سوئیٹزرلینڈ (علی گیلانی) ایک عظیم الشان جلسہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئیٹزرلینڈ کے دارلحکومت برن میں مورخہ 25 مارچ 2017 بروز ہفتہ کو شام 5 بجے منعقد ہو گا۔اس تقریب کی صدارت جناب پیر نیاز الحسن قادری اور جبکہ خصوصی خطاب جناب ظفر اللہ شاہ قادری فرمائیں گے۔ممبران میلاد کمیٹی نے تمام عشقان رسول سے شرکت کی درخواست کی ہے۔
ترکی (نمائندہ خصوصی) صدر رجب طیب ایردوان نے 18 مارچ یومِ شہدا اور فتح چناق قلعے کی 102 ویں سالانہ یاد کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ “جمہوریہ ترکی ہماری پہلی نہیں آخری حکومت ہے نتیجتاً عثمانی بھی ہمارے ہیں، سلجوقی بھی ہمارے۔ ہماری ہزاروں سالہ تاریخ میں گزرے ہوئے تمام ادوار ہمارے ہیں”۔صدر ایردوان نے کہا کہ “میں چناق قلعے سے اپنی مسلح افواج کا، پولیس کا اور اپنے محافظین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری مسلح افواج، پولیس اور محافظین ملک میں خندقیں کھودنے والوں کو گھڑے کھودنے والوں کواس وقت جُودی پہاڑوں میں، تندورک میں اور بست دیرے میں انہی کے کھودے ہوئے گڑھوں اور خندقوں میں دفن کر رہے ہیں۔ہالینڈ کے اسکینڈل روّیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہالینڈ کی انتظامیہ میرے وزیر خارجہ کی پرواز کو منسوخ کر رہی ہے۔ میری خاتون وزیر کے ہالینڈ میں داخلے کو بین کر رہی ہے۔ گھوڑو ں اور کتوں کے ساتھ وہاں مقیم میرے شہریوں کے اوپر چڑھائی کر رہی ہے۔ جرمن چانسلر بھی ان کی حمایت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب ایک ہیں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ جو چاہے کر لیں اس ملت کو اس کے راستے سے نہیں ہٹا سکیں گے۔16 اپریل کو میری ملت مغرب کے اس غلط روّیے کا جواب بیلٹ بکسوں پر بہترین اور جمہوری شکل میں دے گی۔صدر ایردوان نے کہا کہ ہم اپنے قونصل خانے میں داخل نہیں ہو سکے۔ اس چیز کی بین الاقوامی قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کسی وزیر پر دروازے بند نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس روّیے پر قائم رہیں گے تو ترکی سے بھی اس کا جواب پائیں گے۔ ترکی میں کروائے جانے والے ریفرینڈم سے آپ کو کیا؟ لیکن اصل میں حقیقت یہ نہیں ہے، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس تبدیلی کا کیا مفہوم ہے۔ ایک صدی قبل “یورپ کا مردِ بیمار ” کہہ کر وہ جن ترکوں کی تعزیت کے لئے آئے تھے ان ترکوں نے انہیں چناق قلعے میں بدترین شکست سے دوچار کیا اور وہ اس شکست کو بھولے نہیں ہیں۔صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدارتی نظام، سیاست سے اقتصادیات تک، ڈپلومیسی سے سرمایہ کاریوں تک ہر شعبے میں ایک نئی فتح چناق قلعے کا راستہ ہموار کرے گا۔
پیرس (نمائندہ خصوصی) فرانس کے دارالحکومت پیرس کے اورلی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز سکیورٹی فورسز نے ایک فوجی کی بندوق چھیننے والے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ اس نے چندے قبل معمول کے چیک کے دوران میں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔فرانسیسی وزیر داخلہ برونو لی روکس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس شخص سے آگاہ تھے۔پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ ایک سخت گیر مسلمان تھا لیکن اس نے اس کی شناخت نہیں بتائی ہے۔انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان پائرے پینر برانڈٹ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر اورلی کے ہوائی اڈے کا گھیراؤ کر لیا تھا اور اس مردہ شخص کی مکمل تلاشی لی ہے تا کہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ اس نے خود کش جیکٹ تو نہیں پہن رکھی تھی لیکن اس سے کچھ نہیں ملا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ شخص بڑی پھرتی سے ایک فوجی کا ہتھیار چھیننے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اس کو سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر گولی مار کر ٹھنڈا کردیا ہے اور واقعے میں کوئی اور شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔اورلی کا ہوائی اڈا پیرس کے جنوب میں واقع ہے۔یہ ملک کا دوسرا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد قریباً تین ہزار مسافروں کو ائیرپورٹ سے نکال لیا گیا تھا اور اورلی کے دونوں ٹرمینلز سے پروازیں معطل کردی گئی تھیں جبکہ بعض پروازوں کا رُخ پیرس کے شمال میں واقع دوسرے بڑے ہوائی اڈے چارلس ڈیگال کی جانب پھیر دیا گیا تھا۔ہلاکت سے قبل اس مشتبہ شخص نے پیرس کے شمال میں واقع علاقے اسٹینز میں معمول کے ٹریفک چیک کے دوران میں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔ فائرنگ کے یہ دونوں واقعات فرانس میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف پانچ ہفتے قبل پیش آئے ہیں۔صدارتی انتخاب کے لیے مہم میں قومی سلامتی کو بنیادی اور مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔فرانس میں گذشتہ دو سال کے دوران میں پیش آئے دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ملک میں جولائی تک ہنگامی حالت نافذ ہے۔ یادرہے کہ پیرس میں نومبر 2015ء میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سیول (نمائندہ خصوصی) جنوبی کوریا کی برطرف صدر پھک گُن ہے نے کہا ہے کہ وہ پورے ملک سے معذرت خواہ ہیں۔منگل کو دارالحکومت سیول میں استغاثہ کے دفتر پہنچنے پر میڈیا سے مختصر بات چیت میں ان کا کہا تھا کہ “میں لوگوں سے معذرت کرتی ہوں۔ میں نیک نیتی سے سوالات کا جواب دوں گی۔”بدعنوانی کے ایک بڑے اسکینڈل سے پھک کا نام جڑنے کے بعد انھیں دس مارچ کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑے تھے جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے براہ راست کھلے عام کوئی بات کی ہے۔65 سالہ پھک جنوبی کوریا کی پہلی ایسی جمہوری منتخب صدر تھیں جنہیں پارلیمان کے مواخذے اور پھر عدالت عظمیٰ کی طرف سے ان کے خلاف فیصلے کے بعد عہدہ چھوڑنا پڑا۔ان کا پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک دوست چہ سون سل کے ساتھ مل کر بڑے کاروباری شعبوں پر دباو ڈالا کہ وہ ان دو فاونڈیشنز کو عطیات دیں جو پھک کی پالیسی کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔سابق صدر اس معاملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کرتی آئی ہیں۔لیکن عہدے سے ہٹنے کے بعد انھیں حاصل صدارتی استنثا ختم ہو گیا ہے اور اگر ان پر بڑے کاروباری اداروں بشمول سام سنگ گروپ کے چیف جے وائی لی سے مراعات کے بدلے رشوت لینے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔جنوبی کوریا میں بدعنوانی سے جڑے اس معاملے نے ایک ایسے وقت زور پکڑا ہے جب کہ پڑوسی ملک شمالی کوریا اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔مقامی ٹی وی چینلز پر منگل کی صبح نشر کیے گئے مناظر میں پھک کو اپنی گاڑی سے اتر کر استغاثہ کے دفتر جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ ان کے گھر سے چند منٹ کی مسافت پر ہی واقع ہے اور انھیں پولیس کے حفاظتی حصار میں یہاں تک پہنچایا گیا۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکہ کا دورہ کرنے والی جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیسا تھ وائٹ ہاؤس میں بند کمرے میں ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔تفصیلات کیمطابق مرکل نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ترکی ہمیں مہاجرین کے مسئلے کیوجہ سے دھمکیاں دے رہا ہے جس کی وجہ سے ترکی کیساتھ حالیہ کچھ عرصے سے بحران موجود ہے ۔ صدر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ترکی نے مہاجرین کے معاملے میں پورے یورپ سے زیادہ مراعات دی ہیں۔صورتحال آپ کی سوچ سے بہت مختلف ہے ۔ٹرمپ کے اس جوب نے مرکل کو ششدر کر دیا۔صدر ٹرمپ کیطرف سے وائٹ ہاؤس میں مرکل سے مصافحہ نہ کرنے پر امریکی میڈیا میں بحث و مباحثہ جاری ہے ۔ مذاکرات کے بعداامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نیٹو اور امریکہ جرمنی کے دفاع کے لیے بھاری اخراجات کر رہے ہیں اور جرمنی اس حوالے سے بھاری رقم کا مقروض ہے ،جو اسے اب ادا کرنی چاہیے۔امریکی صدر کے ٹویٹ کے بعد جرمنی کی وزیر دفاع ارسولا وونڈر لیون نے واشگاف الفاظ ٖ میں کہاکہ ہم پر کوئی قرض واجب الادا نہیں، نیٹو فورسز کے اخراجات دنیا کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے کئے جارہے ہیں اور یہ مشن عالمی امن کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہاداعش کیخلاف ہماری کاوشیں ڈھکی چھپی نہیں۔
بغداد (نمائندہ خصوصی) عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں 23 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے ہیں۔عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے العامل میں ایک مصروف بازار میں سوموار کی شام سات بجے کے قریب بارود سے بھری ایک کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس کی نوعیت سے لگتا ہے کہ یہ داعش ہی نے کیا ہوگا اور یہ خودکش حملہ ہو سکتا ہے۔عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیائیں اس وقت شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہیں جبکہ داعش ان کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔داعش امریکا کی حمایت یافتہ عراقی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں سے لڑائی میں شکست اور اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقے کھو جانے کے بعد بغداد حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں کاربم دھماکے یا خودکش بم حملے کر رہے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز یا اہل تشیع کے اجتماعات یا ان کے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفین پر بھرپور وار کیے اور کہا کہ سپریم کورٹ سے فیصلے آتے ہیں جنازے نہیں۔سپریم کورٹ سے جنازہ نکلا تو پھر بنی گالا اور لال حویلی سے بھی نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو طلب نہیں کیا اس لیے انکے خلاف فیصلہ نہیں آئے گا۔اس موقع پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شرجیل میمن 5 ارب روپے خورد برد کے کیس میں گھیرا تنگ ہونے پر فرار ہو گئے تھے، اب بیماری کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ شرجیل میمن چور مچائے شور والی بات کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر قانون نے منطق اپنائی کہ سندھ کی کرپشن کو رانا مشہود کی ویڈیوسے ملانا درست نہیں ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پانچ ارب کی کرپشن کے الزامات کے بعد ملک سے فرار ہونے والے شرجیل میمن کی واپسی خاصی ڈرامائی ثابت ہوئی۔ نیب نے ایئرپورٹ پر ہی حراست میں لے لیا۔ تاہم، ڈھائی گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔سابق صوبائی وزیر سندھ ہاؤس پہنچے تو گفتگو کرتے ہوئے نیب حکام پر برس پڑے، کہا کہ وہ عدالت کے حکم پر وطن لوٹے ہیں، ضمانت کے کاغذات بھی موجود تھے، نیب کا اقدام توہین عدالت ہے۔بعد ازاں، اسلام آباد میں رہنماء پیپلز پارٹی شرجیل میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اگست 2015ء میں بھی کراچی میں علاج چل رہا تھا، مزید علاج کیلئے بیرون ملک چلا گیا، ڈاکٹروں نے مکمل طور پر سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا، 2 ماہ بعد اچانک میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں آ گیا جس کے بعد میں نے عدالت سے رجوع کیا۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے بعد کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا اور پھر اکتوبر 2016ء میں میرے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ میرا مؤقف سنے بغیر تمام کارروائیاں کی گئیں، ایک چینل نے میرے گھر سے 2 ارب روپے برآمدگی کی غلط خبر چلائی، میں نے چینل کے خلاف دعویٰ دائر کیا لیکن آج تک کارروائی نہیں کی گئی۔شرجیل میمن نے واضح کیا کہ وطن واپسی سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت لی، عدالت سے درخواست کی کہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرنا چاہتا ہوں۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ تمام الزامات کا سامنا کرنے آیا ہوں، اپنے خلاف ریفرنس کا بغور مطالعہ کر کے جواب تیار کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے لئے کرپشن کے الزامات فخر کی بات نہیں، اگر جرم ثابت ہو جائے تو مجھ پر رحم نہ کیا جائے بلکہ کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ نیب کیا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ نیب نے شریف برادران، اسحاق ڈار اور رانا مشہود کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ ایک ملک میں دو قوانین کیوں ہیں؟ رانا مشہود کی ویڈیو کسی کو نظر کیوں نہیں آتی؟ نواز شریف کی نیب کیخلاف گفتگو کے بعد نیب نے کارروائیاں بند کیوں کیں؟انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیب صرف پیپلز پارٹی کیلئے بنا ہے، پاناما والوں کیلئے الگ اور پیپلز پارٹی کیلئے خصوصی قانون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سادہ لباس لوگوں نے گھیر لیا، پوچھنے کے باوجود سادہ لباس افراد نے اپنا تعارف نہیں کرایا، میں اسے گرفتاری نہیں اغواء کہوں گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے؟شرجیل میمن نے بتایا کہ ضمانت ہونے کے باوجود روزانہ نیب آفس جانے کیلئے تیار ہوں، مجھے اٹھانے والوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی لیکن انہیں معاف کرتا ہوں۔ شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ کسی کو گرفتار کرنا ہے تو یہ طریقہ ٹھیک نہیں، موجودہ وزیر کے ساتھ بدتمیزی اور دھکے مناسب نہیں۔ شرجیل میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں پر اعتماد اور فیصلوں کو قبول کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی نگری میں اترا، نواز شریف، چودھری نثار کی مہمان نوازی کا شکر گزار ہوں۔ پی پی رہنماء طنزیہ لہجے میں یہ بھی بولے کہ میری گرفتاری سے شاید نیب والوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہو۔اس سے بل رہائی کے بعد شرجیل میمن نے وزیر اعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ مراد علی شاہ کہتے ہیں سابق صوبائی وزیر ہر عدالتی فیصلے کی پاسداری کریں گے اورآجعدالت کے سامنے پیش بھی ہونگے۔کرپشن کے الزامات کے بعد شرجیل میمن دو ہزار پندرہ میں دبئی چلے گئے تھے۔ سابق صوبائی وزیر نے پندرہ مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ بیس مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ شرجیل میمن کے خلاف اکیس مارچ کو احتساب عدالت میں پانچ ارب ستر کروڑ کے کرپشن ریفرنس کی سماعت بھی ہو گی۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی وزارت داخلہ نے پاکستان میں گرفتار ملزم محسن علی سید کو حوالے کیے جانے کی درخواست روک دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست تکنیکی وجوہات پر روکی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ نے برطانوی وزارت داخلہ سے سفارش کی تھی کہ محسن علی سید کو برطانیہ حوالے کرنے کے لیے پاکستان سے درخواست کی جائے ۔ اس بارے میں برطانوی وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ حوالگی کی درخواست برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مشورے پر روکی گئی ۔اس سے پہلے برطانیہ نے کئی بار پاکستان کو عمران فاروق قتل کیس میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اب تک گرفتار مرکزی ملزم کو حوالے کرنے کی درخواست پاکستان سے نہیں کی ۔اسکاٹ لینڈ نے عمران فاروق قتل کیس میں محسن علی اور کاشف خان کو نامزد کر رکھا ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ حوالگی کا معاملہ پولیس کا نہیں بلکہ حکومتی سطح کا ہے ۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کا کہناہے کہ حوالگی کی درخواست کے بلاک کئے جانے سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) فوجی عدالتوں کے قیام میں مزید دو سال کی توسیع کے لیے اٹھائیسویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ ترمیم میں پیپلزپارٹی کی چار تجاویز بھی شامل ہوں گی۔ حکومت پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل کی قرارداد بھی پیش کرے گی۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت آج شام چار بجے ہو گا، جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے ترمیم شدہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس حوالے سے کامیاب مذاکرات کے بعد اجلاس میں پیپلزپارٹی کی چار تجاویز بھی شامل کی جائیں گی جس کے تحت فوجی عدالتوں کی کارروائی میں قانون شہادت کا اطلاق ،ملزم کو گرفتار ی کی وجوہات بتا کر 24 گھنٹوں میں ہی فوجی عدالت کے سامنے پیش کرنے اور ملزم کو وکیل کرنے کا حق دینے کی شقین بھی شامل کی گئی ہیں۔اجلاس میں تمام پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق قرارداد بھی پیش کی جائے گی۔کمیٹی فوجی عدالتوں، نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑے ہر معاملے کی نگرانی کرے گی۔