مہمند ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیموں کی ہائیٹ اور گہرائی کم رکھ کر پروجیکٹس کو غیر مفید کیا جارہا ہے.پروفیسر محمد ندیم فیصل
پاکستان مسلم موومنٹ کاغذ قلم کے بانی و چیئرمین پروفیسر محمد ندیم فیصل نےکہا کہمہمند ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیموں کی ہائیٹ اور گہرائی کم رکھ کر پروجیکٹس کو غیر مفید کیا جارہا ہےاس سے قبل نیلم جہلم ہائیڈروپروجیکت میں بھی ہائیٹ کم رکھی گئیحالانکہ اسے مزید پانچ سو میٹر بلند کیا جاسکتا تھاجس سے اس پراجیکٹ کی لینتھ مزید سو کلومیٹر بڑھ سکتی تھی اور پانی کے اسٹاک میں دوسو فیصد اور بجلی کی پیداوار میں تین سو فیصد اضافہ ہوسکتا تھااب اسی طرح مہمند ڈیم میں بھی گڑ بڑ کی جارہی ہےپروفیسر محمد ندیم فیصل نےکہا کہلگتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں گےاس لیئے افغانستان سے قندھار کے قریب واقع قدرتی ڈیم کی تعمیر نو اور توسیع کا عمل یقینی بنانے کے لیے گفت و شنید کا آغاز کیا جائےقندھار کے قریب دنیا کا سب سے بڑا قدرتی ڈیم موجود ہےجو لاپرواہی کی وجہ سے مٹی سے بھر چکا ہےجس کی وجہ سے افغانستان کو بھی سیلابی پانی کے نکاس میں مشکلات کا سامنا رہتا ہےہم چاہتے ہیں کہاس مسئلہ کا حل کرکے بلوچستان میں دریائے بولان کی بحالی کیلئے حقیقی اقدامات کیئے جائیںجس سے بلوچستان کے مغربی علاقوں اور بلخصوص گوادر اور قرب و جوار میں پانی کی موثر فراہمی مستقل طور پر یقینی کی جاسکتی ہےقندھار ڈیم کی تعمیر نو اور توسیع میں دوسو سے تین سو ارب روپے خرچ کرکے سستی بجلی اور وافر مقدار میں پانی حاصل کیا جاسکتا ہےابتدائی طور پر اس سے کینال اور ریور بنا کر بلوچستان میں پانی فراہمی شروع کی جاسکتی ہےانداز دس سے بیس ارب روپے سے اس ڈیم کو محدود پیمانے پر ایکٹیوو کیا جاسکتا ہےہم نے فلاحی نیت سے میپ تیار کیا ہے جس پر مکمل عملدرآمد تین سو ارب روپے میں ہوسکتا ہےاس سے کم و پیش آٹھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہےویسے بھی دریائے قندھار کے پانی اخراج پر ایران افغانستان تنازعہ چلتا رہتا ہےاس لیئے دریائے قندھار اور اس سے آگے کے دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف کرنا پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں ہےتقریبا سات سو کلومیٹر کی ایک مزید کچی کینال بنا کر ترکمانستان سے بھی وافر مقدار میں پانی بلوچستان لایا جاسکتا ہےکبھی ترکمانستان سے قدرتی راستے پانی دالبندین تک آتا تھااب بھئ اس راستے کو چند ارب روپے کے خرچ سے فعال کیا جاسکتا ہےبلوچستان میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک مصنوعی دریا کے پی کے سے ہمارے ڈیزائن پر تیار کرکے بہت زیادہ فوائد حاصل کیئے جاسکتے ہیںجن میں سر فہرست بالائی علاقوں سے سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوگیاگر اس پراجیکٹ پر عملدرآمد کیا گیا تو بلوچستان میں پانی اور بجلی سے پیداوار بڑھائی جاسکتی ہےگوادر میں سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کی دیگر وجوہات میں سے ایک نمایاں وجہ گواردر میں بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی کا منصوبہ نہ ہونا بھی ہےاگر مذکورہ پروجیکٹ کو فورا شروع کردیا جائے تو گواردر کو کراچی سے زیادہ پانی کی فراہمی دو سال میں یقینی بنائی جاسکتی ہےاس پراجیکٹ کی مزید تفصیلات (چیئرمین واپڈا) کو میں برسوں قبل دے چکا ہوںاگر برسر اقتدار طبقے کو ملک کے مستقبل کی فکر ہے تو اس پراجیکٹ کو فورا شروع کردیا جائےتاکہ پاکستان کے اہم ترین پروجیکٹ گواردر فری پورٹ کا مشن دو بڑی مشکلوں سے نکل سکےاور یہ دو بڑی مشکلات پانی اور بجلی کی ہیںاس پراجیکٹ سے بہت زیادہ علاقہ کاشت کاری کے قابل ہو سکتا ہےفوری طور پر قندھار کے ڈیم سے پانی کا رخ بلوچستان کی طرف کرکے ڈیم کی تعمیر نو اور توسیع شروع کی جائے
پریس ریلیز
پروفیسر محمد ندیم فیصل
بانی وچیئرمین
پاکستان مسلم موومنٹ کاغذ قلم


