مصطفیٰ کمال کی بحالی درخواست مسترد
سندھ ہائیکورٹ نے پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج مصطفیٰ کمال کی بحالی کی درخواست مستردکرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب تقرری ضابطے کے تحت نہیں ہوئی تو معطلی کے خلاف کیسےدرخواست دائر کی جاسکتی ہے۔جسٹس شفیع صدیقی نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزارپر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ کیا آپ مذاق کرنے آئے ہیں؟ جب تقرری ضابطے کے تحت نہیں ہوئی تو معطلی کے خلاف کیسےآ سکتے ہیں۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایاکہ مئیر نے مصطفی کمال کی تقریری غلط کی تو مطلب ہے مئیر نااہل تھا، درخواست میں مئیر کراچی، مصطفی کمال اور سیکریٹری بلدیات کو فریق بنایا گیا تھا ۔ایک اور درخواست میں کہا گیا کہ شہر میں بارشوں کے باعث ابتر صورتحال پیدا ہوئی اور شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے، مئیر کراچی اور محکمہ بلدیات کی نااہلی کے باعث شہر کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے ۔جسٹس شفیع صدیقی نےشہر میں مکھیوں کی بہتات کی درخواست پر سندھ حکومت، میئر کراچی اورڈی ایم سیز کو نوٹس جاری کیے۔واضح رہے کہ درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیاتھا کہ مصطفی کمال کو پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج مقرر کیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہیمعطل کر دیا گیا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ مئیر کراچی کو اگر مصطفی کمال سے شکایت تھی تو ضابطے کے تحت پہلے شوکاز نوٹس دیا جاتا شوکاز نوٹس کے بغیر معطلی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے ۔

