لندن(خصوصی نمائندہ) ایک برطانوی خاتون صحافی کے ساتھ اس وقت نہایت انوکھی صورتحال پیش آئی جو گئیں تو مقابلہ حسن کی کوریج کرنے کے لیے تھیں، لیکن مقابلہ ختم ہونے کے بعد وہ مقابلے کی فاتح قرار پائیں۔لارا گڈرہم نامی یہ برطانوی صحافی اپنے اخبار کی جانب سے ایک مقامی مقابلہ حسن کی کوریج کرنے کے لیے گئیں۔تاہم وہاں ججز میں شامل اور مقابلے کی 3 بار کی فاتح ملی مارگریٹ ان کے حسن سے بے حد متاثر ہوئیں اور انہوں نے لارا کو مقابلے میں حصہ لینے کا مشورہ دے ڈالا۔لارا کا کہنا ہے کہ گو کہ انہیں ماڈلنگ کرنے یا مقابلہ حسن میں لینے کا کوئی شوق نہیں تھا تاہم انہوں نے سوچا کہ قسمت آزمانے میں کیا حرج ہے۔انہوں نے مقابلے میں اپنا نام درج کروا دیا۔ جب مقابلہ شروع ہوا تو قسمت نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا اور وہ ایک کے بعد ایک مرحلہ پار کرتی چلی گئیں۔بالاخر آخری مرحلہ آیا جب ملکہ حسن کے نام کا اعلان ہونا تھا اور یہاں بھی قسمت نے لارا کا ساتھ دیا اور ججز نے انہیں فاتح قرار دیا
ملتان ( خصوصی نمائندہ ) معروف لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا ہے کہ سرائیکی وسیب ہماری پہچان اور ہمارا مان ہے۔ وسیب کی محرومیوں کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن ہم مایوس نہیں بلکہ وسیب کا ہر فرد اپنے حقوق کے بازیابی کیلئے جدوجہد پر عمل پیرا ہے ۔علیحدہ صوبے کی قیام سے ہی سرائیکی وسیب ترقی کی منازل طے کرے گا۔وہ گذشتہ روز سرائیکی ڈیموکریٹک پارٹی شعبہ خواتین کے مرکزی سیکرٹریٹ کے دورے کے موقع پر مرکزی صدر شعبہ خواتین عابدہ بخاری اور دیگر عہدیداران سے گفتگو کررہے تھے جبکہ اس موقع پر صبا فیصل،چوہدری فیصل عزیز اور کاظم رضا بھی موجود تھے ۔مرکزی صدر شعبہ خواتین عابدہ حسین بخاری نے نامور سنگر عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو ایس ڈی پی سرائیکی صدبہ کے قیام اور سرائیکی وسیب کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی جدوجہد سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے ایس ڈی پی کی جدوجہد خاص طور پر خواتین کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وسیب کی ہر ماں،ہر بہن،ہر بیٹی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ سرائیکی وسیب کی خواتین کو بھی اس جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔بعد ازاں دختر سرائیکستان عابدہ حسین بخاری نے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو سرائیکی اجرک پہنائی۔
ممبئی(خصوصی نمائندہ ) اندھیری کی مجسٹریٹ کورٹ نے بالی ووڈ اسٹار سنجے دت کے عدالت میں پیش ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیئے۔سنجے دت ہمیشہ سے ہی مشکلات اور تنازعات میں رہے ہیں اور اب جیل سے اپنی سزا پوری کرنے کے بعد بھی ان کے 15 سال پرانے مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے تھے۔ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے 2002 میں فلمساز شکیل نورانی کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد سنجے دت خود عدالت میں پیش ہوئے جہاں وہ 10 منٹ تک کمرہ عدالت میں موجود رہے جب کہ اس دوران اداکار کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے تاہم عدالت نے سنجے دت کے خود پیش ہونے پر ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیئے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عدالت نے شکیل نورانی کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں سنجے دت کو بار بار سمن جاری کرنے کے باوجود عدم پیشی پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
ممبئی (خصوصی نمائندہ)بھارتی گلو کار سونو نگھم کے اذان کے بارے میں ناز یبا بیان کے بعد سوشل میڈ یا پر ہنگامہ بر پا ہو گیا ہے ،گلو کار کو متنازعہ بیان دینے کے بعد بھارت میں بھی تنقید کا نشانہ بنا یا گیا اور اب بالی ووڈ سے بھی فلمی ستاروں کے اذان کے حق میں بیان آرہے ہیں ۔پہلے سلمان خان نے بگ باس 8کے پروموشن کے دوران اذان کی آواز سنی تو میزبان کو بات کرنے سے روک دیا اور اب پریانکا چوپڑا کی ویڈ یو سامنے آئی ہے جس میں وہ اذان کے بارے میں اپنے خیا لات کا اظہار کر رہی ہیں۔سونو نگھم نامی ہیش ٹیگ میں بھارتیشہری محمد انس خان نے پریانکا چوپڑا کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اذان کے حوالے سے اپنے خوبصورت تجربے کا تذکر ہ کر رہی ہیں،معروف اداکارہ نے کہا کہ بھوپال میں سب سے دلچسپ چیز جو میں نے دیکھی ہے اور جس کا میں انتظار کرتی ہوں ،وہ شام کو اذان کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فلم سے پیک اپ کر کے ٹیرس پر بیٹھتی ہوں ،جب اذان کا وقت آتا ہے تو پورے بھوپال میں اذان کی آواز آتی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ جس ٹیرس پر میں بیٹھتی ہوں وہاں چھ مساجد سے آواز آتی ہے ،وہ پانچ منٹ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے ،اذان کی آواز آرہی ہوتی ہے تو یہ سب بہت ہی پر امن لگتا ہے،یہ میرے دن کا سب سے اچھا وقت ہوتا ہے۔
کراچی(خصوصی نمائندہ) وینا ملک شو بز میں اہم مقام رکھتی ہے۔انہوں نے کئی ٹی وی چینلز پپر بحیثیت اداکارہ کام کیا ہے۔اپنی شادی کے بعد باقاعدہ طور پر ٹی وی چینلز کو جوائن کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف ٹی وی چینلز پر انٹری کے بعد اب انہوں نے نیا مسکن ڈھونڈ لیا۔ گزشتہ روز وینا ملک نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بحیثیت نیوز اینکر جوائن کر لیا۔کامیڈی سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ کو نیوز اینکر کی حیثیت سے شائقین کو ذرا بھی نہیں بھا سکی۔نیوز اینکر کا انداز عجیب و غریب ہی تھا۔سننے اور دیکھنے والوں کو وینا ملک کے نیوز اینکر کے انداز میں کوئی نئی چیز نظر نہیں آئی۔وینا ملک نے معروف نیوز اینکر کی نقل کرنے کی کوشش کی مگر بْری طرح سے ناکام رہی ہے۔
ممبئی(خصوصی نمائندہ)بالی ووڈ کنگ کے ہزاروں فین ہیں اور شاید ہی ان کے مداحوں نے سوچا ہو کہ شاہ رخ خود بھی کسی کے مداح ہو سکتے ہیں اور اتنے بڑے مداح کہ ان کے لیے اپنا نام تک بد ل لیں لیکن جناب کنگ خان نے چینی سپر اسٹار سے متاثر ہو کر اپنا نام شاہ رخ چن رکھ لیا ہے۔بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان 60 ویں سان فرانسسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے ہالی ووڈ فلمساز بریٹ ریٹنر کے ساتھ سیشن کے دوران بڑے بڑے انکشافات کیے جب کہ ایک سیشن کے دوران ہالی ووڈ فلمساز نے دنیا کے مقبول اسٹار جیکی چن کو بذریعہ ویڈیو کال شامل کیا تو کنگ خان حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور خود کو چینی اسٹار کا بڑا مداح قرار دیا۔شاہ رخ خان نے دلچسپانکشاف کیا کہ جس نے حال میں موجود تمام افراد کو قہقہے لگانے پر مجبور کردیا۔ کنگ خان کا کہنا تھا کہ میں نے آج سے پہلے کسی کو نہیں بتایا کہ میرا بڑا بیٹا آریان خان پیدائش کے وقت جیکی چن سے مشابہت رکھتا تھا جس کے بعد میں نے بھی اپنا نام تبدیل کرکے شاہ رخ چن رکھ لیا ہے اور میں ان کا سب سے بڑا مداح ہوں اسی لیے یہ لمحہ میری زندگی کے لئے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہے۔
کراچی (خصوصی نمائندہ) پاکستان میں پولیس کے زیر حراست مختلف خطرناک جرائم میں ملوث لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ ملزم عزیر بلوچ کو جاسوسی کے الزام میں فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ “آئی ایس پی آر” کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بدھ کو علی الصبح ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ/آفیشل ایک مجریہ 1923ء کے تحت تحویل میں لیا گیا۔ان کے بقول عزیر پر جاسوسی، سلامتی سے متعلق حساس معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔عزیر بلوچ پر کراچی کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور پولیس پر حملوں سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں لگ بھگ 35 مقدمات درج تھے۔تقریباً ایک سال تک منظر سے غائب رہنے کے بعد وہ 2015ء میں اچانک دبئی میں نمودار ہوا جہاں انٹرپول کے ذریعے اس کی گرفتاری کی خبریں منظر عام پر آئیں لیکن اس کے بعد جنوری 2016ء میں سندھ رینجرز نے اسے کراچی سے گرفتار کرنے کا بتایا۔عدالت نے عزیر بلوچ کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا اور اس پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
مردان (خصوصی نمائندہ) سانحہء مردان نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے افراد کو شامل ہونے کی اجازت کیوں دے رہی ہیں، جن کے خیالات مذہبی رجعت پسندی، سخت گیری اور انتہا پسندی کے عکاس ہیں۔پاکستان میں قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد کو برداشت کرتی ہیں۔ ملکی سوشل میڈیا پر یہ بات خوب چلی کہ ہندو لڑکیوں کو جبراﹰ مسلمان بنانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا ہاتھ تھا جب کہ سانحہ سیہون کے حوالے سے بھی کچھ ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا، جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔مسلم لیگ کے رہنما اور فیصل آباد سے سابق ایم این اے مرحوم صاحبزادہ کریم پر یہ الزام تھا کہ وہ مذہبی طور پر انتہا پسندانہ خیالات کے حامل تھے جب کہ پاکستانی وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اس مبینہ تقریرکے بھی سوشل میڈیا پر بہت چرچے ہوئے، جس میں انہوں نے ممتاز قادری کو ایک ہیرو قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم کی جماعت نون لیگ پر یہ الزام بھی ہے کہ اس کے کالعدم تنظیموں سے روابط رہے ہیں اور اس کے کارکنان سانحہء بادامی باغ میں بھی ملوث تھے۔ اسی طرح اب سیکولر سوچ کی حامل عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پر بھی یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس کے ارکان مشعل خان پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔سوال یہ ہے کہ قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر نے نشو ونما کیسے پائی، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سماجی علوم کے ماہر اور معروف دانشور ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا، ’’معاشرے میں مجموعی طور پر مذہبی رجعت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ سیاسی جماعتیں بھی اسی معاشرے سے ہیں، تو اس کا عکس ان میں بھی دکھائی دے گا۔ سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر کی شمولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ملک میں کوئی قد آور سیاسی شخصیات جیسے کہ سہروردی، بھٹو اور قیوم خان نہیں ہیں۔ آپ کے پاس دوسرے درجے کی سیاسی قیادت ہے۔‘‘ڈاکٹر مہدی حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں جس طرح اسٹڈی سرکل کے ذریعے سیاسی کارکنان کی تربیت کی جاتی تھی، وہ اب معدوم ہے۔ سماجی طور پر کئی ایسی تنظیمیں تھیں، جو روشن خیالی کے فروغ کے لیے کام کرتی تھیں، کئی مجلے اور رسالے ایسے چھپتے تھے، جو سماجی اور سیاسی معاملات میں عوام کی رہنمائی کرتے تھے۔ ترقی پسند مصنفین اور ان کے رسالوں نے ایک طویل عرصے تک سماج میں مکالمے کے رجحان کو فروغ دیا اور معاملات کا تنقیدی جائزہ لینا سکھایا۔ اب چونکہ اس طرح کی تنظیمیں بہت زیادہ متحرک نہیں ہیں، تو معاشرہ ایک اجتماعی جمود کا شکار ہے، جس کا اثر سیاسی جماعتوں پر بھی پڑا ہے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا، ’’سیکولرازم کو ہمارے ملک میں گالی بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور کچھ نہیں کرتیں تو کم از کم قائد اعظم کی گیارہ اگست کی اس تقریر کو ہی اپنا رہنما اصول بنا لیں، جس میں پاکستان کے بانی نے کہا تھا کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاستی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یا پھر وہ قرآن کے اس پیغام کو ہی اپنا لیں، جس میں کہا گیا کہ تمہارا دین تمہارے ساتھ اور ہمارا دین ہمارے ساتھ۔ اگر سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی رکنیت کے لیے کوئی جامع اصول طے نہ کیے تو پھر مردان کے سانحے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘‘ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون سے پہلے صرف غازی علم دین والا واقعہ ہوا تھا۔ ’’لیکن جب سے یہ قانون بنا ہے، ایسے تیرہ سو واقعات ہو چکے ہیں اور پچانوے فیصد مقدمات میں ملزم مسلمان ہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے پر سوچنا اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے کوئی جامع پروگرام مرتب کرنا ہوگا۔‘‘معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر لال خان نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سیاسی جماعتوں میں ایسے عناصر اس لیے داخل ہوئے ہیں کہ سیاست دان عوام کے مسائل حل نہیں کرتے اور جب عوام میں ان مسائل کے حوالے سے بے چینی بڑھتی ہے، تو وہ اس کو حل کرنے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔‘‘ڈاکٹر لال خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین خود بھی بہت رجعت پسند ہیں۔’’بے نظیر بھٹو پیروں فقیروں کے پاس جاتی تھیں اور توہمات پر یقین رکھتی تھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان سے معاہدے کر کے سوات میں شریعت کورٹس بنائیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی ممبرشپ کے لیے کوئی نہ کوئی پیمانہ بنانا پڑے گا۔ مثال کے طور پر سترکی دہائی میں پیپلز پارٹی کی رکنیت کے لیے تو ایک پیمانہ ہوتا تھا لیکن اب کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے کوئی ضابطے نہیں ہیں۔ اگر ہمیں انتہا پسند عناصرکا قلع قمع کرنا ہے، تو ہمیں کوئی نہ کوئی پیمانہ تو رکھنا پڑے گا اور نظریاتی سیاست کرنا ہو گی۔‘‘لیکن کیا سیاسی جماعتیں سانحہء مردان کے بعد اپنا قبلہ درست کرنے کی کوئی کوشش کر رہی ہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما زاہد خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اب اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ہماری صفوں میں کوئی ایسا فرد نہ ہو، جو مذہب کے نام پر نفرت پھیلائے۔ ہم کہتے ہیں کہ سانحہء مردان میں اگر ہمارے لوگ ملوث ہیں، تو انہیں بھی کڑی سزا دی جائے۔ اے این پی نے بحیثیت ایک جماعت ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت کی ہے۔جب ہمارے ایک لیڈر غلام احمد بلور نے متنازعہ بیان دیا تھا، تو ہم نے فوراﹰ اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس بیان کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب ہم ان عناصر کی سرکوبی کریں گے جو انتہا پسندانہ خیالات کو فروغ دینے میں ملوث پائے جائیں گے۔‘‘
کوئٹہ (خصوصی نمائندہ) کچھ عرصے تک خاموشی کے بعد، پیر کو کوئٹہ میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں ایک کمسن بچہ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ کے نواحی علاقے جناح ٹاؤن میں دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا، جہاں تین سے آٹھ سال تک کی عمر کے بچے گھر کے سامنے کھیل رہے تھے۔اِسی اثنا میں، موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے پلاسٹک کے تھیلے میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد اُن کی طرف پھینک دیا۔ ایک بچے نے تھیلہ اُٹھانے کی کوشش کی جس سے دھماکہ ہوا اور اُس سے بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ ایک لڑکی اور لڑکا زخمی ہوگئے۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں بچوں کو فوری طور سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔ ادھر، ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیر کور بلوچستان کے حکام اور اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور شواہد قبضے میں لے لئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ زمین کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے دو گروپوں کے درمیان تنازعے کے باعث پیش آیا، جس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے واقعہ کی سخت الفاط میں مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) پاکستانی فوج نے رواں برس فروری میں صوبہ سندھ سے لاپتہ ہونے والی طالبہ نورین لغاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا اعترافی بیان جاری کیا ہے۔ادھر دوسری جانب آئی ایس پی آر کی جانب سے اہم اعلان کیا گیا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار اور طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو پاک فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ “دہشت گرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں، ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔”یہ ویڈیو بیان پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو دکھایا جس میں بظاہر نورین لغادی نے شدت پسند تنظیم کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ انھیں بطور ایک خودکش حملہ آور استعمال کیا جانا تھا اور انھیں ’تنظیم‘ کی جانب سے اس کارروائی کے لیے ہتھیار فراہم کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ہدف کسی ’چرچ پر حملہ کرنا تھا۔‘ بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ ’مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ میں اپنی مرضی سے لاہور آئی تھی۔‘یاد رہے کہ نورین لغاری لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس جامشورو سے رواں سال 10 فروری کو لاپتہ ہوئی تھیں۔ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر کے شام روانہ ہونے والی ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ نورین لغاری کھبی بھی شام نہیں پہنچیں۔فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ویڈیو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ نوجوان ہماری ایک طاقت ہیں اور جب یہ نوجوان جب دہشت گردوں کا نشانہ بن جائیں تو یہ کتنی قابل تشویش بات ہے۔ انہوں نے والدین سے اپنے بچوں پر نظر رکھنے کی درخواست بھی کی۔