27 اکتوبر شہدائے کشمیر سے تجدید عہد کا دن ہے. سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
سی پیک سمیت اس خطے میں کوئی بھی فلاحی و اقتصادی منصوبہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر کامیاب نہیں ہوگا۔دنیا کی بقا اور سلامتی مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے۔ حقِ خود ارادیت کشمیریوں کا فطری، پیدائشی اور جمہوری حق ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف کشمیری ہی رکھتے ہیں، اُنہیں یہ حق دلوانا ہر باشعور انسان کی انسانی، نظریاتی، اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے۔ کشمیر میں شہید ہونے والے لاکھوں شہدا کا خون ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم بیداری اور بصیرت کے ساتھ ان کے خون کا تحفظ کریں اور ان کی جدوجہدِ آزادی کو منزلِ مقصود تک پہنچائیں۔۲۷ کتوبرکی مناسبت سے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم کا بیانتفصیلات کے مطابق فورم کے سیکرٹری جنرل نذر حافی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ کشمیر میں مسلح افواج نہتے لوگوں پر شب خون مار رہی ہیں، عوام کی املاک اور کاروبار تباہ کر دیا گیا ہے، جوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغواکاری زوروں پر ہے، میڈیا پر مکمل پابندی ہے، انسانی حقوق کے علمبردار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، او آئی سی کافروں اور استعماری طاقتوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے میں حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی ذمہ داری پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نعروں اور ریلیوں کے علاوہ اس سلسلے میں ہمیں مکمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ہمیں اس دن جدوجہد آزادی کو جاری رکھنے کیلئے شہدائے کشمیر کے ساتھ تجدید عہد کرنا چاہیے. اورکشمیر کے مسئلے پر دنیا کے بے حسی اور عالم اسلام کی عدمِ توجہ کا راہِ حل نکالا جانا چاہیئے۔ اسلامی دنیا خصوصاً عرب ممالک کے عوام اور حکمرانوں تک حقائق کا پہنچانا ضروری ہے۔ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں اور ہندوستان کی مضبوط سفارتکاری کی وجہ سے کشمیریوں کی آواز دب چکی ہے۔ اس وقت طویل ترین کرفیو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نہتے عوام پر قابض افواج کے جاری تشدد کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بننا چاہیئے اور اُن کے حقِ خود ارادیت کا مقدمہ لڑنا چاہیئے۔ کشمیریوں کی مدد کا ایک طریقہ اُن کی آواز کو دنیا تک پہنچانا ہے۔

