بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین میں ناقابل بیان عدم توازن
بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین کی پالیسیوں میں نا قابل تشریح عدم توازن ہے جبکہ پاکستان صنعتی اور اقتصادی نمو کے کے لئے بجلی اور گیس کی وافر فراہمی کے لئے کوشاں ہے ۔ ایک طرف تو سرکاری حکام کا موقف ہے کہ سسٹم میںضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے ،اس کے باوجود ملک کا پاور ٹیرف جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہے ۔پاکستان انکریمنٹل بلاک ٹیرف ( آئی بی ٹی ) رجیم پر عمل پیرا ہے جو بجلی کی قلت کی صورت میں متعارف کرایا گیا تھا اور اب بجلی کی خاطر خوا فراہمی کی صورت قابل عمل نہیں رہا ۔دوسری طرف گیس کے نرخ بین لاقوامی آر ایل این جی قیمتوں کے مقابلے میں مسلسل کم ہیں۔جبکہ وزارت توانائی ملک میں آئندہ دو سال ملک میں گیس کی قلت کے بارے میں مسلسل خبر دار کرتی رہی ہے ،گیس کے استعمال کے حوالے سے اس کی قیمت کا تعین نہایت اہم پہلو ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان جہاں بجلی کی پیداوار وافر مقدار میں ہے ،وہاں استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہو ئے قیمت زیادہ رکھی گئی ہے ۔ جبکہ قدرتی گیس جسکی ملک کو قلت کا سامنا ہے ،اس کی قیمت بین الاقوامی نرخ کے مقابلے میں کم رکھی گئی ہے۔ پاکستان میں صنعتوں کے لئے بجلی کی پیداواری لا گت چھبیس فیصد زیادہ ہے جبکہ خطے کے ممالک ویت نام ،سری لنکا ، بنگلہ دیش ،جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور بھارت میں یہ رہائشی علاقوں کے لئے اٹھائیس فیصد زیادہ مہنگی ہے ۔نیپرا اور اوگرا میں ریگولیشن کے حوالے سے کوئی ہم آہنگی نہیں پائی جا تی۔جس کی وجہ سے صارفین اور سرمایہ کارالجھن کا شکار رہتے ہیں ۔اس چیز نے بجلی اور گیس کی قیمتوں کے تعین میں عدم ہم آہنگی کو جنم دیا۔واضح رہے کہ گیس کے مقابلے میں بجلی کی گیس کے مقابلے میں قیمت زیادہ ہو نے سے ایس ایم ایز کو زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ ان کے پاس خود پیداواری صلاحیت نہیں لہٰذا وہ مقابلہ کر نے سے قاصرہیں ۔ جس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر بیروزگاری کی صورت میں نکلا ہے ۔

