منڈی بہاؤ الدین: تحصیل پھالیہ کے گاؤں رنسیکے کے رہائشی دو سگے بھائیوں کا قتل 10 بچیاں یتیم
ضلع منڈی بہاؤ الدین تحصیل پھالیہ کے گاؤں رنسیکے کے رہائشی دو سگے بھائیوں کا قتل
تفصیلات
رنسیکے تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین کے رہائشی دو سگے بھائی انصر وڑائچ اور غضنفر وڑائچ عرف صاحب اپنے ماموں کے ختم قل میں شرکت کے لیے گاؤں ڈومنیانوالی تھانہ کنجاہ تحصیل و ضلع گجرات گئے ہوئے تھے کہ وہاں لقمان نامی لڑکے نے انکو پستول سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا قتل سے پہلے مقتولین اور قاتل کے درمیان کوئی وقتی تلخ کلامی نہ ہوئی بلکہ جب مقتول غضنفر عرف صاحب اپنے بھائی انصر کے ہمراہ اپنی تین سالہ بیٹی کو لے کر قریبی دکان پر کھانے کی چیز دلوانے گیا تو قاتل لقمان جس نے قبل ازیں پلاننگ کی ہوئی تھی نے موقع پا کر مقتولین پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی فائرنگ اکیلے ملزم لقمان نے کی لیکن اسکے 5 ساتھی جو قتل کی منصوبہ بندی میں شامل تھے قاتل کو ساتھ لے کر تمام 6 افراد موقع سے فرار ہوگئے فائرنگ سے دونوں بھائی موقع پر جاں بحق ہو گئے وقوعہ آج مورخہ 11 جون 2020 دن تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پیش آیا پولیس سے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن حسب روایت پولیس تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچی حالانکہ پولیس چوکی منگووال ، پولیس چوکی کنگ چنن دونوں جائے وقوعہ سے تقریباً 10 منٹ کے فاصلے پر اور تھانہ کنجاہ تقریبا 20 منٹ کی مسافت پر واقع ہے جتنی دیر میں پولیس پہنچی تب تک شاید قاتل ضلع سے بھی باہر پہنچ چکے ہوں.اب لاشیں میجر شبیر شریف شہید ہسپتال THQ کنجاہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی جا چکی ہیں اللہ کرے ڈاکٹر روایتی بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں اور جلد پوسٹمارٹم مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کریں
مقتولین کا ذاتی تعارف
رنسیکے تحصیل پھالیہ کے رہائشی اور انتہائی شریف شہری تھے کسی قسم کے اخلاقی یا قانونی جرم میں ملوث نہ تھے مقتولین صرف دو بھائی تھے انکی پانچ بہنیں ہیں ایک بوڑھی والدہ ہے مقتول انصر کی چھ بیٹیاں ایک 18 سالہ بیٹا محمد شاویز اور ایک بیوہ ہےمقتول غضنفر عرف صاحب کی ایک بیوہ اور صرف تین بیٹیاں ہیں بیٹا نہ ہےدو بھائیوں کے ظالمانہ قتل کے نتیجے میں ایک ماں کے بڑھاپے کا سہارا دونوں بیٹے چھن گئے دو خواتین بیوہ ہوئیں 10 بچے یتیم ہوئے
دونوں گھر کے کفیل تھے اور دونوں ایک ساتھ قتل کر دیے گئے
قتل کا پس منظر
مقتولین کی ایک بہن جو ڈومنیانوالی کی رہائشی تھی پانچ سال پہلے اسکے خاوند کی وفات ہوئی وفات کے بعد اسکے سسرالیوں نے اسکو دونوں بیٹیوں سمیت گھر سے نکال دیا اور گھر اور جائیداد / زمین پر قبضہ کر لیا محکمہ مال کے ریکارڈ میں وہ زمین مقتولین کی بہن اور دونوں بھانجیوں کے نام پر وراثتی انتقال کے ذریعے ٹرانسفر ہو گئی لیکن ان دونوں یتیم بچیوں اور بیوہ عورت کی زمین پر انکے رشتہ داروں ( حالیہ قاتلوں ) نے ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا اور ان بچیوں اور انکی والدہ کو جائیداد نہ دینے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں بھی دے چکے تھے مقتولین کی بیوہ بہن ایک بیٹی کے ہمراہ قاتلوں کے خوف سے رنسیکے گاؤں میں ہی رہائش پذیر تھی جبکہ دوسری بیٹی کی شادی ہو چکی ہےہمارے تمام ادارے اس بیوہ خاتون اور اسکی دو بچیوں کو انکی وراثتی زمین کا قبضہ دلوانے میں عرصہ پانچ سال سے ناکام تھےقاتلوں نے پہلا ظلم مقتولین کی بہن اور بھانجیوں کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر کے کیا جسکے خلاف مقتولین نے کوئی مزاحمت نہ کی بلکہ لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اپنی بہن اور بھانجیوں کو خاموشی سے اپنے گاؤں لے آئےدوسرا ظلم انہوں نے آج مقتولین کا قتل ناحق کر کے کیا ہےیہ تمام واقعہ جنوبی پنجاب ، بلوچستان یا تھر جیسے پسماندہ علاقوں کا نہیںبلکہ ملک کے ترقی یافتہ ضلع گجرات کا ہےیہ واقعہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی صاحب کے صوبہ اسمبلی کے حلقے پی پی 30 کا ہے جہاں سے منتخب ہو کر وہ اسمبلی پہنچے ہیں
یہ واقع چوہدری مونس الٰہی کے حلقے کا ہے جہاں سے وہ قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے ہیں
ایک بوڑھی والدہ اماں نذیراں بی بی کو اسکے بیک وقت قتل ہونے والے بیٹوں کا قصاص کون لے کر دے گا ؟
10 یتیم بچوں بچیوں کو انکے والد صاحبان کے قتل کا حساب کون لے کر دے گا ؟
دو بیوہ خواتین کو انکے شوہروں کے قتل کا قصاص کون لے کر دے گا ؟
یہ شریف لوگ تھے انکے مقدمہ کی پیروی کون کرے گا ؟
قاتلوں سے انکے بقیہ خاندان کی حفاظت کون کرے گا ؟
گھر کے دونوں کفیل بیک وقت قتل ہوگئے اب اس خاندان کی کفالت کون کرے گا ؟
کیا وہ ادارے جو پانچ سال سے ایک بیوہ خاتون اور اسکی یتیم بچیوں کو انکا وراثتی حق نہ دلوا سکے ؟





