اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان جتنا مرضی روئیں،اپوزیشن انہیں این آر او نہیں دے گی۔وزیراعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے ن لیگی ترجمان نے کہا کہ عمران خان عوام کے سمندر سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام ان کی نالائقی، نااہلی، عوام دشمنی اور جھوٹ سے آزادی چاہتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ تقریر، جادو ٹونا، دھمکی ، گالی اور جھوٹ سے کام نہیں چلے گا، خان صاحب کوگھر جانا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ آپ کا جھوٹ ، ڈاکا اور چوری بے نقاب کرنے آیا ہے، آپ کے جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے قائد اعظم ٹرافی میں بال ٹمپرنگ کے الزام پر نان آئیڈینٹی فکیشن قوانین کے تحت سینٹرل پنجاب کے کپتان احمد شہزاد پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ عائد کردیا ہے۔ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اظہر علی اور سہیل خان کو بھی باضابطہ تنبیہ کی گئی ہے۔آن فیلڈ امپائرز نے احمد شہزاد کو پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.14 کی خلاف ورزی کرنے پر چارج کیا۔ریفری سے سماعت کے دوران احمد شہزاد نے صحت جرم سے انکار کیا اور موقف اختیار کیا کہ گیند کی شکل فطری طور پر بگڑی، وہ کسی ایسے کام میں ملوث نہیں ہوں گے جس سے کھیل کی ساکھ متاثر ہو، تاہم ان پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔پی سی بی کے مطابق گیند کی حالت تبدیل کرنے والے کھلاڑی کی شناخت نہ ہونے کے باعث احمد شہزاد کو نان آئیڈینٹی فکیشن کے قانون کے تحت بطور کپتان چارج کیا گیا۔ضابطہ اخلاق کی مختلف خلاف ورزیوں میں سہیل خان اور اظہر علی کو میچ کے دوران جملوں کا تبادلہ کرنے پر تنبیہ جاری کی گئی۔سہیل خان کو میچ میں وقت ضائع کرنے جبکہ اظہر علی کو کھلاڑی یا اسپورٹ اسٹاف کی سمت میں خطرناک انداز میں گیند پھینکنے پر چارج کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کے لیے میرپورخاص کی مسجد نبی رحمت پہنچے تھے جہاں تعزیت کے دوران پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہ واقعہ ’جہالت‘ کے باعث پیش آیا۔فردوس شمیم نقوی کے الفاظ پر وہاں موجود لوگ مشتعل ہوگئے تھے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے انہیں مسجد سے باہر نکال دیا تھا تاہم اب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سانحہ تیزگام میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے معذرت کرلی ہے۔فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ مجھے سیلنڈر کے معاملے پر بہتر الفاظ استعمال کرنے چاہیے تھے، میں نے صرف معاشرے میں خرابی کا ذکر کیا تاہم میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی چاہتا ہوں۔
حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس دوران عمران خان اور پرویز خٹک نے آزادی مارچ کے شرکاء سے اسلام آباد میں کیے گئے مولانا فضل الرحمٰن کے آج کے خطاب پر گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک، جے یو آئی ف کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔پرویز خٹک ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ سے متعلق معاہدے کی مکمل پاسدار کا کہیں گے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے آج آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں، صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس جا کر گرفتار کر لے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔
تحریک پاکستان کے سرگرم رکن اور بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے لئے وطن واپسی کمیٹی کے چیئرمین سید حسن شریف امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر سنسناٹی میں انتقال کر گئے۔وہ چند سالوں سے علیل تھے ان کی نماز جنازہ جمعہ کو اسلامک سینٹر آف گریٹر سنسناٹی میں ادا کی گئی جس میں مرحوم کے دوستوں رشتہ داروں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سید حسن شریف نے سوگواران میں تین بیٹے سید انور شریف، سید شریف سید سرور شریف اور ایک بیٹی روبینہ شریف چھوڑی ہے۔ مرحوم سیدحسن شریف، ڈیلس پیس اینڈ جسٹس سینٹر اور مسلم ڈیموکریٹک کاکس کے بانی و سابق صدر آفتاب صدیقی کے ماموں تھے۔مرحوم سید حسن شریف اپنی نوجوانی کے زمانے میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے، اور انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے مختلف اجلاسوں میں بھی شرکت کرکے نوجوانوں کی نمائندگی کی تھی۔ وہ 1940 کی قرارداد پاکستان کے وقت بھی موجود تھے ۔سید حسن شریف کے والد بیرسٹرمحمد شریف بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھیوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے گھر پٹنہ میں قائداعظم محمد علی جناح کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا تھا اور وہ بہار مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ 1938 میں ان کی سربراہی میں قائم ایک کمیشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی۔جس کے نتائج کے بعد 1940 کی قرارداد پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی تھی اس رپورٹ کو شریف رپورٹ کا اس وقت نام لیا گیا تھا جبکہ پاکستان بننے کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے، مرحوم سید حسن شریف، سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے قائم کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔انہوں نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور رابطہ عالم اسلامی سمیت متعدد قومی اور بین الاقوامی فورم پر اس سے متعلق بھرپور کوشش کر کے بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی نمائندگی کی اور رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے ان کی واپسی کے لیے فنڈ کے لیے ٹرسٹ بھی تشکیل دیا۔ان کے انتقال سے تحریک پاکستان اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد پاکستانیت کے لیے جدوجہد کرنے کے حوالے سے ایک تاریخی باب بند ہوگیا۔
مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں،صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہائوس جا کر گرفتار کر لے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا ، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ استعفا دے دیں، ورنہ پھر ہم نے اس سے آگے فیصلے کرنے ہیں، ہمارے اس امن کا احترام کیا جائے، مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ، مہنگائی نے گھر کر لیا ہے، مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہیں ، رکشے والے اپنے رکشے جلارہے ہیں ہم قوم کو ان نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ انہیں مزدوروں ، غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دےسکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرادیئے گئے ہیں۔فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا ، مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے کے لیے آئے ہیں مگر باہر سے صرف دو لوگ نوکری کرنے آئے ہیں انہیں بھی آئی ایم ایف نے بھیجا ہے۔سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو بنائیں گے، روح قائداعظم پوچھ رہی ہے میر ا پاکستان کہاں ہے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد مسلمانوں کی مدد کے لیے رکھی گئی تھی قائد اعظم نے 1948 میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تھی اور مسلمانوں کے لیے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی بنائی گئی تھی ، مگر آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کچھ اور ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے ، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کرپٹ اور چوروں کے خلاف لڑرہے ہیں مگر ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔سر براہ جے یوآئی نے کہا کہ عمران خان تم چوروں کے سردار بنے ہوئے ہو ، دوسروں کو آئینہ دکھانے والوں اپنی شکل آئینے میں دیکھ لو ، آج پاکستان کا سب سے بڑا آزادی مارچ نکلا ہوا ہے مگر میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے ہمارے مارچ کے دکھانے پر ۔انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے ۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ آج کشمیر یوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ، موجودہ حکمرانوں نے کشمیریوں کو مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے لیے لڑیں گے ، ان کی خود مختاری اور آزادی کے لیے پاکستانی عوام لڑیں گے ۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو یہ اتنا بڑا مجمع اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے گھر جاکر گرفتار کرسکتا ہے ۔سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ہم اداروں کو بھی غیر جانب دار دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج استادوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، خواتین اساتذہ کے منہ پر تھپڑ مارے جارہے ہیں۔پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں، بلاول
اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کرکے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ کسی اور کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں عوام کا معاشی قتل کر دیا ہے، ان کی معاشی پالیسیوں میں غریب عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی ہے جبکہ امیروں کے لیے بیل آئوٹ پیکجز ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کٹھ پتلی وزیر اعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہورہا ہے اور ہمارا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں، وزیر اعظم کشمیر کے لیے صرف تقاریر اور ٹوئٹ کرتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ طلبہ مزدوروں کسانوں، تاجروں اور سیاستدانوںسمیت آج پورے پاکستان کا نعرہ گو سلیکٹڈ گو، بن چکا ہے۔اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام ف اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں۔اس سے قبل مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی، اب آئی ہے۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عوامی سمندر پی ٹی آئی کے سلیکٹڈ وزیرِ اعظم عمران خان کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا، اس عظیم الشان آزادی مارچ کو لیڈ کرنے پر مولانا فضل الرحمٰن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہاں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کا مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں نکلنے والا آزادی مارچ اسلام آباد میں موجود ہے۔پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف بھی جلسہ گاہ پہنچے، سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا۔ جلسہ گاہ میں آزادی مارچ کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، جس کےبعد جلسے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی آپ نے کنٹینر کی سیاست شروع کی تھی
آج تمہاری کنٹینر کی سیاست یہاں پر دفن ہو رہی ہے، میرے قائد نواز شریف کی قیادت میں اسپتالوں میں مفت دوائیں غریب اور نادار لوگوں کو ملتی تھیں، آج ان سے دوائیاں چھین لی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال 50 ہزا لوگ ڈینگی وائرس سے بیمار ہوئے، سیکڑوں انتقال کر گئے، عمران نیازی کہیں نظر نہیں آیا، آج روزگار، کاروبار ختم ہو گیا، روٹی دو روپے سے پندرہ روپے پر پہنچ گئی، سوا سال میں عوام کی چیخیں نکل گئیں، آج دن آگیا ہے کہ عمران خان کی چیخیں نکل جائیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں اس جعلی حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،جب تک عمران نیازی سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹتی، ہم ان کی جان نہیں چھوڑیں گے، آج مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، عمران خان مغرور ہیں، ان کا بھیجا خالی ہے، عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں۔شہباز شریف سے قبل محمود خان اچکزئی نے بھی جلسے سے خطاب کیا، مولانا فضل الرحمٰن بعد میں خطاب کریں گے۔ملک بھر سے جمعیت علمائے اسلام ف کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، گرفتاری سے رہائی ملنے کے بعد جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللّٰہ بھی کارکنوں کے ہمراہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستانی عوام کو ماضی میں صنعتی ترقی کے باوجود ثمرات نہیں مل سکے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں ‘کاروبار میں آسانیاں’ کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ماضی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کی صنعتوں نے ترقی کی لیکن اس کے ثمرات غریب عوام کو نہیں مل سکے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت غریب طبقے کو غربت سے باہر لانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو سخت معاشی مشکلات کا سامنا رہا لیکن پھر بھی غربت کے خاتمے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات پر ماہرین کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے نظام تعلیم کو بھی بہتر کیا جانا ضروری ہے۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کو فنی تربیت دے رہے ہیں تا کہ یہ پاکستان کے لیے سرمایہ ثابت ہوں۔صدر ورلڈ بینک نے بھی کاروبار میں آسانیوں سے متعلق نمائش سے خطاب کیا۔
وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 900 شکار مکمل کرلیے، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے ایشین وکٹ کیپر بن گئے ہیں۔37 سالہ کامران اکمل نے اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں سینٹرل پنجاب اور سندھ کے درمیان میچ میں وکٹوں کے پیچھے مجموعی طور پر 8 شکار کئے، جس کے ساتھ انہوں نے فرسٹ کلاس کیریئر میں 900 شکار مکمل کرلیے، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے نہ صرف پہلے پاکستانی، بلکہ ایشیا کے بھی پہلے وکٹ کیپر ہیں۔کامران اکمل کے شکار میں 836 کیچز اور 64 اسٹمپس شامل ہیں۔کامران اکمل نے کہا کہ وہ جب تک کرکٹ کھیلیں گے، بہتر سے بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ایک سوال پر وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پچھلے چار سیزن میں بطور وکٹ کیپر بیٹسمین ان کی پرفارمنس کے بعد انہیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں موقع ملنا چاہئے، اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا میں دو وکٹ کیپر ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتے۔ اگر موقع ملا تو وہ پانچویں یا چھٹے نمبر پر پاکستان کی بیٹنگ کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
آزادی مارچ میں شرکت کے لیے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے دو بڑے قافلے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔اے این پی کے دو بڑے قافلے موٹر وے سے اسلام آباد کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔اے این پی کا ایک قافلہ پارٹی رہنما حاجی ہدایت اللہ کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا جبکہ دوسرا قافلہ سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفند یار ولی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا تھا۔اسفند یار ولی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جلسے کا فیصلہ رہبر کمیٹی نے کیا تھا، جلسے کے لیے کوئی پہنچے یا نہ پہنچے مگر اے این پی اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔سربراہ اے این پی اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی نے جلسے کے لیے 31 اکتوبر کی تاریخ طے کی تھی، تحریکوں میں جو فیصلے ایک بار ہوجائیں وہ تبدیل نہیں ہوتے، حزب اختلاف میں کوئی دراڑ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا رہبر کمیٹی کے کسی ممبر سے رابطہ نہیں ہوا، تاہم رہبر کمیٹی کا آخری فیصلہ آج کے جلسے کا تھا۔اسفند یار ولی نے کہا کہ ہمارے ساتھ آج کی تاریخ مقرر کی تھی کہ آج جلسہ ہوگا کوئی پہنچے یا نہ پہنچے، اے این پی پہنچ گئی ہے۔سربرا ہ اے این پی نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے بندے کافی ہیں ہم اپنا جلسہ کرلیں گے اپوزیشن متحد ہے، مگر ہم نے آج اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔اسفند یار ولی نے کہا کہ میں پشاور سے آیا ہوں اور اکرم خان درانی ڈی آئی خان سے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے پروگرام دیا تھا کہ آج کے دن جلسہ ہوگا، ہم حکم کے پابند ہیں، ہم تحریکوں سے واقف ہیں جو فیصلے ایک بار ہوجائیں وہ تبدیل نہیں ہوتے۔اسفند یار ولی نے مزید کہا کہ حزب اختلاف میں کوئی کشمکش یا گڑبڑ نہیں ہے یہ وقت کی بات ہے، کوئی آگے کوئی پیچھے آتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں کراچی سے شروع ہونے والے آزادی مارچ کا قافلہ دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہوگیا ہے۔جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا عطاء الرحمٰن اور اکرم خان درانی کی قیادت میں آنے والا قافلہ پشاور سے موٹروے کراس کرچکا ہے۔اس سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے گوجر خان میں خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے ملتوی ہونے کی تردید کی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا پروگرام ہے جس کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کب اور کیا کرنا ہے۔سربراہ جے یو آئی نےکا کہنا تھا کہ تمام قافلے اپنے وقت اور ترتیب کے مطابق اسلام آباد پہنچیں گے، آزادی مارچ، مارچ رہے گا، اس میں دھرنا بھی ہے سب کچھ ہے۔