پنجابی کے فروغ کی آڑ میں “گریٹر پنجاب” کی سازش
پنجابی کے فروغ کی آڑ میں “گریٹر پنجاب” کی سازشیں کرنے والے مفسدین قوم پرستوں کی سازشوں کو محترمہ امنہ عالم انتہائی صداقت اور بھرپور دلائل کے ساتھ کچھ یوں بے نقاب کر رہی ہیں’ اور جو کچھ وہ بیان کر رہی ہیں۔ ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں ۔کیونکہ ہم نے یہ ساری داستانیں اپنے اساتذہ کرام اور بزرگوں سے سنی ہیں:
لمحہ فکریہ!
“زبان کے باعث بھارتی پنجاب کو اپنے قریب سمجھنے والے مت بھولیں کہ قیام پاکستان کے وقت یہی پنجابی زبان والے ہندو اور سکھ تھے جنہوں نے پنجابی زبان بولنے والے مسلمانوں کو مشرقی پنجاب میں صفحہء ہستی سے مٹا دیا تھا.کٹی ہوئی لاشوں کی ٹرینیں اپنے ہی ہم زبان لوگوں کی بربریت کا تحفہ لئیے لاہور پہنچ رہیں تھیں نہ کسی بنگالی مسلمان کو بنگالی کے سبب ہندوؤں نے معتبر سمجھا نہ بہار میں بہاری بولنے والے مسلمان محفوظ تھے، ایک جماعت ایک زبان ایک سا لباس ایک محلے میں گزاری ایک ساتھ زندگی کچھ کام نہ آئیآج بھارت کی جانب سے پنجابی زبان کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ابھی قیام پاکستان کی تاریخ اتنی پرانی نہیں ہوئی آج بھی کچھ لوگ اس دور کی گواہی دینے کے لیے زندہ مل جائیں گےہماریں والدین اسی مشرقی پنجاب سے زندہ نکل آنے والے کچھ خوش نصیبوں میں سے تھے اور ہمیں بدلتی آنکھوں کا حال سنایا کرتے تھے”
فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

