کے ٹوئٹر بیانات پر ان کا اکاؤنٹ بلاک کرنے کے لیے درخواست دی گئی جسے ٹوئٹر انتظامیہ نے مسترد کر دیا ہے۔ٹوئٹر کی جانب سے صدر عارف علوی کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی گئی لیکن کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر کی جانب سے بھیجی گئی ای میل کا ایک اسکرین شاٹ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ٹوئٹر مودی سرکار کا آلہ کار بننے میں واقعی بہت آگے جا چکا ہے، انہوں نے ہمارے صدر کو بہت ہی برے اور مضحکہ خیز انداز میں نوٹس بھیجا۔واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ختم کر دیا تھا۔بھارت نے اس اقدام کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے بھارتی یونین میں شامل کر لیا تھا۔مودی سرکار نے اس اقدام کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کے خوف کے پیش نظر مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر کے کشمیری رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں قیدر کر رکھا ہے۔بھارتی حکومت کے اقدامات کو نا صرف بھارت میں بلکہ پوری دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ حریت رہنماؤں اور حکومت پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت کے غیر آئینی اقدامات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

