ایشیائی طالبہ کی پراسرار موت پر تحقیقات ملتوی، کمیونٹی کااظہار تشویش
بری(خصوصی نمائندہ)نوجوان ایشیائی طالبہ کی پراسرار موت پر کمیونٹی میں سخت تشویش کا اظہار کیا جار ہا ہے کیونکہ اس کی موت پر ہونے والی حقیقات کو ملتوی کر دیا گیا ہے – اس موقع پرعلاقے کی کرونر لزا ہاشمی نے تحقیقات کوملتوی کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ لواحقین اس رپورٹ کا طالعہ کرنے کیلئے مزید وقت دیا جا سکے گا۔یادرہے کہ سکول کی طالبہ تیرہ سالہ شازیہ کو گذشتہ سال اپریل میں ڈربی ہائی سکول میں ایچ پی وی ویکسین دی گئی تھی جس کے پانچ دن کے بعد اس کے سر میںشدید درد ، قے اور چکروں نے اس کے اہل خانہ کو پریشان کر دیا ،اسے اسی حالت میں فیر فیلڈ ہسپتال بری لے جایا گیا لیکن اس کوواپس گھر بھیج دیا گیاحالانکہ اس کو معدے کی تکلیف تھی ،گھرمیںوہ ایک گھنٹے کے بعد بے ہوش پائی گئی اور اس کی نبض بھی نہیںچل رہی تھی،جس پرلواحقین نے پریشانی کے عالم میں اسے فوری طور پر دوبارہ ہسپتال پہنچایا گیا جہاں بتایا گیا کہ وہ تین گھنٹے پہلے مر چکی تھی،تاہم اس کی موت کی تحقیقات کیلئے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داروں نے اس کے علاج پر غور کرنے کا فیصلہ کیا اور کرونر کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا- گذشتہ پیر کو شازل کے لواحقین راچڈیل کرونر کورٹ میں پیش ہوئے لیکن اس موقع پر انہیں محض پینائین ایکیوٹ این ایچ ٹرسٹ کی ایک اندرونی رپورٹ فراہم کرنے کے بعد کاروائی ملتوی کر دی گئی تاکہ شازل کے لواحقین کو وقت دیا جائے کہ وہ اس کی میڈیکل رپورٹ کا مطالعہ کر سکیں- ایچ پی وی کا ٹیکہ سکول کی طالبات کو معمول کے مطابق لگایا جاتا ہے – باور کیا جاتا ہے کہ تیرہ اپریل کوشازل کو لگایا جانے والا ٹیکہ اس سلسلے کا دوسرا ٹیکہ تھا ،دریں اثناء شازل کی بہن ماہم کے مطابق شازل ایک صحت مند لڑکی تھی ،یادرہے کہ شازل کے والدین نے ایم آر آئی میں پوسٹ مارٹم سکین کے لئے چھ سو ستر پونڈ کی فیس اپنے پاس سے ادا کی تھی ۔

