سری لنکا نے پاکستان کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی شکست دے کر سیریز میں کلین سوئپ کردیا۔قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے اس میچ میں سری لنکا کے کپتان دسن شناکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔پاکستانی بولرز نے سری لنکن کھلاڑیوں کو ابتدا میں ہی دباؤ میں لیے رکھا اور اسکور کو تیزی سے بڑھنے نہ دیا۔محمد عامر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 کے مجموعے پر 8 رنز بنانے والے گناتھیکالا کو بولڈ کردیا۔سری لنکا کا اسکور 28 تک پہنچا تو عماد وسیم نے سماراوکراما کو آؤٹ کرکے اسے دوسرا نقصان پہنچایا۔محمد عامر نے دوسری طرف سے دباؤ برقرار رکھا اور گزشتہ میچ کے ہیرو بھانوکا راجا پکسے کو آؤٹ کرکے سری لنکا کو مزید مشکلات سے دوچار کردیا۔ایسے میں اوشادا فرنینڈو سری لنکا کے لیے مرد بحران بن گئے اور ایک جانب سے وکٹیں گرنے کے باوجود دوسرے اینڈ پر اپنی وکٹ کو سنبھال کر رکھا جس کے بدولت سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 147 رنز بنائے۔اوشادا فرنینڈو نے 3 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 78 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔پاکستان کی جانب سے محمد عامر 3 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ عماد وسیم وہاب ریاض نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم نے دفاعی حکمت عملی اپناتے ہوئے روایتی انداز میں بیٹنگ کی۔ فخر زمان پہلی ہی گیند پر بولڈ ہوگئے تاہم اس کے بعد بابر اعظم اور حارث سہیل نے دوسری وکٹ پر 76 رنز کی شراکت بنائی۔بابر اعظم 76 کے مجوعے پر 27 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم انہوں نے یہ رنز بنانے کے لیے 32 گیندوں کا سہارا لیا۔ اسی طرح حارث سہیل نے ٹی ٹوئنٹی میں اپنا سب سے بڑا اسکور بنایا جو 52 رنز تھا جس کے لیے انہوں نے 50 گیندوں کا سہارا لیا۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے کے بعد قومی ٹیم کے لیے 148 رنز کا ہدف پہاڑ بن گیا۔ کپتان سرفراز احمد اور آصف علی جیسے جارح مزاج کھلاڑیوں سمیت پاکستانی بیٹسمین یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے چلے گئے۔ قومی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 134 رنز ہی بناسک اور یوں اسے 13 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سری لنکا کے ونندو ہسارانگا کو میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔لاہور میں کھیلا جانے والا یہ میچ سری لنکا کے لیے اہمیت کا حامل نہیں تھا جبکہ پاکستانی ٹیم سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کے لیے میدان میں اتری تھی۔میچ کے لیے پاکستان ٹیم میں 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں، احمد شہزاد، عمر اکمل اور محمد حسنین کی جگہ حارث سہیل، افتخار احمد اور عثمان شنواری کو شامل کیا گیا۔مہمان ٹیم نے قومی ٹیم کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 64 رنز سے شکست دے کر دورے پر اپنی پہلی کامیابی حاصل کی تھی۔پہلے میچ کی طرح سیریز کے دوسرے میچ میں بھی سری لنکا نے پاکستان کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 35 رنز سے شکست دے کر 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔یہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ٹیم نے گرین شرٹس کو اسی کی اپنی سرزمین پر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چکوال میں مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے چکوال میں ضلع چکوال اور ضلع جہلم کےلیے صحت انصاف کارڈ پروگرام کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔انہوں نے مستحق افراد کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیے اور کہا کہ ضلع چکوال کے 4 لاکھ 36 ہزار افراد صحت انصاف کارڈ سے مستفید ہوں گے۔عثمان بزدار نے 11 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین بھاگوال کا افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چکوال میں یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور ہوگیا ہے جلد ہی دوبارہ یہاں آکر سنگ بنیاد رکھیں گے۔انہوں نے ڈھوک ٹاہلیاں جھیل میں 10 کروڑ کی لاگت سے انٹرٹینمنٹ پارک اور واٹر اسپورٹس کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔عثمان بزدار نے لاوا میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور دھارابی جھیل میں ریزارٹ اور رابطہ سڑک کی تعمیر کا اعلان بھی کیا۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ چین کی طرف سے 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے پر بہت متاثر ہیں، پاکستان چین کے اس اقدام سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔چین کے دارلحکومت بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چائنا کونسل سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ وقت چین کے تجربات سے سیکھنے کا ہے، چین نے اپنی غلطیوں سے سبق یکھا، چین کا غربت پر قابو پانا قابل تقلید عمل ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین دنیا کی تیز ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے،چین نے جس طرح اپنے نچلے طبقے کے عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے پاکستان بھی ایسے ہی اقدامات چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی صدرشی جن پنگ کرپشن کے خلاف کڑی مہم چلا رہے ہیں۔ کرپشن ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے، چین نے کرپشن کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا اب پاکستان چین سے سیکھے گا، چین آئندہ دہائی میں دیگر ملکوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بتایا کہ کس طرح وہ میرٹ پر کام کرتےہیں، ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ چین نے لوگوں کو غربت سے کیسے نکالا؟ کرپشن ملکوں کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں بنتی ہیں، ملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ بھی کرپشن ہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام سے امریکی فوج نکالنے پر روس اور چین ناخوش ہوں گے کیونکہ یہ چاہتے ہیں کہ امریکا اس بوجھ تلے دبا رہے اور ڈالر خرچ کرتا رہے۔امریکی صدر نے کہا کہ شام میں ترکی نے حد سے بڑھ کر کچھ کیا تو ترکی کی معیشت کو تباہ کردیں گے جو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔شام سےامریکی فوج پیچھے ہٹانے سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے مجھے ان مضحکہ خیز جنگوں سے نکلنے کیلئے ہی منتخب کیا تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ ہماری فوج ان لوگوں کیلئے کام کر رہی ہے جو امریکا کو پسند بھی نہیں کرتے، اب ہم بڑے منظرنامے پر دھیان دیں گے۔یادرہے کہ شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن کے ترکی کے فیصلے پر امریکا نے گذشتہ روز اپنی فوجیں شام ترک سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانےکا اعلان کیا تھا جس پر کرد ملیشیا نے امریکا پر ’پیٹ پر چھرا گھونپنے ‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترک فوج تیار ہے، کرد ملیشیا کیخلاف کسی بھی لمحےآپریشن شروع ہوسکتاہے۔ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکا شام میں ترکی کے آپریشن کی حمایت نہیں کرتا، ترک کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے میرا سلام، اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دفعہ 144 نافذ ہے، مولانا 27 اکتوبر کو نہیں آئیں گے۔اسلام آباد پولیس کے سہولت سینٹر میں وفاقی وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اورزلفی بحاری نے اوورسیز پاکستانی سہولت کاؤنٹر کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہاعجاز شاہ کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کسی کے کہنے پر کوئی ماں کا لال اس حکومت کو نہیں گرا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پولیس کے ٹارچر سیل کسی جگہ نہیں، اگر کہیں ٹارچر سیل نکلے تو کارروائی کریں گے، ہر معاشرے میں جرم ہوتا ہے، اگر اس پر ردِعمل درست نہیں ہے تو پکڑیں۔وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جب تک حکومت درست کام کر رہی ہے اس کے لیے ستوں خیراں ہے، جب تک عوام کا اعتماد ہے پی ٹی آئی حکومت کو کسی کے کہنے پر کوئی ماں کا لال نہیں گرا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کے نصاب میں وہ کتابیں شامل کی ہیں جنہیں پڑھ کر مدرسوں کے طلبہ ڈاکٹر اور انجینئر بنیں گے۔اعجاز شاہ نے یہ بھی کہا کہ مدارس کے طلبہ صرف امام نہیں، بلکہ عام افراد کی طرح ڈاکٹر اور انجینئر بن سکیں گے اور دیگر شعبے اختیار کر سکیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان چین کےسرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے،بیجنگ میں چینی وزیر ثقافت لوشوگنگ نے وزیر اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔اس موقع پر پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جنگ اور چین میں پاکستانی سفیر نغمانہ ہاشمی بھی موجود تھیں۔عمران خان کے ہمراہ وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی اور خسرو بختیار کے علاوہ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی بھی ہیں۔ دورے کے دوران چینی قیادت سے علاقائی اور دو طرفہ اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی کیانگ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین اس موقع پر بہت سے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے جائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجو ہ وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ چینی صدر اور وزیر اعظم سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
میں تین دہائی قبل اپنے آپ سے کیا ہوا وعدہ توڑ رہا ہوں ،کہ کسی بھی پارلیمنٹیرز کو صرف پارلیمنٹ ہاؤس کے فلور پر بات کرنے چاہئے نہ کہ اخبارات کے کالم کےذریعے،بدقسمتی سے ہماری پارلیمنٹ کے موجودہ نگراں جن کا بنیادی کام پارلیمنٹ میں موجود رہ کر آئینی تقاضے پورا کرنا ہےوہ اپنے صوابدیدی طور پر پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہوتے اس لیے میں اپنی اہم بات اخبار کے ذریعے کہہ رہا ہوں.،یہ ایک نہایت محنت اور تندہی سے کام کرنے والی حکومت ہے جس کے ارکان خواتین و مرد ہفتے کے ساتوں دن اخبارات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہر مسئلے پر انڈوں سے بکری تک ، جیل ریفارمز سے غربت مٹانے تک ،پولیو سے ڈینگی تک اور افغانستان سے کشمیر تک دن رات انتھک کام کرنے میں کوشاں ہیں جس کے بعد ٹویٹس اور پریس ریلیزجاری ہورہی ہے ، ہر ہفتے ایک نیا مسئلہ اجاگر کیا جاتا ہے ان میں سے چند ایک ایسے ہیں جو سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ پہلے تھا ہی نہیں۔گزشتہ سال میرے لیے تعلیمی تجربے کے طور پر گزرا،اب چونکہ ہم نے اپنی معیشت کی منیجمنٹ آئی ایم ایف کے سپرد کردی ہےتو اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اور کیا مسائل ہیں،یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کہ کرپشن و بدعنوانی ایک مسئلہ ہے، مگر ایسا لگتا ہے جیسے مارچ 2008 سے لیکر اب تک صرف کرپشن ہی ہمارا مسئلہ ہے اور اس کا پتہ چلانے کےلیے بڑی شدت سے محنت کرنی پڑرہی ہے،ہر چیلنج ایک موقع دیتا ہے، جب ہم کرپشن کے خلاف سخت جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں،اب اس کے علاوہ دوسرے مسائل کی طرف دیکھتے ہیں تو مزید پریس ریلیز اور ٹویٹس کی ضرورت پڑتی ہے،اب جب ہم دیکھتے ہیں کہ کام نہیں بن پارہااور پتہ نہیں کہ کس بات کی ریفارمز کس طرح ہوسکتی ہے،تو پھر 18 ویں ترمیم کے گرد اور این ایف سی ایوار ڈبھی خاصہ پیچیدہ ہے، جب ہم کچھ بھی نہیں کر پارہے تو پتہ پھر یہ ہوتا ہے کہ بغیر جمہوری نظام کی ناکامی کے صدارتی نظام جانے کی طرف دیکھتے ہیں،یہ تمام صورتحا ل ہمیں اسٹیٹ اونڈ انٹر پرائز (SOE)پر چھوڑ دیتے ہیں، یہ وہ بیماری ہےجیسے کسی کی ساس ضروری نہیں کہ وہ جان لیوا ہو مگر وقت برباد کرنے کے لیے کافی ہے،ایس او ای ایک دائمی مرض ہے، اگر آپ گزشتہ 35 سال میں سے کسی دن کا بھی اخبار اٹھا کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے تمام کے تمام معاملات ایس او ای کےہی ہیں ،اب تمام کی تمام مشینری دن رات ماہرین ان اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے پیچیدہ مسئلوں کے حل میں کوشاں ہیں مگر تمام کے تمام معاملات جوں کے توں ہیں یعنی اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز دوسرے لفظوں میں ساس ، بالکل جوں کی توں ہے باوجود اس کےکہ ملک کے تمام ماہرین دن رات معاملات اور دائمی مسائل کے حل کے لیے سر توڑ کوشش کررہے ہیں،اب آپ شائد پوچھیں گے کہ یہ ایس او ای ہےکیا ؟، بہت ہی جائز اور پختہ سوال ہے، جبکہ بہت سے دائمی مسائل ہم سالوں پہلے حل کرچکے ہیںاگر آپ ذرا سی کمانڈ ڈھیلی چھوڑیں گے تو 4 ایس او ای آپ کو نظر آئیں گے،بوسیدہ نظام، ائرلائنز ، ریلوے اور اسٹیل ملز، یہ چاروں کو جب کی بھی پہلو سے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قومی سلامتی کے مسائل ہیںآج صرف خسارے قومی سلامتی کے معاملے ہیں،یہ ایس او ای ہر سال اور آج بھی500 ارب روپے کا خسارہ ہے، یہ وفاقی حکومت کے انتظامی امور چلانے کی لاگت سے بھی زیادہ ہے،ور یہ برابر ہے 3 ارب امریکی ڈالرز کےاب جبکہ ہم نےحقیقت میں روپے کی اصل قدر کا تعین کرلیا ہے تو یہ رقم برابر ہے 6 ارب امریکی ڈالروں کے جو ہم آئی ایم ایف سے لینے جارہے ہیںآئندہ دو سالوں میں، 500 ارب روپےاس رقم کے برابر ہے جو ہم 6 ارب امریکی ڈالر ڈیپٹ سروسنگ اس سال بڑھے گا جس کی گارنٹی شرع نمو اور بے روزگاری کےخاتمے کے لیے۔ہماری ٹویٹس اور پریس ریلیز کی جستجو منصوبوں کے حل کےلیے ہونی چاہئے،بد قسمتی سے محب وطن بہت سے مسئلوں میں گھرے ہوئے گروپ کے لیے حل اس وقت ہوگا جب مسئلے کا پتہ ہوگا، یہ ایس او ای کے مسائل نے ہم پر حملہ کیا ہوا ہے، ایک وقت میں ایک کام تمام جستجو اس پر اور کام ختم ، پرائیوٹائزیشن ، یہ بہت سے کام کرسکتی ہے مگر ہم شائد اس سے بچتے رہے ہیں،پاور سسٹم کو لیجئے، گردشی خساروں کا گڑھ، سادہ لفظوں میں گردشی قرضوں کا مطلب ہے اے ، نے بی سے لینا ہے ،بی نے سی سے لینا ہے اور سی نے ڈی سے ، اب ڈی نے سی کو دینا ہے سی نے بی کو دینا ہے بی نے اے کو دینا ہے،یہ گردش ہے، مگر یہ گردشی قرضہ نہیں بلکہ مکمل خسارہ ہے، سادہ لفظوں میں یہ سمجھیں کہ ڈسکوز کو بجلی ’’x‘‘ روپے میں ملتی ہے مگر وہ صرف پیپکو/این ٹی ڈی سی /سی پی پی یا ان کو ادائیگی کرتے ہیں جن کے پاس X-Yروپے میں بجلی ہے ۔اس طرح Y سرکولر ڈیٹ یا وہ نقصان ہے جو حکومت کو اپنی جیب سے اداکرناپڑتاہے ۔سردست ہم نام نہاد سرکولرڈیٹ کی مد میں روزانہ ایک ارب روپے نقصان کرنے پر خوش ہیں جس کا کچھ حصہ بجٹ میں فراہم کیا جاتاہے جبکہ باقیماندہ 10کھرب روپے پاوراورپٹرولیم سیکٹر میں پھنسے ہوئے ہیں ۔گردشی قرضوں کا واحد حل نجکاری ہے ۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں جو کہ ملٹی بلین ڈالر کی تجارتی کمپنیاں ہیں ان کے پاس اتنی تکنیکی مہارت ‘انتظامی استعداد اور سرمایہ نہیں کہ وہ ادارے کو مؤثر طریقے سے چلاسکیں جبکہ حکومت کی دخل اندازی، نیپراکی استعداد‘پیپرارولز کے نفاذ سے ان کے معاملات مزیدبگڑ جاتے ہیں ۔مگر یہ سادہ سی نجکاری نہیں ہے ۔جدیداور مؤثر ریگولیٹری انوائرنمنٹ کا قیام اس کی کلید ہے‘موجودہ نیپرا ریگولیٹری وہ ماحول فراہم نہیں کررہی ‘کے ای ایس سی کے تجربے کو بطورماڈل استعمال کیا جاسکتاہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے ۔اچھےپرانے وقتوں میں قومی ائرلائنز کافی منافع بخش ہوا کرتی تھیں مگر اس کے بعد مسابقت اور ڈی ریگولرائزیشن جیسی دو برائیاں آئیں جس نے اس کو انتہائی مسابقتی کاروبار بنادیا ۔منافع کی شرح اس حد تک گرگئی کہ کئی ائرلائنز نے جتنا کمایا نہیں اتنا گنوادیا ۔ہماری قومی ائرلائن کے ساتھ بھی یہی ہوا۔یہ بات یقینی ہے کہ ہماری قومی ائرلائن نقصان ہی اٹھائے گی ‘اگر ہم سالانہ 40ارب روپے نقصان کے متحمل ہوسکتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے ‘اگر نہیں تو پھر اس کی ایک روپے میں بھی نجکاری کردیں اور سالانہ چالیس ارب روپے کمائیں جو غربت میں کمی لیے استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ٹرینیں بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ کا مؤثر ذریعہ ہیں ۔تصورکریں کہ برطانیہ میں ٹرینیں نہیں اور اب 1500کلومیٹر طول بلد کے ایک ملک کا تصورکریں جہاں 16کروڑ لوگ ایک ریلوے لائن پر رہ رہے ہوں اوروہاں ٹرینیں نہ ہوں ‘پاکستان ریلوے بھی ملک کو سالانہ چالیس ارب روپے سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے جو کہ قومی ائرلائن کے خسارے کے برابر ہے ‘اگر ہم اسی طرح ناقص منصوبہ بندی کے ذریعے ریلوے کو جدید بنانے پر کام کرتے رہے تو ہم سالانہ 100ارب کا نقصان کریں گے اور اگر توقع کے مطابق روپے کی قدر مزید گری تو یہ خسارہ 150ارب روپے تک بھی پہنچ سکتاہے ۔ریلوے کو بھی بدانتظامی ‘تکنیکی مہارت کی کمی اور مالی کمزوری جیسی تینوں بیماریاں لاحق ہیں ۔اسٹیل ملزکو ختم کرنا ہی اس کا واحد حل ہے مگر اس میں ملازمین کا خیال رکھا جانا چاہئے کیونکہ ہمارے پاس کوئی سوشل سکیورٹی نیٹ نہیں ہے ‘اس ادارے میں ملازمین پر سالانہ 5ارب روپے خرچ ہوتے ہیں ‘ان ملازمین کو ریٹائرمنٹ تک تنخواہ ملتی رہنی چاہئے یا پھر ملازمت کی مدت اور تنخواہ کے حساب سے معاوضہ ملنا چاہئے ۔اسٹیل ملز کی اراضی جس کے بدقسمتی سے کئی دعویدار ہیں ،نیشنل اکنامک سکیورٹی کے طورپر کام آسکتی ہے ‘یہ ممکنہ طورپر پاکستان کی بہترین اراضی ہے جہاں تیار ڈھانچہ اور براہ ِراست بندرگاہ تک رسائی کی سہولت موجودہے ‘اس کو سی پیک کے تحت صنعتی زون کے طورپر استعمال کیا جاسکتاہے ۔یہ سہل پسندانہ حل کے اقدامات نہیں ہیں ‘یہ محض سرکاری اداروں کو درپیش مسائل کا ایک سرسری خاکہ یا خلاصہ ہے ۔طویل اختتام ہفتہ پر آپ خود ان مسائل کا کوئی حل ڈھونڈلیں ۔اس بارے میں مجھ سے ایک سوال پوچھا جانا چاہئے کہ :’’جب آپ اقتدارمیں تھے تو آپ نے یہ اقدامات کیوں نہیں اٹھائے ؟‘‘۔اور میراجواب یہ ہوگا کہ :’’یہ سوال تب کیجئے گا جب میں سیاست سے ریٹائر ہو جاؤں ‘‘۔
بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے تصدیق کردی ہے کہ اُن کی بہن انعم مرزا کی شادی بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کے بیٹے سے ہورہی ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹینس اسٹار اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے تصدیق کی ہے کہ اُن کی بہن اور فیشن ڈیزائنر انعم مرزا رواں سال دسمبر میں اسد سے شادی کررہی ہیں جو کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کے بیٹے ہیں۔سابق کپتان اظہرالدین کے بیٹے اسد اور ثانیہ مرزا کی چھوٹی بہن انعم مرزا کی شادی کی خبریں کئی روز سے سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھیں، تاہم ان کے اہل خانہ کی جانب سے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔البتہ اب ثانیہ مرزا نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بہن کی شادی دسمبر میں ہورہی ہے، چند روز قبل ہی وہ اُن کا ’بیچلورٹ ٹرپ‘ مکمل کرکے پیرس سے واپس آئی ہیں, انہوں نے کہا کہ وہ سمیت پورا خاندان اس شادی کو لے کر نہایت پرجوش نظر آرہا ہے۔ثانیہ مرزا نے کہا کہ اسد بہت ہی پیارا اور اچھا لڑکا ہے۔ اسد کرکٹ کھیلتے ہیں جبکہ انعم فیشن ڈیزائنر ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کچھ روز قبل انعم مرزا نے اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں وہ ’برائڈ ٹو بی‘ کا سلیش پہنی نظر آرہی ہیں جبکہ بیک گرائونڈ میں گلابی رنگ کے ’برائڈ ٹو بی‘ کے غبارے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔انعم اور اسد کی شادی کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انہیں پوری دنیا سے مداحوں کی جانب سے نیک خواہشات کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔واضح رہے کہ ثانیہ مرزا کی شادی بھی کرکٹ سے وابستہ شخص یعنی پاکستان کرکٹ ٹیم کے نامور کھلاڑی شعیب ملک سے 2010ء میں ہوئی تھی، ان دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں صبر نہیں، 13ماہ ہوئے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ کدھر ہے نیا پاکستان۔وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں احساس لنگر اسکیم کے تحت لنگر خانہ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لیے آئیڈیل مدینہ کی ریاست ہے، مدینہ کی ریاست پہلے دن نہیں بن گئی تھی، جدوجہد شروع کی تھی ہمارے نبی کریم ﷺ ۖ نے ایک راستہ دکھایا تھا، آہستہ آہستہ لوگ تبدیل ہوئے تھے، ذہن بدلے تھے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے جو برے حالات ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے غریب، غریب اور امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے، سارا ٹیکس غریب کے اوپر مہنگائی کر کے اکٹھا کرتے ہیں اور پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے، اس سے فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اس نظام کے اندر اللّٰہ تعالیٰ کی برکت نہیں آتی۔عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان ہوگا ہی ایک فلاحی ریاست جو ابھی تک نہیں ہوئی، ملک میں کاروبار شروع ہونے، صنعت لگنے اور روزگار ملنے تک ہم پوری کوشش کریں گے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑے خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جو اللّٰہ کی مخلوق کی خدمت کی طرف لگ جائیں، پہلے فیز میں 112 لنگر خانے کھولے جائیں گے اور اس کے بعد پورے ملک میں جہاں لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا اور بھوک ہے وہاں لنگر خانے کھولیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم کاروباری طبقے کی مدد کر رہے ہیں تاکہ پیسہ اور اس سے ٹیکس اکٹھا ہو اور وہ پیسہ ہم کمزور طبقہ پر خرچ کریں جیسے چین نے کیا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح صنعت کے شعبہ کی کسی نے مدد نہیں کی جس طرح ہم کر رہے ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارا کاروباری طبقہ اور بزنس کمیونٹی پیسہ بنائے، منافع کمائے اور پھر اس میں سے ہم ٹیکس اکٹھا کریں اور پھر نچلے طبقہ پر خرچ کریں۔عمران خان نے پنجاب پولیس سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم آہستہ آہستہ پولیس کا نظام تبدیل کر رہے ہیں تاکہ تھانوں میں ظلم نہ ہو۔اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ احساس سیلانی لنگر اسکیم کے تحت روزانہ 600افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔
ایرانی انسٹاگرام اسٹار جو کہ امریکی اداکارہ انجلینا جولی سے مشابہت کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے انسٹاگرام پر پوسٹوں کے لیے مشہور ہیں، انہیں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق سحر تبار نامی ایرانی انسٹاگرام اسٹار کو توہین مذہب اور تشدد پر اُکسانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔سحر تبار گزشتہ برس بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئیں تھیں جب اُن کی کچھ تصاویر انسٹاگرام پر وائرل ہوئی تھیں، اُن تصویروں میں سحر عام لڑکیوں سے بالکل مختلف نظر آرہی تھیں۔بعدازاں یہ خبر منظر عام پر آئی کہ سحر تبار نے یہ روپ اختیار کرنے کے لیے 50 پلاسٹک سرجریز کروائی ہیں۔ اس کے علاوہ انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی زیادہ تر تصاویر کو بہت زیادہ ایڈیٹ کیا گیا تھا۔سحر تبار ایک 22 سالہ ایرانی خاتون ہیں جنہوں نے انسٹاگرام پر اپنی غیر معمولی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی، اور نا صرف یہ بلکہ اس کے بعد وہ انسٹاگرام اسٹار بھی بن گئیں۔سحر تبار کے انسٹاگرام پر مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اپنی تصاویر میں انجلینا جولی کے ’زومبی ورژن‘ سے مشابہت رکھتی تھیں۔پچکے گال، بڑے بڑے ہونٹ اور ایک کارٹون نما اُبھری ہوئی ناک کی حامل سحر تبار نے اس وقت کاسمیٹک سرجری کے حوالے تشویش پیدا کی جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ امریکی اداکارہ انجیلینا جولی سے مشابہت کے لیے انہوں نے درجنوں کاسمیٹک سرجریاں کروائی ہیں۔انسٹاگرام پر اپنے بڑھتے ہوئے فالورز کو حیران اور خوفزدہ کرنے کے بعد انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ ان کی تصاویر میں ظاہری شکل میک اپ اور ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کی بدولت ہے اور یہ کہ دراصل انہوں نے خود کو ایک طرح کے فنی خاکے میں تبدیل کر لیا ہے۔بی بی سی کے مطابق ایرانی نیوز ایجسنی ’تسنیم‘ کے مطابق عدالتی حکام نے تبار کو اس لیے گرفتار کیا کیونکہ عوام نے مبینہ طور پر اُن کے خلاف شکایات کی تھیں۔ان پر توہین مذہب، تشدد پر اُکسانے، غیر قانونی طور پر جائیداد کے حصول، ملک کے لباس کی توہین اور نوجوانوں کو بدعنوانی کرنے پر حوصلہ افزائی کرنے کا الزام ہے۔ ان کے انسٹاگرام اکاونٹ کو بھی تب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔سحر تبار کا شمار ایرانی سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور فیشن بلاگرز کی اس فہرست میں ہوتا ہے جو ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ان کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد انٹرنیٹ پر حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔