اور حمزہ شہباز کی ضمانت بھی مسترد کر دی گئی
لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت مسترد کردی۔ مسلم لیگ نون کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز رمضان شوگر ملز اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیسز میں عبوری ضمانت میں توسیع کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، نیب کی ٹیم اور نیب کے وکلاء بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ دورانِ سماعت حمزہ شہباز کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ کے الزامات کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حمزہ شہباز کی توہین عدالت کی درخواست پر بھی سماعت کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب سے ایف ایم یو دستاویزات مانگی تھیں، تاہم نیب نے یہ نہیں دیں ، نیب نے صرف گرفتاری کی وجوہات، انکوائری، انویسٹی گیشن کی دستاویزات دی ہیں۔ حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ عدالتی احاطے میں بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی بڑی تعداد جی پی او چوک پر نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر اور مختلف پوسٹرز کے ساتھ موجود ہے جو اپنے رہنماؤں بالخصوص حمزہ شہباز کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ اور اس کے اطراف میں سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، سائلین اور وکلا کی دہری چیکنگ کے بعد انہیں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

