وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاکستان میں ٹیسٹ رپورٹ جعلی ہیں تحقیقات کی جائیں ، برطانیہ میں سامنے آنے والی تصاویر میں سابق وزیراعظم کی حالت اچھی نظر آرہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان کووفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے خط لکھا ہے جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاکستان میں ہونے والے ٹیسٹوں بارے تحقیقات کامطالبہ کیا گیا ہے۔
بھارتی ٹی وی کے مطابق انڈیا کے شہر دہلی میں بندروں نے لیبارٹری پر حملہ کیا اور کرونا ٹیسٹ کے نمونہ لے کر فرار ہو گئےرپورٹ کے مطابق نمونے 3 مریضوں کے تھے رپورٹ کےمطابق بندروں نے نمونے ایک درخت میں چھپائے جس کوبعد میں کاٹ کر وہا ں سے نکال لیا گیا میرٹھ میڈیکل کالج کے سپرنٹنڈنٹ دھیرج راج کا کہنا تھا کہ کٹس کو کو ئی نقصان نہیں پہنچا
افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کورونا وائرس کا شکار ہو گئی ،غیر ملکی جریدے کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت کی عدم موجودگی پرسابق امیر ملاعمر کے بیٹے ملا یعقوب نے قیادت سنبھال لی۔ملایعقوب کے قیادت سنبھالنے کے بعد افغان دھڑوں میں تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیاجبکہ ترجمان افغان طالبان ذبیح مجاہدنے کہاکہ افغان طالبان کی تمام قیادت مکمل طور پر وائرس سے محفوظ ہے مغربی پراپیگنڈابے بنیاد ہیں۔غیرملکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے مطابق افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کورونا وائرس کا شکار ہو گئی ،افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اخوند، نائب امیر سراج الدین حقانی کورونا کا شکارہوئے،سراج الدین حقانی اہم کمانڈروں کے اجلاس کی صدارت کرتے رہے ۔فارن پالیسی میگزین کے مطابق سراج الدین کی اہم کمانڈروں سے ملاقاتوں کے نتیجے میں کئی کمانڈربھی وائرس کاشکار ہوگئے،جبکہ ترجمان افغان طالبان ذبیح مجاہدنے کہاہے کہ افغان طالبان کی قیادت محفوظ ہے مغربی پراپیگنڈابے بنیاد ہیں ۔
اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ عمران خان حکومت شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں شوگر مافیا نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے فوجداری، ٹیکس چوری، ریگولیٹری اور کرپشن کی کارروائی شروع کرے گی۔یہ اقدام صرف ایسی شوگر ملز اور افراد کیخلاف نہیں ہوگی جن کے نام شوگر کمیشن میں سامنے آئے تھے؛ بلکہ متعلقہ اداروں سے کہا جائے گا کہ وہ دیگر شوگر ملوں کا بھی فارنسک آڈٹ کریں تاکہ ہمیشہ کیلئے ’’شوگر مافیا‘‘ کا معاملہ ختم کیا جا سکے۔حکومتی اقدامات میں گرفتاریاں، مقدمات کا اندراج، فوجداری مقدمات کا اندراج، ٹیکس کارروائی اور ریگولیٹری اقدامات شامل ہیں۔سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ سبسڈی کا معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو دیا جا سکتا ہے تاکہ ایسے تمام افراد بشمول وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کی جا سکیں جو گزشتہ پانچ سال سے سبسڈی دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ان کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ شہزاد اکبر شوگر کمیشن کی سفارشات کے مطابق شوگر مافیا کیخلاف کارروائی کیلئے اقدامات اور تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ شوگر مافیا کیخلاف ایکشن پلان کو رواں ہفتے ہی حتمی شکل دے کر اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ ایکشن پلان مرتب کر رہے ہیں وہ شوگر کمیشن کی سفارشات پر انحصار کر رہے ہیں۔ذریعے نے بتایا کہ ہم ان سفارشات پر عمل کریں گے، تمام متعلقہ اداروں کو ان کے دائرہ اختیار کے مطابق یہ کیسز بھیجے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر طرح کا جرم، بے ضابطگی، ٹیکس اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں کے معاملات کا احاطہ کیا جا سکے اور قصور وار افراد کا احتساب یقینی بنایا جا سکے۔کہا جاتا ہے کہ جن 9؍ شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ کیا گیا تھا ان میں تقریباً تمام ملز غلط اقدامات میں ملوث تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ متعلقہ اداروں سے اب کہا جائے گا کہ وہ دیگر شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ بھی کریں تاکہ ان کے کردار کا بھی پتہ چل سکے۔اس سوال کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف سبسڈی کے معاملے پر تحقیقات ہوگی یا اس میں صرف سابقہ حکمرانوں کے کردار پر غور کیا جائے گا، کے جواب میں ذریعے نے کہا کہ شوگر کمیشن کے انکشافات کے تحت معاملات نیب یا پھر ایف آئی اے کو بھیجے جائیں گے تاکہ ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہو سکے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے خراب کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے جنہوں نے تین ارب روپے کی سسبڈی شوگر ملز کو دی۔ایک ذریعے نے کہا کہ جب شوگر کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور مین نا انصافی ہوئی تو ایسی صورت میں منتخب انداز سے کارروائی نہیں کی جا سکتی۔شوگر کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جہانگیر ترین،چوہدری گروپ ، عمر شہریار، اومنی گروپ اور شریف گروپ کی شوگر ملوں میں سنگین غلط اقدامات ہوئے ہیں۔فارنسک رپورٹ میں شوگر انڈسٹری میں ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے جن میں کم قیمت پر چینی کی فروخت، بے نامدار خریداروں کو چینی کی فروخت، ڈبل بکنگ، اوور انوائسنگ، کم قیمت پر پھوگ اور شیرہ فروخت کرنا جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوئی۔اس کے علاوہ بھی شوگر ملوں کے لین دین میں کئی کارپوریٹ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے اس کمیشن کا کام شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ کرنا تھا۔کمیشن نے 6؍ شوگر ملوں کا ریکارڈ آڈٹ کیا، ان میں وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، چوہدری گروپ اور سلمان شہباز کی العربیۃ شوگر ملز شامل ہیں۔کمیشن کے مطابق یہ تمام شوگر ملز اربوں روپے کے کارپوریٹ فراڈ میں ملوث ہیں۔ پوری شوگر انڈسٹری نے بتایا کہ انہوں نے 124؍ ارب روپے کی چینی فروخت کی ہے جس میں سے 43؍ ارب روپے کی چینی رجسٹرڈ افراد کو فروخت کی گئی۔اگر انکم ٹیکس دینے والے افراد کو فروخت کی گئی 14؍ ارب روپے کی چینی اس میں سے نکال دیں تو باقی 58؍ ارب روپے کی چینی غیر رجسٹرڈ افراد کو بیچی گئی جو شبہ ہے کہ بے نامدار ہیں۔اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے میں کم پیدوار نے بہت کم کردار ادا کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے دیگر پہلوئوں میں مارکیٹ میں ہونے والی ہیرا پھیری، ذخیرہ اندوزی اور سٹہ جیسے عوامل شامل ہیں۔ پیدا ہونے والے گنے اور اس کی کرشنگ میں بہت فرق ہے۔اس نمایاں خلا کی وجہ کسی حساب کتاب کے بغیر گنے کی خریداری اور اس کے بعد حساب کتاب کے بغیر چینی کی پیداوار کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پہلو کے حوالے سے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں جو فارنسک آڈٹ کے دوران جمع کیے گئے تھے۔مارکیٹ میں ہونے والی ہیرا پھیری کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کچھ شوگر ملوں کے فائدے کیلئے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی گئی اور اس مقصد کیلئے فارورڈ کنٹریکٹ، فروخت کی گئی چینی کی نان لفٹنگ اور سٹے میں ملوث منتخب بروکروز کو چینی کی فروخت کا سہارا لیا گیا۔اگرچہ اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ کارٹلائزیشن موجود ہے لیکن سی سی پی جیسے مرکزی ریگولیٹر ادارے 2009ء میں کارٹلائزیشن کے حوالے سے اپنی رپوٹ جاری کرنے کے بعد سے خاموش رہے۔ شوگر انڈسٹری کو درپیش مسائل 2009ء سے جاری ہیں اور کوئی غیر مانوس معاملہ نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق، بروکرز اور سرمایہ کاروں کی ملی بھگت کے ساتھ شوگر ملوں کی سطح پر چینی کی ذخیرہ اندوزی کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ شوگر ملیں اپنے گوداموں میں فروخت شدہ چینی کا ذخیرہ چھپا کر رکھتی ہیں جس سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔متعلقہ قوانین (رجسٹریشن آف گودام ایکٹ پنجاب اور سندھ) کی موجودگی کے باوجود اسٹاک کرنے والوں یا شوگر ملوں کی جانب سے صوبوں میں چینی اسٹاک کرنے کا کوئی ڈیٹا یا اعداد و شمار موجود نہیں۔
کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ میں جھلسنے والی 12 سالہ گھریلو ملازمہ اسپتال میں چل بسی جبکہ اس کی دو ساتھی لڑکیوں میں سے مزید ایک کی حالت تشویشناک ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق 12 سالہ ناہیدہ کو 22 مئی کو طیارہ حادثہ کے بعد جناح اسپتال سے سول اسپتال کے برنس سینٹر منتقل کیا گیا تھا، نائیدہ طیارہ حادثے میں 56 فیصد جھلس گئی تھی۔پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں طیارہ گرنے سے تباہ ہونے والے گھروں میں کام کرنے والی تین گھریلو ملازم لڑکیاں بھی جھلس گئی تھیں۔شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کی حدود ملیر جام کھنڈو گوٹھ کے خاصخیلی محلے سے تعلق رکھنے والی ناہیدہ، عزیزہ اور ماریہ خاصخیلی ماڈل کالونی کے ان گھروں میں جزوقتی کام کرتی تھیں جن پر پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔طیارہ گرتے ہی ماڈل کالونی کے کئی گھروں کو بھی آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں اس آبادی کے کافی لوگ زخمی ہوئے ان میں یہ تینوں گھریلو ملازمائیں بھی شامل تھیں۔یہ لڑکیاں دیگر خواتین کے ساتھ گھروں میں کام کرنے کے لیے گوٹھ سے صبح سویرے جاتی اور شام کو واپس لوٹ آتی تھیں۔ واقعےکے روز 2 بجے دو لڑکیوں نے کام ختم کر لیا تھا اور وہ گلی میں چارپائی پر بیٹھ کر تیسری لڑکی کا انتظار کر رہی تھیں کہ طیارہ آگرا۔ان کی عزیز خاتون رشیدہ کے مطابق تینوں لڑکیوں کو فوری طور پر دیگر زخمیوں کے ساتھ جناح اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں سے انہیں سول اسپتال کے برنس سینٹر منتقل کردیا گیا تھا۔ڈاکٹرز کے مطابق دو میں سے مزید ایک لڑکی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ 12 سالہ ناہیدہ اسکول میں پڑھ رہی تھی عید کے اخراجات کے لیے گھروں میں کام کرنے جانے لگی تھی کہ موت کا شکار ہوگئی۔
ہلالِ احمر پاکستان کے چیئرمین اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ابرار الحق کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔اس بات اعلان خود ابرار الحق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔معروف پاپ گلوکار نے لکھا کہ ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آگیا ہے، جس کے بعد خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ بذریعہ انٹرنیٹ ہلال احمر اور سماجی ادارے سہارا کے لیے اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ابرار الحق نے اپیل کی کہ ان کے لیے اور اس وبا سے لڑنے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کریں۔
وزارتِ خزانہ نے یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول، مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا۔وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 7 روپے 6 پیسے کمی کردی گئی ہے جس کے بعد اس کی نئی فی لیٹر قیمت 74 روپے 52 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 9 روپے 37 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 38 روپے 14 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔تاہم وزارت خزانہ کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 5 پیسے اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد اس کی نئی قیمت قیمت 80 روپے 15 پیسے کردی گئی۔مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 11 روپے 88 پیسے کمی کردی گئی ہے۔ماہ جون کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
خیبر پختون خوا کے ضلع مردان کی پولیس کی جانب سے مجرموں کے خلاف آپریشن کیا گیا ہے۔مردان کے علاقے شہباز گڑھی میں کیے گئے آپریشن کے دوران پولیس اور مجرموں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔مردان پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران سلمان نامی اجرتی قاتل ہلاک ہو گیا ہے جس کے قبضے سے اسلحہ اور دستی بم برآمد ہوا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سلمان نے حوالدار باسط کو مسجد کے اندر قتل کیا تھا، ملزم سلمان قتل اور راہزنی کے مقدمات میں مفرور تھا۔پولیس کی جانب سے اس آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈرون کیمروں کا استعمال بھی کیا گیا۔
پنجاب کے ضلع خانیوال کے قریب لاہور سے ملتان جانے والی مسافر بس اُلٹ گئی، حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 25 زخمی ہوگئے۔لاہور سے ملتان جانے والی بس ملتان خانیوال روڈ پل رانگو پر موٹر سائیکل سوار کو بچاتے ہوئے الٹی۔حادثےمیں 4 مسافر موقع پر جاں بحق ہو گئے جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے۔اطلاع ملنے پر ریسکیو کا عملہ موقع پر پہنچ گیا جس نے زخمیوں اور لاشوں کو الٹی ہوئی بس سے نکال کر اسپتال منتقل کیا۔اسپتال میں حادثے کے مزید 2 زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پاکستان میں کورونابے قابوہونے پرماسک لازمی قراردیدیاگیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا مساجد سمیت عوامی مقامات اور ٹرانسپورٹ میں ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں، جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ اب تک 60ممالک سے 33ہزار سے زائد پاکستانی وطن واپس لاچکے ہیں، یکم جون سے 10جون تک 20ہزار مسافر پاکستان آئینگے۔دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ صورتحال خطرناک ہے، آئندہ دس بارہ دن میں اسپتال کورونا مریضوں سے بھر سکتے ہے، ملک بھر میں 14دن کاسخت لاک ڈاؤ ن ہونا چاہیے۔ادھر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کیلئے وفاق کو سفارشات دینے کا فیصلہ کیاہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ملک میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کورونا ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مقامی پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے جبکہ صحت یابی کی شرح 36 فیصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طے کردہ ضابطہ کار اور گائیڈ لائنز پر سختی سےعمل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ وائرس سے بچاؤ کیلئے سرجیکل اور کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں، مساجد، بازاروں، دکانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین میں ماسک پہننالازمی ہوگا۔اس موقع پر ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ زمینی سرحدیں اُسی طرح آپریٹ کررہی ہیں جیسے پہلے کررہی تھیں، بھارت سے 180 پاکستانیوں کو واپس لائے ہیں۔افغانستان سے تجارت کے حوالے سے معاون خصوصی نے بتایا کہ افغانستان کی درخواست پربنیادی اشیائے ضروریہ کی تجارت کی اجازت دی، افغان حکومت کی ہی درخواست پر طورخم اور چمن سے ٹرک جا رہے ہیں اور اس دوران پاکستان سے افغان شہری بھی واپس جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سیاحوں کو ابھی فی الحال اجازت نہیں دی ہے۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے آئندہ دنوں میں کورونا کیسز کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا۔جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عید کی چھٹیوں میں لوگوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا جس وجہ سے کورونا کیسز کی تعداد آنے والے دنوں میں خطرناک حدتک بڑھ سکتی ہے۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت لمحہ فکریہ ہے، مریضوں اور اموات میں اضافہ ہورہا ہے، ہلاکتیں بتارہی ہیں کہ صورتحال کتنی خطرناک ہے، لوگوں کی ترجیح نجی اسپتال ہے لیکن وہاں بھی گنجائش ختم ہوچکی ہے مگر سرکاری اسپتال میں کچھ گنجائش ہے اور وزیراعلیٰ گنجائش مزید بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ نیپا کراچی میں 200 بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال بنارہے ہیں، کراچی یونیورسٹی کے پاس بھی جگہ دیکھی ہے جہاں 50 بستر لگائیں گے اس کے علاوہ لیاری اور جنرل اسپتال میں بھی بستروں کی تعداد بڑھارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے نمبرز بڑھ رہے ہیں صورتحال خطرناک ہے اور مزید آنے والے دنوں میں ہوسکتی ہے، جس طرح پچھلے 10 روز میں کیسز آئے سب کے سامنے ہیں، آج سے 10 روز پہلے 16 سے 17 افراد وینٹی لیٹرز پر تھے جو اب 40 سے 50 ہوگئے ہیں، آئی سی یو میں بھی مریضوں کی تعداد 40 سے 80 تک جا پہنچی ہے۔پنجاب نے لاک ڈائون میں مزید نرمی کیلئے وفاق کو سفارشات دینے کا فیصلہ کیاہے،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدات کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کیلئے تجاویز اور سفارشات پیش کیں اور پنجاب میں ایس او پیز کے مطابق مختلف اداروں کو کھولنے کے لئے وفاق کو سفارشات پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں منہ او رناک ڈھانپنے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اصولی فیصلہ کیاگیا،جس کے تحت انتظامیہ،پولیس اور ٹریفک وارڈن منہ او رناک نہ ڈھانپنے والے افراد کو تنبہ کر سکیں گے۔کابینہ کمیٹی نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں ایس او پیز کے تحت ایک ہزا رلیڈی ڈاکٹرز کے انٹرویوزکی اجازت دے دی۔ اجلاس میں تجارتی اداروں کے نئے اوقات کار اور 2دن تعطیل کا فیصلہ بھی این سی او سی کرے گا-