اس سال حج سے متعلق سعودی حکومت کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ حافظ عبدالحمید عامر
ہر ملک و قوم اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو حج میں شامل کرنا اتحاد اُمت کا عظیم درس ہے۔
جہلم(زاہد خورشید). گزشتہ چند مہینوں سے اقوام عالم ”کورونا وائرس“ کی شکل میں عذاب الٰہی کی لپیٹ میں ہیں۔ ایسے حالات میں جن ممالک نے بروقت حفاظتی اقدامات اُٹھائے، ان میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طول و عرض سے مسلمان حرمین شریفین میں ضیوف الرحمن بنتے ہیں، سعودی حکومت کی طرف سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے زائرین کو جو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس کا اندازہ صرف وہاں جانے والے ہی لگا سکتے ہیں۔ اب ان حالات میں مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ مقدم رکھتے ہوئے سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال سعودی عرب میں مقیم ہر ملک و قوم اور ہر رنگ و نسل کے لوگ حج کریں گے۔ہم سعودی عرب کے اس اقدام کی تائید اور حمایت کرتے ہیں بلکہ قابل تحسین سمجھتے ہیں، کیونکہ انسانی جان کا تحفظ شرعی مقاصد میں سے اہم مقصد ہے، نیز تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر بعض دفعہ مکمل اور بعض دفعہ جزوی طور پر حج پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی، مگر احتیاطی تدابیر کے تحت مملکت سعودی عرب کا مقیم لوگوں کو حج کی اجازت دے کر بنیادی رکن اسلام کی بجا آوری کرنا مستحسن عمل ہے۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم محدود لوگوں کو اجازت دیتے ہوئے اتحاد اُمت اور اخوت اسلامی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے ہر رنگ و نسل کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق اس مہلک مرض کے خدشات سے حتی الوسع بچنے اور عالم اسلام کو بچانے کے لیے مملکت سعودی عرب کا یہ اقدام اہل عقل و دانش کے نزدیک صحیح ترین اور انتہائی محتاط فیصلہ ہے، کیونکہ اس میں شرعی، طبی اور عقلی تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ان وجوہات کی بنا پرہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعوداور ولی عہد محمد بن سلمان کے اس امر کی بھرپور تائید کرتے ہیں، بلکہ اس قابل تحسین فیصلے پر ان کے شکر گزار بھی ہیں۔

