حکومت کیخلاف مشترکہ حکمت عملی پراتفاق
اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت کو گھر بھیجنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ن لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال اور پی پی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ملاقات پر میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دی۔دونوں رہنماؤں نے میڈیا کو بتایا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت میں اتفاق ہے کہ حکومت کے خلاف جدوجہد اپوزیشن کے پلیٹ فارم پر ہو۔احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن مل کر حکومت کےخلاف اکٹھی تحریک چلانے پر متفق ہے، اس حکومت کو گھر بھیجنا ملک اور عوام کی زندگی کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نےحکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، بلاول بھٹو زرداری اور ن لیگ کی قیادت پر مبنی وفد مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کرے گا۔ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ دونوں جماعتیں جمعیت علماء اسلام ف کی قیادت کے ساتھ مل کر اپوزیشن کا مشترکہ لائحہ عمل لانا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن کے سربراہوں کا اجلاس بلانے پر بھی اتفاق ہوا ہے، جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو ملاکر یکجہتی کے ساتھ اٹھائیں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک سال میں پاکستان کی معیشت تباہ کردی ہے، جس کے باعث ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ اگر آپ نے اتنا کامیاب دورہ امریکا کیا ہے تو اقوام متحدہ کی مستقل مندوب کو کیوں ہٹایا؟شیری رحمٰن نے میدیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے کشمیر کے معاملے پر کوئی ذمے داری نہیں دکھائی جبکہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتیں ساتھ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے دیکھتے ہی دیکھتے نریندر مودی نے کشمیر پر قبضہ کرلیا، آپ نے کشمیریوں کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے؟ اقوام متحدہ میں تقریر کرنا ہر وزیراعظم کا فرض بنتا ہے۔پی پی سینیٹر نے یہ بھی کہا کہ ہم سارےمل کر اجلاس کر رہے ہیں، اپوزیشن ساتھ رہے گی، آپ پرفارمنس نہیں دکھا سکتے، آئی ایم ایف اورحکومت ایک ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ مولانا صاحب کو کہیں کہ ہم مل کر چلیں، لانگ مارچ یا جلسہ چاہے جو بھی ہو یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے، ہم سب جماعتیں اپنی اپنی ملاقاتیں کررہے ہیں۔شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ آرڈیننس اور ایگزیکٹوآرڈر کے ذریعےملک چلانا چاہتے ہیں، یہ جہاں سے آئے ہیں، ان کو وہیں بھیجناہوگا، یہ حکومت مینڈیٹ کھوچکی، حکومت مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالنا چاہتی ہے، عوام پہلے ہی بہت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔

