ایتھنز (سکندر ریاض چوہان) یونان میں تعینات سفیر پاکستان خالد عثمان قیصر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں یونان میں موجود پاکستانی تارکین وطن کو ایک نہایت اہم پیغام بذریعہ میڈیا دیا ہے۔ یونان میں اس وقت پاکستانی برادری کے اندر کمیونٹی الیکشن کی دوڑ لگی ہے جس میں دو امیدوار آمنے سامنے ہیں جس کے باعث دونوں امیدواران کے حامی سوشل میڈیا پر بالخصوص ایک دوسرے کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔پاکستانی برادری کی صدارات کے لیے ووٹنگ پانچ مارچ کو ہوگی جبکہ ایک عدم اعتماد کی فضابننے کے بعد اس میں انتہائی سرگرمی آگئی جس کو دیکھتے ہوئے سفیر پاکستان نے دونوں گروپوں کے حامیوں کو بالخصوص اور پاکستانی برادری کو بالعموم متنبہ کیاہے اور ان کو کہاہے کہ،اب وقت آگیا ھے که پاکستان کمیونٹی یونان اپنا بیانیه (Narrative) تبدیل کرے. ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی گالی گلوچ اور غیر شاسته زبان کا سلسله بند کر دیں. اس سے پاکستان کا بہت نقصان ہو رہا ہے .جذبات کی بجائے دلیل کا راسته اختیار کرنے میں آپکا اور آپ کے ملک کا فائده ہے. اپنے ملک کی عزت و ناموس کو بر قرار رکھنا ہم سب کی ذمه داری ہے.یہاں کے سرکاری ذمہداران کمیونٹی کے تمام معاملات سے آگاه ہیں. اور وه پاکستانیوں کے ہر کام اور حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں. برائے مہر بانی ایک دوسرے کی عزت کرنے اور آپس میں شفقت سے پیش آنے کو اپنی زندگی میں جگه دیں. سفارت خانہ پاکستان کو اپنی بے مقصد سیاست میں ملوث نہ کریں. سفارت خا نہ کے با رے میں کسی بھی قسم کی شکایت ہوتو میرے علم میں لائی جائےانشاءالله آپکو مایوسی نھی ہوگی. سفارت خانہ آپکے تعاون اور understanding کا مشکور ھوگا. الله آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے. آمین.
کویت (عرفان شفیق) پاکستان ایمپلائمنٹ فورم کویت کے زیر اہتمام گزشتہ روز پاکستان سکول سالمیہ میں پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ طلبہ و طالبات کیلئے کیریئر گائیڈ نس سیمینار کا انعقاد کیا گیا. ڈاکٹر یاسر جمیل اور ڈاکٹر کاشف محمود نے پری میڈیکل جبکہ انجینئر محمد عرفان عادل نے پری انجینئرنگ فیلڈز کے حوالے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ جس میں طلبہ و طالبات کو ہائر ایجوکیشن کے حوالے مکمل رہنمائی کی گئی۔سیمینار کے آخر میں طلبہ و طالبات کے سوالوں کے جوابات دیئے گئے۔سکول کی پرنسپل مسز صائمہ راحیل اور وائس پرنسپل محمد علی نے سیمینار کو انتہائی مفید اور خوش آئند قرار دیا۔ پاکستان ایمپلائمنٹ فورم کویت کے بانی و صدر محمد عرفان عادل نے اس موقع پر کہا کہ ہم ہر سال سکولوں میں کیریئر گائیڈ نس سیمینارز کا انعقاد کرتے ہیں اور انشا اللہ کیریر ڈویلپمنٹ کے حوالے سے اپنی خدمات کا دائر ہ کار مزید بڑهایئں گے۔
آج کل پنجاب میں ہونے والے آپریشن سے ہمارے کچھ پختون بھائیوں کا نام لیکر افغان شرپسند آج کل پنجاب میں ہونے والے آپریشن سے ہمارے کچھ پختون بھائیوں کا نام لیکر افغان شرپسند خوب سرگرم عمل ہیں …اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ پبجابی پنجابی کی بین بجانے والے کماتے بھی پنجاب میں ہیں بیٹیاں بیاہتے میں پنجابیوں سے ہیں پنجابنوں سے شادی کرنے کے ارمان بھی رکھتے ہیں. جو انہیں ملتی نہیں ہیں تو انہیں آوارہ اور بدچلن بھی زور و شور سے ثابت کرتے ہیں .. ان کی ہر بات سے متاثر بھی ہوتے ہیں ..اور ان میں کیڑے بھی نکالتے ہیں .. اور انہیں جا کر من من بھر کی گالیاں بھی دیتے ہیں . میرے نزدیک خود کو بہت زیادہ غیرت مند پرہیز گار مومن حیادار کہلانے والوں کو یہ بات اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے پوچھنی چاہیئے کہ کیا ایسے ہوتے ہیں غیرت مند لوگ؟؟؟؟ جو جن کیساتھ باعزت وقت گزاریں اور پھر ان پر بہتان تراشی بھی کریں . پیارے بھائیو.. بری بات کوئی بھی کرے وہ بری ہوتی ہے . میرا بیٹا بری بات کرے تو وہ بری نہیں لیکن پڑوسی کا کرے تو وہ بری. . یہ روایت اب ختم ہو جانی چاہیئے . آج کے پڑھے لکھے لوگ اور نوجوان بھی اگر تنقید برائے تنقید یا ضد برائے ضد کریں تو پھر ہم اپنے معاشرے میں تبدیلی کیسے لا سکتے ہیں . پھر تو کبھی کچھ نہیں بدلے گا . میری بات محض کسی ایک واقعہ پر مبنی نہیں ہے پنجابیوں اور پختونوں دونوں سے میرا تعلق اور رشتہ ہے . میں نے جو کہا وہ اسی فیصد تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے . کئی لوگوں نے کہا پنجاب سے لوگ کیوں پختونخواہ میں کام کرنے آتے ہیں یا وہ بھی وہاں کماتے ہیں تو جی ہاں یہ بھی سچ ہے لیکن پنجاب سے پختونخواہ میں جا کر کام کرنے والے اگر 80 ہیں تو پنجابی جو سرحد میں جا کر کام کرتے ہیں وہ بیس ہونگے . اب یہ پرسنٹیج مقابلے پر کیسے لائی جا سکتی ہے۔
ہمارے پنجاب کے ہر محلے میں ہر گلی میں دو چار پختون خاندان آباد ہیں .ہمارے سر آنکھوں پر .. اس کے مقابلے میں سرحد کی گلی محلوں میں کتنے پنجابی کام کرتے ہیں یا آباد ہیں ؟ ایمانداری سے حلفا کہیئے گا پلیز ٹھنڈے دل سے جائزہ لیکر … پنجابی لڑکیوں سے شادی کرنے کے کتنے خواہشمند پنجاب میں شادی دفاتر میں رجسٹر ہیں آپ چاہیں تو کبھی بھی معلوم کر سکتے ہیں ..لیکن پنجابی لڑکیاں پختون ماحول اور سخت گیریوں کے خوف سے وہاں شادی میں دلچسپی نہیں رکھتی .تو میں نے کئی لڑکوں کو ان لڑکیوں پر تہمتیں لگاتے اور گالیاں بکتے دیکھا ہے . ان کی نظر میں ہر عورت جو کسی مرد سے بات کرتی ہے یہاں تک کہ کسی دکاندار یا ڈاکٹر سے بھی بات کرتی ہے تو وہ بدکار ہے . بات دس بیس فیصد کی نہ کریں بات اکثریت کی کریں . اور ہم اپنی غلطیوں کو مانیں گے تو ہی کچھ بدل سکیں گے . ورنہ آپ مجھے جتنا چاہیں کوس لیں. .کچھ نہیں بدلے گا .. میں نے اپنی تحریر کے پہلے حصے میں کسی بھی صوبے کا نام لیکر اس سے تعصب کا اظہار بلکل بھی نہیں ہے جو کہ میرا ایک پوسٹ پر کمنٹ تھا . لیکن اس پر کچھ لوگوں نے تعصبانہ آگ بھڑکانے کی ناکام کوشش کی اور اپنی گھٹیا زبان اور گندی سوچ کا مظاہرہ کیا …میں نے تو پنجابی پنجابی کہنے والوں کو مشترکہ مخاطب کیا ہے … اور میں اس پر قائم ہوں .. کبھی آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں پر آدھی رات کو رینجرز نے چھاپے مارے .. وہ دن میں آتے …. یہ ظلم ہے ….. بات ہے کسی مجرم کی تلاش میں کسی کے گھر پر چڑھائی کرنے کی … تو میرے بھائی ساری دنیا میں چھاپے اسی طرح اچانک اور سینکڑوں پولیس یا رینجرز کے ساتھ ہی مارے جاتے ہیں .آدھی آدھی رات کو ہی مارے جاتے ہیں۔
ہم یورپ اور امریکہ میں بھی یہ ہی آئے دن دیکھتے ہیں . آنے سے پہلے سائرن نہیں بجائے جاتے نہ ہی فون پر اطلاع دی جاتی ہے کہ ہشیار ہو جاو ہم چھاپہ مارنے آ رہے ہیں … آپ نے کہا ہماری بجلی گیس پانی پنجاب والے استعمال کرتے ہیں ہمیں نہیں ملتی.. تو جناب بجلی گیس مفت میں ایک شہر یا صوبے سے کہیں نہیں جاتے …جہاں جاتے ہیں وہ اس کی کئی گناء قیمت ادا کرتے ہیں .. جبکہ آپ کے علاقے کے لوگ بجلی پانی اور گیس کے بل تک دینے کو تیار نہیں ہیں تو یہ سہولیات بنا پیسے کے تو دنیا میں کہیں بھی آپ کو نہیں مل سکتی ..اگر ملتی ہے تو ہمیں بھی خبر کریں . ایک بات کی گئی کہ کون کہاں کام کرتا ہے ..تو کہیں بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے یا صوبے میں کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے .لیکن جہاں اور جن کیساتھ مل کر رزق کمآئیں ان کو ہی گالیاں دینا اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا کسی صورت بھی شرافت یا انسانیت نہیں کہا جا سکتا . اور اپنے صوبے میں انڈسٹری لگانے پر ذور دینا صوبائی حکومتوں پر ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو انہیں منتخب کرتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں .. وہ وہاں انڈسٹری لگائیں تاکہ ہر ایک کو اپنے علاقے میں ہی کام میسر آ سکے اور علاقے میں ترقی ہو. ہمارے ہاں کرپشن کے علاوہ وہی ہوتا ہے جو کہ انٹرنیشنلی ہر جگہ ہوتا ہے سو ہم پاکستانیوں کو مفتے کے شوق نے ہمیشہ ہی خراب کیا ہے . اس سے ہمیں اب جان چھڑا کر حقیقت کی دنیا میں آ جانا چاہیئے. اکثر اپنی قربانیاں یاد دلاتے ہوئے ہمارے بھائی بھول جاتے ہیں کہ ضرب عصب میں تین سال سے پنجابی بیٹے کیا لڈو کھیلنے جا رہے ہیں۔
افغانی دہشت گرد پالے تو ہمارے پختون بھائیوں نے اپنی معصومیت اور سادگی میں تھے لیکن ان کی صفائی تو پنجاب کیا پورے پاکستان نے اپنی جان پر کھیل کر کی ہے .یہ کوئی جادو سے تو نہیں مارے گئے میں سمجھتی ہوں اس سرچ آپریشن میں پختون بھائیوں کو بڑھ چڑھ کر رینجرز سے تعاون کرنا چاہیئے تاکہ جو افغان مجرمان اور قاتل ان کی زبان اور حلیے کی آڑ لیکر اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہے ہیں اور پختونوں کا حق مار رہے ہیں انکا قلع قمع کیا جا سکے .اور ان کا حق اور انہیں دیا جا سکے اور ان کی عزت بحال کی جا سکے .اللہ پاک کرم فرمائے. کہیں بھی افغان اور پختون کو پہچانا ہو تو یاد رکھیں دو لفظ ان کی زبان کے ان سے بول کر دیکھیں پختون اس کی محبت اور دید میں اپنی جان بھی آپ کو پیش کر دے گا . جبکہ افغانی کے سامنے اپنا پورا شجرہ بھی رکھ دیں گے تو بھی وہ نہایت بدمزاج اور اڑیل ٹٹو کی طرح بدلحاظ ثابت ہو گا . یقین نہ آئے تو آج ہی آزما کر دیکھ لیں . پختون بھائیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والا ،مہمان نواز،قدر کرنے والا کوئی مشکل ہی سے ملے گا ..انہیں خوبیوں کو الٹ دیجیئے تو افغان تیار ہے . سو ہمیں پختون اور افغان کی اسے چھانٹی اور پہچان کو یقینی بنانا ہے. تاکہ افغانی مجرمان کے جرائم سے پختون قوم کو بدنام ہو نے سے بچایا جا سکے . اور ان کا حق انہیں دلوایا جا سکے . اور انشاءاللہ ہم سب پاکستانی مل کر اسے یقینی بنائیں گے . سرگرم عمل ہیں …اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ پبجابی پنجابی کی بین بجانے والے کماتے بھی پنجاب میں ہیں بیٹیاں بیاہتے میں پنجابیوں سے ہیں پنجابنوں سے شادی کرنے کے ارمان بھی رکھتے ہیں. جو انہیں ملتی نہیں ہیں تو انہیں آوارہ اور بدچلن بھی زور و شور سے ثابت کرتے ہیں .. ان کی ہر بات سے متاثر بھی ہوتے ہیں ..اور ان میں کیڑے بھی نکالتے ہیں .. اور انہیں جا کر من من بھر کی گالیاں بھی دیتے ہیں . میرے نزدیک خود کو بہت زیادہ غیرت مند پرہیز گار مومن حیادار کہلانے والوں کو یہ بات اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے پوچھنی چاہیئے کہ کیا ایسے ہوتے ہیں غیرت مند لوگ؟؟؟؟ جو جن کیساتھ باعزت وقت گزاریں اور پھر ان پر بہتان تراشی بھی کریں . پیارے بھائیو.. بری بات کوئی بھی کرے وہ بری ہوتی ہے۔
میرا بیٹا بری بات کرے تو وہ بری نہیں لیکن پڑوسی کا کرے تو وہ بری. . یہ روایت اب ختم ہو جانی چاہیئے . آج کے پڑھے لکھے لوگ اور نوجوان بھی اگر تنقید برائے تنقید یا ضد برائے ضد کریں تو پھر ہم اپنے معاشرے میں تبدیلی کیسے لا سکتے ہیں . پھر تو کبھی کچھ نہیں بدلے گا . میری بات محض کسی ایک واقعہ پر مبنی نہیں ہے پنجابیوں اور پختونوں دونوں سے میرا تعلق اور رشتہ ہے . میں نے جو کہا وہ اسی فیصد تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے کئی لوگوں نے کہا پنجاب سے لوگ کیوں پختونخواہ میں کام کرنے آتے ہیں یا وہ بھی وہاں کماتے ہیں تو جی ہاں یہ بھی سچ ہے لیکن پنجاب سے پختونخواہ میں جا کر کام کرنے والے اگر 80 ہیں تو پنجابی جو سرحد میں جا کر کام کرتے ہیں وہ بیس ہونگے . اب یہ پرسنٹیج مقابلے پر کیسے لائی جا سکتی ہے. ہمارے پنجاب کے ہر محلے میں ہر گلی میں دو چار پختون خاندان آباد ہیں .ہمارے سر آنکھوں پر .. اس کے مقابلے میں سرحد کی گلی محلوں میں کتنے پنجابی کام کرتے ہیں یا آباد ہیں ؟ ایمانداری سے حلفا کہیئے گا پلیز ٹھنڈے دل سے جائزہ لیکر … پنجابی لڑکیوں سے شادی کرنے کے کتنے خواہشمند پنجاب میں شادی دفاتر میں رجسٹر ہیں آپ چاہیں تو کبھی بھی معلوم کر سکتے ہیں ..لیکن پنجابی لڑکیاں پختون ماحول اور سخت گیریوں کے خوف سے وہاں شادی میں دلچسپی نہیں رکھتی .تو میں نے کئی لڑکوں کو ان لڑکیوں پر تہمتیں لگاتے اور گالیاں بکتے دیکھا ہے .ان کی نظر میں ہر عورت جو کسی مرد سے بات کرتی ہے یہاں تک کہ کسی دکاندار یا ڈاکٹر سے بھی بات کرتی ہے تو وہ بدکار ہے۔
بات دس بیس فیصد کی نہ کریں بات اکثریت کی کریں . اور ہم اپنی غلطیوں کو مانیں گے تو ہی کچھ بدل سکیں گے ورنہ آپ مجھے جتنا چاہیں کوس لیں. .کچھ نہیں بدلے گا .. میں نے اپنی تحریر کے پہلے حصے میں کسی بھی صوبے کا نام لیکر اس سے تعصب کا اظہار بلکل بھی نہیں ہے جو کہ میرا ایک پوسٹ پر کمنٹ تھا . لیکن اس پر کچھ لوگوں نے تعصبانہ آگ بھڑکانے کی ناکام کوشش کی اور اپنی گھٹیا زبان اور گندی سوچ کا مظاہرہ کیا …میں نے تو پنجابی پنجابی کہنے والوں کو مشترکہ مخاطب کیا ہے … اور میں اس پر قائم ہوں .. کبھی آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں پر آدھی رات کو رینجرز نے چھاپے مارے .. وہ دن میں آتے …. یہ ظلم ہے ….. بات ہے کسی مجرم کی تلاش میں کسی کے گھر پر چڑھائی کرنے کی … تو میرے بھائی ساری دنیا میں چھاپے اسی طرح اچانک اور سینکڑوں پولیس یا رینجرز کے ساتھ ہی مارے جاتے ہیں . آدھی آدھی رات کو ہی مارے جاتے ہیں۔
ہم یورپ اور امریکہ میں بھی یہ ہی آئے دن دیکھتے ہیں . آنے سے پہلے سائرن نہیں بجائے جاتے نہ ہی فون پر اطلاع دی جاتی ہے کہ ہشیار ہو جاو ہم چھاپہ مارنے آ رہے ہیں … آپ نے کہا ہماری بجلی گیس پانی پنجاب والے استعمال کرتے ہیں ہمیں نہیں ملتی.. تو جناب بجلی گیس مفت میں ایک شہر یا صوبے سے کہیں نہیں جاتے …جہاں جاتے ہیں وہ اس کی کئی گناء قیمت ادا کرتے ہیں .. جبکہ آپ کے علاقے کے لوگ بجلی پانی اور گیس کے بل تک دینے کو تیار نہیں ہیں تو یہ سہولیات بنا پیسے کے تو دنیا میں کہیں بھی آپ کو نہیں مل سکتی ..اگر ملتی ہے تو ہمیں بھی خبر کریں . ایک بات کی گئی کہ کون کہاں کام کرتا ہے ..تو کہیں بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے یا صوبے میں کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے .لیکن جہاں اور جن کیساتھ مل کر رزق کمآئیں ان کو ہی گالیاں دینا اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا کسی صورت بھی شرافت یا انسانیت نہیں کہا جا سکتا . اور اپنے صوبے میں انڈسٹری لگانے پر ذور دینا صوبائی حکومتوں پر ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو انہیں منتخب کرتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں .. وہ وہاں انڈسٹری لگائیں تاکہ ہر ایک کو اپنے علاقے میں ہی کام میسر آ سکے اور علاقے میں ترقی ہو. ہمارے ہاں کرپشن کے علاوہ وہی ہوتا ہے جو کہ انٹرنیشنلی ہر جگہ ہوتا ہے سو ہم پاکستانیوں کو مفتے کے شوق نے ہمیشہ ہی خراب کیا ہے۔ اس سے ہمیں اب جان چھڑا کر حقیقت کی دنیا میں آ جانا چاہیئے۔
اکثر اپنی قربانیاں یاد دلاتے ہوئے ہمارے بھائی بھول جاتے ہیں کہ ضرب عصب میں تین سال سے پنجابی بیٹے کیا لڈو کھیلنے جا رہے ہیں …. افغانی دہشت گرد پالے تو ہمارے پختون بھائیوں نے اپنی معصومیت اور سادگی میں تھے لیکن ان کی صفائی تو پنجاب کیا پورے پاکستان نے اپنی جان پر کھیل کر کی ہے .یہ کوئی جادو سے تو نہیں مارے گئے میں سمجھتی ہوں اس سرچ آپریشن میں پختون بھائیوں کو بڑھ چڑھ کر رینجرز سے تعاون کرنا چاہیئے تاکہ جو افغان مجرمان اور قاتل ان کی زبان اور حلیے کی آڑ لیکر اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہے ہیں اور پختونوں کا حق مار رہے ہیں انکا قلع قمع کیا جا سکے .اور ان کا حق اور انہیں دیا جا سکے اور ان کی عزت بحال کی جا سکے۔
اللہ پاک کرم فرمائے. کہیں بھی افغان اور پختون کو پہچانا ہو تو یاد رکھیں دو لفظ ان کی زبان کے ان سے بول کر دیکھیں پختون اس کی محبت اور دید میں اپنی جان بھی آپ کو پیش کر دے گا .جبکہ افغانی کے سامنے اپنا پورا شجرہ بھی رکھ دیں گے تو بھی وہ نہایت بدمزاج اور اڑیل ٹٹو کی طرح بدلحاظ ثابت ہو گا . یقین نہ آئے تو آج ہی آزما کر دیکھ لیں . پختون بھائیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والا ،مہمان نواز،قدر کرنے والا کوئی مشکل ہی سے ملے گا ..انہیں خوبیوں کو الٹ دیجیئے تو افغان تیار ہے . سو ہمیں پختون اور افغان کی اسے چھانٹی اور پہچان کو یقینی بنانا ہے. تاکہ افغانی مجرمان کے جرائم سے پختون قوم کو بدنام ہو نے سے بچایا جا سکے . اور ان کا حق انہیں دلوایا جا سکے . اور انشاءاللہ ہم سب پاکستانی مل کر اسے یقینی بنائیں گے۔
اس پراجیکٹ کی ترجمان الزبتھ بنٹا نے کہا کہ سولر امپلس ٹو جمعرات کو کسی وقت سپین یا فرانس میں اترے گا اور اس کا تعین موسمی حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا۔شمسی توانائی سے چلنے والے ایک طیارے نے پیر کو بحر اوقیانوس پر پرواز شروع کی جو اس کی دنیا کے گرد پرواز کے طویل ترین مرحلوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے گرد پرواز کے دوران ’سولر امپلس ٹو‘ نامی طیارے نے ایندھن کا قطرہ بھی استعمال نہیں کیا۔ایک سیٹ والے سولر امپلس ٹو طیارے نے صبح دو بج کر 30 منٹ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ سے پرواز شروع کی جو 90 گھنٹے طویل ہونے کا امکان ہے۔یہ سولر امپلس ٹو کے دنیا کے گرد چکر کا 15 ہواں مرحلہ ہے۔یہ طیارہ سوئٹزرلینڈ کے دو سائنس دانوں برٹرینڈ پیکارڈ اور آندرے بورش برگ کی تخلیق ہے جنہوں نے اسے 12 سال کی محنت کے بعد تیار کیا ہے اور وہی اس جہاز کے پائلٹ بھی ہیں اور باری باری اسے اڑاتے ہیں۔اس طیارے کے پروں میں 17,000 سولر سیل لگائے گئے ہیں جن کی چوڑائی بوئنگ 747 طیارے سے زیادہ ہے۔بحر اوقیانوس پر پرواز میں برٹرینڈ پیکارڈ اس طیارے کے ہواباز ہیں۔جہاز کی سست رفتار کی وجہ سے اس کے پائلٹوں کو طویل عرصے تک چوکس رہنے کے لیے مراقبے اور مسمریزم کی تربیت دی گئی ہے۔اس پراجیکٹ کی ترجمان الزبتھ بنٹا نے کہا کہ سولر امپلس ٹو جمعرات کو کسی وقت سپین یا فرانس میں اترے گا اور اس کا تعین موسمی حالات کو دیکھ کر کیا جائے گا۔جہاز کے خالق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کے اس مشن کا مقصد ہوا بازی کی صنعت میں کوئی انقلاب لانا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور نئی ٹیکنالوجیز وہ کام بھی انجام دے سکتے ہیں جنہیں بعض لوگ ناممکن سمجھتے ہیں۔جہاز کی آخری منزل متحدہ عرب امارات کا شہر ابو ظہبی ہے جہاں سے مارچ 2015 میں اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔
(نمائندہ خصوصی)ترکی میں ایک ایسا چھوٹا سا محلہ ہے ، جہاں سرطان کے مرض شفا پانے کیلئے دنیا بھر سے آتے ہیں۔خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ترک ضلع منیسا کا ایک محلہ سرطان کے علاج میں اس وقت کافی مشہور ہو رہا ہے جہاں آنے والے مریض سرطان کے مرض سے شفا پاتے ہیں۔اس محلے کا نام آئی واجیک ہے جہاں دور عثمانی میں شہزادے اقامت اختیار کیا کرتے تھے لیکن اب یہاں ہالینڈ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ سمیت دیگر ممالک سے مریض شفایابی کے لئے آتے ہیں۔ اس محلے کو معالج محلہ بھی کہا جاتا ہے جہاں کی آبادی ماضی میں صرف 5 یا 6 افراد پر مشتمل تھی جو کہ اب بڑھ کر 250 افراد کے قریب جا پہنچی ہے۔ترک رقاصہ نورسیل پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھیں، جنہوں نے یہاں سے شفا پائی ،ان کا کہنا ہے کہ کوہ سپل کا قومی پارک سرطان سے شفایابی میں انتہائی اکسیر ہے حتیٰ کہ خون کے سرطان میں مبتلا ایک شخص استنبول سے یہاں آیا جس نے واپسی پر جب اپنا خون کا تجزیہ کرایا تو یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ اس کے خون میں فاسد مادوں کی مقدار کم اور دیگر ضروری مادوں کی مقدار زیادہ ہوگئی ہے۔
ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چقندر کے رس میں موجود اہم مرکبات عمر رسیدہ افراد کے ساتھ ساتھ جوانوں کو بھی غیر معمولی توانائی پہنچاتے ہوئے ان کے کام کاج، سیڑھیاں چڑھنے اور ورزش میں مدد فراہم کرتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی 20 میٹر تک دوڑتا ہے تو چقندر کا رس ان کی اس صلاحیت کو 2 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بہت معمولی فرق ہے لیکن دوڑ میں شریک اس کھلاڑی کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو نصف سیکنڈ کے فرق سے تمغے سے محروم رہ جاتے ہیں۔چقندر میں نائٹریٹس کی غیر معمولی مقدار پائی جاتی ہے جو پٹھوں اور عضلات کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایک مطالعہ کیا گیا جس میں شامل افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک کو چقندر کا رس پلایا گیا اور دوسرے کو بھی نائٹریٹس نکال کر چقندر کا رس دیا گیا۔ دونوں طرح کے رس ذائقے میں یکساں تھے لیکن جنہوں نے نائٹریٹ والا رس پیا تھا وہ دوڑ کے مقابلے میں دوسروں سے زیادہ تیزی سے دوڑے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی جس میں تیز دوڑ جیسی شدید مشقت پر نائٹریٹ کے اثرات کو نوٹ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق وہ گزشتہ کئی برسوں سے نائٹریٹ کے صحت پر اثرات نوٹ کر رہے ہیں۔ ماہرین کی توجہ طویل فاصلوں تک دوڑ جیسی ورزشوں پر نائٹریٹ کے اثرات کا جائزہ لینا تھا جن میں پٹھوں اور عضلات پر ان کے مثبت افراد کا جائزہ لینا تھا۔ڈاکٹروں کے مطابق روز مرہ زندگی میں بھی ہمیں فوری طور پر توانائی کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً بس کے پیچھے دوڑنا، سیڑھیاں چڑھنا اور دیگر امور شامل ہیں۔غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر رسیدہ افراد بھی اس جادوئی پھل سے فائدہ اٹھا کر اپنی توانائی بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہرے پتوں والی سبزیاں مثلاً پالک وغیرہ میں بھی نائٹریٹس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔
امریکی شہر بوسٹن میں کوکا زوکو کمپنی نے ایسی چاکلیٹ بنائی ہے جس میں چینی اور چکنائی کی مقدارصرف 35 فیصد ہے اوراس میں بولیویا اور پیرو کی جڑی بوٹی بھی شامل کی گئی ہے تاکہ شکر ملائے بغیر کوکو کی کڑواہٹ ختم کی جا سکے۔کمپنی کی جانب سے تیارکردہ چاکلیٹ میں ایسی معدنیات اور پودوں کے اجزا شامل کیے گئے ہیں جو ذائقے کو متاثر نہیں کرتے یہی نہیں بلکہ یہ چاکلیٹ بلڈپریشر کم کرنے میں مدد گار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔کمپنی اگلے سال اپنی چاکلیٹ کو فروخت کے لیے پیش کر رہی ہے۔
جونو خلائی جہاز آئندہ 20 ماہ تک ہمارے شمسی نظام کے سب سے بڑے سیارے کا مطالعہ کرے گا جس کی وجہ سے ہمارے سائنسدانوں کو ہمارے شمسی نظام کی بنیادوں کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔شمسی توانائی سے چلنے والی طاقتور خلائی گاڑی نے مشتری کے محور کے گرد گھومنا شروع کر دیا ہے۔ خلائی گاڑی پانچ سال کے عرصے میں دو ارب 80 کروڑ کلومیٹر کا فاصلے طے کر یہاں پہنچی ہے۔کیلی فورنیا میں امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ‘ناسا’ کی ‘جیٹ پروپلشن لیبارٹری’ میں اس مشن کے کنٹرولر اس وقت خوشی سے جھوم اٹھے جب انہیں یہ سنگنلز موصول ہوئے کہ خلائی گاڑی نے مشتری کے مدار کے گرد گھومنا شروع کر دیا ہے۔جونو خلائی جہاز آئندہ 20 ماہ تک ہمارے شمسی نظام کے سب سے بڑے سیارے کا مطالعہ کرے گا جس کی وجہ سے ہمارے سائنسدانوں کو ہمارے شمسی نظام کی بنیادوں کا تعین کرنے میں مدد ملے گی اور اس کے ساتھ بادلوں سے ڈھکی مشری کی فضا کے نیچے ٹھوس سطح کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔اس خلائی جہاز کے اندر ایک کمپیوٹر اور برقی آلات بھی نصب ہیں اور انہیں ایک ایسے خانے میں رکھا گیا ہے، جس کی دیواریں طیطانیم کی ہیں اور ان کی موٹائی نصف انچ ہے تاکہ حساس آلات کو تابکاری کے شدید اثرات سے بچایا جا سکے۔جونو مشتری کے مدار میں پہنچے والا دوسرا خلائی جہاز ہے۔اس سے قبل ناسا کا ‘گیلیلیو جہاز ‘ 1995 سے 2003 تک مشتری کے مدار کے گرد گھومتا رہا۔ جونو کا مشن 2018 میں ختم ہو گا جب یہ جان بوجھ کر مشتری کی فضا میں گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔
وہ دن دور نہیں جب متاثرہ افراد کی ٹوٹی ہڈیاں ان ہی کے جسم سے خلیات لے کر تجربہ گاہ میں تیار کرلی جائیں گی کیونکہ کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین کی سربراہی میں ایک ریسرچ ٹیم نے پہلی بار تجربہ گاہ میں زندہ ہڈیاں اگالی ہیں ، اگرچہ یہ تجربہ ایک سور پر کیا گیا لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہی عمل انسانوں میں بھی کامیابی سے کیا جاسکے گا۔تجربہ گاہ میں زندہ ہڈیاں اگانے کیلئے سور کے جسم سے چربی کے خلیات لئے گئے اور انہیں ‘سٹیم سیلز’ میں تبدیل کردیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ہڈی کی مطلوبہ ساخت والا ایک مچان تیار کیا گیا۔ان خلیاتِ ساق اور مچان کو ایک عدد بائیو ری ایکٹر میں پہنچادیا گیا ۔ ماہرین کے مطابق اگلے 3 ہفتوں کے دوران خلیاتِ ساق نے خود کو تبدیل کیا اور مچان کی ساخت کے مطابق یہ ایسی ہڈی میں تبدیل ہوگئے جس کے اندر خون کی نالیاں بھی موجود تھیں۔کسی بھی ہڈی کے زندہ رہنے اور نشوونما پانے کیلئے اس میں خون کی نالیوں کا موجود ہونا اشد ضروری ہوتا ہے ۔ بعد ازاں یہ ہڈی واپس سور کے جسم میں پیوند کردی گئی جہاں اس نے کامیابی سے اپنی ٹوٹی ہڈی کی جگہ لے لی۔
تین برس پہلے دنیا بھر کا میڈیا لندن کے ایک اسٹیج پر اس شخص کے بارے میں رپورٹنگ کے لیے جمع تھا، جو ایک ہیمبرگر کھانا چاہتا تھا۔ آخر اس میں ایسی کونسی خاص بات تھی ؟ خاص بات یہ تھی کہ اس ہیمبرگر کی قیمت تین لاکھ پچیس ہزار ڈالر تھی۔ یہ ہیمبرگر اس ریسرچ کا نتیجہ تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے جاری تھی اور اس کے لیے سرمایہ کاری گوگل کے شریک بانی اور مشہورتر امریکی کاروباری شخصیت سیرگے برین نے کی تھی۔سائنسدان گائے کے ایک خلیے سے 20 ہزار گوشت کے ریشے تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور حیاتیاتی طور پر یہ گوشت ہی تھا۔ ایسا گوشت جو کسی جانور کو ذبح کیے بغیر حاصل کیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں اسے اُگایا گیا تھا۔ سائنسدانوں کی طرف سے یہ ایک ثبوت تھا کہ مصنوعی طریقے سے گوشت اگایا جا سکتا ہے۔ تین برس پہلے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس ’’کلچرڈ میٹ‘‘ کو مارکیٹ تک لانے میں ابھی بیس سے تیس برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔تاہم ایک اسرائیلی فرم نے ان اندازوں کا غلط ثابت کر دکھایا ہے۔ رواں برس کے آغاز پر ایک اسرائیلی فرم نے چکن کا گوشت مصنوعی طریقے سے پیدا کرنے یا اگانے کا طریقہ دریافت کر لیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ پانچ برسوں کے اندر اندر اگائے گئے چکن والے برگر مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے۔سپر میٹ کمپنی کی ایک خاتون ترجمان شیر فریڈمین کا اس بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ ایک بہترین حل ہے کیوں کہ اس طرح آپ کسی کو اپنی عادتیں تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر رہے۔ آپ لوگوں کو وہی پراڈکٹ دے رہے ہیں، جو وہ صدیوں سے کھاتے آ رہے ہیں۔‘‘دنیا کی زیادہ تر لیبارٹریاں گوشت کو مصنوعی طریقے سے اگانے پر تجربات کر رہی ہیں لیکن سُپر میٹ کی جانب سے چکن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔اس کمپنی کا مقصد مرغی کے خلیے سے ایسے چکن بریسٹ تیار کرنا ہے، جنہیں ایک ’میٹ اوون‘ کی طرح ایک مشین میں تیار کیا جا سکے۔ ایسے اوون یا ایسی مشینیں گھروں پر بھی رکھی جا سکتی ہیں، سپر مارکیٹوں میں بھی اور ریستورانوں میں بھی۔لوگ ایسی مشینوں میں ایک کیپسول رکھا کریں گے اور یہ کیپسول اگتے ہوئے گوشت کی شکل اختیار کر لیا کرے گا۔امریکی سرمایہ کار کے برین برگر میں ’سیرم یا خوناب‘ کی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جبکہ اسرائیل کی کمپنی ہیبریو یونیورسٹی کے پروفیسر یاکووف ناہمیاس کی وہ ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے، جو انہوں نے خلیات سے متعلق سن دو ہزار چھ میں متعارف کروائی تھی۔
چکن اگانے کا خیال نیا نہیں
دنیا میں چکن اگانے کا خیال نیا نہیں ہے۔ تقریبا ایک صدی پہلے بھی یہ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں موجود تھا۔ 1932ء میں ونسٹن چرچل نے اپنے ایک مضمون ’’ففٹی ایئرز ہینس‘‘ میں لکھا تھا، ’’ہمیں اس فضول بات سے پرہیز کرنا ہو گا کہ ہم صرف بریسٹ یا پھر ونگز کھانے کے لیے مکمل چکن کو ضائع کریں۔ ہمیں کسی طریقے سے یہ مختلف حصے علیحدہ علیحدہ اگانے چاہییں۔‘‘
سُپر میٹ سے دنیا کو کیا فائدہ ہوگا؟
سپر میٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ گوشت اگانے سے دنیا کے ماحول کو صاف ستھرا رکھا جا سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق سطح زمین کا نصف قابل استعمال حصہ جانوروں کو پالنے یا پھر ان کے لیے خوراک اگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ انسانوں کے خوراک اگانے کے لیے زمین کا صرف چار فیصد قابل استعمال حصہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔
عام گوشت کے مقابلے میں مصنوعی طریقے سے حاصل ہونے والے گوشت میں ننانوے فیصد زمین کم استعمال ہوتی ہے جبکہ گوشت کے حصول میں ضرر رساں گیسوں کا اخراج بھی چھیانوے فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سپر میٹ چین اور بھارت جیسے ان ممالک کی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جہاں آبادی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تمام تر کامیاب تجربات کے باوجود ابھی یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ عوام اسے کتنی جلدی قبول کریں گے۔ دوسری جانب ایسی کمپنیوں کو فی الحال بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور ہر تاجر اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں تیار نہیں ہے۔